Breaking
بدھ. جولائی 8th, 2026

شہید آیت اللہ خامنائی کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت

شہید آیت اللہ خامنائی کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت

شہید آیت اللہ خامنائی کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت

ازقلم:شیخ سلیم
(ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)

آیت اللہ علی خامنائی مرحوم کا جنازہ بلا شک و شبہ جدید تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک ہے۔ لاکھوں سوگواروں نے تہران کی سڑکوں کو انسانوں سے بھر دیا، ہجوم کئی کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا، تاکہ وہ اس بہادر اور شہید رہنما کو خراج عقیدت پیش کر سکیں جس نے اسرائیلی دھمکیوں کے باوجود بنکر میں پناہ لینے سے انکار کر دیا اور بالآخر جنگ کے دوران شہادت پائی۔
اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
لے تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے
وائے قسمت پاؤں کی اے ضعف کچھ چلتی نہیں
کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے
رہرو راہ محبت رہ نہ جانا راہ میں
لذت صحرا نوردی دورئ منزل میں ہے
شوق سے راہ محبت کی مصیبت جھیل لے
اک خوشی کا راز پنہاں جادۂ منزل میں ہے

آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار
آئیں وہ شوق شہادت جن کے جن کے دل میں ہے
بسمل عظیم آبادی

ایران میں شہید آیت اللہ علی خامنائی شہید کی آخری رسومات کا آغاز ہو چکا ہے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایک بڑے حملے میں سپریم لیڈر اور اُنکے خاندان کے کئی افراد اور ایران کے بڑے بڑے لیڈرز شہید ہو گئے تھے جنگ کے باعث اُنکی آخری رسومات ادا نہ کی گئی تھی اب جبکہ آخری رسومات کا آغاز ہو چکا ہے دنیا اُنکی محبت میں سیلاب کی طرح آنے والے انسانوں کے جم غفیر کو دیکھ کر حیران ہے اور سبھی اپنے اپنے انداز سے پیش ہونے والے واقعات کا اندازہ لگانے میں مصروف ہیں۔
انکا جنازہ کی تقریبات صرف تہران تک محدود نہیں رہے گا۔ اسی طرح کے بڑے پیمانے کے جلوس ایران کے مقدس شہروں قم اور مشہد میں بھی ہونے والے ہیں، جس کے بعد عراق کے شہروں نجف اور کربلا میں تقریبات منعقد ہونے والی ہیں تدفین مشہد میں متوقع ہے۔ یقینی طور پر یہ کثیر الملکی سوگ کی تقریبات لاکھوں مزید شرکاء کو اپنی طرف کھینچیں گی، جس سے یہ واقعہ حالیہ تاریخ میں دیکھے گئے سب سے اہم اور بڑے جنازوں میں سے ایک ہے۔ شاید ہی کسی اور بڑے لیڈر یا مذہبی شخصیت کی میت پر ایسی ذبردست بھیڑ دیکھنے کو ملے ۔28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایک حملے میں آیت اللہ علی خامنائی، اُن کی بیٹی، داماد اور پوتی شہید ہو گئے تھے۔ حملہ اُن کے دفتر میں ہوا تھا۔ آیت اللہ علی خامنائی 87 سال کے تھے،اُنہوں نے اپنے کئی دوستوں کو پچھلے دو تین سالوں میں شہید ہوتے ہوئے دیکھا تھا: حسن نصر اللہ، اسماعیل ہانیہ، یحییٰ سنوار اور غالباً اُنہوں نے بھی بستر پر مرنے کے بجائے شہید ہونے کی خواہش کی ہوگی۔ اسی لیے وہ کسی خفیہ بنکر میں نہیں گئے۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ ہماری عوام کے پاس تو بنکر نہیں ہے، اس لیے اُنہوں نے بنکر میں چھپنے سے انکار کر دیا اور شہادت کی خواہش کی اور اُنہیں شہادت نصیب بھی ہوئی۔
جنازے میں اس غیر معمولی تعداد نے ایرانی عوام اور ریاست نے ذبر دست محبت، احترام اور عقیدت کا اظہار کیا کہ برسوں کے تنازعات ، جنگوں اور چار دہائیوں کی بین الاقوامی پابندیوں، اور مسلسل بیرونی دباؤ معاشی مشکلات کے باوجود حکومت زبر دستی عوامی حمایت رکھتی ہے عوام کا جم غفیر اُن کی مقبولیت کا ثبوت ہے، جنازے میں لاکھوں کی بھیڑ نے امریکہ اور اسرائیل کے ذریعے وسیع پیمانے پر پھیلائے گئے اس تصور کو خارج کر دیا کہ آیت اللہ علی خامنائی کو ملکی سطح پر حمایت حاصل نہیں تھی۔ صدر ٹرمپ کو بتایا گیا تھا کہ ایرانی عوام ایرانی حکومت کے خلاف ہے اور سڑکوں پر اُتر آئے گی۔ جنازے میں شریک لاکھوں افراد شاید صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کو منہ چڑھانے آ گئے ہیں اور مغرب کو ایک آئینہ دکھا رہے ہیں سبھی جانتے ہیں امریکا اور یورپ نے ایران کے اسلامی انقلاب کو کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔اسرائیل کو توقع تھی کہ ایران کے سپریم لیڈر کو ہٹانے سے تیزی سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہو جائے گا یا اسلامی جمہوریہ کا فوری خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس، ایرانی ریاست برقرار رہی، حکومتی ادارے کام کرتے رہے، اور قیادت کی منتقلی، اس بھیانک ترین حملے کے بعد جس میں ایران کی ساری لیڈرشپ شہید کر دی گئی تھی، ہو گئی۔نئی ایرانی قیادت اور ریاست بلا جھجھک آگے بڑھی اور مزید مضبوط ہو گئی، جس کی بہت سے لوگوں نے پہلے ہی سے پیش گوئی کی تھی۔جس کی مثال ابنائے ہرمز پر مکمل ایرانی کنٹرول ہے ایرانی جب چاہیں کھول دیں جب چاہے بند کر دیں چاہیں تو ٹول وصول کریں۔ اس بات کا اندازہ امریکا نے نہیں لگایا تھا یہ ایران کی بڑی کامیابی ہے ساتھ ہی معاشی پابندیاں بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتی نظر آ رہی ہیں ایرانی سرمایہ جو دوسرے ممالک میں منجمد تھا وہ بھی اب ایران کو واپس ملنے کے آثار ہیں جس سے ایران ایک منی سپر پاور بن جائےگا۔

اس تناظر میں بہت سی چیزیں سمجھ میں آئی ہیں۔

پہلا، حکومت اور قیادت کو صرف فوجی طاقت کے ذریعے آسانی سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ کسی ملک کے رہنما کو ہٹانا ( یا قتل کر دینا) لازمی طور پر اس کے اداروں، نظریاتی بنیادوں، یا قومی شناخت کو ختم نہیں کرتا۔ ماضی کا وہ دور جس میں بڑی بڑی مغربی طاقتیں فوجی مداخلت کے ذریعے معمول کے مطابق حکومتوں کو تبدیل کر سکتی تھیں، اب پہلے کی طرح آسان نہیں رہا۔ اس واقعے کے بعد صورت حال میں تیزی سے تبدیلی واقع ہوئی ہے۔

دوسرا، فوجی برتری کی اپنی حدود ہیں۔ زبردست تکنیکی اور فوجی برتری بھی خود بخود سیاسی یا حکمت عملی کی کامیابی میں تبدیل نہیں ہوتی اور نہ ہی میدان جنگ کی فتوحات طویل مدتی سیاسی نتائج کا تعین کرتی ہیں۔

تیسرا، طاقتور ریاستوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ چھوٹی یا کم فوجی صلاحیت رکھنے والی قومیں دباؤ کے تحت ہتھیار ڈال دیں گی۔ تاریخ، افغانستان اور عراق سے لے کر فلسطین کے جاری تنازع تک، یہ ثابت کرتی ہے کہ قوم پرستی، نظریہ، مذہبی عقیدہ، اور اجتماعی عزم، فوجی لحاظ سے برتر مخالفین کے خلاف بھی مزاحمت کو نہ صرف برقرار رکھ سکتے ہیں بلکہ شکست بھی دے سکتے ہیں۔

چوتھا، وہ حکومتیں جنہیں خاطر خواہ عوامی حمایت حاصل ہوتی ہے، عام طور پر باہر سے کارفرما سیاسی تبدیلی کی کوششوں کے خلاف زیادہ مضبوط ثابت ہوتی ہیں۔ عوامی حمایت اور قومی اتحاد کسی بھی ملک کی مضبوطی کی سب سے مضبوط بنیادوں میں شامل ہیں۔
آخر میں، بہت سے ایرانی اپنے ملک کی خودمختاری اور آزادی کے دفاع کے طور پر ذاتی قربانیاں دینے کے لیے تیار نظر آ رہے ہیں۔ ایرانی عوام اور حامیوں نے عوامی طور پر متحرک ہونے کی زبردست مثال پیش کی ہے، پاور پلانٹس، پلوں، اور عوامی تنصیبات جیسے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ میں انسانی زنجیر بنا کر ایرانیوں نے ایک صاف پیغام دیا۔ لاکھوں افراد پلوں پر کھڑے ہو کر گویا امریکہ اور اسرائیل کو للکارتے رہے آؤ ہم پر حملہ کرو۔ شجاعت اور بہادری کی ایسی مثال پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے۔ اسرائیل سے تو لوگ جنگ کے دوران ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں فررا ہو گئے تھے جنازے میں لگائے جانے والے انتقام کے نعرے دور رس نتائج کے حامل ہیں۔ شاید یہ انتقام کی خواہش ایرانی عوام میں صدیوں کے لیے نہ بس جائے اور پھر انتقام اور تشدد کا ایسا سلسلہ شروع ہو جو ماتم حسین کی طرح صدیوں چلتا رہے۔ الگ الگ ممالک کے سفیروں اور وفود کے سامنے قرآن کریم کی الگ الگ آیتوں کا انتخاب کیا گیا اور تلاوت کی گئی تلاوت کی گئیں، جن کا انتخاب جنگ میں اُن ممالک کے کردار کے حساب سے کیا گیا تھا۔ اس سے بھی مختلف ممالک کو واضح پیغام دیا گیا ہے۔ جنگ سے سبق یہ ہے کہ امن اور سیاسی استحکام صرف فوجی طاقت کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پائیدار سلامتی کا انحصار جواز، قومی یکجہتی، مؤثر سفارت کاری، اور قوموں کی عزم اور حوصلے پر ہوتا ہے کہ وہ تنازعات کو فوجی حل کے بجائے سیاسی ذرائع سے حل کریں۔
اب سوال یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کیسا ردعمل ظاہر کریں گے۔ کیا وہ اس بڑے پیمانے پر عوامی حمایت کو ایرانی ریاست کی مضبوطی کے ثبوت کے طور پر لیں گے اور اپنی حکمت عملی اسی کے مطابق تبدیل کریں گے، یا وہ بنیادی طور پر پھر سے فوجی طاقت پر انحصار جاری رکھیں گے؟ امریکہ نے پچھلی دو بار کی بات چیت کے دوران ہی ایران پر حملہ کر کے اپنے خیالات اور نظریات کا اظہار کر دیا تھا، اسی لیے اب ایران امریکہ اور اسرائیل پر بھروسہ کرنے بالکل بھی تیار نہیں ہے۔ جنگ بندی عارضی ہے، غیر یقینی ہے۔ جنگ بندی کے دوران اور جنگ بندی کے بعد بھی کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
خلیجی ریاستوں کا ردعمل بھی قابل ذکر ہے۔ سعودی عرب کا جنازے میں سرکاری وفد بھیجنے کا فیصلہ ایک مثبت سفارتی اشارہ ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ریاض مزید کشیدگی کے بجائے علاقائی استحکام کو ترجیح دینا جاری رکھے ہوئے ہے، اور ایسے وقت میں بات چیت اور صلح کو ترجیح دیتا ہے جب مشرق وسطیٰ کو ایک اور تباہ کن جنگ کے بجائے فوری طور پر دیرپا امن کی ضرورت ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے