Breaking
بدھ. جولائی 1st, 2026

رام مندر: کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

رام مندر: کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

رام مندر: کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

امسال ۸؍جون کو زعفرانی خیمہ خوشی سے جھوم رہا تھا کیونکہ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کے 20؍ ارکانِ پارلیمان نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی ۔ ایسے میں اکھلیش یادو نے ایک الزام لگا کر رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایودھیا میں رام مندر کے چندے سے کروڑوں روپے کی رقم غائب پائی گئی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سابق رکنِ اسمبلی پون پانڈے نے اس میں یہ اضافہ کیا تھا کہ یہ رقم 5 کروڑ سے 7.5 کروڑ روپے تک ہو سکتی ہے۔ ان مطالبہ صرف یہ تھا کہ اگر کوئی چوری نہیں ہوئی تو چمپت رائے رام کی قسم کھا کراس الزام کو جھوٹا کہہ دیں ۔ چمپت رائے نے قسم کھائے بغیر ان الزامات کو مسترد کردیا اور وہیں سے بات بگڑتی چلی گئی یہاں تک کہ ہزاروں کروڈوں کی چوری پکڑی گئی اور دنیا بھر میں ایسی تھو تھو ہوئی کہ لوگ ترنمول کے بعد شیوسینا میں ہونے والی پھوٹ کو بھی بھول گئے ۔ اس وقت اگرکچھ لوگوں کو بلی کا بکرا بناکرگرفتار کرلیا جاتا تو معاملہ رفع دفع ہوسکتا تھا لیکن اقتدار کے غرور سنگھ پریوار کی ذلت و رسوائی کا سبب بن گیا۔حالیہ ایف آئی آر کے بعد گرفتاری پر اودھ کے مشہور شاعر پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
لائے اس بت کو التجا کر کے
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے

اترپردیش میں وہ جنگل راج ہے کہ تفتیش سے قبل بلڈوزر چل جاتا ہے اور انکاونٹر تک ہوجاتا ہے لیکن رام مندر کے چندےکی چوری کا مقدمہ درج ہونے اور چھ افراد کو حراست میں لینے کے لیے 18؍دن لگ گئے ۔پرانا نعرہ ’’یہ اندر کی بات ہے پولس ہمارے ساتھ ہے ‘‘ اب بدل گیا ہے۔ فی الحال ساری دنیا کہہ رہی ہے ’’یہ اندر کی بات ہے چورپولس کے ساتھ ہے‘‘۔ عام ترتیب یہ ہے کہ ایف آئی آر کے بعد ایس آئی ٹی تشکیل دی جاتی ہے۔ اس معاملے میں یوگی اور مودی اس خوش فہمی کا شکار تھے ایس آئی ٹی کے بہانے سب کچھ رفع دفع کردیں گے اور ایف آئی آر کی نوبت ہی نہیں آئے گی ایسا نہیں ہوا۔ چندہ چوری کا دباو اس قدر بڑھا کہ بادلِ ناخواستہ خود ایس آئی ٹی کے ذریعہ ایف آئی آر درج کرنے کی سفارش کرائی گئی۔ اس کا مطلب ہے اب بھی سرکار مرضی نہیں تھی مگر چونکہ ایس آئی ٹی نے کہہ دیا تو مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق آٹھ ملزمین کے خلاف کےخلاف ایف آئی آر درج ہوئی اور جو بلی کا بکرا بنے وہ بیچارے مندر میں نقدی گننے کاکام کرتے تھے یعنی گبرّ سنگھ کوبچانے کے لیے سامبھا اور کالیا پر نزلہ اتارا گیا ۔

ایودھیا میں دھرم سینا کے صدر سنتوش دوبے نے تو اپنی شکایت میں ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے، انل کمار مشرا، گوپال رائے اور رام شنکر یادو عرف ٹنو کو چندہ چوری کا اصل ذمہ دار قرار دیا تھا ۔ان میں سے تین مگر مچھوں کو چھوڑ کر لاغر ترین مچھلی ( ڈرائیور) کو جال میں پھنسایا گیا؟ رام مندر کی چوری کے ایف آئی آر میں خرد برد کرنے والے ملزمین کے نام انوکلپ مشرا ‘ لو کش مشرا ‘ اویناش شکلا ‘ رام شنکر مشرا ‘ رام شنکر یادو ‘ منیش یادو ‘ سبھاش چندر سریواستو اور کرونیش پانڈے ہیں۔ ان ۸؍ لوگوں میں ۶؍ برہمن اور ۲؍ یادو ہیں ۔ حیرت انگیز طور پر وزیر اعلیٰ یوگی کا کوئی ذات بھائی راجپوت یا شاہ کے بنیا سماج سےایک شخص بھی اس بدعنوانی میں ملوث نہیں ہے ۔ یہ اگر محض اتفاق ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر جان بوجھ کر انہیں بچایا گیا تو وہ بدترین قسم کی ناز برداری ہے۔ اپنے سیاسی مخالفین پر مسلمانوں کی طرفداری کا الزام لگانے والوں کو رام مندر کی چوری نے پوری طرح برہنہ کردیا ہے لیکن جب تک یہ سرکار ہے چمپت رائے چمپت نہیں ہوں گےکیونکہ بقول ملک زادہ منظور؎
وہی قاتل وہی منصف عدالت اس کی وہ شاہد
بہت سے فیصلوں میں اب طرف داری بھی ہوتی ہے

ایس آئی ٹی نے مندر میں آنے والے چڑھاوا کو سنبھالنے، ان کی گنتی کرنے اور بینک میں جمع کرانے کے عمل سے وابستہ افراد، ملازمین اور چڑھاوا کی گنتی کرنے والوں سے پوچھ گچھ کی۔ دستاویزات اور بیانات کا موازنہ کرنے کے بعد مختلف قسم کی بے ضابطگیاں کی بنیاد پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات کو آگے بڑھانے کی سفارش کی تھی۔ بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت درج ایف آئی آر پر پولیس الگ سے تحقیقات کرے گی اور ایس آئی ٹی کی تفصیلی جانچ کا کام بھی جاری رہے گا۔ اب دعویٰ کیا جارہا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید افراد سے پوچھ گچھ کی جائے گی اور تحقیقات کے بعد جو بھی قصوروار پایا گیا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی کیونکہ حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اس لیے آنے والے دنوں میں بڑی گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں لیکن اصل مجرمین کی جانب نگاہِ غلط بھی نہیں جائے گی کیونکہ وزیر داخلہ یوگی کی نمک خوار پولیس ان کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی اور ایس آئی ٹی بنانے سے چلانے والوں تک سب کے سب سرکار کے بندۂ بے دام ہیں۔ ایسے میں صرف چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کو جال میں پھنسا کر بڑی شارک کو بچایا جائے گا ۔

بی جے پی کے سابق رکن پارلیمان اور بڑے رام بھگت ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کا یہ مطالبہ درست معلوم ہوتا ہے کہ چمپت کے چیلوں کو چھوڑ کر اس کے گرو کو پکڑو۔ چمپت رائے کا گرو کون ہے یہ سب کو پتہ ہے۔ اسے کس نے بھیج کراپنے کام میں لگا رکھا ہے اس سے ملک کا بچہ بچہ واقف ہے۔ رام مندر تنازع کے دوہفتوں بعد اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ایودھیا کے رودولی اسمبلی حلقے میں 378 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے سرکاری آیورویدک کالج اور اسپتال سمیت 126 ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لیے پہنچے تو اپنے گریبان میں جھانک کر غلطی کا اعتراف کرنے کے بجائے سماج وادی پارٹی اور کانگریس پر برس پڑے۔ انہوں نے رام بھکتوں کو یقین دلایا کہ ایس آئی ٹی کی جانچ ’’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی‘‘ کر دے گی۔ یوگی نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے رام کے مقام کی بازیابی کے لیے پانچ سو سال تک جدوجہد کی ہے لیکن یہاں تو پانچ سال کے اندر جو لوٹ مار مچائی گئی اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

یوگی نےیقین دہانی کی کہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں صرف 15 دن اور انتظار کر لیجیے سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن کیسے ہوگا؟کیونکہ 2020 میں بھی ایک ایس آئی ٹی بنی تھی۔ اس کی سفارشات پر اگر عمل ہوتا تو آج یہ بدعنوانی نہ ہوتی ۔ 2020 کی ایس آئی ٹی نے نجی آڈٹ رپورٹس میں غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور معیاری عملی طریقۂ کار (SOPs) کی عدم موجودگی کی نشاندہی کے بعد، انتظامی اور مالیاتی نظام میں کئی اہم تبدیلیاں تجویز کی تھیں لیکن اسے کوڈے دان میں ڈال دیا گیا۔ ایسے میں آئندہ ایسا نہیں ہوگا اس کی کیا گارنٹی ؟اس ایس آئی ٹی نے تومندر ٹرسٹ کی مکمل تنظیمِ نو کی سفارش کی تھی تاکہ انتظامی نظام کو زیادہ پیشہ ورانہ، شفاف اور جواب دہ بنایا جا سکے۔اس نےانتظامی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے کسی سینئر سرکاری افسر کو چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کرنے کے لیے کہا تھا۔عطیات کی گنتی کے عمل کا لازمی اور باقاعدہ ہفتہ وار یا پندرہ روزہ بنیاد پر کرنے کی سفارش کی تھی تاکہ نقد رقم اور دیگر نذرانوں کا روزانہ ریکارڈ مرتب کیا جاسکے لیکن جب نیت ہی چوری کی ہو تو ان پر عمل کیسے ہوتا؟

سوال یہ ہے یوگی سرکار نے پچھلی رپورٹ پرعمل کیوں نہیں کروایا؟ تو کیا وہ بھی اس کی حصہ دار تھی؟ آج حقائق کو چھپانے کے لیے سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی عدم موجودگی کا بہانہ بنایا جارہا ہےجبکہ ۶؍ سال قبل کہا گیا تھا کہ 180 دن تک محفوظ رکھنے کی گنجائش بڑھائی جائے تاکہ نقد رقم اور زیورات کی گنتی کے دوران چھیڑ چھاڑ یا نگرانی میں خلل کو روکا جا سکے۔پچھلی ایس آئی ٹی نے بھی عطیات اور قیمتی اشیاء کے مبینہ طور پر غائب ہونے یا غلط طریقے سے سنبھالے جانے کے الزامات کی مکمل تحقیقات کے لیے باقاعدہ ایف آئی آر درج کرنے کے لیے کہاتھامگر اس کو مجرمانہ طور پر نظر انداز کیا گیا۔ اس بار پھر وہی سفارش تو آگئی لیکن کیا یہ لوگ اس کوقرار واقعی انجام تک پہنچائیں گے؟ کیا کوئی خود اپنے لیے پھانسی کا پھندا تیار کرےگا؟ ایودھیا کے رام مندر میں کروڑوں کا چندہ چوری کے ضمن میں سرکاری ایف آئی سے قبل ۳؍ تحریری شکایتیں دھرم سینا، کانگریس اور کرنی سینا نے دیں مگراس کے باوجود کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی اور اب لیپا پوتی ہورہی ہے کیونکہ اگر ارادہ ہی چوری کا ہو اور پکڑے جانے کا ڈربھی نہ ہو تو یہ شعر یاد آتا ہے؎

آپ ہی کی ہے عدالت آپ ہی منصف بھی ہیں
یہ تو کہیے آپ کے عیب و ہنر دیکھے گا کون؟

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے