Breaking
پیر. جولائی 6th, 2026

ڈاکٹر مجیر احمد آزاد: افسانہ نگار بھی، ناقد بھی، ادب کے خاموش معمار بھی

ڈاکٹر مجیر احمد آزاد: افسانہ نگار بھی، ناقد بھی، ادب کے خاموش معمار بھی

ڈاکٹر مجیر احمد آزاد: افسانہ نگار بھی، ناقد بھی، ادب کے خاموش معمار بھی

ازقلم:ڈاکٹرمنصور خوشتر،دربھنگہ
9234772764

ڈاکٹر مجیر احمد آزاد سنجیدہ ادبی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ بیک وقت افسانہ نگار، ناقد، محقق، مرتب، سفرنامہ نگار، بچوں کے ادیب، استاد اور ایک کامیاب ادبی منتظم ہیں۔ ان کی شخصیت کا ہر پہلو ادب سے وابستگی، علمی دیانت اور فکری سنجیدگی کا آئینہ دار ہے۔ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کا تعلق بہار کے ضلع مدھوبنی سے ہے، مگر ان کی ادبی شناخت دربھنگہ سمیت پورے اردو حلقے میں قائم ہو چکی ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہتے ہوئے بھی انہوں نے تخلیقی اور تنقیدی دونوں میدانوں میں مسلسل کام کیا۔ ان کی ادبی سرگرمیوں میں کبھی تعطل نہیں آیا۔ یہی تسلسل ان کی سب سے بڑی قوت ہے۔ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی ادبی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف ان کی ہمہ جہتی ہے۔ عام طور پر کوئی ادیب ایک یا دو اصناف میں اپنی شناخت قائم کرتا ہے، لیکن ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے افسانہ، تنقید، تحقیق، ترتیب، سفرنامہ، ادبِ اطفال اور تدریس جیسے مختلف میدانوں میں یکساں سنجیدگی کے ساتھ کام کیا ہے۔ ان کی تصانیف کا مطالعہ اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ محض ایک تخلیق کار نہیں بلکہ ادب کے ایک ایسے کارکن ہیں جنہوں نے مسلسل محنت اور خاموش ریاضت سے اپنی شناخت قائم کی ہے۔۷ نومبر ۹۶۹۱ءکو ضلع مدھوبنی (بہار) کے بھگوان پور، پوسٹ نرہیا میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ایم۔اے، بی۔ایڈ اور پی۔ایچ۔ڈی کی اسناد کے ساتھ درس و تدریس کو اپنا پیشہ بنایا۔ تدریس نے انہیں نئی نسل کے ذہنی رجحانات کو سمجھنے کا موقع دیا، جبکہ مطالعے اور تحقیق نے ان کی ادبی بصیرت کو جلا بخشی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں علمی وقار بھی ملتا ہے اور زندگی کی عملی سچائیاں بھی۔اگر ان کے ادبی سفر پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے افسانہ نگاری میں اپنی شناخت قائم کی۔ "ڈوم”، "اندھیرے کا کرب”، "جھکی ہوئی شاخ”، "ٹھہری ہوئی صبح”، "دور دیس میں”، "کلاس ٹاپر” اور حالیہ مجموعہ "آستھا اور دوسری کہانیاں” ان کے تخلیقی سفر کی اہم منزلیں ہیں۔ ان افسانوں میں دیہی زندگی، سماجی تبدیلی، انسانی رشتوں کی نزاکت، معاشرتی مسائل اور عام آدمی کے دکھ درد کو نہایت سادہ مگر مو ¿ثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
بچوں کے ادب میں بھی انہوں نے "آو ¿ کہانی سنتے ہیں” جیسی کتاب لکھ کر یہ ثابت کیا کہ بچوں کے لیے معیاری ادب تخلیق کرنا بھی ایک بڑی ادبی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح ان کا سفرنامہ "دارجیلنگ کا سفر” محض سفری مشاہدات نہیں بلکہ تہذیب، ثقافت اور انسانی رویوں کے مطالعے کی ایک دلچسپ مثال ہے۔تحقیق اور تنقید کے میدان میں بھی ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی خدمات کم اہم نہیں۔ "دربھنگہ میں اردو افسانہ نگاری”، "معاصر اردو افسانہ: فکری جہات”، "شاداں فاروقی: حیات اور خدمات” اور تازہ کتاب "تحریر و تفہیم” اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے اردو تنقید کو صرف نظری مباحث تک محدود نہیں رکھا بلکہ علاقائی ادب، معاصر رجحانات اور فراموش ہوتی شخصیات کو بھی اپنی تحقیق کا موضوع بنایا۔
انہوں نے صرف تصنیف ہی نہیں کی بلکہ "مقالاتِ طرزی” اور "منظوم مقالے” جیسی کتابوں کی ترتیب دے کر اہم علمی سرمایہ محفوظ کرنے کا کام بھی انجام دیا۔ یہ وہ خدمت ہے جس کی طرف کم لوگ متوجہ ہوتے ہیں، حالانکہ ادبی روایت کے تحفظ میں مرتب کا کردار بھی مصنف سے کم اہم نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کے علمی سفر کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ وہ مسلسل متحرک ہیں۔ ان کی آئندہ شائع ہونے والی کتابوں میں "ابر کا ٹکڑا” (افسانے)، "معاصر اردو ناول: فکری جہات” اور "مدھوبنی: تاریخ و تعارف” شامل ہیں۔ ان منصوبوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی تخلیقی اور تحقیقی سرگرمیاں آج بھی پوری توانائی کے ساتھ جاری ہیں اور وہ ادب کے مختلف میدانوں میں نئے اضافے کرنے کے خواہاں ہیں۔
ان کی شخصیت کا ایک قابلِ تحسین پہلو یہ بھی ہے کہ تصنیف و تحقیق کی مصروفیات کے باوجود وہ ادبی تنظیموں، علمی نشستوں اور نئی نسل کی رہنمائی کے لیے ہمیشہ دستیاب رہتے ہیں۔
بطور افسانہ نگار ان کے افسانوں میں دیہی معاشرت، متوسط طبقے کی زندگی، انسانی رشتوں کی نزاکت، بدلتے سماجی اقدار، معاشی ناہمواری اور اخلاقی زوال جیسے موضوعات بڑی سادگی اور فنی پختگی کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں مصنوعی پیچیدگی یا غیر ضروری علامت نگاری نہیں ملتی بلکہ وہ زندگی کو اسی کے اصل رنگوں میں پیش کرتے ہیں۔ ان کے کردار ہمارے آس پاس کے لوگ ہیں، اسی لیے قاری ان سے فوراً رشتہ قائم کر لیتا ہے۔ اگر صرف انہیں افسانہ نگار کہا جائے تو ان کی شخصیت کا دوسرا اہم

رخ نظر انداز ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد ایک سنجیدہ، متوازن اور ذمہ دار ناقد بھی ہیں۔ ان کی تنقیدی نگارشات میں جذباتیت کے بجائے علمی استدلال، متوازن تجزیہ اور غیر جانب داری نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ ادب کو محض تعریف یا تنقید کا ذریعہ نہیں سمجھتے بلکہ تخلیق کی تفہیم اور اس کی قدر متعین کرنے کو تنقید کا اصل مقصد قرار دیتے ہیں۔ان کی تازہ کتاب "تحریر و تفہیم” اسی تنقیدی شعور کی بہترین مثال ہے۔ اس کتاب میں اردو ادب کے مختلف پہلوو ¿ں پر تقریباً چالیس مضامین شامل ہیں۔ ان مضامین میں کلاسیکی ادب سے لے کر معاصر ادیبوں اور شاعروں تک، ناول، افسانہ، تنقید، تحقیق، ادبِ اطفال اور شخصیات کے مختلف گوشوں پر گفتگو کی گئی ہے۔ کتاب کا سب سے اہم وصف یہ ہے کہ مصنف نے مشکل اصطلاحات اور غیر ضروری فلسفیانہ بحثوں سے گریز کرتے ہوئے آسان، رواں اور عام فہم زبان اختیار کی ہے، جس سے طالب علم، محقق اور عام قاری سبھی یکساں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی تنقید میں نہ شخصیت پرستی ہے اور نہ ہی بے جا سختی۔ وہ ہر ادیب کو اس کے ادبی مقام اور تخلیقی خدمات کی بنیاد پر دیکھتے ہیں۔ یہی اعتدال ان کے تنقیدی رویے کو معتبر بناتا ہے۔ ان کے نزدیک ادب کا مقصد انسان اور سماج کو بہتر انداز میں سمجھنا ہے، اسی لیے ان کی تحریروں میں علمی سنجیدگی کے ساتھ انسانی احساس بھی پوری طرح موجود رہتا ہے۔
ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے صرف بڑے اور معروف ادیبوں پر ہی قلم نہیں اٹھایا بلکہ بہار اور خصوصاً متھلا کے ایسے اہلِ قلم کو بھی اپنی تنقید کا موضوع بنایا جن کی خدمات پر قومی سطح پر کم توجہ دی گئی۔ اس اعتبار سے ان کی کتابیں صرف تنقیدی مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ علاقائی ادبی تاریخ کا ایک اہم حوالہ بھی ہیں۔
ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی تازہ تصنیف "تحریر و تفہیم” ان کی برسوں کی علمی ریاضت، وسیع مطالعے اور متوازن تنقیدی بصیرت کا حاصل ہے۔ یہ محض مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ اردو ادب کے مختلف جہات پر غور و فکر کی ایک ایسی دستاویز ہے جس میں کلاسیکی ادب، جدید ادب، تحقیق، تنقید، شاعری، ناول، افسانہ اور ادبِ اطفال سبھی کو جگہ دی گئی ہے۔
کتاب کے فہرستِ مضامین پر ایک نظر ڈالنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ مصنف نے اپنی تنقیدی نگاہ کو کسی ایک صنف یا شخصیت تک محدود نہیں رکھا۔ رشید النساءکے اصلاحی ناول سے گفتگو شروع ہوتی ہے اور ڈپٹی نذیر احمد، مولانا ابوالکلام آزاد، مجروح سلطان پوری، مظہر امام، پروفیسر منصور عمر، ڈاکٹر احسان عالم، عطا عابدی، عثمان جوہری، اشرف گل، سلطان شمسی، منصور خوشتر اور متھلا میں اردو افسانے کی روایت جیسے متعدد موضوعات تک یہ سفر پھیل جاتا ہے۔ یہ تنوع اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنف کا مطالعہ ہمہ جہت ہے اور وہ اردو ادب کے مختلف دبستانوں سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔
کتاب کا پیش لفظ بھی خاص توجہ کا مستحق ہے۔ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے واضح طور پر لکھا ہے کہ وہ اپنی تنقید میں غیر ضروری فلسفیانہ موشگافیوں سے گریز کرتے ہیں اور تخلیق کی تفہیم، اس کی گرہ کشائی اور تعینِ قدر کو تنقید کا بنیادی مقصد سمجھتے ہیں۔ یہی نظریہ پوری کتاب میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مضامین میں علمی حوالوں کی موجودگی بھی ہے اور زبان کی سادگی بھی۔ قاری کو نہ تو ثقیل اصطلاحات کا بوجھ محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی غیر ضروری طوالت کا۔ڈاکٹر مجیر احمد آزاد لکھتے ہےں
”تحریر و تفہیم“ کے نام سے مضامین کا مجموعہ آپ کے روبرو ہے۔ یہ مضامین مختلف نوعیت کے ہیں۔ اس کے محتویات میں نثر اور شاعری کے متفرق
موضوعات شامل ہیں۔ میں اپنی تحریروں میں فن اور فن کار کی کار کردگی کا جائزہ لیتے ہوئے واضح طور پر تخلیق کی سربلندی کو ملحوظ نظر رکھتا ہوں۔ بے جا
فلسفیانہ گفتگو سے تفہیم کو مزین کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ تنقید کے اصولوں پر کار بند ہو کر اپنی رائے دیتا ہوں اور احتساب کے مرحلے سے گذرتا ہوں۔
موضوع کے اعتبار سے تحریر تفصیل یا اختصار کی پابند ہوتی ہے۔ بسا اوقات طویل گفتگو ضروری ہوتی ہے تو کبھی مختصر اظہاریہ بھی کار آمد نکتہ پیش کرنے
میں کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔ کتاب میں شامل کچھ مضامین طویل ہیں تو کچھ مختصر ہیں۔ اس میں یہ خیال رکھا گیا ہے کہ حاصل مطالعہ پیش کرنے
میں تشنگی نہ رہے۔ فن پارہ جہاں تفہیم و تصریح کا متقاضی ہوتا ہے وہیں نقاد کی ذمہ داری اہم ہو جاتی ہے کہ اس کی گرہ کشائی بھی ہو اور تعین قدر کا
مر حلہ بھی عبور کیا جائے۔
ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کا پیش لفظ ان کے تنقیدی نظریے اور ادبی مزاج کا آئینہ دار ہے۔ چند سطروں میں انہوں نے اپنی تنقید کے بنیادی اصول واضح کر دیے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تنقید کا مقصد غیر ضروری فلسفیانہ بحثوں میں الجھنا نہیں بلکہ فن پارے کی صحیح تفہیم، اس کی گرہ کشائی اور اس کے ادبی مقام کا منصفانہ تعین کرنا ہے۔ یہی اعتدال اور فکری دیانت ان کی پوری کتاب "تحریر و تفہیم” میں نمایاں نظر آتی ہے۔
پیش لفظ سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد موضوع کی نوعیت کے مطابق اختصار اور تفصیل دونوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ جہاں کسی مسئلے پر تفصیلی گفتگو ضروری ہو وہاں وہ وسعت سے کام لیتے ہیں، اور جہاں مختصر اظہار ہی کافی ہو وہاں غیر ضروری طوالت سے گریز کرتے ہیں۔ اس سے ان کی تنقیدی بصیرت اور اظہار پر گرفت کا پتہ چلتا ہے۔

درحقیقت یہ پیش لفظ صرف کتاب کا تعارف نہیں بلکہ مصنف کے تنقیدی منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں بیان کیے گئے اصول کتاب کے تمام مضامین میں عملی صورت اختیار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نظریے اور عمل، دونوں سطحوں پر ایک سنجیدہ، متوازن اور ذمہ دار ناقد ہیں۔
"تحریر و تفہیم” کی زبان بھی اس کی ایک بڑی خوبی ہے۔ عبارت میں سادگی، روانی اور شائستگی پائی جاتی ہے۔ مصنف علمی گفتگو کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ ایک عام قاری بھی اس سے لطف اندوز ہو سکتا ہے، جبکہ محقق اور طالب علم کے لیے بھی اس میں وافر مواد موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب صرف تنقید کے طالب علموں کے لیے نہیں بلکہ ہر سنجیدہ قاری کے لیے مفید مطالعہ بن جاتی ہے۔
ٍاس کتاب کے ذریعے ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ تنقید کو محض اعتراض کا فن نہیں بلکہ ادب کی تفہیم، رہنمائی اور تعمیری مکالمے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہی فکر ان کی تنقیدی شناخت کو مستحکم بناتی ہے۔
تحریر و تفہیم” کا پہلا مضمون "رشید النساءکا ناول اور تعلیمِ نسواں” اس بات کا عمدہ نمونہ ہے کہ وہ ادبی متن کو صرف تاریخی حوالوں تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے سماجی تناظر میں بھی دیکھتے ہیں۔ مضمون کی ابتدا ہی نہایت دل نشیں اور فکر انگیز انداز میں ہوتی ہے۔ وہ عورت کی اہمیت کو انسانی تخلیق اور تہذیبی ارتقا کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے یہ واضح کرتے ہیں کہ ادب میں عورت کی موجودگی محض ایک کردار کی نہیں بلکہ انسانی زندگی کی بنیادی حقیقت کی نمائندگی ہے۔ اس تمہیدی گفتگو سے قاری کے ذہن میں موضوع کی معنویت اجاگر ہوتی ہے اور وہ آگے بڑھنے پر آمادہ ہوتا ہے۔مضمون نگار لکھتے ہیں۔
” انیسویں صدی کے مسلم معاشرے میں تعلیم نسواں کے لئے خاتون قلم کار کی جانب سے اٹھائی گئی پہلی آواز بہار کی رشیدالنساءکی ہے۔ انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کی
وکالت ،اور بے جا رسم و رواج کی خرابیوں کو ناول کے قالب میںڈھالنے کی کوشش کی۔عورتوں کے حوالے سے مختلف النوع احوال و مسائل کی پیش کاری سے اس عہد کا معاشرتی
منظر نامہ ہمارے سامنے آجاتا ہے۔جب بھی اردو ناول میں نسائی جذبات واحساسات کی پیش کش تحقیق وجستجو کا عنوان بنے گا ”اصلاح النسائ“کا ذکر ناگزیر ہوگا اور ہم ’رشید النساء‘ کو
فراموش نہیں کر پا ئیں گے۔ “
اس مضمون میں ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے رشید النساءکو صرف اردو کی پہلی خاتون ناول نگار کے طور پر متعارف نہیں کرایا بلکہ ان کے ناول "اصلاح النسائ ” کی فکری بنیادوں کو بھی نمایاں کیا ہے۔ وہ یہ دکھاتے ہیں کہ انیسویں صدی میں جب خواتین کی تعلیم ایک سماجی مسئلہ تھی، اس وقت رشید النساء نے اپنے قلم کو اصلاحِ معاشرہ کا وسیلہ بنایا۔ مصنف اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ عورت کی تعلیم دراصل پورے معاشرے کی تعلیم ہے، کیونکہ ایک باشعور عورت ہی ایک مہذب خاندان اور بہتر سماج کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔مضمون کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے رشید النساءکی ادبی حیثیت کو اردو ناول کی ابتدائی روایت کے تناظر میں دیکھا ہے۔ انہوں نے ڈپٹی نذیر احمد، شاد عظیم آبادی، مولوی عبدالجبار خاں، مولوی افضل الدین احمد، صفیر بلگرامی اور دوسرے ابتدائی ناول نگاروں کا ذکر کرکے یہ واضح کیا ہے کہ رشید النساءکس ادبی ماحول میں سامنے آئیں اور انہوں نے اس روایت میں اپنا منفرد مقام کیسے بنایا۔ اس طرح مضمون صرف ایک شخصیت کا تعارف نہیں رہتا بلکہ اردو ناول کی ابتدائی تاریخ کا ایک مختصر مگر مفید جائزہ بھی بن جاتا ہے۔
تحریر و تفہیم” میں شامل مضمون ”مقدمہ شعر و شاعری: عصری معنویت “ان کی تنقیدی بصیرت اور ادبی شعور کا عمدہ مظہر ہے۔”مقدمہ شعر و شاعری: عصری معنویت “ صرف حالی کی کتاب کی اہمیت بیان کرنے والا مضمون نہیں بلکہ اردو تنقید کی فکری روایت، اس کے ارتقا اور اس کی موجودہ معنویت پر ایک متوازن اور بصیرت افروز مطالعہ ہے، جو ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کے سنجیدہ تنقیدی مزاج کا بھرپور اظہار کرتا ہے۔وہ لکھتے ہیں۔
”شاعری کے لئے شرائط کااحاطہ کرتے ہوئے انہوں نے تخیل،کائنات کا مطالعہ اور تفحص الفاظ کو لازمی قرار دیا۔ان شرائط سے بحث کی گنجائش ہے۔
لیکن شاعری کے لئے یہ سنگ میل کی طرح ہے جس کے بغیر منزل پر آسانی سے نہیں پہنچا جاسکتا ہے۔تفصیلی بحث کرتے ہوئے تخیل کو خیال کی پرواز بتایا
اور یہ بھی کہا کہ تخیل کو عقل کی گرفت میں ہونا چاہئے۔ فی زمانہ اس پر زوربھی دیاجارہا ہے تاکہ شاعری داستانی نہ ہو انسانی زندگی سے مماثل ہوں۔
مطالعہ ¿ کائنات کے بغیر تجربہ کی حد سے گزرنا ممکن نہیں ہے۔ کائنات میں ہرسو ایسے مواد بکھرے ہو ئے ہیں جن کو گرفت میںلاکر شاعری کو ایک نئی
جہت سے روشناش کرایا سکتا ہے۔جب تک شاعری کائنات سے بہرہ ورنہ ہوگا شاعری صرف بہتان ، لہب و لعب اور وقت گزاری کا سامان ہوگا۔ حالی
نے زندگی سے جڑے ہوئے موضوعات کی تلاش کائنات سے کرنے پر زوردیا۔تخیل کی زور اور مطالعہ کائنات کے بیان کے لئے مناسب الفاظ کی تلاش
اور اس کا حسن استعمال شاعری کے لئے ازحد ضروری ہے اس کو تفحص الفاظ کہاگیا۔حقیقت ہے کہ مناسب الفاظ کے استعمال کے بغیر شاعری کیا معنی
دے سکتی ہے۔ منجملہ شاعری کے شرائط جوحالی نے پیش کئے گر چہ انیسویں صدی کے آخر کے ہیں مگر اکیسویں صدی کو خوش آمدید کہنے کے لئے تیار آج کا شاعر
بھی اس کامنکر نہیں ہو سکتا۔“

”تحریر و تفہیم “کے بیک کور پر ممتاز ادیب و ناقد ڈاکٹر عطا عابدی نے بجا طور پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد افسانہ اور تنقید و تبصرے کے باب میں ایک مسلسل فعال قلم کار ہیں۔ ان کے مضامین اور تبصرے مختلف ادبی رسائل و جرائد میں پابندی سے شائع ہوتے رہے ہیں، جو ان کے سنجیدہ ادبی مزاج اور مثبت فکری رویے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ رائے کسی رسمی تعارف کا حصہ نہیں بلکہ ایک ایسے قلم کار کے بارے میں ایک معتبر ادیب کی گواہی ہے جس نے اپنی شناخت مسلسل محنت سے قائم کی ہے۔
ڈاکٹر عطا عابدی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی متعدد افسانوی، تنقیدی اور تحقیقی کتابیں اس امر کی شاہد ہیں کہ ان کا فکری اور فنی رویہ تصنع اور بناوٹ سے پاک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی وصف "تحریر و تفہیم” میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ مصنف نہ تو غیر ضروری علمی رعب قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی مشکل زبان کو علمیت کی علامت سمجھتے ہیں۔ وہ سادہ، مدلل اور متوازن انداز میں اپنی بات پیش کرتے ہیں، جس سے قاری کو موضوع سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ڈاکٹر عطا عابدی نے ایک اور اہم نکتہ بیان کیا ہے کہ گاو ¿ں کی مٹی اور شہر کی فضا، دونوں کے مطالعے اور مشاہدے نے ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کے فکر و شعور کو وسعت عطا کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں ایک طرف دیہی زندگی کی سادگی، خلوص اور زمینی حقیقتیں موجود ہیں تو دوسری طرف عصری ادبی مباحث اور تنقیدی شعور کی گہرائی بھی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی تنقید کتابوں سے زیادہ زندگی کے مشاہدے سے جنم لیتی ہے۔
”خورشےد اکبر کی شاعری مےں لفظوں کا انتخاب اےک اےسی دنےا کی تعمےر سے عبارت ہے جہاں احساس کی فراوانی ہے۔ ےہ سماعت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ شعر کا مزاج وہ امےجری
پےش کرتا ہے جس کی حقےقت صدےوں سے چلی آرہی ہماری تہذےب و تارےخ کا حصہ ہے۔ ان کے ےہاں جذبے کی شدت مےں تھوڑی تےزی ہے جو ذات مےں ہلچل پےدا کرتی ہے۔
اسے قرار سے رہنے نہیں دےتی اور بے قراری اےک پر قوت لہجہ بن کر دل پر چھا جاتی ہے، شاعری کی ےہ منزل بڑی شاعری کے امکان کا روشن باب ہے، جہاں خورشےد اکبر کا نہ صرف
استقبال ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی آمد سے محفل شعر و سخن مےں توانائی بھر دےتے ہےں۔“(خورشید اکبر کی شاعری )
ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی کتاب ”تحریر و تفہیم “کا آخری مضمون "متھلا میں اردو افسانہ: سمت و رفتار اس کتاب کے اہم ترین مضامین میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہ محض چند افسانہ نگاروں کا تعارف نہیں بلکہ متھلا کی اردو افسانہ نگاری کی ایک مختصر مگر مستند ادبی تاریخ ہے۔ اس مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نہ صرف ایک ناقد ہیں بلکہ ایک محقق کی حیثیت سے بھی اپنے موضوع پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
اس مضمون کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے متھلا کے ان افسانہ نگاروں کو یکجا کیا ہے جن کا ذکر اردو افسانے کی مرکزی تاریخ میں بہت کم ملتا ہے۔ حسن امام درد، ذکی انور، شفیع جاوید، سید منظر امام، منظر کاظمی اور دیگر قلم کاروں کے حوالے سے انہوں نے نہ صرف ان کی تخلیقی خدمات کا تعارف پیش کیا ہے بلکہ ان کے فن، اسلوب، موضوعات اور افسانوی امتیازات پر بھی مختصر مگر بصیرت افروز گفتگو کی ہے۔ اس طرح یہ مضمون محض معلومات فراہم نہیں کرتا بلکہ قاری کو ان ادیبوں کی تخلیقی اہمیت سے بھی آگاہ کرتا ہے۔
یہ مضمون دراصل ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی اس دیرینہ علمی دلچسپی کا تسلسل بھی ہے، جس کا اظہار وہ اس سے قبل اپنی تحقیقی کتاب "دربھنگہ میں اردو افسانہ نگاری” میں کر چکے ہیں۔ چنانچہ”متھلا میں اردو افسانہ: سمت و رفتار” کو اس تحقیق کا ایک جامع اور ارتقائی مرحلہ بھی کہا جا سکتا ہے، جہاں وہ پورے متھلا خطے کی افسانوی روایت کا تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہیں۔
کتاب کے آخری مضمون کی حیثیت سے اس تحریر کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ پوری کتاب کے علمی مزاج کی نمائندگی کرتی ہے۔ "تحریر و تفہیم” کے آغاز میں جہاں کلاسیکی ادب، ناول اور تنقید پر گفتگو ملتی ہے، وہیں اختتام پر مصنف اپنی توجہ علاقائی ادب کی طرف مبذول کرتے ہیں۔ اس سے ان کے تنقیدی وڑن کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ صرف بڑے ناموں کے ناقد نہیں بلکہ ان ادیبوں اور ادبی خطوں کے بھی ترجمان ہیں جنہیں اردو کی مرکزی تنقید میں مناسب مقام نہیں مل سکا۔
"تحریر و تفہیم” کا ایک بڑا امتیاز یہ بھی ہے کہ یہ صرف کتابوں کا تعارف پیش نہیں کرتی بلکہ ان کی فکری اور فنی جہات کا تجزیہ بھی کرتی ہے۔ مصنف ہر کتاب یا شخصیت کے مثبت پہلوو ¿ں کو نمایاں کرتے ہوئے ان کے ادبی مقام کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی اعتدال ان کی تنقید کو قابلِ اعتماد بناتا ہے۔
ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے اپنی علمی خدمات کے ساتھ المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ، دربھنگہ کے سرپرست کی حیثیت سے بھی اردو زبان و ادب کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مختلف ادبی نشستوں، مذاکروں، کتابوں کی رونمائی، سیمیناروں اور تعزیتی پروگراموں کے ذریعے انہوں نے ادب اور اہلِ ادب کے احترام کی ایک خوبصورت روایت قائم رکھنے میں تعاون کیا ہے۔ بطور ناظم بھی ان کی شائستگی، سلیقہ اور ادبی وقار اہلِ علم میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد ان اہلِ قلم میں شامل ہیں جو شہرت کے شور سے دور رہ کر خاموشی سے ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ ان کی کتاب ”تحریر و
تفہیم“ اس خدمت کا ایک روشن باب ہے، جو آنے والے زمانے میں اردو تنقید اور ادبی مطالعات کے حوالے سے ضرور یاد رکھی جائے گی۔ امید ہے کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد اسی خلوص اور فکری دیانت کے ساتھ آئندہ بھی اردو زبان و ادب کے دامن کو اپنی تخلیقات اور تنقیدی کاوشوں سے مالا مال کرتے رہیں گے۔
٭٭٭

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے