ادھوری زندگیاں

ادھوری زندگیاں
(افسانہ)

ازقلم:محمد عبدالحلیم اطہر سہروردی،
صحافی و ادیب،،گلبرگہ
Cell: 8277465374۔
athar.gul@gmail.com

شہر کی ایک چھوٹی سی بستی میں تین ایسے گھر تھے جہاں تین لڑکیاں رہتی تھیں۔عمر کے ساتھ ہر لڑکی کی طرح ان تینوں کی آنکھوں میں بھی ایک خواب تھا ،دلہن بننے اور رخصتی کا خواب۔ مگر قسمت نے ہر ایک کے نصیب میں اجالا اور اندھیرا لکھ رکھا تھا۔ان تینوں کو بھی قسمت کی ستم ظریفی کا سامنا تھا،ان میں ایک غریب تھی ،ایک خوبصورت نہیں تھی اور ایک پڑھی لکھی نہیں تھی۔رخسانہ غریب تھی۔اتنی غریب کہ اس کے باپ کے پاس دو وقت کی روٹی مشکل سے آتی۔غربت اس کے مقدر پر اس طرح لکھی گئی تھی جیسے کسی پتھر پر گہری لکیر۔ اس کا باپ ایک چھوٹا مزدور تھا، رخسانہ نے اپنی جوانی سلائی مشین کے شور میں گزار دی۔ اس کے ہاتھوں نے دوسروں کی بیٹیوں کے عروسی جوڑے سیئے ، مگر اپنے نصیب کا جوڑا کبھی نہ دیکھ سکی۔ ہر آنے والا رشتہ جہیز کے بوجھ تلے دم توڑ دیتا۔جب بھی کوئی رشتہ آتا، بات جہیز پر آ کر رک جاتی۔‘‘لڑکی تو اچھی ہے… مگر کچھ انتظام بھی ہونا چاہیے۔’’یہ جملہ اس کے کانوں میں زہر کی طرح گھل جاتا۔ آہستہ آہستہ اس نے آئینے میں دیکھنا چھوڑ دیا۔ اس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے اور بالوں میں سفیدی اس بات کی گواہی تھیں کہ انتظار انسان کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتا ہے۔انتظار انسان کو جہاں خواب دکھاتا ہے وہیں مایوسی کی داغ بیل بھی ڈالتا ہے۔ انسان کی توقع سے بڑھ کر یا اس کی ہمت سے بڑھ کر کیا جانے والا انتظار اس کے جذبات، حسیات اور احساسات کے ساتھ ہونے والا کھلواڑ ہے جواندرونی دنیا کو منتشر کر دیتا ہے۔بعض اوقات انتظار حاصل اور لا حاصل کے مابین جنگ چھیڑ دیتا ہے۔ حاصل دل کو بھاتا نہیں اور لا حاصل ہاتھ آتا نہیں۔ نتیجہ اضطراب کی صورت میں دن رات ڈستا رہتا ہے۔ دوسری جانب اس کی ماں ہر رات صندوق میں بیٹی کیلئے رکھا لال دوپٹہ نکال کر دیکھتی اور پھر خاموشی سے واپس رکھ دیتی۔اس نے بھی خاموشی سے اپنے خواب تہہ کر کے اسی صندوق میں رکھ دیے جہاں اس کا سرخ جوڑا رکھا تھا۔سال گزرتے گئے،رخسانہ کے سیاہ بالوں میں چاندی اترنے لگی۔لوگ کہنے لگے،”اب اس عمر میں کون کرے گا شادی؟”اسے احساس ہونے لگا کہ وہ ادھوری زندگی جی رہی ہے۔
شازیہ خوبصورت نہیں تھی۔رنگت سانولی تھی ،وہ دل کی بے حد خوبصورت تھی، مگر معاشرے نے حسن کو صرف چہرے تک محدود کر رکھا تھا۔ اس کا رنگ سانولا تھا، ناک نقش عام سے تھے، اور یہی اس کا سب سے بڑا جرم بن گیا تھا۔رشتے والے آتے، چائے پیتے، مصنوعی مسکراہٹ دیتے اور جاتے ہوئے کہتے،لڑکی تو اچھی ہے،مگر ہمارے لڑکے کے معیار کی نہیں۔ہر بار جب کوئی اسے دیکھنے آتا تو چائے پی کر یہی کہہ کر چلا جاتا،لڑکی اچھی ہے مگر۔۔یہ ”مگر” اس کی زندگی کا سب سے بڑا زخم بن گیا۔وہ ہر بار مسکرا دیتی، مگر رات کو تکیہ اس کے آنسوؤں سے بھیگ جاتا۔وہ راتوں کو آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بالوں میں نمودار ہوتے سفید تاروں کو توڑتی رہتی، جیسے بڑھتی عمر کو روک لے گی۔ مگر عمر کہاں رکتی ہے؟ہر گذرتا دن اس کے انتظارر کو اور طویل کرتا جاتا ساتھ ہی ادھورے پن کا احساس بھی بڑھنے لگتا۔
اور پھر نسرین…جو کبھی اسکول نہ جا سکی۔جہالت اس کے نصیب پر مہر بن گئی۔وہ خوبصورت بھی تھی اور خوش اخلاق بھی، مگر اس کے حصے میں یہ محرومی آئی تھی — جہالت۔ غربت نے اسے اسکول نہ جانے دیا۔ وہ اپنا نام بھی ٹوٹے پھوٹے انداز میں لکھتی تھی۔جب رشتے آتے تو پہلا سوال یہی ہوتا:‘‘لڑکی کتنی پڑھی لکھی ہے؟’’اور جواب سنتے ہی چہروں کے تاثرات بدل جاتے۔جو رشتہ آتا، لڑکے والے پوچھتے، ”پڑھی لکھی ہے؟ ”اور جواب سنتے ہی انکار کر دیتے۔وہ اکثر اپنے سفید ہوتے بالوں کو دوپٹے میں چھپا لیتی، جیسے اس کے ساتھ علم کی کمی بھی چھپ جائے گی۔وہ اکثر آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنی مانگ میں انگلی پھیرتی اور دھیرے سے کہتی تھی،”ایک دن میں بھی لال جوڑا پہنوں گی…”مگر وقت نے اس کے خوابوں پر ایسے زخم لگائے کہ اس کے بال وقت سے پہلے سفید ہونے لگے۔محرومی کا احساس بڑھنے لگا اور وہ سوچتی رہتی کہ یہ ادھوری زندگی کیسے جی پائے گی۔
وقت اور حالات کی ماری ان تینوں لڑکیوں کی قسمت میں ایک بات اچھی تھی وہ یہ کہ یہ تینوں ایک دوسرے کی دوست تھیں اور اپنا اپنا درد سنا کر دل ہلکا کر لیتی تھیں ۔تینوں کی عمریں ڈھل رہی تھیں، مگر ان کی آنکھوں میں اب بھی کسی نہ کسی امید کی مدھم روشنی باقی تھی۔وقت تینوں کے آنگن سے جوانی چرا لے گیا۔ایک شام بارش ہو رہی تھی۔ تینوں عورتیں محلے کی چھت پر بیٹھی خاموش آسمان دیکھ رہی تھیں۔ ان کے بالوں کی سفیدی بارش میں اور نمایاں ہو رہی تھی۔رخسانہ نے ٹوٹے لہجے میں کہا،”ہم سب لال جوڑا پہننا چاہتی تھیں نا؟”شازیہ ہنسنے کی کوشش کرتے ہوئے رو پڑی۔نسرین نے آسمان کی طرف دیکھا اور بولی، ”قسمت نے شاید ہمارے لیے سفید جوڑا رکھا ہے…”ہر شام وہ تینوں گھر کی چھت پر بیٹھ جاتیں۔ایک دن نیچے گلی میں کسی بارات کا شور تھا، دور کہیں شادی ہال کی روشنیاں جگمگاتیں، بینڈ باجے کی آوازیں آتیں، اور وہ خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیتیں۔ ان کی مسکراہٹوں میں محرومی کا زہر گھلا ہوتا۔چھت پر اپنی ادھوری زندگیوں کے ساتھ بیٹھی تین ایسی عورتیں جنہیں معاشرے نے مختلف وجوہات سے رد کیا، مگر جن کے دل آج بھی محبت، عزت اور اپنائیت کے لیے دھڑکتے تھے۔
ایک رات رخسانہ نے دونوں سے کہا:‘‘ہم میں قصور کس کا ہے؟ میرا، جو میںغریب ہوں؟’’شازیہ بولی:‘‘یا میرا، جو میںحسین نہیں؟’’نسرین نے نم آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھا:‘‘یا میرا، جو میںپڑھ نہ سکی؟’’مگر جواب کون دیتا ، آسمان بھی خاموش تھا۔وقت گزرتا رہا۔ ان کے بالوں میں چاندی اترنے لگی تومحلے کی عورتیں اب انہیں‘‘لڑکیاں’’نہیں بلکہ‘‘بے چاری عورتیں’’کہنے لگی تھیں۔لیکن ایک چیز اب بھی ان میں زندہ تھی ، ان کا ایک دوسرے کے لیے سہارا بن جانا۔وہ کہتیں‘‘شاید ہماری قسمت میں شادیاں نہیں لکھی گئیں… مگر ہم ایک دوسرے کے نصیب میں تو ہیں۔پھر ’’ان تینوں نے مایوس ہونے کی بجائے امید کی مدھم روشنی کو بڑھاکر زندگی بھرپور طریقہ سے جینے کا فیصلہ کیا ۔رخسانہ حسب معمول کپڑے سیتی اور اس کے سلے کپڑے پسند کئے جاتے اس طرح اس کا کام خوب پھیلتا گیا بڑے بڑے کمپنیوں کے آرڈر ملنے لگے، نسرین مہندی ڈیزائن کی ماہر بن گئی دن رات اس کے پاس مہندی ڈیزائن کیلئے آنے والوں کی لائن لگ گئی نوبت یہاں تک پہنچی کہ پہلے سے وقت لینا پڑتا، اور شازیہ محلے کے بچوں کو قرآن اور ٹیوشن پڑھانے لگی تھی،چند مہینوں میں گھر کے صحن میں ایک چھوٹی سی کلاس بن گئی۔ ‘‘حالات بدل گئے ۔’’تینوں کے پاس وقت کے ساتھ ساتھ دولت اور شہرت میں بھی اضافہ ہونے لگا، زندگی خوشحال گذرنے لگی۔ محلے والوں نے کہا کیا بات ہے تم تینوںمیں یہ تبدیلی کیسے آئی ہے ،تینوں مسکرائی اور کہنے لگیں ہم نے انتظار ختم کرکے سوچ کا زاویہ بدلاہے۔’’زندگی کی اور امیدیںابھی باقی ہیں، ہم نے فیصلہ کیا ہیکہ زندگی کو ہم زندہ دلی سے جئیںگے ۔اصل میںوہ تینوںسمجھ گئی تھیںکہ ہر عورت کی قسمت میں دلہن بننا نہیں لکھا جاتا، بلکہ کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو دوسروں کی زندگیوں کو آباد کر دیتی ہیں۔اور ایسی عورتوں کی امیدیں کبھی مدھم نہیں ہوتیں،وہ حالات کے موافق اپنی زندگیوں کو ڈھال کر ادھوری زندگیاں ہی سہی لیکن پوری طرح جینے میںکامیاب ہو جاتی ہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے