الیکشن، کمیشن عدلیہ اور جمہوریت
(اپوزیشن کے سنگین خدشات)
✍️(حافظ)افتخاراحمدقادری
ملک کے انتخابی نظام سے متعلق اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کے کردار پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ۲۸ جون کو انڈیا بلاک میں شامل ۲۳ اپوزیشن جماعتوں اور ایک آزاد رکنِ پارلیمنٹ نے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کو ایک مشترکہ خط ارسال کیا جسے بعد میں کانگریس نے عوام کے سامنے بھی جاری کیا۔ اس خط کو کانگریس کے سینئر رہنما کے سی وینوگوپال نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” کے ذریعے بھی شیئر کیا۔ اس خط میں انتخابی عمل، الیکشن کمیشن کے کردار، اداروں کی غیر جانبداری، عدلیہ کی ذمہ داری اور انتخابی شفافیت سے متعلق متعدد نکات تفصیل کے ساتھ اٹھائے گئے ہیں۔
_____ انتخابی عمل میں مبینہ ہیرا پھیری:
اپوزیشن جماعتوں نے سب سے پہلے انتخابی عمل میں مبینہ ہیرا پھیری کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ وہ تمام سیاسی جماعتیں مختلف نظریات رکھنے کے باوجود اس معاملے پر ایک مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں کہ ملک کے انتخابی عمل میں شفافیت پر سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ متعدد انتخابات میں ایسے نتائج سامنے آئے ہیں جو عوامی توقعات سے مطابقت نہیں رکھتے بلکہ ان کے بالکل برعکس محسوس ہوتے ہیں۔ انتخابات کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر عوام کو یہ احساس ہونے لگے کہ ان کے ووٹ کا صحیح اثر نتائج میں نظر نہیں آرہا تو اس سے پورے انتخابی نظام پر اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر اپوزیشن جماعتوں نے اس مسئلے کو نہایت سنجیدہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی نتائج پر سوال اٹھانا کسی ایک جماعت یا ایک مخصوص انتخاب تک محدود معاملہ نہیں بلکہ یہ جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق اگر انتخابی عمل پر اعتماد ختم ہو جائے تو جمہوری اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
____ الیکشن کمیشن کی تشکیل پر اعتراض:
دوسرا اہم نکتہ الیکشن کمیشن کی تشکیل اور اس کے اراکین کی تقرری سے متعلق اٹھایا گیا۔ اگرچہ الیکشن کمیشن کی تشکیل ہمیشہ سے برسرِ اقتدار حکومت کے ذریعے ہوتی رہی ہے تاہم ماضی میں کمیشن کے اراکین کی غیر جانبداری اور دیانت داری پر عمومی طور پر سوالات کم ہی اٹھے۔ ۲۰۱۴ء سے پہلے چند استثنائی واقعات کو چھوڑ کر ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں جب الیکشن کمیشن کے ارکان کی غیر جانبداری پر وسیع پیمانے پر اعتراض کیا گیا ہو لیکن اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ۲۰۱۴ء کے بعد صورت حال میں تبدیلی آئی اور حکومت نے ایسے افراد کو اہم عہدوں پر مقرر کیا جو اس کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے ایک طبقے میں الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کے حوالے سے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ ایسے تقرر سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ کمیشن کے بعض ارکان حکومت کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں اور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپوزیشن نے اس پہلو کو جمہوری نظام کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی ادارے کی غیر جانبداری پر اگر عوام کا اعتماد کمزور ہو جائے تو انتخابات کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کے رویے پر اعتراض: چیف الیکشن کمشنر اپنے آئینی منصب کے تقاضوں کے مطابق غیر جانب دار کردار ادا کرتے ہوئے نظر نہیں آرہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ انتخابی عمل کے دوران اور نتائج کے اعلان تک کمیشن کی جانب سے ایسا طرزِ عمل اختیار کیا گیا جس سے بی جے پی کی حمایت کا تاثر پیدا ہوا۔ ایک آئینی ادارے کے سربراہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر سیاسی جماعت کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے لیکن ان کے مطابق ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس نکتے پر زور دیا کہ چیف الیکشن کمشنر کا منصب غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اسی ادارے پر پورے انتخابی عمل کی نگرانی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر اس ادارے کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھنے لگیں تو انتخابی نظام پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
___ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر اعتراض:
اپوزیشن جماعتوں نے ضابطہ اخلاق کے نفاذ سے متعلق بھی تفصیلی اعتراضات درج کیے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر یکساں معیار اختیار نہیں کیا۔ برسرِ اقتدار جماعت کی جانب سے متعدد مواقع پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آئے لیکن الیکشن کمیشن نے ان معاملات میں مؤثر کارروائی نہیں کی۔ اپوزیشن کے مطابق اس خاموشی نے کمیشن کی غیر جانبداری پر مزید سوالات کھڑے کر دیے۔ اس کے برعکس اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی میں نسبتاً زیادہ سختی دکھائی گئی۔ اسی بنیاد پر انہوں نے الزام لگایا کہ ضابطہ اخلاق کے نفاذ میں یکساں اصول اختیار نہیں کیے گئے۔ اپوزیشن نے اس پہلو کو بھی اپنی شکایت کا اہم حصہ بناتے ہوئے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ انتخابی اداروں کی غیر جانبداری اور آئینی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جائے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہ سکے۔
___ اداروں کی ذمہ داری اور جمہوری نظام کا تحفظ:
اپوزیشن جماعتوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی جمہوری نظام کی مضبوطی کا انحصار صرف انتخابات پر نہیں ہوتا بلکہ ان اداروں پر بھی ہوتا ہے جنہیں آئین نے مختلف ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ ان کے مطابق جب ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے دیانت داری، غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ کام کرتا ہے تو جمہوریت مضبوط ہوتی ہے لیکن اگر ادارے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام رہیں یا ان کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھنے لگیں تو پورا جمہوری ڈھانچہ متاثر ہونے لگتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں اپوزیشن جماعتوں کو محسوس ہوتا ہے کہ بعض ادارے اپنی آئینی ذمہ داریوں کو اس انداز میں ادا نہیں کر رہے جس کی عوام کو توقع ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس معاملے کو صرف ایک سیاسی اختلاف نہیں بلکہ جمہوری نظام سے وابستہ ایک بنیادی مسئلہ قرار دیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جمہوریت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہر ادارہ قانون اور آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ اگر اداروں پر عوام کا اعتماد کمزور پڑ جائے تو جمہوری نظام بھی کمزور ہونے لگتا ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے سپریم کورٹ کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرائی ہے۔
____ عدلیہ سے رجوع کرنے کی وجہ:
اپوزیشن جماعتوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد عدلیہ پر کسی قسم کا الزام عائد کرنا نہیں بلکہ آئینی طریقہ کار کے مطابق انصاف کی فراہمی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا ہے۔ جب دیگر اداروں سے مسائل کے حل کی امید باقی نہ رہے تو آئین شہریوں اور سیاسی جماعتوں کو عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق دیتا ہے۔ اسی حق کے تحت تمام اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ طور پر چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھا ہے۔ اگر کسی جمہوری نظام میں تمام ادارے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام ہو جائیں تو عوام کی آخری امید عدلیہ ہی ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔ اپوزیشن نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر عدالتوں سے بھی مؤثر مداخلت نہ ہو سکے تو پھر عوام انصاف اور آئینی تحفظ کے لیے کس دروازے پر جائیں گے؟ ان کے مطابق یہ سوال نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ پوری جمہوریت سے متعلق ہے۔
___ انوپ برنوال مقدمے کا حوالہ:
اپوزیشن جماعتوں نے اپنے مؤقف کی تائید میں سپریم کورٹ کے معروف مقدمہ ’’انوپ برنوال بنام یونین آف انڈیا‘‘ کا حوالہ بھی دیا۔ اس مقدمے میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمشنروں کی تقرری کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ دیا تھا جس کا مقصد انتخابی ادارے کی آزادی اور غیر جانبداری کو مضبوط بنانا تھا۔ بعد میں پارلیمنٹ نے قانون میں ترمیم کر دی جس کے نتیجے میں چیف جسٹس آف انڈیا کو تقرری کرنے والی کمیٹی سے خارج کر دیا گیا۔ اس ترمیم کے بعد حکومت کو تقرری کے عمل میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ اختیار حاصل ہو گیا جس کے باعث الیکشن کمیشن کی مکمل خود مختاری کے حوالے سے نئے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ اسی بنیاد پر انہوں نے اس قانونی تبدیلی کو بھی اپنی شکایت کا حصہ بنایا اور سپریم کورٹ سے اس معاملے پر توجہ دینے کی درخواست کی۔
___ الیکشن کمشنروں کی تقرری پر تشویش:
اپوزیشن جماعتوں کے مطابق الیکشن کمیشن ایک ایسا آئینی ادارہ ہے جس کی غیر جانبداری پر پورے انتخابی نظام کا اعتماد قائم ہوتا ہے۔ اگر اس ادارے کے اراکین کی تقرری کے طریقہ کار پر ہی سوالات اٹھنے لگیں تو انتخابی عمل کی شفافیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کی تشویش صرف موجودہ تقرریوں تک محدود نہیں بلکہ اس پورے نظام سے متعلق ہے جس کے تحت مستقبل میں بھی الیکشن کمشنروں کی تقرری کی جائے گی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ تقرری کے عمل میں زیادہ سے زیادہ شفافیت، غیر جانبداری اور ادارہ جاتی توازن ضروری ہے تاکہ کسی بھی حکومت کے بارے میں یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ وہ اپنی پسند کے افراد کو اہم آئینی عہدوں پر تعینات کر رہی ہے۔
___ آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات پر زور:
اپوزیشن جماعتوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات ہی کسی بھی جمہوری نظام کی اصل بنیاد ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر انتخابات پر عوام کا اعتماد برقرار رہے تو سیاسی اختلافات کے باوجود جمہوریت مضبوط رہتی ہے لیکن اگر انتخابی عمل ہی متنازع بن جائے تو اس کے اثرات پورے نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے ذریعے انتخابی عمل کی شفافیت، جواب دہی اور غیر جانبداری مزید مضبوط ہو سکے۔ عوام کا اعتماد بحال کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ جمہوریت صرف آئینی دفعات سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے بھی مضبوط ہوتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے مطابق شفاف انتخابات ہی اس اعتماد کی بنیادی شرط ہیں۔اس لیے انتخابی نظام میں ہر ایسا اقدام ضروری ہے جو عوام کو یقین دلائے کہ ان کا ووٹ محفوظ ہے اور اس کا صحیح استعمال ہو رہا ہے۔
___ سپریم کورٹ سے مؤثر مداخلت کی اپیل:
اپوزیشن جماعتوں نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ وہ اس پورے معاملے کا آئینی اور قانونی نقطہ نظر سے جائزہ لے اور ایسے مؤثر اقدامات کرے جن کے ذریعے انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔ ان کی درخواست کسی سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ جمہوری اداروں کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کے لیے ہے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے چیف جسٹس آف انڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو عوامی اہمیت کا مسئلہ سمجھتے ہوئے ضروری آئینی کارروائی پر غور کریں تاکہ انتخابی نظام کے بارے میں پیدا ہونے والے خدشات کا مناسب حل نکل سکے۔
____ میڈیا کی آزادی اور غیر جانبدارانہ کردار:
اپوزیشن جماعتوں نے میڈیا کے کردار پر بھی تفصیل سے اظہارِ خیال کیا۔ ان کے مطابق کسی بھی جمہوری معاشرے میں آزاد اور غیر جانب دار میڈیا کو ایک بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ یہی ادارہ عوام تک معلومات پہنچانے، حکومتی اقدامات کا جائزہ لینے اور مختلف آراء کو سامنے لانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ موجودہ حالات میں روایتی میڈیا کے ایک بڑے حصے کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ مختلف وجوہات (جن میں دباؤ اور مفادات بھی شامل ہیں) کے باعث میڈیا کا ایک حصہ وہ آزادانہ کردار ادا نہیں کر پا رہا جس کی ایک جمہوری معاشرے میں توقع کی جاتی ہے۔ اپوزیشن نے اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ اس کے باوجود بعض آزاد صحافتی پلیٹ فارم اور غیر وابستہ ذرائع ابلاغ اب بھی عوام کے سامنے مختلف معاملات کی حقیقت پیش کرنے اور اقتدار سے سوال کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہی ادارے عوام کو مختلف پہلوؤں سے آگاہ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر میڈیا کی آزادی کو بھی جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ضروری قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ معلومات تک آزادانہ رسائی اور غیر جانبدار رپورٹنگ عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
___ اداروں کے حکومتی آلہ کار بننے کا الزام:
بعض آئینی اور سرکاری ادارے اپنی اصل ذمہ داریوں سے ہٹ کر حکومت کے مفادات کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان اداروں کی بنیادی ذمہ داری عوام کے حقوق کا تحفظ، آئین کی پاسداری اور قانون کے مطابق کام کرنا ہے لیکن اگر ان کے کردار پر جانبداری کا تاثر پیدا ہو تو عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ اداروں کی آزادی اور خود مختاری جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا ہے۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ادارے غیر جانب دار نہیں رہے تو اس سے آئینی ڈھانچے پر اعتماد بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے اپوزیشن جماعتوں نے اس مسئلے کو بھی سپریم کورٹ کے سامنے رکھا اور کہا کہ اداروں کی غیر جانبداری کا تحفظ جمہوریت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
____ عدلیہ کو عوام کی آخری امید قرار دینا:
اپوزیشن جماعتوں نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا کہ تمام آئینی اداروں میں عدلیہ کا مقام منفرد ہے کیونکہ جب دیگر تمام راستے بند ہو جائیں تو عوام اور سیاسی جماعتیں انصاف کے لیے عدالتوں سے رجوع کرتی ہیں۔ ہم عدلیہ سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ آئین کے مطابق معاملات کا جائزہ لے گی اور جہاں ضرورت محسوس کرے گی وہاں مناسب مداخلت بھی کرے گی۔ اگر عدلیہ بھی بروقت مداخلت نہ کرے تو پھر جمہوری نظام میں عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے سپریم کورٹ کو عوام کی آخری امید قرار دیتے ہوئے مؤثر اقدام کی درخواست کی ہے۔
____ خط کو منظرِ عام پر لانے کی وجہ:
اپوزیشن جماعتوں کے اس مشترکہ خط کو بعد میں کانگریس پارٹی نے عوام کے سامنے بھی جاری کیا۔ اس سلسلے میں کانگریس کا کہنا تھا کہ یہ قدم مکمل طور پر عوامی مفاد اور شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔ کانگریس کے مطابق عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے کن معاملات پر تشویش ظاہر کی۔اور کس بنیاد پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ خط کو منظرِ عام پر لانے کا مقصد کسی ادارے پر دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ عوام کو اس پورے معاملے سے آگاہ کرنا ہے تاکہ انتخابی نظام سے متعلق اٹھائے گئے نکات سب کے سامنے آ سکیں۔ خط میں جن معاملات کا ذکر کیا گیا ان کے حوالے سے کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ جے رام رمیش پہلے ہی اشارہ دے چکے تھے۔ جون کے آخری ہفتے میں انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک مشترکہ خط بھیج رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ اس خط کا بنیادی مقصد الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر عمل، ووٹ چوری سے متعلق اٹھنے والے سوالات اور انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانب سپریم کورٹ کی توجہ مبذول کرانا ہے۔ بعد ازاں یہی خط باقاعدہ طور پر چیف جسٹس آف انڈیا کو ارسال کیا گیا اور پھر کانگریس نے اسے عوام کے سامنے بھی پیش کر دیا۔ ایس آئی آر، ووٹ چوری اور انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق اعتراضات اپوزیشن جماعتوں نے اپنے خط میں ایس آئی آر عمل، ووٹوں سے متعلق شکایات اور انتخابی بے ضابطگیوں کو بھی اپنی تشویش کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ تمام معاملات انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں اس لیے ان کی مکمل جانچ اور شفاف وضاحت ضروری ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ جب بھی انتخابی عمل سے متعلق کسی قسم کا شبہ پیدا ہو تو اس کا بروقت اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ عوام کے ذہنوں میں موجود خدشات دور کیے جا سکیں۔ اسی لیے انہوں نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ وہ ان معاملات کا بھی مناسب قانونی اور آئینی جائزہ لے۔ اپوزیشن جماعتوں کا یہ مشترکہ خط مجموعی طور پر انتخابی نظام، الیکشن کمیشن، ادارہ جاتی غیر جانبداری، آزاد انتخابات اور عدلیہ کے کردار سے متعلق ان کے خدشات اور مطالبات پر مشتمل ہے۔ خط میں مختلف نکات کے ذریعے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا جمہوریت کی بنیادی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے تحت اپوزیشن نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ انتخابی نظام سے متعلق اٹھائے گئے اعتراضات، الیکشن کمیشن کے کردار، تقرری کے طریقہ کار، ضابطہ اخلاق کے نفاذ، اداروں کی غیر جانبداری، میڈیا کی آزادی اور دیگر متعلقہ معاملات کا آئینی دائرے میں جائزہ لے اور ایسے اقدامات پر غور کرے جن کے ذریعے انتخابی نظام کی شفافیت، جواب دہی اور عوامی اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔ ان کے مطابق آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات ہی ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہیں اسی لیے انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کا برقرار رہنا نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ پورے آئینی نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔
کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت یوپی