مدرسہ عربیہ تجوید القرآن میں ایک روزہ تدریب المعلمین کا انعقاد
حضرت مولانا غیاث احمد رشادی و دیگر علماء اکرام و ماہرین کا خطاب
گلبرگہ یکم جولائی(پریس نوٹ)محمد عبدالحلیم اطہرسہروردی معاون شعبہ نشر و اشاعت کے پریس نوٹ کے بموجب مدرسہ عربیہ تجوید القرآن گلبرگہ میں بروز اتوار 28جون کومنعقدہ ایک روزہ تدریب المعلمین کے پروگرام کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا گذشتہ سال بھی ایک روزہ تدریب المعلمین کا انعقاد عمل میں آیا تھا اس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے اس سال بھی ایک روزہ تدریب المعلمین کا پروگرام رکھا گیا جس میں کثیر تعداد میں مختلف اداروں کے معلمین و معلمات نے شرکت کی۔ ایک روزہ تدریب المعلمین پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا غیاث احمد رشادی صدر صفا بیت المال انڈیاو بانی و محرک منبر و محراب فاونڈیشن انڈیا نے فرمایا کہ تدریس ،مہارت ارتقا ء یہ تین چیزیں سمجھنا چاہیے تدریس کس کو کہتے ہیں ،تدریس میں تجدید پیدا کیجئے گا ،تقاضوں کی تکمیل ہو۔اس سلسلے میں کوشش اس بات کی ہو کہ پختگی کے ساتھ پڑھا یا جائے ہماری تدریس میں بھی پختگی آئے ہماری تدریس میں بھی نشونما ہو۔ مہارت کس کو کہتے ہیں پھر اس کے بعد ارتقا کیا ہے ۔کسی بھی کام کو پختگی مہارت کے ساتھ پختگی کے ساتھ چابک دستی کے ساتھ انجام دینے کی صلاحیت پیدا کرنا اور پھر اس کے بعد ارتقا دراصل ارتقا جو ہے وہ بتدریج ترقی کو کہتے ہیں نشونما ہونا بعض مرتبہ اس میں استاد کی بھی نشونما ہو جاتی ہے استاد کو چاہیے کہ مدرسے کے پہلے دو یا تین دن تک بچے کو پڑھیں بچے سے بات کریں بچے کو سمجھیں کتاب بعد میں دیںتو استاد کو پہلے دو یا تین دن میں تمام بچوں کی نفسیات کا علم ہونا چاہیے ، ہر بچہ ایک جیسے ماحول سے نہیں آتا۔ بہت سے بچے گھریلو ناچاقی، غربت یا صدمات کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک بہترین استاد وہ ہے جو ”چہرہ پڑھنے کا فن” جانتا ہو اور بچے کے بدلے ہوئے رویے، فطرت اور قابلیت کو دیکھ کر انفرادی طور پر اس کی رہنمائی کرے۔اساتذہ صرف نصاب نہ پڑھائیں بلکہ صبح کے وقت بچوں کا مشاہدہ کریں کہ کون بھوکا ہے یا پریشان ہے، اور کسی کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر خاموشی اور رازداری سے ان کی مدد کر کے ان کا اعتماد جیتیں۔یہ بات یاد رکھیں بچوں کو اپنا بنا کر پڑھانا ہے۔ہر طالب علم کے مزاج اس کے استعداد اس کی صلاحیت اور اس کی لیاقت کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔یہ طلباء ہمارا اثاثہ ہیں یہ بچے اللہ تعالی کی امانت ہیں۔ان کو نکھار کر تیار کیجیے ۔نسلوں تک یہ بچے اپنا فیض پھیلاتے رہیں گے۔
تدریب المعلمین کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عتیق احمد صاحب قاسمی ناظم مدرسہ خیرالنساء ،صدر صفا بیت المال ظہیرآبادنے فرمایا کہ یہ اجلاس اپنی نوعیت کا ایک ایسا مثالی اجلاس ہے جس میں ہم سب اپنی ضرورت خود محسوس کرتے ہوئے آپسی تجربات سے استفادہ کرنے کی غرض سے یہاں جمع ہوئے ہیں۔اللہ جزاخر عطا فرمائے مولانانذیر احمد رشادی صاحب دامت برکاتہم اور ان کے سرپرست اعلی بلکہ ہم سب کے سرپرست اعلی حضرت مولانا غیاث احمد رشادی دامت برکاتہم کو جو مسلسل فکروں میں ہے کہ ادارے چاہے جو ہوں ،وہ کسی کی سرپرستی میں چلتے ہوں وہاں سے پڑھنے والے پڑھانے والے نکلنے والے استفادہ کرنے والے سب لوگ مثالی بن کر نکلیں۔طلباء کو جب تک ہم نفسیاتی طور پر مانوس نہیں کریں گے اس وقت تک اپنے سینے میں جو چیز ہے ان کے سینوں میں منتقل نہیں کرسکیں گے ۔سفینے کی چیزوں کو سینے میں منتقل کرنا یہ انتہائی مشکل کام ہے ۔قرآن اور حدیث کی روشنی میں تین ایسے راستے ہیں جن راستوں سے طلبہ میں خود اعتمادی کو پیدا کرنے میں بڑا تعاون ملتا ہے اصل میں یہ ہے کہ اعتماد بولتے کس کو اعتماد کہتے ہیں طلباء اپنی صلاحیت پر اتنا بھروسہ اور یقین رکھے کہ میرے اندر جو چیز میں نے یہاں سیکھی ہے میں اس سے فائدہ اٹھا سکتا ۔طلباء میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے معلمین اور معلمات کو سب سے پہلی چیز جس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ طلباء میں حوصلہ پیدا کرنا ان کی نظر اپنی کمزوریوں پر ہوتی ہے اگر ہم ان کی کمزوریوں کو بنیاد بنا کر ٹارگٹ بنا کر جب اس کے سامنے بار بار یہ جملے دہرائیں گے اب بتلائیے کیا اس کے اندر اعتماد پیدا ہوگا اپ کے یہ جملے اس کے لیے اس کے مستقبل کے لیے کتنے خطرناک ہیں اس لیے میں ایک جملہ اپ سے کہتا ہوں کہ اگر استاد ایک جملہ اپنی زبان پر رکھیں اور طلبہ کے سامنے بار بار یہ دہراتے رہے اس کی حوصلہ افزائی ہوگی چاہے حوصلہ افزائی کیسے کریں گے تم یہ کام کر سکتے ہو میری نظر میں تم یہ کام کر سکتے ہو ۔ان کی حوصلے کو بڑھایا جائے وہ خود ایسے اعتماد کے ذخیرے کو اپنے اندر محسوس کریں گے ۔ہم اساتذہ کو بہت فکر کرنی چاہیے طلباء کے اندر حوصلے کو بڑھانے کے لیے ہم ان کی ہمت کو جلا دینے کے لیے قدم اٹھانا چاہیے سوالات کے روک سے بچہ خود اعتماد اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کے بجائے وہ جائے تعلیم سے بھی متنفر ہوگا اساتذہ سے بھی متنفر ہوگا دوسری بات جس کی طرف ہم اساتذہ اور معلمین کو اس کی طرف جو ہے دوران تدریس غور و فکر کرنا ہے وہ یہ ہے کہ طلباء کے اندر چھپی ہوئی کچھ خوبیاں ہوتی ہیں ان خوبیوں پر ہماری نظر ہونا جس کو ہم اگر اصطلاحی زبان میں کہیں گے طلباء کی مثبت رہنمائی ۔گر ہم ان کے اندرونی صلاحیتوں پر غور و فکر کریں ان کی مثبت رہنمائی کریں تومیں سمجھتا ہوں کہ انشائاللہ ہمارے بچے کسی بھی علم سے چاہے وہ فن کی شکل میں ہو چاہے علم دین کے راستے کے ہو متنفر نہیں ہوں گے بلکہ وہ ہمارے گرویدہ ہوں گے ہم کوجب اللہ تعالی نے معلم بنا کر ذمہ داری دی ہے تو ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ آنے والے طلباء کے ساتھ ہمارا سلوک کیا ہونا چاہیے ۔اگر ہم طلباء میں اعتماد کو پیدا کرنا چاہتے ہیں خود اعتمادی تو اس کے لیے سب سے پہلے ان کے حوصلہ افزائی کرے ان کے حوصلوں کو جلا دیں اور ہم غور کریں کہ ان کے اندر کیا خوبیاں ہیںدوسرے مثبت رہنمائی کا پہلو اختیار کریں اور تیسرے حسن سلوک کرے انشائاللہ دیکھیں گے روح بلالی خود بخود پیدا ہوگی ،اللہ تعالی سب کو عمل کی توفیق نصیب فرمائے ۔میں اس موقع پر مولانا نذیر احمد رشادی دامت برکاتہم کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس سلسلے کو اپ برقرار رکھیں گے اورمزید استحکام پیدا کرنے کی کوشش کریں گے یہ ہمارا اپس میں مل جل کر بیٹھنا امت کے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی نافع ہوگا ۔
تدریب المعلمین کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے زیڈ این جاگیردار صاحب بانی اسٹڈی ہوم سینٹر نے عصری تقاضے اور معلم کی ذمہ داری کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماراجو کریکٹر ہے وہ کریکٹر ہم جب ہمارے بچوں میں ڈالتے ہیں ہمارے اسٹوڈنٹس میں ڈالتے ہیں تو ہم اور ایک نئی پرسنلٹی بناسکتے ہیں اورجب ہم اچھے عمل کریں گے اچھا کام کریں گے اور ہمارے شاگرد وہ اچھا کام کرنے لگیں گے تو شاگرد کے کام کا اجر اس کا ثواب ان کے والدین کو بھی پہنچتا ہے اور اس کا تھوڑا سا اس اجراستاد کو بھی پہنچتا ہے یہ یہ دو چیزیں تھیں جو مجھے ٹیچنگ پروفیشن کی طرف لے آئیںاور الحمدللہ ا تقریبا 30 سال سے میں ایجوکیشن فیلڈ میں ہوں ابھی میری سروس جاری ہے میرا یہی مقصدہے کہ ہمارے بچے تعلیم میں اچھا میریٹ حاصل کریں اور نیشنل لیول کے انسٹیٹیوشنز میں اچھے مقام پر پہنچیں اور الحمدللہ آج میں لئیق احمد انجنئیراور مولوی عبدالطیف ندوی کو دیکھتا ہوں تو بہت اچھا لگتا ہے کہ میرے شاگرد ہیں اور ان سے اتنے بڑے ادارے سنبھالے جا رہے ہیں میں نے پچھلی مرتبہ بتایا تھا کہ ٓانے والے دنوں میں یہ اسکول ایک یونیورسٹی میں بدل سکتا ہے،میں سمجھتا ہوں آنے والے دنوں میں اسٹینلی اسکول اورمدرسے سے جو بچے نکلتے ہیں الحمدللہ ہمارے لطیف جیسے انگلش میں بات کریں ہمارے مدرسے سے جو بچے نکلتے ہیں انشاء اللہ سائنس میں بھی اچھے مقام پر پہنچیں گے اچھے انجینیئرز اچھے ڈاکٹرز بنیں گے ۔ آج کے حالات میں ہماری ذمہ داری ہے اساتذہ کے پاس یہ طلباء ہمارے ملت کا اور ہمارے قوم کا مستقبل ہیں اگر ہم صحیح معنوں میں ان کی تعلیم و تربیت کرتے ہیںتو یہ قوم و ملت کا اثاثہ بن سکتے ہیں۔اگر ہم ہمارے بچوں کو اس طریقے سے تیار کرتے ہیں تو ہمارے بچے پالیسی میکنگ میں گورنمنٹ میں ہوتے ہیں اسی وجہ سے جو پالیسیز جو نارتھ انڈیا میں چلتے ہیں وہ پالیسیز ساؤتھ انڈیا میں نہیں چلتے کیونکہ یہاں کے مسلمانوں میں بیدار ی ہے اور ایجوکیشن ہے میں سبھی سے گزارش کرتا ہوں کہ ہم مدرسہ ایجوکیشن کو مارڈنائزڈکر یں تاکہ یہاں سے فارغ ہونے والے بچے ائی ائی ٹیز میں جائیں یہاں سے فارغ ہونے والے بچے ایمز کے ڈاکٹرز بنے یہ ہماری تمنا ہے اور میں اسٹیلی اسکول سے جڑا ہوا ہوں کیونکہ میرا ایکسپرٹیز ادھر کا ہے وہاں کے ایجوکیشن کا ہے وہاں سے جڑا ہوا ہوں اور اس کے ساتھ ہی ساتھ میں ہمارے مولانا نذیر صاحب کے ساتھ یہ جو ایکٹیوٹیز کرتا ہوں یہاں پہ ہم کیا کر سکتے ہیں بچوں کے لیے یہ ہمارے ا ٓئیڈیاز ایکسچینج کرتے رہتے ہیں ۔اس موقع پر زیڈ این جاگیردار صاحب کو شالپوشی کے ساتھ تہنیت پیش کی گئی اور حضرت مولانا غیاث احمد رشادی کی تفسیر کلام حکیم سے قلب منیب تک تحفہ میں دی گئی۔
تدریب المعلمین کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سعیدالرحمن صاحب مفتاحی قاسمی مہتمم مدرسہ مفتاح القرآن بنگلور نے فرمایا کہ یہ ہمارے لیے بڑی بابرکت مجلس ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں قرآن مجید قران مجید سیکھنے اور سکھانے کے لیے یہاں پر جمع فرمایا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن کو سیکھے اور دوسروں کو سیکھائے ۔ہم یہاں سکھانے کے لیے بیٹھے ہیں یہ نہ سمجھیں ہم سیکھنے کے لیے آئے ہیں میں پڑھاتا ہوں توپڑھتا بھی ہوں سکھاتا ہوںتوسیکھتا بھی ہوں جتنا پڑھائیں گے اتنا سیکھتے ہیں جتنا سکھاتے ہیں اتنا سیکھتے ہیں پڑھاتے ہیں تو پڑھتے ہیں یہ ایسا سمندر ہے جتنا بھی گہرائی میں جاؤ ہیرے موتی ملتے ہی رہتے ہیں ختم ہونے والے نہیں ہیں تو جتنا پڑھائیں گے اتنے نکات اتنے جزیات نئے نئے طریقے معلوم ہوتے رہیں گے ۔دیکھیے نورانی قاعدہ یہ بیسک کتاب ہے ناظرہ پڑھنے کے لیے اصل مقصد قرآن مجید پڑھنا ہے تو قرآن مجید سیکھنے کے لیے قرآن مجید پڑھنے کے لیے بنیادی تعلیم بہت اہم ہے بنیادی تعلیم نورانی قاعدہ ہے ہر زبان سیکھنے کے لیے بیسک کی ضرورت پڑتی ہے بیسک مضبوط ہو جائے تو زبان آ جاتی ہے تو قرآن مجید سیکھنے کے لیے نورانی قاعدہ بیسک ہے اہم ہے اسے سیکھنا ضروری ہے بیسک کمزور ہو گیا تو زبان بھی کمزور ہو جائے گی تو نورانی قاعدہ جس بچے کا یا جس بچی کا کمزور ہو تو اسے قرآن پڑھنا نہیں آتا ہاں قرآنپڑھتے بھی ہیں تو بہت اٹک اٹک کر غلطیوں کے ساتھ ۔اور قران مجید مکمل کرنے کے لیے کم سے کم چار پانچ سال لگا لیتے ہیں چار سال پانچ سال کیوں لگتے ہیں اس لیے کہ بیسک کی کمزوری تھی تو بیسک جو ہے نورانی قاعدہہے تو اس کو مضبوط کر لیں تو قرآن مجید پڑھنا بالکل آسان ہو جاتا ہے اور بیسک پورا بیسک نہیں ہے نورانی قاعدے کے صرف شروع کے پانچ اسباقہیں اتنا ہی مضبوط کرنا ہے چاہے اس میں 10 دن لگے چاہے 15 دن لگے چاہے 20 دن لگے چاہے مہینہ لگے چاہے مدرسہ ہو چاہے مکتب ہو ۔قران جیسا پڑھنا ہے اسی انداز سے سکھانا بھی ہے تو تختی نمبر ایک اور دو یہ اہم ہیں اس میں شناخت کرانا ہے اور مخرج بتلانا ہے تختی نمبر تین سے سبق اصل شروع ہوتا ہے ۔قاعدہ سمجھ کر پڑھیں گے تو قرآن سمجھ کر پڑھ سکتے ہیں ۔
حضرت مولانا نذیر احمد رشادی نے اس پروگرام کی نظامت فرمائی اور ان ہی کے زیر نگرانی یہ پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔پروگرام کے شروع میں تمام حاضرین کے لئے پر تکلف ناشتہ کا اہتمام تھا اور پروگرام کے آخر میں تما م معلمین کو سند بھی دی گئی ۔خواتین معلمات کی بھی کثیر تعداد نے شرکت کی اور انہیں بھی سند دی گئیں ۔اور تمام حاضرین کو اسلامک ٹیوشن سینٹر کا براوچر بھی دیا گیا۔