رام کا چندہ اورچوری کا پھندا

رام  کا چندہ اورچوری کا پھندا

رام کا چندہ اورچوری کا پھندا

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

رام مندر میں چندہ چوری نے یہ ثابت کردیا اس کا تعلق عقیدے سے نہیں اقتدار کی چوری اور اس کے بعد چندے کی لوٹ سے تھا ۔ اس لیے مندر تعمیر کی ابتداء سے لے کر اب تک رونما ہونے والے واقعات اور اعدادو شمار پر نظر ڈالیں تو چونکانے والے انکشافات ہوتے ہیں۔ 2020 میں مندر کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ 5؍ فروری 2020 کو مندر ٹرسٹ بنا اور اس کے بعد چندہ جمع کرنے کادھندہ شروع ہوا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فروری 2021 تک ٹرسٹ کو مجموعی طور پر 1511 کروڑ روپے کا چندہ ملا تھایعنی سنگ بنیاد رکھنے سے 2024 تک ہر سال تقریباً 875 کروڑ روپے چندہ آیا۔ اگر ماہانہ حساب لگائیں تو 2020 سے 2024 تک ہر ماہ تقریباً 72.92 کروڑ روپے، یعنی روزانہ تقریباً 2.43 کروڑ روپے اوسط چندہ آتا رہا۔اس کے بعد بڑے شور شرابے کے ساتھ 22 جنوری 2024 کو رام مندر کی پران پرتِشٹھایعنی افتتاح کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس کے بعد چندے کی رقم بڑھنی چاہیے تھی کیونکہ ٹیلی ویژن کی زبردست تشہیر کے بعد درشن کے لیے آنے والے عقیدت مندوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا مگر حیرت انگیز طور پر چندے کی رقم بڑھنے کے بجائے گھٹ گئی؟ ابتدائی 11 دنوں کے اندر ہی چندہ پیٹیوں سے 11 کروڑ روپے سے زیادہ چندہ آگیا ۔ اس طرح ایک ماہ میں تقریباً 25 کروڑ روپے چڑھاوا جمع ہوامگر پھر یہ رقم چندے کی رقم بتدریج کم ہونے لگی ۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2024 سے مارچ 2025 تک مجموعی طور پر 153 کروڑ روپے چندے میں آئے۔ اس دوران ہر ماہ تقریباً 10.93 کروڑ روپے، یعنی روزانہ تقریباً 36.43 لاکھ روپے چڑھاوا آیا۔ 2024 سے 2025کے 14 ماہ کا روزانہ اوسط 36 لاکھ روپے پہلے کے2.43 کروڑ یومیہ سے بہت کم تھا۔ 2025 سے 2026 کے دوران چندہ پیٹیوں میں جمع ہونے والی روزانہ کی اوسط 16.6 لاکھ روپے آگئی ۔ یعنی چندے کا گراف اوپر جانے کے بجائے نیچے کھسکتا چلا گیا ۔ 21 مارچ 2026 کو ٹرسٹ کی میٹنگ میں اپریل 2025 سے 28 فروری 2026 تک کا حساب پیش کیا گیا۔ ان 11 مہینوں میں صرف 82 کروڑ روپے کا چندہ ملا۔ ہر ماہ تقریباً 7.45 کروڑ اور روزانہ تقریباً 24 لاکھ روپے چڑھاوا آیا۔ اس کا بریک اپ اس طرح ہے کہ کل چڑھاوے میں سے صرف 54.79 کروڑ روپے چندہ پیٹیوں سے باقی 18.88 کروڑ روپے کاؤنٹر سے، 8.33 کروڑ روپے آن لائن اور 78 لاکھ روپے بیرونِ ملک سے عقیدت مندوں نے دیے تھے۔ اس طرح چندہ پیٹیوں میں روزانہ تقریباً 16.60 لاکھ روپے کا چڑھاوا آیا تھا۔سوال یہ ہےکہ کیا حقیقت میں وہ رقم کم ہوگئی تھی یا درمیان سے غائب کردی گئی ۔ اس پر ایس آئی ٹی تشکیل دے کر پہلے ہی تفتیش کی جاتی تو آج یہ نوبت نہیں آتی کہ روزانہ کا چڑھاواایک لاکھ روپے سے کم ہوجائے اور یوگی جی چھٹھپٹاتے نظر آئیں ۔
امسال جون میں چندہ چوری کا انکشاف سماج وادی پارٹی کے سابق رکنِ اسمبلی پون پانڈے نےکیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رام مندر میں چندہ چوری کی رقم 5 کروڑ سے 7.5 کروڑ روپے تک ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی چوری نہیں ہوئی تو چمپت رائے بھگوان رام کی قسم کھا کر کہیں کہ یہ الزام جھوٹا ہے۔وہ بیچارے نہیں جانتے تھے کہ ان کا اندازہ غلط ہے یہ بات بہت جلد دو سوکروڈ اور آگےہزاروں کروڈ تک جائے گی۔ اکھلیش یادو نےجب کہا کہ ایودھیا رام مندر کے چندے میں سے کروڑوں روپے کی رقم غائب پائی گئی تو ہندوتوانوزوں نے اس الزام کو سناتن مخالف کہہ کر ٹھکرادیا۔ چمپت رائے نے تو اس کا صاف انکار کردیا مگر سریو ندی میں بہنے والی یہ بدعنوانی کی لاش نے بہت جلد کنارے آکر اپنی بدبو سے سے پورے ملک کی فضا کو مکدرّ کردیا۔ 15 جون سے 19 جون 2026تک کے اعدادو شمار چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ چڑھاوے کی چوری کے معاملے کا عقیدت مندوں کے چندے پر گہرا اثر پڑا ہے۔ چندہ پیٹیوں کی گنتی میں شامل ایک ملازم کے مطابق پہلے عام دنوں میں 8 سے 12 لاکھ روپے تک نکلتے تھے، لیکن اب گزشتہ 5 دنوں سے 1 لاکھ روپے سے بھی کم نکل رہے ہیں۔ 7 جون کو تنازعے کی شروعات کے بعد بھی 1.21 لاکھ عقیدت مندوں نے مندر کےدرشن کیے یعنی روزانہ مندر آنے والوں کی تعداد تقریباً پہلے جیسی ہی ہے مگر اب وہ چندہ نہیں دیتے۔ مندر کے ملازم نے بتایا کہ 15 سے 19 جون کے درمیان روزانہ صرف 85 ہزار سے 95 ہزار روپے کا چڑھاوا چندہ پیٹیوں سے نکلا ہے
مندر احاطے میں کل 35 چندہ پیٹیاں رکھی گئی ہیں۔ ان سب کو ٹرسٹ اور بینک کے 4 ملازمین کی موجودگی میں روزانہ دو مرتبہ کھولا جاتا ہے۔ اس دوران گنتی کا کام دو شفٹوں میں ہوتا ہے۔پہلی شفٹ صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک چلتی ہے۔ دوسری شفٹ دوپہر 2 بجے سے رات 8 بجے تک ہوتی ہے۔ ہر شفٹ میں تقریباً 20 افراد کام کرتے ہیں۔ ان میں بینک کے کچھ مستقل اور کچھ ٹھیکے(آؤٹ سورسنگ)کے ملازمین ہیں۔ سرکاری ایس آئی ٹی ان غریب لوگوں سے پوچھ گچھ کرکے انہیں بلی کا بکرا بنانے کے فراق میں ہے حالانکہ سارے آؤٹ سورسنگ ملازمین ٹرسٹ کے افراد کی سفارش پر رکھے گئے تھے ۔ ٹرسٹ کے سربراہ نپیندر مشرا کیمرے کے سامنے اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں ان میں سے بیشترآر ایس ایس کے رضاکار ہیں۔رام مندر میں چندے کی چوری اس خستہ حال نظام میں سوراخ کرکے کی گئی جو ایودھیا کے ایک سبکدوش بینک افسر سبھاش سریواستو کی نگرانی میں چلتا ہے۔ موصوف طویل عرصے سے سنگھ کے ساتھ وابستہ رہے ہیں اس لیے سنگھ یہ کہہ کر اپنا پلہ نہیں جھاڑ سکتا کہ سرکاری ملازمین کی بدعنوانی سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ ویسے بھی یوپی میں ڈبل انجن سرکار ہے جو بے قصور عوام پر سخت اور بدعنوان لوگوں کے لیے نرم بلکہ ان کی شراکت دار ہے۔
رام مندر کے پاپ کا گھڑا اچانک بھر کے نہیں چھلکا ۔ سپریم کورٹ کے ناعاقبت اندیش فیصلے سے بہت پہلےسال 2015 میں ہندو مہاسبھا نے وشو ہندو پریشد پر مندر کی تعمیر کے لیےوصول ہونے والے 1400 کروڑ روپے کے چندے میں بے ضابطگی کا الزام لگایا تھا۔ بابری مسجد رام مندر تنازع کے ایک فریق نرموہی اکھاڑے نے بھی فنڈ کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا تھا۔ اس وقت وی ایچ پی کے قومی ترجمان سریندر جین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ چندے اور اخراجات کی مکمل تفصیل موجود ہے اور کوئی بھی اس کی جانچ کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ جانچ کیوں نہیں ہوئی ؟ مندر کی تعمیر شروع ہوئی توسال 2021 میں اضافی زمین کی خریداری کے اندر غیر قانونی رجسٹری کا الزام سامنے آیا۔رام مندر کے اطراف زمینوں کی خریداری کے دوران ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے نے 4 کروڑ روپے میں رام فقیرے مندر کی زمین خریدی۔ اس پر سابق کارسیوک سنتوش دوبے اور شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند نے سول کورٹ میں درخواست دائر کرکےکہا کہ رام فقیرے مندر کے مہنت رگھوور شرن کے پاس زمین فروخت کرنے کا اختیار ہی نہیں تھا، اس لیے یہ رجسٹری غیر قانونی ہے۔ عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی مندر کو گرا کر زمین ہموار کر دی گئی۔ اس تنازعے پر چمپت رائے نے ڈھٹائی سے کہا تھا: "کوئی بات نہیں، لطف اٹھائیے۔” اس وقت تو نہیں مگر اب جبکہ چمپت رائے پر جوتے برس رہے ہیں تو بی جے پی کے دوست و دشمن دونوں اس سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔
مارچ 2021 میں ہی رام مندر ٹرسٹ پر 2 کروڑ روپے کی زمین 18 کروڑ روپے میں خریدنے کا الزام لگا۔ یہ ایودھیا کے باغ بجیسی میں 1.208 ہیکٹر زمین کے سودے کا معاملہ تھا۔ کسم پاٹھک سے سلطان انصاری اور روی موہن تیواری نے 2 کروڑ روپے میں زمین خریدی۔ چند منٹ بعد ٹرسٹ کی طرف سے چمپت رائے نے وہی زمین 18.5 کروڑ روپے میں خرید لی۔ مندرجہ بالا دونوں سودوں میں اُس وقت کے ایودھیا میئر رِشیکیش اُپادھیائے اور ٹرسٹ کے رکن انیل مشرا گواہ تھے۔یہ سلسلہ ہنوز جاری رہا جون 2026میں ٹرسٹ نے بڑی بے شرمی سے 12 گنا زیادہ نرخ پر زمین خریدلی۔عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے دعویٰ کیا کہ ایودھیا کے بریہٹا گاؤں میں حکومت نے کسانوں سے 4.40 لاکھ روپے فی بسوا کے حساب سے زمین خریدی۔ چمپت رائے نے ٹرسٹ کے ذریعے 47 لاکھ روپے فی بسوا کے حساب سے 117 بسوا زمین 55.47 کروڑ روپے میں خریدلی جبکہ اس کی قیمت 9 کروڑ روپے ہونی چاہیے تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا 46.47 کروڈ کی اضافی رقم واقعی کسانوں کو ملی یا درمیان میں ہی کہیں چھو منتر ہوگئی؟ چمپت رائے اپنی بدعنوانی میں اس قدر ڈھیٹ ہوگئے ہیں کہ نزول کی جس زمین کو خریدا یا فروخت نہیں کیا جا سکتا تھا، اسے بھی 24 کروڑ روپے میں خرید لیا، جبکہ اس کی قیمت 3 کروڑ روپے بنتی ہے۔یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ چمپت رائے کے پاس ایسی کون سی اِپسٹین نما فائل ہے کہ جس کی وجہ سے اس کے سامنے ڈبل انجن سرکار سمیت پورا سنگھ پریوار بے بس ہے؟ اسی سوال کے اندر رام کے مکھوٹے میں چھپا راون کا چہرا نظر آجاتا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے