رام مندر میں مبینہ چڑھاوا گھوٹالہ: عقیدت، سیاست اور شفافیت کا کڑا امتحان
ایس آئی ٹی کی تحقیقات، ٹرسٹ عہدیداروں کے استعفے، اپوزیشن کے الزامات اور رام مندر تحریک پر اٹھتے سوالات
ازقلم:جاوید جمال الدین
ایودھیا میں شری رام جنم بھومی پر تعمیر ہونے والا عظیم الشان رام مندر کروڑوں ہندوؤں کے عقیدے، برسوں کی سیاسی جدوجہد اور ایک طویل عدالتی عمل کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 22 جنوری 2024 کو رام للا کی پران پرتشتھا کے بعد یہ مندر نہ صرف ایک مذہبی مرکز بلکہ ہندوستانی سیاست کا بھی ایک اہم استعارہ بن گیا۔ لیکن اب اسی مندر میں چڑھائے جانے والے نقد عطیات، زیورات اور دیگر قیمتی نذرانوں میں مبینہ غبن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات نے ملک گیر بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ معاملہ صرف چند لاکھ یا چند کروڑ روپے کے مبینہ غبن تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے شفافیت، جوابدہی اور مذہبی اداروں کے انتظام پر بھی کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
جمعہ کو اس معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انل مشرا نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ اگرچہ ٹرسٹ کی جانب سے اسے تحقیقات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، لیکن سیاسی حلقوں اور اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ استعفے اس بات کا اشارہ ہیں کہ ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ میں بعض سنگین مشاہدات سامنے آئے ہیں۔
اسی دوران پولیس نے ایف آئی آر درج ہونے کے ایک روز بعد چمپت رائے کے ڈرائیور ٹنّو سمیت آٹھ نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ان پر چوری، مجرمانہ اعتماد شکنی، مجرمانہ سازش، چوری شدہ املاک رکھنے اور بدعنوانی سے متعلق مختلف دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان کی نشاندہی پر تقریباً 79.85 لاکھ روپے بھی برآمد کیے گئے، جنہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔
ایس آئی ٹی کی تحقیقات کا دائرہ
اتر پردیش حکومت نے ٹرسٹ کے ایک رکن کرشنا موہن کی شکایت پر 13 جون کو تین رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔ ٹیم نے سات روز کے اندر ابتدائی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی، جس کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی اور گرفتاریاں عمل میں آئیں۔
ذرائع کے مطابق تقریباً ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل ابتدائی رپورٹ میں صرف نقد عطیات ہی نہیں بلکہ زیورات، زمین کی خرید و فروخت، بینک کھاتوں، مالی لین دین اور بعض ٹرسٹ اہلکاروں کے اثاثوں میں غیر معمولی اضافے جیسے پہلوؤں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ایس آئی ٹی موبائل فون ریکارڈ، بینک اسٹیٹمنٹ، جائیدادوں کی تفصیلات اور دیگر دستاویزات کی جانچ کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حتمی رپورٹ آنے کے بعد مزید گرفتاریاں بھی ممکن ہیں۔
عدالت کی کارروائی
جمعہ کو تمام آٹھ گرفتار ملزمان کو سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان ریمانڈ مجسٹریٹ نویدیتا سنگھ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ استغاثہ نے برآمد شدہ رقم اور دیگر دستاویزی شواہد عدالت کے سامنے رکھے، جس کے بعد عدالت نے تمام ملزمان کو تین روزہ عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ حکام کے مطابق مقدمے میں بدعنوانی کی روک تھام کے قانون کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں، اس لیے آئندہ کارروائی خصوصی عدالت میں ہونے کا امکان ہے۔
اپوزیشن کے الزامات
پولیس کی اس کارروائی کے باوجود تنازع ختم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اصل ذمہ داروں کو بچانے کے لیے صرف نچلے درجے کے ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پہلے یہ طے کر لیا گیا کہ کن لوگوں کو تحفظ دینا ہے اور کن کو قربانی کا بکرا بنانا ہے، اس کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔
عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایس آئی ٹی کو زمین کے مبینہ گھوٹالے سے متعلق اہم دستاویزات فراہم کیے ہیں، لیکن ان کے مطابق سینکڑوں کروڑ روپے کے مبینہ معاملات سے توجہ ہٹانے کے لیے صرف چند ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
کانگریس نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ رام مندر میں عقیدت مندوں کے عطیات اور زیورات کے ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی تحقیقات سپریم کورٹ کی نگرانی میں کرائی جائیں، جبکہ رام مندر ٹرسٹ کو تحلیل کرکے اس میں غیر سیاسی مذہبی شخصیات کو شامل کیا جائے۔
حکومت کا موقف
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک بار پھر یقین دلایا ہے کہ تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائیں گی اور کوئی بھی قصوروار قانون سے نہیں بچ سکے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں سے گریز کریں کیونکہ بعض عناصر اس معاملے کو رام مندر تحریک کو بدنام کرنے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
ریاستی وزیر جے پی ایس راٹھور نے بھی واضح کیا کہ رام مندر کروڑوں لوگوں کے ایمان اور طویل جدوجہد کی علامت ہے، اس لیے عطیات کی ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا اور کسی بھی قسم کی مالی بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔
اصل سوالات کیا ہیں؟
اس پورے تنازع میں کئی بنیادی سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ اگر اتنے بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگی ہوئی تو کیا صرف چند ملازمین اس کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں؟ کیا ٹرسٹ کا نگرانی کا نظام مؤثر تھا؟ کیا زیورات کے اندراج، نقد عطیات کے حساب اور بینکنگ کے طریقہ کار میں خامیاں موجود تھیں؟ اور اگر ایسا تھا تو اس کی انتظامی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی شخص کو عدالت سے سزا ملنے سے پہلے مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے چمپت رائے، انل مشرا یا کسی دوسرے ٹرسٹی کے خلاف صرف الزامات کی بنیاد پر حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر تحقیقات میں ان کے خلاف شواہد سامنے آتے ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی بھی ہونی چاہیے۔
رام مندر تحریک کا تاریخی پس منظر
رام جنم بھومی تنازع کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ 1949 میں بابری مسجد کے اندر رام للا کی مورتیاں ظاہر ہونے کے بعد یہ معاملہ عدالتوں تک پہنچا۔ 1986 میں عدالت کے حکم پر تالے کھولے گئے۔ 1990 میں ایل کے اڈوانی کی رتھ یاترا نے اس تحریک کو قومی سطح پر پہنچایا اور 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام نے ہندوستانی سیاست کا رخ بدل دیا۔
بالآخر نومبر 2019 میں سپریم کورٹ نے متنازع زمین رام مندر کی تعمیر کے لیے ٹرسٹ کو دینے اور مسجد کے لیے متبادل زمین فراہم کرنے کا فیصلہ سنایا۔ اس کے بعد شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ تشکیل دیا گیا اور جنوری 2024 میں مندر میں رام للا کی پران پرتشتھا ہوئی۔
اسی تاریخی پس منظر کی وجہ سے موجودہ تنازع معمولی انتظامی معاملہ نہیں بلکہ اس تحریک کی اخلاقی ساکھ اور عوامی اعتماد سے بھی جڑا ہوا ہے۔
ایک متوازن تجزیہ
اس وقت دو متضاد بیانیے سامنے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قانون اپنا کام کر رہا ہے اور کسی کو نہیں بخشا جائے گا، جبکہ اپوزیشن کا الزام ہے کہ کارروائی صرف نچلے درجے کے افراد تک محدود رکھ کر اصل ذمہ داروں کو بچایا جا رہا ہے۔
حقیقت کیا ہے، اس کا فیصلہ صرف مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات ہی کر سکتی ہیں۔ اگر ایس آئی ٹی کی حتمی رپورٹ شفاف انداز میں سامنے آتی ہے اور اس کی بنیاد پر بلاامتیاز کارروائی ہوتی ہے تو عوامی اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر تحقیقات ادھوری رہیں یا کسی بھی سطح پر جانبداری کا تاثر پیدا ہوا تو اس سے نہ صرف رام مندر ٹرسٹ بلکہ ملک کے مذہبی ٹرسٹوں کے نظام پر بھی سوالات اٹھیں گے۔
یہ معاملہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مذہبی ادارے خواہ کتنے ہی مقدس کیوں نہ ہوں، ان کے مالی معاملات میں شفافیت، جوابدہی اور آزادانہ نگرانی ناگزیر ہے۔ عقیدت اور احتساب ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ اگر کروڑوں عقیدت مند اپنی محنت کی کمائی اللہ، بھگوان یا کسی مذہبی مقصد کے لیے نذر کرتے ہیں تو ان کی ایک ایک پائی کا ایماندارانہ حساب دینا متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔ یہی اصول عوامی اعتماد کو مضبوط کرتا ہے اور مذہبی اداروں کے وقار کو بھی برقرار رکھتا ہے۔
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741