Breaking
پیر. جولائی 6th, 2026

شہید سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور الوداعی تقریبات سفارتی حکمت عملی کا بے مثال مظاہرہ اور دنیا بھر کے ملکوں کے لئے قرآنی پیغام

شہید سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور الوداعی تقریبات  سفارتی حکمت عملی کا بے مثال مظاہرہ اور دنیا بھر کے ملکوں کے لئے قرآنی پیغام

شہید سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور الوداعی تقریبات
سفارتی حکمت عملی کا بے مثال مظاہرہ اور دنیا بھر کے ملکوں کے لئے قرآنی پیغام

ازقلم:عبدالعزیز

تعارف سابق ایرانی سپریم لیڈرکا: شہید سید علی خامنہ ای[پ] (19 اپریل 1939ء – 28 فروری 2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے جو 1989ء سے 2026ء میں قتل ہونے تک سپریم لیڈرِ ایران کے منصب پر فائز رہے۔ وہ اس منصب پر فائز ہونے والے دوسرے شخص تھے۔ اس سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے۔ بطور سپریم لیڈر ان کی مدتِ اقتدار 36 سال پر محیط رہی، جس کے باعث وہ اپنی وفات کے وقت مشرق وسطیٰ کے طویل ترین عرصہ تک خدمات انجام دینے والے سربراہِ مملکت اور شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد ایران کے طویل ترین عرصہ تک حکمرانی کرنے والے رہنما تھے۔
وہ خامنہ ای خاندان میں پیدا ہوئے اور اپنے آبائی شہر مشہد کے حوزہ میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں 1958ء میں قم منتقل ہوئے جہاں انھوں نے روح اللہ خمینی کے دروس میں شرکت کی۔ خامنہ ای ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی کی مخالفت میں سرگرم ہوئے اور شاہی حکومت نے انھیں چھ مرتبہ گرفتار کیا، بعد ازاں تین برس کے لیے جلا وطن کر دیا۔ 1978ء- 1979ء کے ایرانی انقلاب میں وہ ایک نمایاں شخصیت کے طور پر ابھرے اور انقلاب کی کامیابی کے بعد نو قائم شدہ اسلامی جمہوریہ ایران میں متعدد مناصب پر فائز رہے۔ انقلاب کے بعد وہ ایک قاتلانہ حملے کا نشانہ بھی بنے جس کے نتیجے میں ان کا دایاں بازو مفلوج ہو گیا۔ بعد کے برسوں میں بھی اسرائیل کی جانب سے ان کے خلاف قتل کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔ وہ ایران عراق جنگ کے دوران 1981ء سے 1989ء تک ایران کے تیسرے صدر رہے اور اسی عرصے میں ان کے ’سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی‘ سے قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ 1989ء میں خمینی کی وفات کے بعد مجلس خبرگان رہبری نے انھیں سپریم لیڈر منتخب کیا۔
بطور سپریم لیڈر خامنہ ای نے ایران کے جوہری پروگرام کی پر امن مقاصد کے لیے حمایت کی جبکہ فتویٰ جاری کر کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کو حرام قرار دیا۔ انھوں نے ایران میں صنعتوں کی نجکاری کی حمایت کی اور تیل و گیس کے وسائل کے ذریعے ایران کو ’’توانائی کی سپر پاور‘‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ ان کی خارجہ پالیسی ایرانی انقلاب کو پھیلانے کے تصور کے گرد گھومتی رہی۔ خامنہ ای نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ترقی میں مرکزی کردار ادا کیا اور اسے داخلی کنٹرول اور علاقائی اثر و رسوخ کا بنیادی آلہ بنا دیا۔ ان کے دور میں ایران نے محورِ مزاحمت اتحاد کی شام کی خانہ جنگی، عراق کی جنگ، یمن کی خانہ جنگی اور غزہ جنگ میں حمایت کی نیز روس کی روس یوکرین جنگ میں بھی پشت پناہی کی۔ اسرائیل اور صہیونیت کے سخت ناقد کے طور پر انھوں نے فلسطینیوں کی اسرائیل فلسطین تنازع میں حمایت کی؛ ان کی تقاریر میں اسرائیل کی تباہی کے مطالبات اور بعض یہود مخالف نکات بھی شامل رہے۔ ان کے دور میں ایران اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ پراکسی تنازعات میں ملوث رہا؛ جبکہ 2025ء اور 2026ء میں اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ کے ساتھ کشیدگی بڑھ کر ایران اسرائیل جنگ (بارہ روزہ مسلح تنازع) اور جاری حملوں تک جا پہنچی۔شہید خامنہ ای کا خاندان ہندستان کے بارہ بنکی سے تعلق رکھتا تھا۔ صدر کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے وہ ایران کی جامع مسجد کے امام تھے۔ اس وقت جماعت اسلامی ہند کے کل ہند اجتماع میں حیدر آباد تشریف لائے تھے۔
28فروری 2026ء کو ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی تہران میں شہادت ہوئی۔ امریکہ -اسرائیل اور ایران کے دورانِ جنگ ایرانی سپریم لیڈر نے بینکر یا کسی اور جگہ پناہ لینے سے انکار کیا اور عام لوگوں کی طرح اپنے گھر میں رہے اور رہبری و رہنمائی کا فریضہ ادا کرتے رہے۔ شہادت کے چار مہینے بعد نماز جنازہ کی ادائیگی اور تعزیتی و الوداعی پروگرام دنیا کے لئے حیرت اور تعجب میں ڈالنے والی چیز ہے، لیکن ایرانی حکومت نے جس طرح 3جولائی سے تہران میں الوداعی چھ روزہ پروگرام کی شروعات کی ہے جس میں دنیا کے سو ممالک کے وفود شامل ہوئے۔ امریکہ اور اسرائیل کے خفیہ محکمے کی طرف سے غیر معمولی کوشش کی گئی کہ ملکوں کے سربراہان یا تنظیموں کے قائدین جنازے میں شریک نہ ہوں۔ امریکی حکومت نے امور خارجہ کے سکریٹری مارکو روبیو کو یہ ذمہ داری دی تھی کہ دنیا کے ہر ملک کو تقریبات یا جنازے میں شرکت سے روکنے کی کوشش کریں۔ مارکو روبیو نے ہر ملک کو خبردار بھی کیا، دھمکی بھی دی، دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ الوداعی پروگرام میں شرکت نہ کریں۔ ان سب کے باوجود 100 ملکوں کی اہم شخصیات ، سربراہانِ مملکت، وزرائے اعظم، پارلیمانوں کے اسپیکرز، وزرائے خارجہ اور حکومتوں کے خصوصی نمائندے شامل ہوئے۔ ترجمان دفتر خارجہ حکومت ایران نے بتایا کہ اعلیٰ سطحی سرکاری وفود کے علاوہ مختلف ملکوں کے عوامی دستے بھی شہید رہبر انقلاب ایران کے جسد پاک کے آخری دیدار اور الوداعی رسوم اور جنازے میں شرکت کے لئے ایران پہنچے۔
کہا یہ جارہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کا 13ممالک نے تھوڑا بہت اثر لیا جس میں ہمارا ملک ہندستان بھی شامل ہے، مگر ان ممالک نے بھی کم درجے کی شخصیات ہی سہی تقریبات میں شرکت کے لئے بھیجا۔ اس سے امریکہ کی برتری کی شکست فاش ہوئی اور ایران برتری ثابت ہوئی۔ یہ بھی خدشہ تھا کہ اسرائیل تقریبات کے دن ایران پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔ ایران نے اس خدشے کے پیش نظر اسرائیل کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اگر اسرائیل نے اس طرح کی کوئی غلطی کی تو اسرائیل کو صفحہ ہستی سے ہمیشہ کے لئے مٹانے کی کوشش کی جائے گی‘‘۔ اسرائیل نے ایران کی دھمکی کو ہلکے میں نہیں لیا بلکہ اپنے ارادے سے باز آیا۔ اس سے بھی ایران کی برتری ثابت ہوتی۔ الوداعی پروگرام میں مختلف ممالک کے وفود یا سربراہانِ مملکت اور تنظیموں کے قائدین کی شرکت اہم ضرور ہے لیکن جو چیز دنیا کے مسلم ملکوں اور ملت اسلامیہ کی آنکھیں کھول دینے کے لئے تقریبات میں ہر ایک ملک کے وفد یا ہر تنظیم کے ڈیلی گیشن کے لئے الگ الگ طور پر کی گئی اس کا تصور نہ تو مسلم ملکوں کو ہوسکتا تھا اور نہ تو غیر مسلم ممالک سوچ سکتے تھے۔
ہر وفد کے ارکان جب آخری دیدار کے لئے چل کر تابوت کے پاس جاتے تو ان کو قرآنی آیات کی تلاوت کے ذریعے ان کے ملک کے موجودہ کردار و اطوار کے مطابق انھیں پیغام سنایا جاتا کہ ان کے ملک کی موجودہ صورت حال کیا ہے اور کیا ہونا چاہئے۔ مثلاً سب سے پہلے ’حماس‘ کے وفد کو دیدار کے لئے تابوت کے پاس جانے کی اجازت دی گئی۔ اس وقت قرآن مجید کی جن آیتوں کو پڑھا گیا اس کا مطلب کچھ اس طرح تھا کہ ’’اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ تم کو جس مقصد کے لئے دنیا میں بھیجا گیا تھا وہ مقصد تم نے پورا کیا اور ایک کامیاب زندگی آخرت کی فلاح کے لئے گزار کر تم دوسری دنیا میں آئے ہو‘‘۔ سعودی عرب کے وفد کے لئے الگ پیغام تھا جس میں کچھ اس طرح کہا گیا تھا کہ ’’جب بدر کی لڑائی ہورہی تھی تو کفار اور مجاہدین ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے۔‘‘ اس پیغام سے سعودی عرب کو بتانا تھا کہ حق و باطل کی لڑائی میں تم اپنی جگہ تلاش کرو کہ کہاں اور کس کے پاس کھڑے ہو؟ اسی طرح ہندستان کے سرکاری وفد کو قرآن کے ذریعے پیغام دیا گیا کہ ’’تم کامیابی کی طرف بڑھ سکتے ہو لیکن تم آگے بڑھنے سے کنفیوژن اور پس و پیش کے شکار ہو۔‘‘ غور کیجئے کہ یہ کوئی بے معنی پروگرام نہیں تھا بلکہ بامعنی اور مقصدی پروگرام تھا۔ جن ملکوں نے امریکہ یا اسرائیل کے اثر کو قبول کیا ان کو یہ پیغام ان کے کم درجے کے وفود کو دیا گیا کہ وہ باطل سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہیں۔
غیر مسلم جو شریک پروگرام ہوئے ان پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہوں گے، لیکن جو مسلمان شریک ہوئے ان کے دل میں اگر ذرا بھی ایمان زندہ ہوگا تو وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ جنازے اور پروگرام میں تین کروڑ افراد کی شرکت کوئی معمولی قسم کی تقریب نہیں کہی جاسکتی۔ ایک ایسی تقریب جو دکھاوے مبنی نہیں تھی بلکہ حق پرستی کا مظاہرہ تھا۔ یہی مظاہرہ ایران نے جنگ کے دوران بھی کیا تھا۔ دنیا انگشت بدنداں ہوگئی جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا دندانِ شکن جواب دیا۔ امریکہ اور اسرائیل کا خیال تو یہ تھا کہ دوچار دن جنگ میں ایران سرنگوں ہوجائے گا، ایران کا رجیم تبدیل ہوجائے گا۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنے ارادے کے مطابق ایران کا سپریم لیڈر مقرر کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اسرائیل کی پسپائی کو بھی دنیا نے دیکھا۔ جو معاہدہ امریکہ اور ایران کے درمیان تکمیل کے قریب ہے وہ معاہدہ بھی ایران اپنی شرطوں پر کرانے پر امریکہ کو مجبور کر رہا ہے۔ کہا یہ جارہا ہے کہ دیر یا سویر معاہدہ ہوجائے گا۔ اس جنگ کے نتیجے میں امریکہ کا سپر پاور ہونا چکنا چور ہوا اور ایران دنیا کے نقشے پر ایک ’سپرپاور‘ بن کر ابھرا ہے۔ شہید سید علی خا منہ ای کا خونِ شہادت ایک ایسا خون ہے جو حق کو باطل کے مقابلے میں تازگی اور زندگی دے رہا ہے۔
قرآن مجید کے مطابق ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں وہ زندہ ہوتے ہیں، ان کو مردہ کہنے سے منع کیا گیا ہے‘‘۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کے بہت سے لوگ شہید ہوئے ہیں اور ایران کے اندر جنگ کے نتیجے میں تباہی بھی آئی ہے لیکن یہ بات سچ ہے کہ کہ ’اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘۔ ایران کے بچے بچے میں جذبۂ شہادت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ وہ حضرت حسین ابن علیؓ کی پیروی کرتے ہیں۔ کربلا میں حضرت حسینؓ نے نہ صرف اپنا سر حق کی بلندی کے لئے کٹایا تھا بلکہ اپنے اہل و عیال کے سر کٹانے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا۔ کربلا سے جو پیغام اہل حق کو ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ظالم جتنا ہی طاقتور ہو اس کی پرواہ کئے بغیر اللہ کی راہ میں دشمن کے خلاف ڈٹ جانا چاہئے۔ جو لوگ مجاہد ہوتے ہیں یا جامع شہادت نوش کرتے ہیں وہ اپنے جانوں سے کہیں زیادہ قیمتی چیز کلمۂ حق کی بلندی کو سمجھتے ہیں۔ ایران نے جنگ میں اس کا بھر پور ثبوت دیا۔ الوداعی تقریبات یا پروگرام میں جو چیز دیکھنے کو مل رہی ہے وہ ایران کی بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ ہے اور دنیا کے لئے قرآن میں جو درج دعوتِ حق ہے جسے اگر دنیا قبول کرلے تو دنیا سے امریکہ اور اسرائیل جیسی فاسد اور ظالم طاقتیں نیست و نابود ہوسکتی ہیں اور دنیا امن و سلامی کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے