اسرائیل کی بجرنگ دل کا نام "عُوتسما یہودیت” (Otzma Yehudit) ہے۔اس کا اردو میں ترجمہ "یہودی طاقت” ہوتا ہے۔ یہ ایک انتہائی دائیں بازو کی، قوم پرست اور سخت گیر نظریات کی حامل مذہبی صیہونی جماعت ہے۔اس کا رہنما اِیتمار بِن گویر (Itamar Ben-Gvir) اسرائیل میں وزیرِ قومی سلامتی یعنی داخلہ امور کا وزیر ہے۔اب ذرا تصور کریں کہ سرکاری سرپرستی میں سڑکوں پر ہجومی تشدد کرنے والے کسی بجرنگی بھائی کو اگر حکومت میں اتنےاہم عہدے پر فائز کردیا جائے تو اس سرکار کا اور ملک کا کیا حشر ہوگا؟ وہی ہوگا جو اسرائیل کا حال ہے۔ ویسے اس کا ایک نمونہ آج ہی لکھنو کی سڑکوں پر دیکھنے کو ملا ۔ ایودھیا میں چمپت رائے کے استعفیٰ کی جانب سے توجہ ہٹانے کی خاطر بی جے پی کے صدر یوپی کی راجدھانی پہنچے تو روڈ شو کے دوران نتن نبین جس گاڑی پر سوار تھے اور اس کے سامنے ایک شخص ہنومان کے بھیس میں گدا اٹھائے ناچ رہا تھا ۔ ایتماربن گویر بھی بینجمن نیتن یاہو کے سامنے رقص کرتاہے مگر پولیس کے تحفظ کبھی فلسطینیوں پر مظالم ڈھاتاہے تو کبھی صمود فلوٹیلا میں آنے والے رضاکاروں پر زیادتی کرتے ہوئے ویڈیو بنواتاہے لیکن پاپ کا گھڑا بالآخر ایک نہ ایک دن بھر جاتا ہے اور ایسا ہی گویر کے ساتھ ہورہا ۔
اسرائیل کی تازہ خبر یہ ہے کہ اس یہودی طاقت کے رہنما نے پہلے تو اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں شرکت کرنے کا ارادہ کیا مگر پھر ڈر کر اپنا دورہ منسوخ کردیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ فی زمانہ ’’یہودی قوت‘‘ کتنی کمزور ہوچکی ہے۔ اس کا ایک نہایت بدزبان رہنما اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے بعد دوسرے نمبر کا سب سے بڑا لیڈر یعنی وہاں کا امیت شاہ اپنے آقا ٹرمپ کے ملک میں جانے کی جرأت نہیں کرسکا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بن گویر کی اس ذلت و رسوائی کا سامان حماس کے ہاتھوں کیا۔ یہ کسی چنڈو خانے یعنی گودی میڈیا کی نہیں بلکہ اسرائیل کے سب سے معتبر روزنامہ ہارٹز میں شائع ہونے والی خبرہے۔ اس انتہا پسند وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر نے نیویارک کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ بن گویر کایہ دورہ اقوام متحدہ میں پولیس کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ہونا تھا، تاہم اس کو فلسطینیوں کے خلاف اپنے جرائم کی پاداش میں قانونی تعاقب اور گرفتاری کا خوف ستانے لگا۔ بعید نہیں کہ یہ ڈر نیویارک کے مسلمان میئر زہران ممدانی کے سبب رہا ہوکیونکہ جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ نیتن یاہو کو گرفتار کریں گے تو انہوں نے جواب دیا تھا ضرور۔ اب جو شخص بن گویر کے باس بینجمن نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا حوصلہ رکھتا ہوتو اس کے سامنے یہ گوبر چھاپ وزیر کس کھیت کی مولی ہے؟
اخبار ”ہارٹز“ نے بن گویر کے دورے کی منسوخی کی وجہ یہ بتائی کہ اسے انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعہ اس کے خلاف احتجاج کا خدشہ تھا۔ دنیا بھر میں بن گویر کی گرفتاری اور تفتیش کے مطالبات دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں۔ روزنامہ کے مطابق یہ دورہ یونہی کسی افواہ کی بنیاد پرمنسوخ نہیں ہوا بلکہ یہ فیصلہ ان اندرونی سکیورٹی اور سیاسی جائزوں کے بعد کیا گیاجن میں انتباہ دیا گیا تھا کہ زبردست احتجاج کا قوی امکان ہے۔ بن گویر کی نفرت انگیز پالیسیوں اور اشتعال انگیز موقف کی وجہ سے بھی اس پر قانونی دباؤ ہے۔اسرائیل کے دوسرے بڑے اخبار ”یروشلم پوسٹ“ نے بھی تصدیق کی کہ بن گویر نے قانونی دباؤ کی رپورٹس کے سبب نیویارک میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت منسوخ کر دی۔ طوفان الاقصٰی سے قبل یہ بات کسی تصور خیال میں نہیں تھی اسرائیل کا اتنا بڑا رہنما دیگر ممالک تو کجا خود امریکہ میں قدم رکھنے سے گھبرائے گا۔ یہ امریکہ کی نام نہاد نہایت طاقتورسمجھی جانے والی صہیونی لابی کی بھی کھلی توہین ہے۔ ویست ٹرمپ نے حال میں یہ کہہ کر بینجمن نیتن یاہو کی توہین کردی کہ وہ ملاقات کے لیے گڑ گڑا رہا ہے۔ اسے پتہ ہے کہ آقا( باس ) کون ہے؟ ٹرمپ ہر دوسرے تیسرے دن نیتن یاہو اور مودی کی اس طرح رسوائی کرتے رہتے ہیں اور اب یہ معمول بن گیا ہے۔
بیلجیم میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ”ہند رجب“ کا بن گویر کی پسپائی میں سب سےاہم رول ہے۔ اس تنظیم نے فلسطینی اسیران سے متعلق بن گویر کی پالیسیوں کے خلاف امریکہ میں قانونی شکایات درج کرائی ہیں۔اخبار کے مطابق مذکورہ تنظیم نے امریکی محکمہ انصاف سے اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی درخواست کی ہے ۔ اس نے نیویارک کی اٹارنی جنرل سے بھی گویر کے جرائم کی باضابطہ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہند رجب نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ احتساب کو اب محض ایک نظریاتی گفتگو تک محدود نہیں رہنا چاہیے ۔ اس نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ امریکی حکام پر دباؤ ڈالنا جاری رکھے گی تاکہ بن گویر کے خلاف قانونی اقدامات کیے جا سکیں۔ اس لیے بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے ہند رجب تنظیم نے دورے کی منسوخی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ویسے غزہ کی معصوم بچی ہند رجب فی زمانہ اسرائیلی مظالم کا شکار ہونے والوں کی سب سے طاقتور علامت بن گئی ہے۔
اقوام متحدہ کی غزہ کے بچوں پر ہونے والے مظالم کی رپورٹ کے بعد محترمہ سونیا گاندھی نے انڈین ایکسپریس میں جو مضمون لکھ کر مودی سرکار کو عار دلائی تھی اس میں بھی ہند رجب کا خاص طور پر بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا تھا۔ سونیا گاندھی کے مطابق، ہند رجب (Hind Rajab) کی المناک داستان غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران پیش آنے والے ایسے واقعات کی علامت بن چکی ہے، جو انسانی تاریخ کے نہایت دردناک ابواب میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ پانچ سالہ ہند رجب اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ غزہ شہر سے محفوظ مقام کی طرف منتقل ہونے کی کوشش کر رہی تھی تو راستے میں اسرائیلی فوج نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ اس حملے کی سفاکی کا یہ عالم تھا کہ اس ایک گاڑی پر 335 گولیاں برسائی گئیں۔ اس کے نتیجے میں ہند رجب کے چھ قریبی رشتہ دار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ اس خوفناک واقعے کے بعد ننھی ہند اپنی گاڑی میں اپنے اہلِ خانہ کی لاشوں کے درمیان کئی گھنٹوں تک زندہ پھنسی رہی۔ امدادی کارکن اور پیرامیڈکس اس تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے مگر صہیونی سفاک رکاوٹ بن گئے ۔ بعد از خرابیٔ بسیار امدادی کارروائی مکمل ہونے سے پہلے ہی ہند رجب بھی شہید ہو گئی، اور اس کے ساتھ اسے بچانے کے لیے آنے والے دو پیرامیڈکس بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
سونیا گاندھی کے مطابق ہند رجب کی کہانی صرف ایک بچے کی المناک موت کا واقعہ نہیں بلکہ غزہ میں ہزاروں فلسطینی بچوں کے ساتھ پیش آنے والے انسانی المیوں کی علامت ہے۔اس داستانِ خونچکاں کو بیان کرنے کے بعد سونیا گاندھی لکھتی ہیں کہ ہندوستان کے باشندوں سمیت دنیا بھر کے لوگوں کو ہند رجب اور ان جیسے بے شمار فلسطینی بچوں کی کہانیاں جاننے کا حق حاصل ہے لیکن افسوس کہ ہند رجب کی زندگی اور موت پر بننے والی ایک فلم کو اسرائیل کے جذبات اور حساسیت کے پیش نظر وطن عزیز میں کئی ماہ تک نمائش کی اجازت نہیں دی گئی لیکن جب عوامی دباؤ ناقابلِ برداشت ہوگیا تو حکومت کو نمائش کی منظوری دینی پڑی۔اسی طرح کے دباو نے بن گویر کو پولیس سربراہان کی بین الاقوامی کانفرنس میں شریک ہونے سے روک دیا اور انتہا پسند جماعت ”پاور آف جیوش“ کی قلعی ساری دنیا کے سامنے کھل گئی۔ بن گویر کی یہ بے عزتی نئی نہیں ہے۔ اس سے قبل مئی 2026ء کے اواخر میں فرانس اور آئرلینڈ میں داخل ہونے سے اسے روک دیا گیا تھا۔ یہ اقدام اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد کیا گیا جس میں اس کو ”گلوبل صمود فلوٹیلا“ کے گرفتار کارکنوں پر تشدد کرتے اور انہیں ہاتھ بندھے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس پر عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ فرانس، اسپین اور اٹلی سمیت کئی ممالک نے بن گویر پر یورپی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اٹلی اور فرانس کے عدالتی حکام نے اس کے خلاف کارکنوں پر تشدد کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
مئی 2026ء میں برطانوی ویب سائٹ ”مڈل ایسٹ آئی“ نے رپورٹ کیا تھا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں بن گویر اور قابض اسرائیل کے وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ کے خلاف جنگی جرائم اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب پر خفیہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست جمع کرائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ فلسطینی اور بین الاقوامی حقوقی حلقوں کی جانب سے بھی بن گویر کے خلاف وارنٹ گرفتاری کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ یہ مطالبات خاص طور پر فلسطینی اسیران کے خلاف ان کے اشتعال انگیز بیانات اور کنیسٹ (پارلیمنٹ) میں قیدیوں کو پھانسی دینے کے قانون کو فروغ دینے پر کیے جا رہے ہیں۔غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی نسل کشی کے دوران، بن گویر نے غزہ کے فلسطینیوں کے خلاف کافی اشتعال انگیزی کی اور انہیں جبری طور پر بے گھر کرنے کے مطالبات کی حمایت کی تھی۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے تو 21 نومبر 2024ء کواسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت سوز جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ان واقعات پر امیر قزلباش کی مشہور غزل کا یہ مطلع صادق آتا ہے؎
مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا