Breaking
پیر. جولائی 6th, 2026

ایس آئی آرمہم، نئے ضابطے اور بڑھتے ہوئے عوامی خدشات

ایس آئی آرمہم، نئے ضابطے اور بڑھتے ہوئے عوامی خدشات

ایس آئی آرمہم، نئے ضابطے اور بڑھتے ہوئے عوامی خدشات

ازقلم:محمد عبدالحلیم اطہر سہروردی،
صحافی و ادیب،،گلبرگہ
Cell: 8277465374
athar.gul@gmail.com

کسی بھی ملک میں درست اور شفاف انتخابی نظام جمہوریت کی بنیاد ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ووٹر لسٹوں کی درستگی اور اہل ووٹروں کا اندراج ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت کی جانب سے ایس آئی آر (Special Intensive Revision) کی مہم شروع کی جاتی ہے، جس کا بنیادی مقصد ووٹر فہرستوں کو جدید، درست اور شفاف بنانا بتایا جاتا ہے۔ اگرچہ اس مہم کے مقاصد اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اس کے نفاذ کے طریقہ کار نے عوام میں کئی سوالات، خدشات اور پریشانیاں پیدا کر دی ہیں۔بھارت میں انتخابی عمل کی شفافیت اور ووٹر فہرستوں کی درستگی کے نام پر شروع کی گئی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم نے جہاں انتخابی اصلاحات پر بحث کو تیز کیا ہے، وہیں اس کے طریقہ کار اور نئی شرائط نے عوام، سماجی تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور آئینی ماہرین کے درمیان متعدد سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ ایک طرف الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ اس مہم کا مقصد ووٹر فہرستوں کو غلط اندراجات سے پاک کرنا اور انتخابی عمل کو زیادہ قابلِ اعتماد بنانا ہے، جبکہ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں عائد کی گئی بعض شرائط عام شہریوں کے لیے غیر ضروری مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔بھارتی آئین کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ ہر شہری کو قانون کے سامنے مساوی تحفظ حاصل ہو اور جمہوری عمل میں اس کی شرکت یقینی بنائی جائے۔ آئینِ ہند کا آرٹیکل 326 بالغ شہریوں کو قانون کے مطابق حقِ رائے دہی کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950 (Representation of the People Act, 1950) ووٹر فہرستوں کی تیاری اور نظرثانی کا قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اسی بنا پر آئینی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ووٹر فہرستوں کی اصلاح ضروری ہے، لیکن اس عمل میں ایسی شرائط نہیں ہونی چاہییں جو حقیقی ووٹروں کے لیے غیر متناسب رکاوٹ بن جائیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ایس آئی آر مہم کے ذریعے فرضی، دہرے یا غیر مستحق ووٹروں کے نام حذف کیے جائیں گے اور صرف اہل شہریوں کے نام انتخابی فہرستوں میں برقرار رہیں گے۔ اس سے انتخابی نظام زیادہ قابلِ اعتماد ہوگا اور دھاندلی کے امکانات کم ہوں گے۔ حکومت اسے انتخابی اصلاحات کا ایک اہم قدم قرار دیتی ہے۔دوسری طرف عوام کی ایک بڑی تعداد اس مہم کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔ بہت سے شہریوں کو مختلف دستاویزات جمع کرانے، شناخت ثابت کرنے اور دفاتر کے بار بار چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔ دیہی علاقوں، بزرگ افراد، مزدور طبقے، خواتین اور غریب شہریوں کے لیے مطلوبہ کاغذات فراہم کرنا آسان نہیں۔ بعض افراد کو یہ خدشہ بھی ہے کہ معمولی غلطیوں یا دستاویزات کی کمی کی وجہ سے ان کا نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو سکتا ہے، جس سے ان کے جمہوری حقِ رائے دہی پر اثر پڑے گا۔حالیہ ضابطوں کے مطابق شہریت کے ثبوت کے لیے مخصوص دستاویزات پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ عوام کی ایک بڑی تعداد کے پاس موجود آدھار کارڈ، پاسپورٹ، پین کارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات کو بعض معاملات میں شہریت کے قطعی ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا جا رہا۔ عوام کا سوال یہ ہے کہ اگر یہی دستاویزات بینک اکاؤنٹ کھلوانے، ٹیکس نظام، سرکاری فلاحی اسکیموں، سفر اور دیگر سرکاری معاملات میں قابلِ قبول ہیں، تو پھر انتخابی عمل میں ان کی افادیت محدود کیوں کر دی گئی ہے؟ یہی سوال عوامی بے چینی کا سبب بن رہا ہے۔اس عمل کا سب سے زیادہ اثر معاشرے کے کمزور طبقات پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، بزرگ شہری، خواتین، نقل مکانی کرنے والے مزدور اور وہ افراد جن کے پاس کئی دہائیوں پرانے ریکارڈ محفوظ نہیں، ان کے لیے اضافی دستاویزات فراہم کرنا آسان نہیں۔ اگر دستاویزات کے حصول کا عمل ہی پیچیدہ ہو جائے تو اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اہل شہری اپنے بنیادی جمہوری حق، یعنی حقِ رائے دہی، سے محروم نہ ہو جائیں۔
ایس آئی آر کے تناظر میں سب سے زیادہ تشویش ان طبقات کے حوالے سے ظاہر کی جا رہی ہے جو معاشی، تعلیمی یا سماجی اعتبار سے پہلے ہی کمزور ہیں۔ ان میں مسلمانوں کے علاوہ درج فہرست ذاتوں (SC)، درج فہرست قبائل (ST)، دیگر پسماندہ طبقات (OBC)، خانہ بدوش برادریاں، نقل مکانی کرنے والے مزدور، غریب دیہی خاندان، بزرگ شہری اور بے گھر افراد شامل ہیں۔ ان طبقات کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مطلوبہ دستاویزات کی فراہمی ان کے لیے نسبتاً زیادہ مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔مسلمانوں کے حوالے سے کئی سماجی تنظیموں اور سیاسی حلقوں نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ معاشی پسماندگی، بار بار نقل مکانی، پرانے ریکارڈ کی عدم دستیابی اور تعلیمی وسائل کی کمی کی وجہ سے اس طبقے کے بعض افراد مطلوبہ دستاویزات بروقت فراہم کرنے میں دشواری محسوس کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس بات کا فیصلہ ہر فرد کے معاملے میں متعلقہ انتخابی حکام کے طریقہ کار پر منحصر ہوگا، تاہم خدشات نیسماج میں بے چینی پیدا کی ہے۔اسی طرح دیہی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کی پیدائش کے اندراج، زمین کے ریکارڈ یا دیگر تاریخی دستاویزات مکمل نہیں ہیں۔ بہت سے خاندان ایسے ہیں جنہوں نے قدرتی آفات، نقل مکانی یا دیگر وجوہات کی بنا پر اپنے پرانے کاغذات کھو دیے۔ اگر شہریت یا اہلیت کے ثبوت کے لیے سخت دستاویزی تقاضے نافذ کیے جائیں تو ایسے افراد غیر ضروری انتظامی مشکلات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔آئینی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کا مقصد حقیقی ووٹروں کو خارج کرنا نہیں بلکہ ووٹر فہرستوں کی درستگی ہونا چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن ایسا لچکدار، شفاف اور عوام دوست طریقہ کار اختیار کرے جس میں کسی بھی مذہبی، سماجی یا معاشی طبقے کے ساتھ براہِ راست یا بالواسطہ امتیاز کا تاثر پیدا نہ ہو۔ ہر شہری کو اپنا مؤقف پیش کرنے، دستاویزات مکمل کرنے اور فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا مناسب موقع ملنا بھی جمہوری انصاف کا تقاضا ہے۔
سپریم کورٹ نے 27 مئی 2026 کے اپنے فیصلے میں ایس آئی آر (Special Intensive Revision) کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا، تاہم اس کے ساتھ چند اہم اصول بھی واضح کیے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے، اس لیے اصولی طور پر ایس آئی آر کرانا اس کے اختیارات میں شامل ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ سے حذف ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہندوستان کا شہری نہیں ہے۔ ووٹر لسٹ سے اخراج صرف انتخابی فہرست کے مقصد تک محدود ہے، شہریت کا حتمی فیصلہ متعلقہ مجاز اتھارٹی ہی کرے گی۔ اگر الیکشن کمیشن کسی شخص کے بارے میں یہ رائے قائم کرے کہ وہ شہری نہیں ہے اور اس بنیاد پر نام حذف کرے، تو ایسے معاملے کو متعلقہ اتھارٹی کے پاس بھیجنا ہوگا تاکہ قانون کے مطابق شہریت کا فیصلہ کیا جا سکے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایس آئی آر کا عمل منصفانہ طریقہ کار پر مبنی ہونا چاہیے، جس میں نوٹس، انفرادی جانچ، وجوہات پر مبنی فیصلہ (Speaking Order) اور اپیل کا حق شامل ہو تاکہ کسی اہل ووٹر کو من مانی طریقے سے خارج نہ کیا جائے۔ اس فیصلے کے باوجود، مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور شہری حلقوں کی جانب سے ایس آئی آر کے نفاذ، مطلوبہ دستاویزات اور اس کے عملی اثرات پر اعتراضات اور خدشات بدستور سامنے آ رہے ہیں، جن پر عوامی اور قانونی سطح پر بحث جاری ہے۔
جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کا بھی نام ہے۔ اگر انتخابی اصلاحات کے نتیجے میں شہریوں میں خوف، غیر یقینی یا محرومی کا احساس پیدا ہونے لگے تو اصلاحات کا اصل مقصد متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی کارروائی کو زیادہ شفاف بنائے، عوامی اعتراضات کو سنجیدگی سے سنے، دستاویزات کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرے اور ایسا طریقہ کار اختیار کرے جس سے کسی بھی اہل شہری کا نام محض تکنیکی وجوہات کی بنا پر ووٹر فہرست سے خارج نہ ہو۔یہ بھی حقیقت ہے کہ مضبوط جمہوریت کے لیے درست ووٹر فہرست ناگزیر ہے، لیکن اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ ہر اہل شہری کو اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال میں سہولت اور تحفظ حاصل ہو۔ انتخابی اصلاحات اسی وقت کامیاب کہلائیں گی جب وہ شفافیت اور عوامی سہولت، دونوں مقاصد کو یکساں طور پر پورا کریں اور عوام کا انتخابی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔جمہوریت کی مضبوطی اسی میں ہے کہ انتخابی اصلاحات اور عوامی حقوق کے درمیان متوازن راستہ اختیار کیا جائے۔ اگر کسی طبقے میں یہ احساس پیدا ہو کہ وہ غیر ضروری طور پر انتظامی پیچیدگیوں کا شکار ہے، تو اس سے انتخابی عمل پر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفافیت، مساوات اور آئینی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ہر اہل شہری کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کو یقینی بنائیں، تاکہ انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر اہل شہری کو ووٹ ڈالنے کا مساوی حق حاصل ہو۔ اس لیے ایسی ہر مہم میں شفافیت، آسانی، غیر جانبداری اور عوامی سہولت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ عوام میں بیداری پیدا کرنے، مناسب وقت دینے، دستاویزات کی فراہمی کو آسان بنانے اور شکایات کے فوری ازالے کا مؤثر نظام قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔اسی طرح عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ افواہوں سے بچیں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں، اپنی معلومات بروقت درست کروائیں اور قانون کے مطابق مطلوبہ کارروائی مکمل کریں۔ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد اور تعاون ہی ایسی مہمات کو کامیاب بنا سکتا ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایس آئی آر مہم اگر شفاف، منصفانہ اور عوام دوست انداز میں چلائی جائے تو انتخابی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ لیکن اگر اس کے نفاذ میں عوامی مشکلات، غیر ضروری سختی یا بے ضابطگیاں پیدا ہوں تو اس سے جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت اصلاحات کے ساتھ ساتھ عوام کی سہولت، اعتماد اور بنیادی جمہوری حقوق کا بھی مکمل تحفظ یقینی بنائے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے