تلنگانہ میں ایس آئی آر
عوامی خدشات، انتظامی چیلنجز اور جمہوری امتحان
تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755
گزشتہ ایک برس کے دوران اس کالم میں ہم مسلسل اسپیشل اِنٹینسیو ریویژن کے مختلف پہلوؤں، اس سے وابستہ قانونی مباحث، عدالتی کارروائیوں، انتظامی اقدامات اور عوامی خدشات کا جائزہ لیتے رہے ہیں۔ ہماری کوشش صرف خبروں کی ترسیل نہیں تھی بلکہ یہ باور کرانا بھی تھا کہفہرست ہائے رائے دہندگانکی تیاری محض ایک انتظامی مشق نہیں بلکہ جمہوری عمل کی وہ بنیاد ہے جس پر ہر انتخاب کی ساکھ اور عوامی اعتماد استوار ہوتا ہے۔ اسی لیے سپریم کورٹ کی ہدایات، الیکشن کمیشن آف انڈیا کے رہنما خطوط اور مختلف ریاستوں کے زمینی حالات کو مسلسل قارئین کے سامنے رکھا گیا، تاکہ شہری بروقت اس عمل سے آگاہ ہوں اور اپنے آئینی حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کر سکیں۔
آج جبکہ ملک کی سولہ ریاستوں اور تین مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں خصوصی جامع نظرِ ثانی کا عمل تیزی سے جاری ہے، تلنگانہ اس پوری مشق کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ پہلے مرحلہ کے دوران بوتھ لیول افسران کی جانب سےگھر گھر جا کررائے دہندوں کو فارم تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد دعووں اور اعتراضات کی سماعت کا مرحلہ شروع ہوگا اور یکم اکتوبر کو نظرِ ثانی شدہ حتمی انتخابی فہرست جاری کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ اس پوری کارروائی کا مقصدفہرست ہائے رائے دہندگان کو زیادہ درست، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے، تاکہ فرضی، دہرے یا ناقص اندراجات کی اصلاح ہو سکے۔ اصولی طور پر اس مقصد سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ ہر جمہوری نظام کی مضبوطی اس امر سے وابستہ ہے کہ صرف اہل شہری ہی فہرست ہائے رائے دہندگان میں شامل ہوں اور ہر اہل شہری کا اندراج محفوظ بھی رہے۔ لیکن زمینی سطح پر اس عمل نے جہاں امید پیدا کی ہے، وہیں تشویش کے کئی نئے پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔
سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ لاکھوں شہری اس اندیشے میں مبتلا ہیں کہ کہیں کسی معمولی تکنیکی غلطی، دستاویزات کی کمی، ناموں کے ہجوں میں فرق یا ریکارڈ کی کسی معمولی خامی کے باعث ان کا نام انتخابی فہرست سے خارج نہ کر دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف سماجی، ملی اور سیاسی تنظیمیں عوام میں بیداری پیدا کرنے اور ضروری تعاون کے لیےسرگرم ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ کوئی بھی اہل شہری صرف انتظامی پیچیدگیوں کی وجہ سے اپنے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔
بوتھ لیول افسران اور عوام آزمائش میں:
تلنگانہ میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن کی کارروائی نے بوتھ لیول افسران اور عام شہریوں دونوں کو سخت امتحان میں ڈال دیا ہے۔ ایک طرف بوتھ لیول افسران کو گھر گھر جا کر رائے دہندوںکی تصدیق، دستاویزات کی جانچ اور فارموں کی تکمیل کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، تو دوسری طرف وہ پہلے ہی پولیو ویکسین مہم، مختلف سرکاری سروے، فلاحی اسکیموں اور دیگر انتظامی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ محدود وقت، عملے کی کمی اور وسائل کے فقدان کے باعث ان کے لیے تمام ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔کئی مقامات پر بی ایل اوز کی عدم دستیابی یا تاخیر سے عوام کو دشواری پیش آ رہی ہے، جبکہ خدمات انجام دینے والے بیشتر بی ایل اوز عمر رسیدہ افراد اور خواتین ہیں۔ ان میں سے بعض کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں زیادہ مہارت نہیں رکھتے، انگریزی اصطلاحات سے بھی مکمل واقفیت نہیں رکھتے، اور ایس آئی آر کے طریقۂ کار، مراحل اور فارموں سے متعلق مزید عملی تربیت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب دیگر سرکاری ذمہ داریوں اور اضافی فرائض کی وجہ سے بی ایل اوز پر کام کا دباؤ بھی بڑھ گیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر بی ایل اوز کو مزید تربیت، تکنیکی رہنمائی، مناسب وقت اور ضروری وسائل فراہم کیے جائیں اور عوام کے لیے بھی واضح ہدایات اور معلومات کا بہتر انتظام کیا جائے تو ایس آئی آر کا عمل مزید مؤثر، آسان اور عوام دوست بنایا جا سکتا ہے۔مزید برآں، مختلف سیاسی جماعتوں کے دباؤ، عوامی شکایات اور بعض علاقوں میں عدم تعاون نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔اس صورت حال کے باعث عام شہری بھی شدید ذہنی اضطراب اور پریشانی کا شکار ہیں۔
۹۰لاکھ مشتبہ اندراجات کے سائے میں خصوصی جامع نظرِ ثانی:
انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی تیسرے مرحلے کے تحت تلنگانہ میںرائے دہندوں کی ایک ماہ پر محیط گھر گھر مردم شماری کا آغاز ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب ریاست میں تقریباً ۸۹ لاکھ ۸۸ ہزاررائے دہندوں کے ریکارڈ میں مختلف نوعیت کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی پہلے ہی کی جا چکی ہے، جبکہ اس عمل کے طریقۂ کار اور زبان سے متعلق خدشات بھی زیرِ بحث ہیں۔
تلنگانہ میں اس وقت ۳ کروڑ ۳۸ لاکھ رجسٹرڈ رائے دہندوں موجود ہیں۔ ان میں سے ۹۹ لاکھ ۶۴ ہزار رائے دہندوں، جو مجموعی تعداد کا تقریباً ۲۹ فیصد بنتے ہیں، ایسے ہیں جن کا ۲۰۰۲ کی انتخابی فہرست سے کوئی تعلق قائم نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب، جن ۲ کروڑ ۳۹ لاکھ رائے دہندوںوں کا ریکارڈ میپ کیا گیا، ان میں سے ۸۹ لاکھ ۸۸ ہزاریعنی ۳۷ اعشاریہ ۶۷ فیصد کے اندراجات میں مختلف بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔
رائے دہندوں ریکارڈ میں کن بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی؟
تلنگانہ کے انتخابی حکام نے رائے دہندوں ریکارڈ میں۱۱ اقسام کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں نمایاں یہ ہیں:
ایک ہی والدین کے بچوں کی تاریخِ پیدائش میں نو ماہ سے کم فرق درج ہونا۔
والدین اور اولاد کی عمر میں ۱۵ سال سے کم فرق ہونا۔
والدین اور اولاد کی عمر میں ۵۰ سال سے زیادہ فرق ہونا۔
دادا یا نانا اور پوتے یا نواسے کی عمر میں ۴۰ سال سے کم فرق ہونا۔
موجودہ اور ۲۰۰۲ کی فہرست میں والد یا والدہ کے نام کے ہجے مختلف ہونا۔
موجودہ اور ۲۰۰۲ کی فہرست میں مختلف رشتہ داروں کے ساتھ ریکارڈ کا منسلک ہونا۔
موجودہ فہرست میں والد کے نام، جبکہ ۲۰۰۲ کی فہرست میں شوہر کے نام کے تحت اندراج ہونا۔
والد کے نام کی مختلف املا درج ہونا۔
دونوں فہرستوں میں عمر کا مختلف درج ہونا۔
معاون دستاویزات کی عدم موجودگی اور صرف آدھار کا بطور واحد دستاویز استعمال ہونا۔
انتخابی عہدیادروں نے امید ظاہر کی ہے کہ دوسرے مرحلےکے دوران ان بے ضابطگیوں میں سے تقریباً۸۰ فیصد کو درست کر لیا جائے گا۔
دیہی اور شہری علاقوں میں رائے دہندوں کے شعور کا وقت:
اعداد و شمار اور انتظامی حقائق اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن خصوصی جامع نظرِ ثانی نے تلنگانہ کے سماجی رویوں کا ایک اور پہلو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں میں انتخابی شعور، سرکاری عمل سے وابستگی اور دستاویزات کے تحفظ کے حوالے سے واضح فرق دیکھنے میں آیا۔ دیہی علاقوں میں ووٹ کو محض ایک سیاسی حق نہیں بلکہ اپنی شناخت اور اجتماعی وقار کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی ایک خاندان کے متعلق کوئی بھی اطلاع چند ہی گھنٹوں میں پورے گاؤں تک پہنچ جاتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو دستاویزات مکمل کرنے کی یاد دہانی کراتے ہیں، مقامی کارکن بوتھ لیول افسران سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور انتخابی فہرست کی درستگی کو اجتماعی ذمہ داری تصور کرتے ہیں۔اس کے برعکس شہری علاقوں میں صورتِ حال نسبتاً مختلف ہے۔ اپارٹمنٹ کلچر، مصروف طرزِ زندگی، مسلسل نقل مکانی اور محدود سماجی روابط کے باعث بہت سے شہری سرکاری نوعیت کے معاملات کو اس وقت تک مؤخر رکھتے ہیں جب تک وہ ناگزیر نہ ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تقریباً ایک سال سے مختلف ملی و سماجی تنظیموںکی جانب سے مسلسل آگاہی مہم چلائے جانے کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ اس وقت متحرک ہوئے جب فارم ان کے گھروں تک پہنچ رہیں ہیں۔اب دستاویزات ٹٹولے جارہے ہیں ،ان میں یکسانیت تلاش کی جارہی ہے اور عدم یکسانیت اور غلطیوں کی تصحیح کے لیے دفاتر کا رخ کیا جارہا ہے۔جس کے نتیجے میں می سیوا مراکز، تحصیل دفاتر اور دیگر سرکاری اداروں پر غیر معمولی بھیڑ دیکھی جا رہی ہے، جہاں دستاویزات بنانے اور اصلاح وتصحیح کے لیے شہریوں کو طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صورتِ حال انتظامیہ کے لیے بھی ایک اضافی آزمائش بن گئی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس پریشانی کا سامنا صرف غیر تعلیم یافتہ طبقے کو نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری بھی اسی بے چینی کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔ عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ تعلیم یافتہ افراد سرکاری معاملات میں زیادہ منظم ہوتے ہیں، لیکن عملی مشاہدہ اس کے برعکس ہے۔ پیشہ ورانہ مصروفیات اور سرکاری کارروائیوں سے عدم دلچسپی کے باعث بہت سے لوگ آخری وقت تک انتظار کرتے ہیں، جس کا نتیجہ غیر ضروری ذہنی دباؤ اور عجلت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس تجربے نے واضح کیا ہے کہ تعلیم کے ساتھ شہری ذمہ داری کا شعور بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
روایتی طریقے کے ساتھ آن لائن سہولتوں کا استعمال:
خصوصی جامع نظرِ ثانی کے دوران ایک اور پہلو بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ الیکشن کمیشن نے شہریوں کی سہولت کے لیے متعدد آن لائن خدمات فراہم کی ہیں تاکہ لوگ غیر ضروری طور پر دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے گھر بیٹھے کئی مراحل مکمل کر سکیں، لیکن بعض حلقوں کی جانب سے شہریوں کو ان ڈیجیٹل سہولتوں سے استفادہ کرنے کے بجائے صرف روایتی طریقہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر فارم کے داخل کرنے کے عمل کو لے کر۔وہ شہری جن کے تفصیلات رائے دہندوں آئی ڈی کارڈ اور آدھار میں یکساں ہیں اور ان کا موبائل نمبر رائے دہندوں آئی ڈی سے لنک ہے تو وہ اس سہولت سے گھر بیٹھے استفادہ کرسکتے ہیں اور فارم داخل کرسکتے ہیں۔فارم داخل کرنے کے بعد اکنالجمنٹ کا پرنٹ نکال کر بی ایل او ہاں سبمٹ کریں۔
عوامی بے چینی ،رہنمائی کی ضرورت و لسانی شمولیت:
اس پورے عمل میں سب سے زیادہ تشویش کا باعث عوام کی نفسیاتی کیفیت ہے۔ اس وقت جبکہ نظرِ ثانی کا عمل صرف ابتدائی مرحلے میں ہے اور شہری فارم بھرنے اور بنیادی معلومات کی تصدیق میں مصروف ہیں، بڑی تعداد میں لوگ شدید بے یقینی اور ذہنی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ فارم کے مختلف خانوں، مطلوبہ دستاویزات اور اندراج کے طریقۂ کار سے متعلق چھوٹے چھوٹے سوالات بھی ان کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ اگر ابتدا ہی میں یہ کیفیت پیدا ہو چکی ہے تو دعووں، اعتراضات، سماعت اور حتمی فیصلوں کے مراحل میں عوام کو مزید مؤثر رہنمائی اور سہولت فراہم کرنا ناگزیر ہوگا۔اسی دوران زبان کا مسئلہ بھی خاصی اہمیت اختیار کر گیا۔ کئی علاقوں میں فارم صرف تلگو زبان میں تقسیم کیے جانے پر اردو بولنے والے شہریوں نے اپنے تحفظات ظاہر کیے۔ بعد ازاں معاملہ تلنگانہ ہائی کورٹ تک پہنچا، جہاں عدالت نے الیکشن کمیشن کو ان اسمبلی حلقوں میں اردو زبان میں فارم فراہم کرنے پر غور کرنے کی ہدایت دی جہاں اردو بولنے والوں کی تعداد نمایاں ہے۔ یہ معاملہ محض زبان کا نہیں بلکہ جمہوری عمل میں مساوی شرکت اور شہری سہولت کا بھی ہے۔
سوشل میڈیا، معلومات کا سیلاب اور مستند رہنمائی کی اہمیت:
نظرِ ثانی کے موجودہ عمل کے دوران یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر فارم بھرنے، انتخابی فہرستوں میں اندراج اور ضروری دستاویزات سے متعلق بڑی تعداد میں ویڈیوز، پوسٹس اور رہنما مواد شیئر کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے بہت سا مواد شہریوں کے لیے مفید ثابت ہو رہا ہے، تاہم مختلف ذرائع سے فراہم کی جانے والی غیر یکساں معلومات اور مختلف تشریحات کے باعث عام شہریوں کے لیے اصل اور مستند طریقۂ کار کو سمجھنا بعض اوقات دشوار ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں سرکاری اور مجاز ذرائع سے رہنمائی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔اسی کے ساتھ یہ بھی مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ معلومات کی تیز رفتار ترسیل کے اس دور میں بعض افراد اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس خود کو انتخابی امور کے ماہر یا رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بہت سے افراد درست اور مفید معلومات فراہم کر رہے ہیں، لیکن بعض مواقع پر نامکمل معلومات، مختلف تشریحات یا ذاتی آرا شہریوں میں ابہام اور الجھن پیدا کر رہی ہیں۔ اس لیے شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ انتخابی عمل سے متعلق معلومات اور رہنمائی کے لیے بنیادی طور پر الیکشن کمیشن اور دیگر مجاز سرکاری ذرائع پر انحصار کریں، تاکہ کسی بھی غلط فہمی سے بچتے ہوئے نظرِ ثانی کے عمل کو درست اور پُراعتماد انداز میں مکمل کیا جا سکے۔
خصوصی جامع نظرِ ثانی کا عمل صرف فہرست ہائے رائے دہندگان کی درستی تک محدود نہیں بلکہ عوامی اعتماد، انتظامی شفافیت اور شہری شرکت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر شہریوں کو بروقت معلومات، آسان طریقۂ کار اور مناسب رہنمائی فراہم کی جائے تو یہ عمل اعتماد کو مضبوط بناتا ہے۔ تلنگانہ کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ انتخابی شفافیت صرف قواعد کے نفاذ سے نہیں بلکہ مؤثر انتظام، جدید ٹیکنالوجی، مسلسل عوامی آگاہی اور شہری تعاون سے ممکن ہے۔ اسی طرح شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت اپنے انتخابی ریکارڈ اور دستاویزات کی تصدیق کریں۔ درحقیقت، خصوصی جامع نظرِ ثانی ایک انتظامی کارروائی سے بڑھ کر آئینی حقوق کے تحفظ، عوامی اعتماد کے فروغ اور جمہوری نظام کی مضبوطی کا اہم ذریعہ ہے۔