آرٹیکل 44 اور مہاراشٹر میں مجوزہ یکساں سول کوڈ کو سمجھنا
ازقلم:شیخ سلیم
(ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 44 آئین کے حصہ چہارم میں شامل ریاستی پالیسی یا رہنما اصولوں کے ہدایتی اصولوں کا حصہ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ریاست ہندوستان کی سرحدوں کے اندر شہریوں کے لیے ایک یکساں سول کوڈ قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔ آرٹیکل 44 کا مقصد یہ ہے کہ شادی، طلاق، وراثت، جانشینی، گود لینے، نان و نفقہ اور سرپرستی جیسے معاملات میں مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں کے لیے سول قوانین کا ایک مشترکہ مجموعہ بتدریج وضع کیا جائے۔ تاہم بنیادی حقوق کے برخلاف، آرٹیکل 44 صرف ایک ہدایتی یا رہنما اصول ہے اور اسے کسی بھی عدالت کے ذریعے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک آئینی مقصد کے طور پر کام کرتا ہے جو حکومتوں کو قوانین اور عوامی پالیسی وضع کرتے وقت رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
حال ہی میں مہاراشٹر حکومت نے ایک ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے کر یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی جانب اب باضابطہ طور پر پہلا قدم اٹھایا ہے۔ اس کمیٹی کو موجودہ قوانین کا جائزہ لینے، فریقین سے مشاورت کرنے اور ریاست کے لیے ایک موزوں قانونی ڈھانچے کی سفارش کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ تاحال نہ تو کوئی مسودہ بل اور نہ ہی کمیٹی کی سفارشات عوام کے سامنے لائی گئی ہیں۔
مہاراشٹر حکومت کے مطابق، مجوزہ یکساں سول کوڈ کا مقصد شادی، طلاق، جانشینی، وراثت، گود لینے، سرپرستی اور نان و نفقہ کے معاملات میں مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں کے لیے سول قوانین کا ایک مشترکہ مجموعہ قائم کرنا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ایسا کوڈ قانونی مساوات کو فروغ دے گا، خانگی معاملات سے متعلق قانونی ڈھانچے کو آسان بنائے گا اور تمام شہریوں کے لیے یکساں سول حقوق کو یقینی بنائے گا۔
مگر کیا یکساں سول کوڈ واقعی ان مقاصد کو حاصل کر پائے گا، یہ سوال اب بھی اہم آئینی، قانونی اور سیاسی بحث کا موضوع ہے۔ بہت سے ماہرین آئین کا کہنا ہے کہ اگرچہ قانونی یکسانیت مساوات کا ایک پہلو ہے، لیکن آئین ریاست کو غربت، بے روزگاری، تعلیم اور صحت تک غیر مساوی رسائی، معاشی عدم مساوات اور سماجی انصاف جیسے مسائل سے نمٹنے کی بھی ہدایت دیتا ہے۔ یہ مقاصد دیگر کئی ہدایتی اصولوں میں بھی جھلکتے ہیں جنہیں نسبتاً کم عوامی توجہ ملی ہے۔
آرٹیکل 44 آئین کے حصہ چہارم میں موجود متعدد ہدایتی یا رہنما اصولوں میں سے صرف ایک ہے۔ آرٹیکل 38، 39، 39 الف، 41، 42، 43، 46، 47 اور 48 الف ریاست کو سماجی اور معاشی عدم مساوات کم کرنے، دولت کے ارتکاز کو روکنے، مفت قانونی امداد فراہم کرنے، کام کا حق محفوظ بنانے، انسانی کام کے حالات کو یقینی بنانے، مناسب اجرت کو فروغ دینے، کمزور طبقات کا تحفظ کرنے، عوامی صحت کو بہتر بنانے اور ماحول کے تحفظ کا پابند کرتے ہیں۔ ناقدین اس لیے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا آرٹیکل 44 کے ساتھ ان شقوں کو بھی برابر آئینی اہمیت دی جا رہی ہے۔ کیا غربت کم کرنے کے لیے کچھ کیا جا رہا ہے، کیا سبھی کو یکساں تعلیم اور صحت کے مواقع ملیں، ایسا کچھ کیا جا رہا ہے؟
یکساں سول کوڈ کے اکثر حامی، جن میں بی جے پی کے قائدین اور آر ایس ایس جیسی تنظیمیں شامل ہیں، یہ دلیل دیتے ہیں کہ پرسنل قوانین سول معاملات کو منضبط کر دینگے نہ کہ بنیادی مذہبی عبادات کو۔شریعت اسلامیہ میں سیویل قوانین قران کریم میں بیان ہوئے ہیں اور مذہب کا حصہ ہیں یہ بات اکثر لوگوں کے سمجھ سے باہر ہے ۔ان کا خیال ہے کہ یکساں سول کوڈ آرٹیکل 44 کو بنیادی حقوق کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتا ہے اور ہر شہری کے لیے قانون کے سامنے مساوات کو یقینی بنا دیگا ۔
دوسری طرف، بہت سے قانونی ماہرین، اقلیتی تنظیمیں، مسلم پرسنل لا بورڈ اور سول سوسائٹی کے گروہ مسلسل تشویش ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مخصوص پرسنل قوانین کو ایک مشترکہ سول کوڈ سے تبدیل کرنا ان سماجی گروہوں کی قانونی روایات کو نمایاں طور پر ختم کر دیگا ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی قانونی تکثیریت صدیوں کے دوران ارتقا پذیر ہوئی ہے اور یہ ملک کے سماجی اور ثقافتی تنوع کی عکاسی کرتی ہے۔یہاں صدیوں سے لوگ اپنے اپنے مذہب ریتی رواج پر عمل کرتے آئے ہیں کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا اچانک حکومت کو یہ کیا سوجھا۔
مسلمانوں کے لیے، اگر مجوزہ یکساں سول کوڈ بالآخر موجودہ مسلم پرسنل لا (شریعت) کی جگہ لے لیتا ہے یا اسے کالعدم کر دیتا ہے، تو خانگی قانون کے کئی شعبے مسلم پرسنل لا کے بجائے یکساں سول کوڈ کی دفعات کے تحت آ جائینگے۔ ان شعبوں میں نکاح، طلاق، خلع، مبارات، مہر، نفقہ، وراثت (میراث)، جانشینی، ہبہ، وصیت، ولایت، حضانت( پرورش) ، نسب اور قانونی حیثیت کے ساتھ ساتھ مسلم پرسنل لا کے تحت آنے والے دیگر خانگی معاملات شامل ہونگے ۔مگر ان تبدیلیوں کی صحیح حد کا تعین اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک حکومت مسودہ قانون شائع نہیں کرتی۔
اسی طرح کے سوالات عیسائیوں، پارسیوں، یہودیوں اور دیگر برادریوں کے پرسنل قوانین اور رسوم و رواج کے سلسلے میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جو مجوزہ قانون کے حتمی دائرہ کار پر منحصر ہوگا۔ مگر قومی یکساں سول کوڈ پر مباحثوں کے دوران، مرکزی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ درج فہرست قبائل اس کے دائرہ کار سے باہر رہیں گے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے قبائلیوں کو یکساں سول کوڈ سے باہر رکھا جائے اور مسلمانوں پر اسے اُنکی مرضی کے بغیر لاگو کر دیا جائے ۔
جبکہ آئین کا آرٹیکل 25 ضمیر کی آزادی اور مذہب کو آزادانہ طور پر اختیار کرنے، عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے، آرٹیکل 26 ہر مذہبی فرقے کو اپنے مذہبی معاملات خود چلانے کے حق کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 29 اور 30 مزید اقلیتوں کی زبان، رسم الخط، ثقافت اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کے ذریعے ان کے ثقافتی اور تعلیمی حقوق کو محفوظ بناتے ہیں۔ یہ دفعات مجموعی طور پر ہندوستان کے تکثیری کردار کو تسلیم کرتی ہیں اور اس کے مذہبی و ثقافتی تنوع اور مختلف ثقافتوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
ساتھ ہی آئین کے آرٹیکل 37 کو سمجھنا بھی یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ آرٹیکل 37 واضح طور پر یہ بیان کرتا ہے کہ آرٹیکل 44 سمیت ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصول کسی بھی عدالت کے ذریعے نافذ العمل نہیں ہیں، اگرچہ یہ ریاست کی حکمرانی میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور قوانین بناتے وقت ان پر عمل کرنا ریاست کا فرض ہے۔ نتیجتاً، پارلیمنٹ یا کسی ریاستی مقننہ کے ذریعے نافذ کیا جانے والا کوئی بھی یکساں سول کوڈ پورے آئین سے ہم آہنگ ہونا ناممکن ہے وہ لازمی طور پرمسلم پرسنل لا میں مداخلت ہوگی۔
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، شریعت اسلامیہ کے قوانین قرآن و سنت سے ماخوذ کیے گئے ہیں اور اسلامی عقیدے کے مطابق قرآن و سنت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔