جنگ کا اصل فاتح کون؟—
جب بارود بھی کاروبار بن جائے !!!
ازقلم:شرف الدین سید
9342522346
ہر جنگ اپنے پیچھے دو طرح کے ملبے چھوڑ جاتی ہے۔ ایک وہ ملبہ جو ٹوٹی ہوئی عمارتوں، جلی ہوئی گاڑیوں اور انسانی لاشوں کی صورت میں دنیا کو نظر آتا ہے، اور دوسرا وہ ملبہ جو عالمی معیشت، سیاست اور انسانی ضمیر پر گرتا ہے۔ پہلا ملبہ کیمروں میں محفوظ ہو جاتا ہے، دوسرا تاریخ کے حاشیوں میں دفن ہو جاتا ہے۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ہر جنگ میں یہ گنتے رہتے ہیں کہ کتنے میزائل داغے گئے، کتنے شہر تباہ ہوئے اور کس ملک نے کس پر برتری حاصل کی؛ لیکن بہت کم لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اس جنگ سے کمایا کس نے؟امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ نے ایک بار پھر یہی سوال زندہ کر دیا ہے۔ بظاہر تینوں ممالک کو نقصان اٹھانا پڑا، مگر اگر اس جنگ کو صرف فوجی نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی زاویے سے دیکھا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔آج امریکہ دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ اسلحہ کی سب سے بڑی صنعت کا بھی مرکز ہے۔ جنگ کے دوران استعمال ہونے والے بہت سے ہتھیار دوبارہ تیار ہوتے ہیں، ان کے نئے آرڈر ملتے ہیں، اتحادی ممالک اپنی دفاعی تیاریوں میں اضافہ کرتے ہیں اور اسلحہ ساز کمپنیوں کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ یوں جنگ صرف محاذ پر نہیں بلکہ فیکٹریوں اور مالیاتی منڈیوں میں بھی لڑی جاتی ہے۔
خلیجی کشیدگی کے آغاز ہی میں امریکی قیادت نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر ایران کے حملوں سے عرب ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں یا تنصیبات کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے مالی اثرات سے نمٹنے میں میزبان ممالک ہی کو اپنا حصہ ادا کرنا ہوگا۔ یہ مؤقف اس بدلتی ہوئی حکمتِ عملی کی علامت ہے جس میں سلامتی کے انتظامات کا مالی بوجھ بھی اتحادیوں کے ساتھ بانٹا جاتا ہے۔
اسی دوران خلیجی ممالک نے اپنی سلامتی کے خدشات کے پیشِ نظر جدید دفاعی نظام اور اسلحہ کے حصول میں دلچسپی بڑھائی۔ خوف نے ایک مرتبہ پھر اسلحہ کی عالمی منڈی کو متحرک کر دیا۔
دوسری طرف آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی نے عالمی تیل کی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا۔ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے دنیا بھر میں مہنگائی، تجارتی اخراجات اور معاشی بے یقینی کو بڑھایا۔ اس کا نقصان نہ صرف جنگ میں شریک ممالک بلکہ ان کروڑوں انسانوں نے بھی اٹھایا جن کا اس تنازع سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں تھا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بھی جنگ بندی کی امید پیدا ہوئی، مختلف سیاسی، سفارتی اور عسکری عوامل نے اس عمل کو پیچیدہ بنا دیا۔ ان عوامل کی وجوہات پر ماہرین کی آراء مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ایک سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے: کیا جدید جنگوں میں معاشی مفادات بھی امن کی رفتار پر اثر انداز ہوتے ہیں؟
عراق، افغانستان، لیبیا اور دیگر جنگوں کے بعد تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ جنگیں ختم ہو جاتی ہیں، مگر ان کے معاشی اثرات دہائیوں تک باقی رہتے ہیں۔ جنگ زدہ ممالک کی تعمیرِ نو میں برسوں لگ جاتے ہیں، جبکہ اسلحہ ساز صنعتیں اور بعض معاشی حلقے اپنے منافع کے نئے ریکارڈ قائم کر لیتے ہیں۔
اس لیے آج شاید دنیا کو ایک نئے سوال کا سامنا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون سی فوج زیادہ طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ جنگ کا معاشی ماڈل کس کے حق میں کام کرتا ہے؟ اگر خوف تجارت بن جائے، اسلحہ سب سے بڑی صنعت بن جائے اور امن سب سے کم منافع بخش چیز رہ جائے، تو دنیا میں جنگیں ختم کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہر جنگ کے بعد فاتحین کی فہرست بدل جاتی ہے، لیکن ایک طبقہ ایسا ہے جو شاید کبھی شکست نہیں کھاتا۔ وہ ہے جنگ کا کاروبار۔ سپاہی بدل جاتے ہیں، محاذ بدل جاتے ہیں، حکومتیں بدل جاتی ہیں، مگر اسلحہ فروخت کرنے والے، خوف کی تجارت کرنے والے اور جنگ سے منافع کمانے والے ہر دور میں اپنا حساب منافع کے خانے میں ہی لکھتے ہیں۔شاید اسی لیے آج کے عہد کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ جنگ کس نے جیتی؟ بلکہ یہ ہے کہ جنگ سے کمایا کس نے؟