بھڑکیلے کپڑوں کی وجہ سے جہاز میں نہیں بیٹھ پائی لڑکی، ائیرہوسٹس نے دیکھتے ہی دکھا دیا باہر کا راست!

بھڑکیلے کپڑوں کی وجہ سے جہاز میں نہیں بیٹھ پائی لڑکی، ائیرہوسٹس نے دیکھتے ہی دکھا دیا باہر کا راست!


ایئر لائن ڈریس کوڈ: چلچلاتی گرمی میں ہلکے اور آرام دہ لباس پہننا ایک عام سی بات ہے، لیکن ایک 25 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر کے لیے یہ فیصلہ مشکل ثابت ہوا۔ ایڈا نامی ایک نوجوان خاتون کا دعویٰ ہے کہ اسے صرف اس کے لباس کی وجہ سے فلائٹ میں سوار ہونے سے روک دیا گیا ۔ یہ واقعہ اب سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا ہے اور لوگ ایئرلائن کے ڈریس کوڈ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

دی مرر کے مطابق، وہ 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت میں اسپورٹس ڈریس پہن کر ائیرپورٹ پہنچی تھی ۔ اس نے شارٹس اور کراپ ٹاپ پہن رکھا تھا تاکہ گرمی سے راحت مل سکے ۔ لیکن جیسے ہی وہ اپنی فلائٹ کا بورڈنگ پاس اسکین کروانے پہنچی تو ایئر لائن کے ایک ملازم نے اسے روک دیا۔

ملازم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا، “آپ فلائٹ میں سوار نہیں ہو سکتیں ۔” جب اس نے اس کی وجہ دریافت کی تو اسے بتایا گیا کہ ’’آپ نے کچھ پہنا ہی نہیں ہے ، آپ لگ بھگ ننگی ہیں ‘‘۔ ایڈا یہ سن کر حیران رہ گئی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے اسپورٹس ویئر پہن رکھا تھا جسے وہ پوری طرح صحیح کپڑے مانتی ہیں۔

صورت حال کو سنبھالنے کے لیے، ایڈا نے اپنی جیکٹ نکالی اور پہن لی۔ حالانکہ ، اس کے بعد بھی، اسے اس وقت تک سوار ہونے کی اجازت نہیں دی گئی جب تک کہ اس نے جیکٹ کی پوری زپ اوپر تک بند نہ کرلی ۔ آخر کار جیکٹ پہننے کے بعد اسے فلائٹ میں سوار ہونے کی اجازت دی گئی۔

اس پورے معاملے پر ایئرلائن نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ مسافروں کو ایسا لباس پہننا چاہیے جو عوامی سفر کے لائق ہو ں اور دوسرے مسافروں کے آرام یا وقار کو متاثر نہ کرے۔ کمپنی کے قوانین ملازمین کو ایسے معاملات میں اپنی صوابدید استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

دنیا بھر میں بہت سی ایئر لائنز اپنے شرائط و ضوابط میں یہ حق محفوظ رکھتی ہیں کہ اگر کسی مسافر کے لباس کو غیر موزوں سمجھا جاتا ہے تو انہیں بورڈنگ سے روکا جاسکتا ہے ۔ حالانکہ مناسب لباس کی کوئی واضح اور عالمگیر تعریف نہ ہونے کی وجہ سے ایسے معاملات اکثر متنازعہ ہو جاتے ہیں۔ ایڈا نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی اصول ہیں تو انہیں صاف طور پر مسافروں کو بتانا چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے ناخوشگوار حالات سے بچا جا سکے۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا صارفین میں بھی موضوع بحث بن گیا ہے۔

نیوز18اردو ہندوستان میں اردو کی سب سے بڑی نیوز ویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ برائے مہربانی ہمارے واٹس چینل کو لائیو، تازہ ترین خبروں اور ویڈیوز کے لئے فالو کریں۔آپ ہماری ویب سائٹ پر خبروں، تصاویر اور خیالات کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ، کرکٹ جیسے کھیلوں اور لائف اسٹائل سے منسلک مواد دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ہمیں، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز،شیئرچیٹ، ڈیلی ہنٹ جیسے ایپس پر بھی فالوکرسکتے ہیں۔



Source link

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے