طاقت، توسیع پسندی اور دوہرے معیارات ،عصرِ حاضر کا ایک جائزہ

طاقت، توسیع پسندی اور دوہرے معیارات  ،عصرِ حاضر کا ایک جائزہ

طاقت، توسیع پسندی اور دوہرے معیارات
عصرِ حاضر کا ایک جائزہ

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

تمام تعریفیں اس اللّٰہ ربّ العالمین کے لیے ہیں، جو عدل و انصاف کا سرچشمہ، رحمتِ عالم کا مالک اور کائنات کا حقیقی فرمانروا ہے۔ اسی نے انسان کو اشرف المخلوقات کا مقام عطا فرمایا، اسے عقل و شعور کی دولت سے نوازا، اور زمین پر اپنا نائب بنا کر یہ ذمّہ داری سونپی کہ وہ ظلم، جبر اور فساد کے بجائے عدل، امن اور خیر کو فروغ دے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کا ایک عظیم مقصد بھی یہی تھا کہ انسانیت کو ظلمتِ استبداد سے نکال کر عدل و انصاف کی روشن شاہراہ پر گامزن کیا جائے۔ چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ
"بلاشبہ ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی، تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں” (سورۃ الحدید: 25)۔

اسلام کی نگاہ میں عدل کسی قوم، نسل، مذہب یا جغرافیے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک آفاقی اور غیر جانب دار اصول ہے۔ قرآنِ مجید مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی، سیاسی اختلاف یا ذاتی مفاد بھی انہیں انصاف کے راستے سے نہ ہٹا سکے۔ یہی وہ اصول ہے جو ایک صالح معاشرے، مستحکم ریاست اور پُرامن عالمی نظام کی بنیاد بنتا ہے۔ لیکن عصرِ حاضر کا منظرنامہ اس قرآنی تصورِ عدل سے خاصا مختلف دکھائی دیتا ہے۔ آج طاقت کو حق، مفاد کو اصول اور غلبے کو انصاف کا معیار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں دوہرے معیارات، معاشی استحصال، عسکری توسیع پسندی، وسائل پر قبضے کی دوڑ اور کمزور اقوام پر سیاسی و اقتصادی دباؤ نے عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے دعوے بہت ہیں، مگر ان کا اطلاق اکثر طاقت، مفاد اور سیاسی ترجیحات کے تابع دکھائی دیتا ہے۔

زیرِ نظر مضمون انہی عالمی حقائق کا ایک علمی، فکری اور تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس میں طاقت کی سیاست، توسیع پسندی، جنگی معیشت، دوہرے معیارات اور اسلامی تصورِ عدل کا تقابلی مطالعہ کیا گیا ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ دنیا میں پائیدار امن اور حقیقی انصاف کا قیام صرف اسی وقت ممکن ہے جب مفادات کی سیاست پر اخلاق، قانون اور عدل کو فوقیت دی جائے۔ دنیا نے تہذیب، سائنس، ٹیکنالوجی اور انسانی حقوق کے میدان میں بے مثال ترقی کی ہے، مگر اس ترقی کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی مسلسل نمایاں ہوتی جا رہی ہے کہ عالمی سیاست، معیشت اور طاقت کے مراکز پر انصاف کے بجائے مفادات کی حکمرانی بڑھتی جا رہی ہے۔ طاقتور ممالک اور عالمی قوتیں امن، جمہوریت، انسانی حقوق اور مساوات کے بلند بانگ دعوے تو کرتی ہیں، لیکن عملی میدان میں اکثر ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ طاقت ہی قانون بن گئی ہے۔

آج کے دور میں چند طاقت ور اور توسیع پسند قوتوں کی پالیسیاں دنیا کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ ان کی کوشش یہ نہیں ہوتی کہ اپنی ترقی، علم، معیشت اور اخلاق کے ذریعے دنیا میں اپنا مقام بلند کریں، بلکہ اکثر دوسروں کو کمزور، محتاج اور غیر مستحکم بنا کر اپنی برتری قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گویا اپنی لکیر کو بڑا کرنے کے بجائے دوسروں کی لکیر کو چھوٹا بلکہ مٹا دینے کی فکر غالب آ چکی ہے۔ یہی رویہ عالمی کشیدگی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی ناہمواریوں کو جنم دیتا ہے۔

توسیع پسندی (Expansionism) کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ قدیم سلطنتوں سے لے کر جدید عالمی طاقتوں تک، مختلف ادوار میں ریاستوں نے سیاسی، عسکری، معاشی اور نظریاتی برتری حاصل کرنے کے لیے اپنی حدود سے باہر اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ماضی میں اس کا اظہار براہِ راست قبضوں اور نوآبادیاتی نظام کی صورت میں ہوتا تھا، لیکن آج اس نے اقتصادی دباؤ، سفارتی اثر اندازی، تجارتی پابندیوں، قرضوں، میڈیا، سائبر ٹیکنالوجی اور عسکری اتحادوں کی نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار حاصل کرنے سے پہلے بہت سے عالمی رہنما جنگوں کے خاتمے، امن کے قیام اور سفارت کاری کے فروغ کے وعدے کرتے ہیں، لیکن اقتدار سنبھالنے کے بعد اکثر دنیا مزید تنازعات، اسلحہ کی دوڑ اور سیاسی کشمکش میں الجھتی چلی جاتی ہے۔ اس صورتِ حال نے عام انسان کے ذہن میں یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا امن واقعی عالمی طاقتوں کی ترجیح ہے، یا پھر جنگیں بعض حلقوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کو تقویت دیتی ہیں؟

گزشتہ برسوں میں مختلف خطوں میں ہونے والی جنگوں نے یہ حقیقت بھی آشکار کی ہے کہ جنگ صرف انسانی جانوں کا نقصان نہیں کرتی بلکہ عالمی معیشت، خوراک، تعلیم، صحت اور سماجی استحکام کو بھی شدید متاثر کرتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ دنیا میں اسلحہ سازی کی صنعت مسلسل کیوں پھیل رہی ہے، اور کیوں مختلف ممالک اپنے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں؟ بہت سے تجزیہ نگار اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اسلحہ کی عالمی تجارت بعض معاشی مفادات سے بھی وابستہ ہے، جس کے اثرات بین الاقوامی سیاست پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

جنگ کا سب سے بڑا نقصان صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پوری عالمی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ خوراک کی قلت، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی، بے روزگاری، مہاجرین کے بحران اور سپلائی چین کی رکاوٹیں براہِ راست جنگوں کے نتائج ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ایک خطے میں ہونے والا مسلح تنازع ہزاروں میل دور رہنے والے عام شہری کی زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ دنیا میں دفاعی صنعت اربوں ڈالر کی معیشت بن چکی ہے۔ بہت سے تحقیقی ادارے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلحہ کی خرید و فروخت عالمی تجارت کا ایک اہم شعبہ ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اگر جنگیں کم ہو جائیں تو دفاعی صنعت، عسکری بجٹ اور اس سے وابستہ معاشی مفادات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اسی لیے امن اور جنگ کے مباحث میں معاشی مفادات کا پہلو بھی تحقیق کا اہم موضوع سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب، عام شہری اور کسان نسبتاً معمولی معاملات پر سخت قانونی کارروائیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر فصل کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی ایک حقیقی مسئلہ ہے اور اس کی روک تھام ضروری ہے، لیکن جب اس مسئلے کے بنیادی اسباب، کسانوں کی معاشی مجبوریوں اور متبادل سہولیات کو نظر انداز کر دیا جائے تو انصاف ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ اسی طرح ماحولیات کے نام پر عوام پر جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، مگر ماحول کو نقصان پہنچانے والی بڑی صنعتوں اور آلودگی کے بڑے ذرائع پر وہی شدّت دکھائی نہیں دیتی جو عام شہری کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔

یہی کیفیت پلاسٹک، تمباکو، گھٹکا اور دیگر مضرِ صحت اشیاء کے معاملے میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے استعمال پر پابندیاں یا جرمانے ضرور عائد کیے جاتے ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ مصنوعات واقعی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں تو ان کی تیاری، تشہیر اور غیر ذمّہ دارانہ فروخت کے خلاف بھی مؤثر اور منصفانہ اقدامات کیوں نہ کیے جائیں؟ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ذمّہ داری صرف صارف پر نہیں بلکہ پیداوار، تقسیم اور پالیسی سازی کے تمام مراحل پر یکساں طور پر عائد ہو۔

بین الاقوامی تعلقات میں اکثر یہ شکایت سامنے آتی ہے کہ ایک ہی نوعیت کے واقعات پر عالمی ردِّعمل یکساں نہیں ہوتا۔ کہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر سخت پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، جب کہ کہیں اسی نوعیت کے واقعات پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ اس طرزِ عمل کو بین الاقوامی سیاست میں "Double Standards” یا دوہرے معیارات سے تعبیر کیا جاتا ہے، جو عالمی انصاف کے تصور پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اسی طرح معاشرتی انصاف کے حوالے سے بھی ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ معمولی جرائم میں ملوث افراد فوری قانون کی گرفت میں آ جاتے ہیں، جب کہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی، مالی بے ضابطگیوں یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب افراد اکثر اپنے اثر و رسوخ کی بنا پر احتساب سے بچ نکلتے ہیں۔ اگرچہ ہر ملک اور ہر معاملہ ایک جیسا نہیں ہوتا، تاہم اس قسم کے تاثرات عوام کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ قانون کی اصل روح یہی ہے کہ وہ طاقت ور اور کمزور، امیر اور غریب، حاکم اور محکوم سب کے لیے یکساں ہو۔

اسلامی تعلیمات بھی یہی سبق دیتی ہیں کہ عدل کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔ قرآنِ کریم انصاف کو ہر حال میں قائم رکھنے کا حکم دیتا ہے، خواہ فیصلہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح تاریخِ اسلام میں خلفائے راشدین نے یہ عملی مثال قائم کی کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور اقتدار کسی کو قانون سے بالاتر نہیں بناتا۔ اسلام نے عدل کو صرف عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ ریاست، معیشت، سیاست، تجارت اور معاشرت کا بنیادی ستون قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم ارشاد فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ (النحل: 90)۔ اور فرمایا: وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدہ: 8)۔ یعنی کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں انصاف سے نہ ہٹائے؛ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ رسول اللّٰہﷺ نے بھی واضح فرمایا کہ اگر کسی معزز خاندان کا فرد بھی جرم کرے تو اس پر بھی وہی قانون نافذ ہوگا جو ایک عام شخص پر ہوتا ہے۔ یہی حقیقی عدل اور قانون کی بالادستی ہے۔

آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی سیاست مفادات کے بجائے انصاف، طاقت کے بجائے اخلاق، جنگ کے بجائے امن، اور استحصال کے بجائے انسانی مساوات کو اپنا اصول بنائے۔ مستقل امن صرف اس وقت قائم ہو سکتا ہے جب بین الاقوامی قوانین کا اطلاق سب پر یکساں ہو، انسانی جان کی حرمت ہر مفاد سے بالاتر سمجھی جائے، اور احتساب کا معیار کمزور و طاقت ور دونوں کے لیے ایک جیسا ہو۔ تنقید کے ساتھ اصلاح کی راہ بھی دکھانا اہلِ قلم کی ذمّہ داری ہے۔ عالمی امن اور انصاف کے لیے ضروری ہے کہ:
* بین الاقوامی قوانین کا یکساں اطلاق ہو۔
* اسلحہ کی دوڑ کو محدود کرنے کے لیے مؤثر عالمی معاہدے کیے جائیں۔
* اقوامِ عالم تنازعات کے حل کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیں۔
* عالمی ادارے طاقت ور اور کمزور ریاستوں کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کریں۔
* بدعنوانی، معاشی استحصال اور سیاسی اجارہ داری کے خلاف شفاف احتساب کو یقینی بنایا جائے۔
* تعلیم، اخلاق اور انسانی اقدار کو قومی و عالمی پالیسیوں کا بنیادی جز بنایا جائے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی معاشرے یا عالمی نظام کی پائیداری صرف عسکری قوت، معاشی برتری یا سیاسی غلبے سے نہیں بلکہ عدل، دیانت، شفافیت اور انسانی وقار کے احترام سے وابستہ ہوتی ہے۔ جب انصاف واقعی اندھا ہو کر ہر شخص کے ساتھ یکساں سلوک کرے گا، تبھی دنیا میں حقیقی امن، استحکام اور خوش حالی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے گا۔ عدل وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں ریاستیں قائم رہتی ہیں، جب کہ ظلم وہ آگ ہے جو بظاہر دوسروں کو جلاتی ہے مگر آخرکار اپنے ہی ایوانوں کو راکھ کر دیتی ہے۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ طاقت کے حق میں نہیں بلکہ حق کے حق میں ہوا ہے۔ اس لیے اگر دنیا حقیقی امن، پائیدار ترقی اور انسانی وقار کی خواہاں ہے تو اسے مفادات کی سیاست سے بلند ہو کر انصاف، دیانت اور مساوات کو اپنا شعار بنانا ہوگا، کیونکہ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک پُرامن اور مہذب عالمی نظام استوار ہو سکتا ہے۔

اسلام ہمیں یہ حقیقت یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی طاقت، سلطنتیں، عسکری برتری اور معاشی غلبہ سب عارضی ہیں، جب کہ عدل، تقویٰ اور حق ہمیشہ باقی رہنے والی اقدار ہیں۔ تاریخ کی عدالت میں وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جنہوں نے طاقت کو امانت، اقتدار کو خدمت اور قانون کو انصاف کا ذریعہ بنایا۔ لیکن جنہوں نے ظلم، استحصال، غرور اور توسیع پسندی کو اپنی پالیسی بنایا، وہ وقتی کامیابیوں کے باوجود بالآخر اپنے ہی ظلم کے بوجھ تلے دب گئیں۔ قرآنِ مجید کا اٹل اعلان ہے کہ "وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ”، یعنی اقتدار اور غلبے کے دن ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ اس لیے کسی طاقت کو اپنی قوت پر نازاں اور کسی کمزور کو اپنی بے بسی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

ایک مسلمان کی نگاہ صرف دنیا کی عدالت پر نہیں بلکہ اس عظیم عدالت پر بھی ہوتی ہے جہاں نہ کوئی سفارش چلے گی، نہ طاقت کام آئے گی، نہ دولت اور نہ منصب۔ وہاں ہر مظلوم کو اس کا حق ملے گا اور ہر ظالم اپنے ہر چھوٹے بڑے ظلم کا حساب دے گا۔ اسی احساسِ جواب دہی سے فرد بھی سنورتا ہے، معاشرہ بھی امن پاتا ہے اور ریاست بھی عدل کی بنیاد پر استحکام حاصل کرتی ہے۔ لہٰذا اہلِ ایمان کی ذمّہ داری یہ نہیں کہ وہ صرف دوسروں کے ظلم پر آواز بلند کریں، بلکہ وہ اپنے کردار، معاملات، سیاست، تجارت، معاشرت اور اجتماعی زندگی میں بھی عدل و دیانت کا نمونہ بنیں۔ اسلام کا پیغام یہی ہے کہ انصاف دوست اور دشمن، اپنے اور پرائے، طاقت ور اور کمزور، سب کے لیے یکساں ہو۔ یہی وہ اخلاقی برتری ہے جو اُمّتِ مسلمہ کو دنیا کے سامنے ایک قابلِ اعتماد اور خیر خواہ اُمّت بنا سکتی ہے۔

آئیے! ہم عہد کریں کہ نفرت کے بجائے خیر خواہی، انتقام کے بجائے انصاف، تعصب کے بجائے دیانت، اور ظلم کے بجائے عدل کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا شعار بنائیں۔ ہم اپنی آواز بھی حق کے لیے بلند کریں، اپنی قلم کو بھی انصاف کا ترجمان بنائیں اور اپنے کردار کو بھی اس پیغام کا عملی نمونہ بنائیں۔ یہی انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت، قرآنِ حکیم کا منشور اور رسولِ اکرمﷺ کی روشن سنّت ہے۔ اگر انسانیت کو پائیدار امن، حقیقی آزادی اور باوقار مستقبل درکار ہے تو اسے بالآخر اسی ربانی نظامِ عدل کی طرف لوٹنا ہوگا، کیونکہ عدل ہی بقاء ہے، ظلم فنا ہے، اور حق ہی وہ روشنی ہے جو آخرکار ہر باطل اندھیرے پر غالب آ کر رہتی ہے۔
🗓️ (05.07.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے