Breaking
پیر. جولائی 6th, 2026

الفاظ بے جان نہیں ہوتے

الفاظ بے جان نہیں ہوتے

الفاظ بے جان نہیں ہوتے

ازقلم:عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری فیملی کاؤنسلر
9224599910
••••••••

الفاظ بے جان نہیں ہوتے۔ وہ انسان کے باطن کی ترجمانی کرتے ہیں، کردار کی خوشبو بھی بن جاتے ہیں اور شخصیت کا آئینہ بھی۔ کبھی دلوں پر ایسی تاثیر چھوڑتے ہیں کہ سوچ کا زاویہ بدل جاتا ہے، کبھی تعمیر کا سامان بن کر بکھرے ہوئے حوصلوں کو سمیٹ لیتے ہیں۔ کبھی تقدیر کا رخ موڑنے والی دعا ثابت ہوتے ہیں اور کبھی بہتر تدبیر کی راہ دکھاتے ہیں۔ کہیں زخموں پر مرہم رکھ دیتے ہیں، کہیں بے احتیاطی سے ادا ہوں تو عمر بھر کے زخم دے جاتے ہیں۔ کبھی محبت کا پل بن کر اجنبیوں کو اپنا بنا لیتے ہیں، کبھی نفرت کی دیوار کھڑی کر کے اپنوں کو بھی دور کر دیتے ہیں۔ انہی سے رشتوں میں اعتماد جنم لیتا ہے، انہی سے دلوں میں امید جاگتی ہے، انہی سے حوصلے پروان چڑھتے ہیں اور انہی سے معاشروں کی فکری و اخلاقی تعمیر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الفاظ صرف ادا نہیں کیے جاتے، بلکہ جیتے جاتے ہیں؛ وہ انسان کے کردار، اس کی تہذیب اور اس کی پوری زندگی کی سمت متعین کرتے ہیں۔

"کبھی سوچا ہے کہ ہماری زندگی کے سب سے گہرے زخم تلواروں نے نہیں ، بلکہ الفاظ نے دیے ہوتے ہیں ؟ اور زندگی کے سب سے قیمتی تحفے بھی اکثر کسی کے خلوص بھرے چند جملے ہی ہوتے ہیں۔”
انسان کے پاس بہت سے وسائل ہیں، مگر ان میں سب سے زیادہ طاقتور اس کی زبان ہے۔ لفظ دکھائی نہیں دیتے، ان کا کوئی وزن نہیں ہوتا، انہیں ہاتھ سے چھوا نہیں جا سکتا، لیکن ان کا اثر پتھر سے زیادہ سخت اور بارش سے زیادہ نرم ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے حسنِ گفتگو کی تعلیم دی اور انسان کو یاد دلایا کہ لوگوں سے بھلی بات کہو۔ رسولِ اکرم ﷺ نے بھی یہی رہنمائی فرمائی کہ جو خیر کی بات کہہ سکتا ہے وہ کہے، ورنہ خاموش رہے۔ اس لیے کہ زبان صرف آواز نہیں، امانت بھی ہے۔
کبھی اپنے ماضی کے دریچے کھولیے۔ کیا آج بھی کسی استاد کی ایک حوصلہ افزا بات آپ کو یاد نہیں؟ کیا والدین کی کوئی دعا آج بھی آپ کے دل میں روشنی نہیں بکھیرتی؟ کیا کسی دوست کا دیا ہوا دلاسہ مشکل وقت میں سہارا نہیں بنتا؟ اور کیا کسی عزیز کا ایک تلخ جملہ برسوں بعد بھی دل میں چبھن پیدا نہیں کرتا؟ اگر ایسا ہے تو پھر مان لیجیے کہ الفاظ بے جان نہیں ہوتے؛ وہ یادوں میں سانس لیتے ہیں، دلوں میں بستے ہیں اور شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ انسان اپنی ذات کے بارے میں جو تصور قائم کرتا ہے، اس میں دوسروں کے الفاظ بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایک بچے کو بار بار "تم قابل ہو” کہا جائے تو اس کے اندر اعتماد پروان چڑھتا ہے، اور اگر اسے مسلسل حقیر سمجھا جائے تو اس کی صلاحیتیں مرجھانے لگتی ہیں۔ اس لیے گفتگو صرف خیالات کا تبادلہ نہیں، بلکہ شخصیت سازی کا عمل بھی ہے۔

سوچیے! ایک مسکراہٹ کے ساتھ ادا کیا گیا جملہ اجنبی کو اپنا بنا دیتا ہے۔ ایک مخلصانہ معافی دلوں کا بوجھ ہلکا کر دیتی ہے۔ ایک دعا مایوس انسان کو جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ایک "میں تمہارے ساتھ ہوں” شکست خوردہ شخص کو پھر سے کھڑا کر دیتا ہے۔ محبت سے ادا کیے گئے الفاظ دلوں کو مائل کرتے ہیں، حکمت سے کہی گئی بات عقل کو قائل کرتی ہے، حسنِ اخلاق لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرتا ہے، خیر خواہی اعتماد حاصل کرتی ہے، اخلاص بچھڑے ہوئے دلوں کو واصل کرتا ہے اور مسلسل خوش گفتاری انسان کے کردار کو کامل بنانے میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔

مگر زبان کا دوسرا رخ بھی ہے۔ غرور، حسد، غصہ اور تحقیر جب لفظوں کا لباس پہن لیتے ہیں تو وہی گفتگو دلوں کو گھائل کر دیتی ہے، اعتماد کے درمیان دیوار حائل ہو جاتی ہے، محبت کے چراغ بجھنے لگتے ہیں اور کبھی یہی الفاظ برسوں پرانے تعلقات کے قاتل بھی ثابت ہوتے ہیں۔ جسم پر لگنے والے زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں، مگر عزتِ نفس پر لگنے والی چوٹ اکثر برسوں تک ساتھ چلتی ہے۔
آج کے دور میں زبان صرف ہونٹوں تک محدود نہیں رہی۔ اب موبائل کی اسکرین پر لکھی ہوئی سطریں بھی ہماری زبان ہیں۔ ایک مختصر تبصرہ کسی نوجوان کا حوصلہ بڑھا سکتا ہے اور ایک طنزیہ جملہ اس کی خود اعتمادی مجروح کر سکتا ہے۔ اس لیے لکھنے والا بھی اتنا ہی ذمہ دار ہے جتنا بولنے والا۔

ہر انسان کو چند لمحے اپنے آپ سے سوال کرنے چاہییں۔
• کیا میری گفتگو لوگوں کو سکون دیتی ہے یا بے چینی؟
• کیا میرے الفاظ امید پیدا کرتے ہیں یا مایوسی؟
• کیا میں اختلاف کو تہذیب کے ساتھ بیان کرتا ہوں؟
• کیا میری زبان گھر کے ماحول کو خوشگوار بناتی ہے؟
• کیا میرے بچے مجھ سے شائستہ گفتگو سیکھ رہے ہیں؟
• کیا میری تحریریں دل جوڑتی ہیں یا دل توڑتی ہیں؟
• کیا میں غصے میں وہ کچھ کہہ دیتا ہوں جس پر بعد میں ندامت ہوتی ہے؟
• کیا میں تعریف میں بخل اور تنقید میں فراخی سے کام لیتا ہوں؟
• کیا میری زبان معافی مانگنا جانتی ہے؟
اور اگر آج میرے الفاظ کا حساب لیا جائے تو کیا وہ میرے حق میں گواہی دیں گے؟
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی تہذیب اس کے لباس سے نہیں، اس کے لب و لہجے سے پہچانی جاتی ہے۔ خوش گفتاری علم کی زینت بھی ہے اور کردار کی پہچان بھی۔اچھے الفاظ کسی خزانے سے کم نہیں؛ یہ دعا بھی ہیں، صبر بھی، دلاسہ بھی، امید بھی، حوصلہ بھی، محبت بھی، سمجھ داری بھی اور دلوں کو جوڑنے والا مضبوط رشتہ بھی۔

اس لیے بولنے سے پہلے صرف یہ نہ سوچیے کہ "میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟” بلکہ یہ بھی سوچیے کہ "میرے الفاظ سننے والے کے دل میں کیا چھوڑ جائیں گے؟” کیونکہ انسان کے جانے کے بعد اس کی آواز خاموش ہو جاتی ہے، مگر اس کے الفاظ زندہ رہتے ہیں۔ وہ کسی کی دعا بن کر بھی زندہ رہ سکتے ہیں اور کسی کی آہ بن کر بھی۔
عہد کریں کہ
•• ہماری زبان خیر کا سرچشمہ بنے گی۔ ••ہمارے الفاظ دلوں کو قائل کریں گے، خیر کی طرف مائل کریں گے، لوگوں کو ایک دوسرے میں شامل کریں گے، بھلائی حاصل کریں گے، بچھڑے دلوں کو واصل کریں گے اور ہماری اپنی شخصیت کو کامل بنانے کا ذریعہ بنیں گے۔

ہم ایسے لفظوں سے اجتناب کریں گے
•• جو دلوں کو گھائل کریں، رشتوں کے درمیان حائل ہوں یا کسی کی امید، عزت اور محبت کے قاتل ثابت ہوں۔
یاد رکھیے! الفاظ بے جان نہیں ہوتے؛ وہ یا تو دلوں میں زندگی بوتے ہیں، یا پھر خاموش قبریں تعمیر کر دیتے ہیں۔ انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے