واٹس ایپ اسٹیٹس : صرف مشغلہ نہیں، انسانی نفسیات کا گہرا تعلق
(ڈیجیٹل سماج میں قبولیت اور توجہ کی نفسیاتی تلاش)
ازقلم: اسماء جبین فلک
تصور کیجیے، ایک ایسی کھڑکی جو چوبیس گھنٹے کے لیے کھلتی ہے، مگر جس سے ہر روز ڈیڑھ ارب سے زیادہ لوگ جھانکتے ہیں۔ میٹا کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، واٹس ایپ کے تین ارب سے زائد ماہانہ سرگرم صارفین میں سے ہر شخص اوسطاً کم از کم چھ اسٹیٹس دیکھتا ہے، اور روزانہ دسیوں ارب ویوز ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ بھارت، جو اس ایپ کی سب سے بڑی منڈی ہے، پچاس کروڑ سے زیادہ صارفین رکھتا ہے اور ان میں سے ستر فیصد روزانہ اسٹیٹس چیک کرتے ہیں۔ یہ اب کوئی معمولی فیچر نہیں رہا، بلکہ ایک سماجی اور نفسیاتی مظہر بن چکا ہے، جہاں کوئی اپنی خوشیاں سجاتا ہے، کوئی اپنے زخم چھپاتا ہے، کوئی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے تو کوئی خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ مگر کیا یہ چند سیکنڈ کی جھلک کسی انسان کی پوری داستان بیان کر سکتی ہے؟ اور اس کھڑکی کے پیچھے چھپی نفسیات کیا ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ارونگ گوفمین کا ڈرامائی نظریہ راہ دکھاتا ہے، جو انسانی زندگی کو ایک اسٹیج سے تشبیہ دیتا ہے جہاں ہم ’پیش منظر‘ پر اپنی بہترین تصویر پیش کرتے ہیں جبکہ ’پس منظر‘ ہماری حقیقت کا آئینہ ہوتا ہے۔ واٹس ایپ اسٹیٹس اس پیش منظر کا جدید ترین ورژن ہے، جس میں ہم صرف وہی دکھاتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے دیکھیں۔ تاہم، یہ نظریہ صرف خود نمائی تک محدود نہیں؛ اس کی دیگر جہتیں، جیسے ’فاسد پیش منظر‘ جہاں اداکاری بے نقاب ہو جاتی ہے، اور ’اسٹیج پر تصادم‘ جب مختلف کردار آپس میں ٹکراتے ہیں، بھی اسٹیٹس کی دنیا میں نظر آتی ہیں، جب کوئی غلطی سے کوئی حقیقی جذبہ شیئر کر بیٹھتا ہے یا پھر کسی کے اسٹیٹس پر کوئی ناپسندیدہ ردعمل سامنے آتا ہے۔
حیدرآباد کی بائیس سالہ طالبہ زویا روزانہ چار پانچ اسٹیٹس لگاتی ہے، ناشتے سے لے کر دوستوں کی محفل تک، اور کہتی ہے، ”مجھے نہیں معلوم، بس لگ جاتا ہے، شاید میں چاہتی ہوں کہ لوگ مجھے دیکھیں اور میرے بارے میں سوچیں۔“ اس کے برعکس، لکھنؤ کے پینتیس سالہ استاد احسن کا اسٹیٹس مہینوں خالی رہتا ہے، اور وہ کہتے ہیں، ”میری زندگی کی خوبصورت ترین تصاویر میرے فون میں نہیں، بلکہ میرے دل میں ہیں۔“ یہ دو انتہائیں ایک ہی معاشرے میں رہتی ہیں، مگر ان کا ڈیجیٹل رویہ یکسر مختلف ہے۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اسٹیٹس لگانے کے پیچھے سات بنیادی محرکات کام کرتے ہیں، جن میں سماجی بھلائی، توجہ کی طلب، تعلقات کی مضبوطی، خیالات کا اظہار، احوالِ زندگی سے آگاہی، تحریک اور تفریح شامل ہیں۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ محض عادت ہے، تو کچھ کے لیے یہ توجہ، قبولیت اور شناخت کی گہری نفسیاتی ضرورت ہے۔ اور پھر وہ لوگ ہیں جو اداسی، تنہائی اور بے وفائی کی شاعری کو سیاہ پس منظر پر سفید جملوں میں ڈھال کر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہیں، جو محض ادب سے محبت نہیں، بلکہ اکثر جذباتی اخراج اور کسی ہمدرد نگاہ کی خاموش تلاش ہوتی ہے۔ طنزیہ اسٹیٹس، جیسے ’مطلبی لوگ‘ یا ’جھوٹے رشتے‘، اکثر کسی ذاتی رنجش کا نتیجہ ہوتے ہیں، جہاں براہِ راست مکالمے کے خوف سے انسان اشاروں میں اپنا درد بیان کرتا ہے، حالانکہ حقیقی مسائل کا حل مبہم جملوں سے نہیں، بلکہ صاف اور باوقار گفتگو سے ممکن ہے۔
اس کے برعکس، اس ڈیجیٹل اسٹیج کے مثبت پہلو بھی کم اہم نہیں ہیں۔ بہت سے لوگ تعلیمی کامیابی، نئی ملازمت یا کاروباری افتتاح جیسی خوشیوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی شناخت مضبوط ہوتی ہے بلکہ دوسرے بھی ان سے تحریک پاتے ہیں۔ کاروباری دنیا میں چھوٹے تاجر اور فری لانسرز اپنی خدمات کا چرچا کرنے کے لیے اسٹیٹس کو ایک سستے اور مؤثر اشتہاری ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اور اس طرح یہ فیچر معاشی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ کچھ لوگ اسے خیر اور نیکی کا ذریعہ بناتے ہیں، جہاں قرآنی آیات، دعائیں اور اخلاقی نصیحتیں شیئر کی جاتی ہیں، اور یہ عمل کسی پریشان انسان کے لیے حوصلے کا باعث بن سکتا ہے۔ روحانی اور اخلاقی اسٹیٹس نہ صرف اظہار کا ذریعہ ہیں بلکہ ایک مشن بھی ہیں، جو معاشرے میں مثبت رویوں کو فروغ دیتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے لیے روزمرہ کی رہنمائی کا کام کرتے ہیں۔
یہ تمام رویے، خواہ خوشی کی نمائش ہو یا غم کا اظہار، کامیابی کا اعلان ہو یا روحانی پیغام، سب ایک ہی نفسیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے اور دوسروں سے تعلق اور قبولیت کی شدید طلب رکھتا ہے۔ ڈیجیٹل دور نے اس ضرورت کو پورا کرنے کا ایک نیا ذریعہ فراہم کیا ہے، مگر یہ دو دھاری تلوار ہے۔ ایک طرف یہ ہمیں جوڑتا ہے، تو دوسری طرف لیون فیسٹنگر کے سماجی موازنے کے نظریے (۱۹۵۴) کے مطابق، جب ہم دوسروں کی کامل تصاویر اور کامیابیوں کو دیکھتے ہیں، تو ہم صعودی معاشرتی موازنے میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جو خود اعتمادی کو نقصان پہنچاتا ہے اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ ہماری اپنی زندگی اداس اور معمولی محسوس ہونے لگتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی اپنی زندگی کا صرف وہی حصہ دکھاتا ہے جو وہ چاہتا ہے، نہ کہ پوری کہانی۔
اس حوالے سے ۲۰۲۴ میں بھارتی نوعمروں اور نوجوان بالغوں پر ہونے والی ایک تحقیق (جو جرنل آف انڈین ایسوسی ایشن فار چائلڈ اینڈ ایڈولسنٹ مینٹل ہیلتھ میں شائع ہوئی) نے انکشاف کیا کہ ڈپریشن کی علامات ۳۷.۹ فیصد، اضطراب ۳۳.۳ فیصد، زیادہ تناؤ ۴۳.۷ فیصد، اور کم خود اعتمادی ۲۵.۳ فیصد افراد میں پائی گئی، اور اسکرین ٹائم اور سوشل میڈیا کے استعمال اور ان نفسیاتی مسائل کے درمیان مثبت تعلق پایا گیا۔ ایک اور بین الاقوامی میٹا تجزیے (کمپیوٹرز ان ہیومن بیہیویئر، ۲۰۲۲) نے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا کہ سوشل نیٹ ورک سائٹس کی لت اور ڈپریشن، تناؤ اور اضطراب کے درمیان راست تعلق ہے۔ یہ ایک عجیب معمہ ہے کہ جتنا ہم ’جڑے‘ ہوتے ہیں، اتنا ہی تنہا محسوس کرنے لگتے ہیں۔
لیکن ان لوگوں کا کیا جن کا اسٹیٹس مہینوں خالی رہتا ہے؟ یہ خاموشی ہرگز بے حسی یا ڈپریشن کی علامت نہیں، بلکہ اکثر ایک شعوری اور محتاط فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنی نجی زندگی کو محفوظ رکھنا پسند کرتے ہیں اور لمحے کو کیمرے میں قید کرنے کے بجائے اسے دل میں محفوظ کرنا بہتر سمجھتے ہیں۔ وہ خودداری، حساسیت اور زندگی کو اپنے دائرے میں رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں، اور ان کا طرزِ عمل اتنا ہی قابلِ احترام ہے جتنا کسی دوسرے کا اظہار پسند ہونا۔ اس لیے خاموشی کو کسی ایک معنی میں نہیں باندھا جا سکتا؛ یہ کسی کے لیے تحفظ ہے، کسی کے لیے عارضی وقفہ، اور کسی کے لیے شاید اپنے جذبات پر قابو پانے کا طریقہ ہے۔
یہ تمام رویے، جیسے اظہار پسندی، خاموشی، اداسی، طنز، روحانیت اور کامیابی، سب ایک ہی بنیادی سوال کی طرف لے جاتے ہیں کہ ہم اسٹیٹس پر کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟ کیا ہم توجہ چاہتے ہیں، سمجھ چاہتے ہیں، محض عادتاً یہ کام کر رہے ہیں، یا اپنی اندر کی اس خالی جگہ کو بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو حقیقی زندگی میں کسی ایک سچے سوال کی منتظر ہے؟ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس ڈیجیٹل آئینے کو سمجھداری سے دیکھیں۔ ایک مسکراتی تصویر کے پیچھے تھکن بھی ہو سکتی ہے، کامیابی کے اعلان کے پیچھے برسوں کی جدوجہد بھی، اور خاموشی کے پیچھے گہری حساسیت بھی۔ اسٹیٹس ایک جھلک ہے، پوری کہانی نہیں؛ یہ ایک کھڑکی ہے، مگر پورا گھر نہیں۔
چنانچہ اگلی بار جب آپ کسی کا اسٹیٹس دیکھیں تو اسے محض تماشہ نہ سمجھیں۔ اگر کوئی مسلسل اداسی کا اظہار کر رہا ہے، تو اسے ایک پیغام بھیج کر پوچھیں، ”کیا آپ ٹھیک ہیں؟“ اگر کوئی کامیابی کا اعلان کر رہا ہے، تو اس کی خوشی میں شریک ہوں، کیونکہ ایک ”مبارک ہو“ کسی کے لیے بہت معنی رکھ سکتی ہے۔ اگر کوئی خاموش ہے، تو اس کی خاموشی کا احترام کریں، کیونکہ ہر کہانی کو عوامی ہونے کی ضرورت نہیں۔ اور اپنا اسٹیٹس لگاتے وقت ضرور سوچیں کہ کیا میں اپنے حقیقی جذبات بیان کر رہا ہوں یا محض ایک پرفارمنس دے رہا ہوں؟ اس کے ساتھ ہی، اس فیچر کے کاروباری اور روحانی پہلوؤں کو بھی سراہیں کہ یہ کسی کی روزی کا ذریعہ بن سکتا ہے، کسی کے ایمان کی تازگی، اور کسی کے لیے نیکی کا پیغام۔
جیسا کہ مرزا اسد اللہ خان غالب نے کہا ہے:
ہوئی مدت کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پہ کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
شاید ہمیں اسکرین کے بجائے دلوں میں جھانکنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ واٹس ایپ اسٹیٹس چوبیس گھنٹے میں مٹ جاتا ہے، مگر ایک انسان کا درد، اس کی خوشی، اور اس کی تنہائی اس سے کہیں زیادہ دیر تک رہتی ہے۔ آئیے اس ڈیجیٹل دنیا میں انسانیت کو نہ بھولیں، اور ہر اسٹیٹس کو ایک انسان کے ساتھ ہمدردی کا موقع سمجھیں، کیونکہ آخرکار، یہ پکسلز اور کیپشنز نہیں، بلکہ ان کے پیچھے چھپے انسان ہیں جو حقیقی تعلق اور سمجھ بوجھ کے منتظر ہیں۔ اور اگر واقعی کچھ جاننا ہے تو اسکرین سے نہیں، آنکھوں سے پوچھیں۔