مولانا سلمان حسینی ندوی کا سانحہ ارتحال اور ہمارا رویہ
ازقلم:فضل رحمٰں رحمانی
چیف ایڈیٹر فکر و نظر ٹی وی
کبھی کبھی ایک خبر اس قدر بھاری ہوتی ہے کہ دل اسے سننے کے بعد بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ کے انتقال کی خبر بھی ایسی ہی ایک خبر تھی۔ علم کا ایک سرچشمہ خشک ہوا، ایک زبان جو برسوں دین کی ترجمانی کرتی رہی خاموش ہوگئی، اور ایک ایسی شخصیت پردۂ غیب میں چلی گئی جس کا تذکرہ محبت اور اختلاف، دونوں زبانوں سے ہوتا رہا۔ یہی اُن لوگوں کا طرۂ امتیاز ہوتا ہے جو زندگی میں بھی موضوعِ گفتگو رہیں اور وفات کے بعد بھی۔ خاموشی اور گمنامی صرف ان ہی لوگوں کا حصہ ہوتی ہےجو کسی بھی موڑ پر کوئی فکری جسارت نہیں کرتے۔ جو لوگ سوچتے ہیں، بولتے ہیں، اور کسی فکر کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ ہمیشہ تنازعات کی زد میں رہتے ہیں — زندگی میں بھی، اور موت کے بعد بھی۔
مولانا سلمان حسینی ندوی کا تعلق علم و تحقیق کے اُس سلسلے سے تھا جو دارالعلوم ندوۃ العلماء سے وابستہ رہا، جہاں انہوں نے علوم اسلامیہ کی تحصیل کی اور بعد ازاں خود تدریس و تحقیق کا میدان سنبھالا۔ تفسیر، حدیث، فقہ اور دعوت کے میدانوں میں ان کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کے خطابات میں ایک خاص بے باکی اور جوش تھا، ایسی روانی جو سننے والے کو محسوس ہی نہیں ہونے دیتی تھی کہ وقت کتنا گزر گیا۔ کئی پلیٹ فارمز پر، کئی مواقع پر، وہ دین، اسلام اور حق کی ترجمانی کرتے رہے، اور بہت سے دلوں میں علم و عمل کی شمعیں روشن کیں۔
راقم کو ان کی شخصیت سے قریبی واقفیت کا ایک خوش گوار موقع اُس وقت ملا جب وہ مونگیر تشریف لائے تھے۔ جامع مسجد مونگیر کے قریب، والد صاحب — حضرت مولانا عبد السبحان صاحب رحمانیؒ، استاذ حدیث جامعہ رحمانی مونگیر — کے ساتھ گزر ہی رہا تھا کہ مولانا کا قافلہ سامنے آگیا۔ مونگیر کے ایک عالم نے، جو ان کی رہنمائی پر مامور تھے، جیسے ہی والد صاحب کو دیکھا، فوراً تعارف کرایا۔ مولانا سنتے ہی ایسی خندہ پیشانی اور بے تکلفی سے والد صاحب سے بغل گیر ہوئے کہ گویا برسوں کا تعلق ہو۔ چند منٹ کی یہ ملاقات اس قدر گرم جوش تھی کہ آج تک ذہن پر نقش ہے۔ اس کے بعد وہ خانقاہ رحمانی پہنچے، جہاں اُس وقت امیر شریعت سابع، مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ سے انہوں نے ملاقات کی اور دعائیں لیں۔ چند برس کے بعد، موجودہ امیر شریعت، مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم کے دور میں بھی مولانا کی خانقاہ رحمانی آمد ہوئی، اور اس بار راقم کو "فکر و نظر” ٹی وی پر بحیثیت چیف ایڈیٹر خدمت انجام دینے کا موقع مل چکا تھا۔ اس موقع پر ان کا تفصیلی انٹرویو لیا گیا، اور اس کے بعد گاہے بگاہے فون اور واٹس ایپ پر علمی و فکری گفتگو کا سلسلہ رہا۔ امارتِ شرعیہ کے معاملے میں جب بعض فتنہ پرور عناصر اور عالم نما افراد نے بے سروپا باتیں پھیلانا شروع کیں، تو مولانا نے خود راقم سے کچھ سوالات کیے، جن کا الحمدللہ تشفی بخش جواب دیا گیا۔ یہ تمام مراسم اس بات کی گواہی ہیں کہ مولانا ایک کشادہ دل، علم دوست اور بے تکلف شخصیت کے مالک تھے، جو اختلاف کے باوجود مکالمے کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھتے تھے۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے، اور اس سے چشم پوشی ممکن نہیں، کہ مولانا کے بعض اجتہادی مواقف، خصوصاً بعض ایسے بیانات جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں نازیبا تصور کیے گئے، علمی و دینی حلقوں میں شدید تنقید کا باعث بنے۔ امت کا یہ حق ہے کہ وہ ایسے بیانات پر اپنی تشویش کا اظہار کرے، ان کی علمی بنیادوں کا محاسبہ کرے، اور اگر کوئی بات صحیح عقیدے یا منہج سے متصادم نظر آئے تو اس کی نشاندہی بھی کرے۔ یہ تنقید بجائے خود کسی بے ادبی کا نام نہیں، بلکہ علمی دیانت کا تقاضا ہے۔ امت مسلمہ میں اجتہادی و فکری اختلاف کوئی نئی بات نہیں۔حضرات صحابہ کرام اور تابعین عظام کے دور میں، اور بعد کے ادوار میں بھی جلیل القدر علماء کے درمیان مسائل پر شدید اختلافات رہے ہیں، مگر ان اختلافات نے کسی کی دہائیوں کی خدمات کو کلیتاً کالعدم نہیں کیا، اور نہ ہی کسی کو دائرۂ احترام سے یکسر خارج کیا۔ کسی عالم کی کسی رائے سے اختلاف اور اس عالم کی توہین، دو الگ الگ چیزیں ہیں، اور ان دونوں کو خلط ملط کرنا علمی بددیانتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کسی کی وفات کے فوراً بعد، جب وہ شخص اپنے رب کے حضور پیش ہو چکا ہو اور اپنے اعمال کا حساب دینے کی منزل میں داخل ہو چکا ہو، اس وقت ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟ اسلام نے اس باب میں واضح ہدایات دی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مُردوں کو برا نہ کہا جائے، کیونکہ وہ اپنے اعمال کے پاس پہنچ چکے ہیں۔ یعنی جو کمانا تھا، کما لیا گیا، اب وہ ایسی عدالت میں پیش ہیں جہاں ہماری زبان کا کوئی اثر نہیں، البتہ ہماری زبان کا حساب ضرور ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی مختلف فیہ فرد کا ذکر آئے تو حد اعتدال سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے نہ ہی اسے بلا تنقید "ولی”سمجھ لینا چاہیے اور نہ ہی اسے قطعیت کے ساتھ جہنمی قرار دینا چاہیے۔ دونوں رویے علم سے عاری اور عداوت سے پر ہیں۔
قرآن کریم نے اس معاملے کو نہایت وضاحت سے بیان کیا ہے: "بے شک تیرا رب ہی خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹکا اور کون ہدایت پر ہے” (النحل: ۱۲۵)۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ہدایت و گمراہی کا حتمی فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں، کیونکہ وہی علیم بذات الصدور ہے، وہی دلوں کے بھید جانتا ہے، وہی اس بات سے واقف ہے کہ کسی کے دل میں آخری لمحات میں ندامت تھی یا نہیں، توبہ کی توفیق ہوئی یا نہیں۔ ہم تو صرف ظاہر دیکھتے ہیں، اور وہ بھی اکثر ادھورا۔ ایسے میں کسی انسان کا، چاہے وہ کتنا ہی صاحبِ علم ہو، اس ذات کی جگہ لینے کی کوشش کرنا جو باطن کا بھی احاطہ کرتی ہے، سراسر تجاوز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی چیزوں پر حکم لگانے سے سختی سے منع فرمایا ہے جس کا علم نہ ہو: "اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں، بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی” (الاسراء: ۳۶)۔ جو شخص کسی کے بارے میں قطعی طور پر یہ فیصلہ صادر کرے کہ وہ جہنمی ہے، وہ درحقیقت اپنے اوپر ایک بھاری ذمہ داری لے رہا ہے، اور اسے ضرور اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ یہ علمِ غیب اسے کہاں سے حاصل ہوا؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ کسی کے غلط قول یا فعل کو غلط کہیں، علمی بنیادوں پر اس کی تردید کریں، مگر اس ایک غلطی کو کسی کی پوری زندگی کا خلاصہ اور آخرت کا حتمی فیصلہ نہ بنا دیں۔ اصول اور فرد میں فرق رکھنا علم کی علامت ہے، اور دونوں کو خلط ملط کر دینا جہالت کی نشانی۔ جو لوگ آج کسی مرحوم کے بعض بیانات پر اس کی پوری زندگی کو رد کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اور جو لوگ اس کی مغفرت کی دعا کرنے والوں کو بھی طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہے ہیں، انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا وہ خود اس قدر پاکیزہ ہیں کہ کسی اور کے بارے میں اللہ کی طرف سے فیصلہ سنا سکیں؟ کیا ان کی اپنی خلوتیں اتنی صاف ہیں، اور کیا ان کے اپنے دن رات اس قدر شفاف ہیں، کہ وہ خود کو اس مقام پر فائز سمجھ بیٹھیں جہاں سے وہ کسی اور کی جنت یا دوزخ کا اعلان کر سکیں؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اللہ شرک کو نہیں بخشتا، اور اس کے سوا جو چاہے بخش دیتا ہے” (النساء: ۴۸)۔ اللہ کی رحمت کی وسعت کا اندازہ ہماری ناقص عقل سے نہیں لگایا جا سکتا۔ وہ ذات جو ارحم الراحمین ہے، اس کے فضل و کرم کی کوئی حد نہیں ہے۔لہذا اللہ کی عدالت میں ان کے ساتھ کیا ہوگا یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن ہمیں اچھی امید رکھنی چاہیے
عدل اور انصاف دینِ اسلام کی بنیادی اقدار میں شامل ہیں، اور یہ صرف زندوں کے ساتھ معاملات تک محدود نہیں، بلکہ مُردوں کے بارے میں بات کرتے وقت بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ کسی عالم کے علمی مقام کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی کسی رائے سے اختلاف کرنا انصاف ہے، اور اس کی ایک خامی کی بنیاد پر اس کی تمام زندگی کی خدمات کو فراموش کر دینا ناانصافی ہے۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم مولانا سلمان حسینی ندویؒ کی علمی خدمات، ان کی بے باک خطابت، ان کی تدریسی محنتوں اور دین کی ترجمانی کے لیے ان کی کاوشوں کو بھی یاد رکھیں، اور ساتھ ہی ان کے بعض مواقف پر اپنی علمی تنقید بھی برقرار رکھیں — مگر دونوں کو الگ الگ میزانوں میں تولیں، نہ کہ ایک کو دوسرے میں گڈمڈ کر دیں۔
آج جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، تو ہماری گفتگو کا پہلا موضوع یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کہاں گئے بلکہ ہمارا ردعمل یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنی موت کو یاد کریں، سوچیں، اور دعا کریں کہ اللہ ہمارے ساتھ خیر کا معاملہ فرمائے نہ ان کے بارے میں فیصلہ کرنے بیٹھ جائیں۔جو متنازعہ بات انہوں نے کہی، اس کا جواب وہ خود اپنے رب کو دیں گے۔ جو حکم ہم نے ان پر لگایا، اس کا جواب ہم خود اپنے رب کو دیں گے۔ اللہ کا حق اللہ ہی کو دیجیے۔ جنت و جہنم کے فیصلے کے لیے نہ کوئی سند کافی ہے، نہ کوئی جوش، نہ کوئی پرانی رنجش، اور نہ کوئی وائرل پوسٹ۔ وہ گئے، اللہ کے پاس۔ ہم بھی جائیں گے، اللہ کے پاس۔ اس دن وہ ذات ہی فیصلہ کرے گی جس نے کائنات بنائی۔ ہماری زبانیں اس روز گواہ ہوں گی، جج نہیں۔
اللہ تعالیٰ مولانا سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کی خطاؤں سے درگزر کرے، ان کی نیکیوں کو شرفِ قبولیت بخشے، اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اے اللہ، تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو، زندہ ہوں یا فوت شدہ، اپنی رحمت کے سائے میں لے لے، آمین۔