آرٹیکل 44 اور مہاراشٹر میں مجوزہ یکساں سول کوڈ

آرٹیکل 44 اور مہاراشٹر میں مجوزہ یکساں سول کوڈ

آرٹیکل 44 اور مہاراشٹر میں مجوزہ یکساں سول کوڈ

ازقلم: شیخ سلیم
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا

جب بھی ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی بات ہوتی ہے آرٹیکل 44 کے رہنما اصول کا حوالہ دیا جاتا ہے آئیے دیکھتے ہیں کیا ہے یہ آرٹیکل 44۔
آئینِ ہند کا آرٹیکل 44 حصہ چہارم میں شامل ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں (Directive Principles of State Policy) کا ایک جزو ہے۔ اس میں کہا گیا ہے "ریاست پورے ہندوستان کے شہریوں کے لیے ایک یکساں سول کوڈ کے حصول کی کوشش کرے گی۔” لفظ "کوشش” کا استعمال بامعنی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئین ریاست سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ وقت کے ساتھ اس مقصد کی جانب پیش رفت کرے، لیکن اسے فوری یا لازمی طور پر نافذ کرنا ضروری قرار نہیں دیا گیا۔ آرٹیکل 44 کا تعلق نکاح، طلاق، وراثت، جانشینی، گود لینے اور نان و نفقہ جیسے سول معاملات سے ہے، اور دستور کے مطابق اس کا مذہبی عقائد، عبادت کے طریقوں یا ایمانیات سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم آرٹیکل 44 ریاستی پالیسی کے کئی رہنما اصولوں میں سے صرف ایک ہے۔ آئین ریاست کو یہ بھی ہدایت دیتا ہے کہ وہ سماجی و معاشی عدم مساوات کو کم کرے (آرٹیکل 38)، دولت کے بے تحاشا ارتکاز کو روکے اور وسائل کی ملکیت و کنٹرول کو اس طرح تقسیم کرے کہ وہ عوامی مفاد میں ہوں، اور مساوی کام کے لیے مساوی اجرت کو یقینی بنائے (آرٹیکل 39)۔ آئین کے نفاذ کو پچھتر برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اور اس میں کیا پیش رفت ہوئی، ہم سب جانتے ہیں۔ یہ آئینی مقاصد آج بھی مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے۔

معاشی عدم مساوات ہندوستانی معاشرے کے تقریباً ہر پہلو میں نمایاں نظر آتی ہے۔ سرکار کے مطابق تقریباً اسی کروڑ افراد غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور انہیں مفت راشن فراہم کیا جا رہا ہے۔ لاکھوں اسکولوں میں بچوں کو ایک وقت کا کھانا دیا جاتا ہے اور بہت سے غریب بچے صرف اس سہولت کی وجہ سے اسکول پہنچتے ہیں۔ ہمارے شہر انتہائی امیر طبقوں کے مخصوص علاقوں، امیر رہائشی کالونیوں، متوسط طبقے کی بستیوں اور غریبوں کی جھونپڑ پٹیوں کے درمیان واضح طور پر تقسیم ہیں۔ دہلی، ممبئی، کولکاتا اور احمد آباد جیسے کئی بڑے شہروں میں بہت سے لوگ آج بھی ایسے محلوں میں رہتے ہیں جہاں رہائش کا انتخاب تحفظ، امتیازی سلوک اور سماجی اخراج جیسے عوامل سے متاثر ہوتا ہے۔ کئی علاقوں میں آج بھی مسلمانوں کو مکانات فروخت نہیں کیے جاتے اور اشتہارات میں صاف طور پر درج ہوتا ہے کہ مکانات مسلمانوں کو فروخت نہیں ہوں گے۔ ممبئی کا دھاراوی علاقہ، بے شمار معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہونے کے باوجود، آج بھی بھیڑ، ناقص صفائی گندگی اور غیر انسانی رہائشی حالات کی ایک نمایاں مثال ہے، جسے کوئی بھی شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔ قانونی حلقوں میں آرٹیکل 44 پر گفتگو اور تفصیلی قانونی بحث ہونا ضروری ہے ۔
سماجی و معاشی فرق روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں صاف جھلکتا ہے۔ ریلوے میں جنرل، سلیپر اور فرسٹ کلاس کے ڈبے ہوں یا ہوائی جہاز میں اکانومی اور فرسٹ کلاس، پریمیم ایئرپورٹ لاؤنجز ہوں یا رہائش اور صحت کی معیاری سہولیات، ہر جگہ معاشی حیثیت کے مطابق واضح تقسیم نظر آتی ہے۔ تعلیم کا شعبہ بھی مسلسل غیر مساوی ہوتا جا رہا ہے۔ تقریباً ہر بڑے شہر میں امیروں اور غریبوں کے الگ الگ اسکول اور کالج موجود ہیں۔ معیاری تعلیم، نجی جامعات اور پیشہ ورانہ اداروں، خصوصاً میڈیکل کالجوں تک رسائی معاشی طور پر کمزور طبقوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث لاکھوں باصلاحیت طلبہ اپنی صلاحیتوں کے باوجود آگے نہیں بڑھ پاتے۔ اسی طرح آئی اے ایس، آئی پی ایس اور انڈین فارن سروس جیسی اعلیٰ سرکاری خدمات میں بھی مساوی مواقع کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ سماجی و معاشی پسماندگی اور تعلیمی عدم مساوات کے اثرات ان سرکاری امتحانات کے نتائج میں واضح بھی دکھائی دیتے ہیں اور اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی نمائندگی انتہائی محدود ہے۔
معاملہ صرف تعلیم یا ملازمت تک محدود نہیں۔ آرٹیکل 39-اے ریاست کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ سب کے لیے یکساں انصاف کو یقینی بنائے اور مفت قانونی امداد فراہم کرے تاکہ کوئی بھی شہری معاشی یا دوسری مجبوریوں کی وجہ سے انصاف سے محروم نہ رہے۔ اس کے باوجود جیلوں کے اعداد و شمار مسلسل بتا رہے ہیں کہ زیرِ سماعت قیدیوں کی ایک بڑی تعداد معاشی طور پر کمزور اور سماجی طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد صرف اس وجہ سے برسوں تک جیل میں رہتے ہیں کہ وہ مؤثر قانونی نمائندگی حاصل نہیں کر پاتے یا بروقت ضمانت نہیں کرا سکتے۔ اگر حکومت ہر سال مکمل اور شفاف اعداد و شمار جاری کرے تو اس مسئلے کی اصل سنگینی پوری قوم کے سامنے آسکتی ہے۔ اسی طرح آئین ریاست کو کام اور تعلیم کے حق (آرٹیکل 41)، منصفانہ اور انسانی کام کے حالات اور زچگی کی امداد (آرٹیکل 42)، مناسب اجرت (آرٹیکل 43)، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر کمزور طبقات کے تعلیمی و معاشی مفادات کے تحفظ (آرٹیکل 46)، عوامی صحت اور غذائیت کی بہتری (آرٹیکل 47) اور ماحولیات کے تحفظ (آرٹیکل 48-اے) کی بھی ہدایت دیتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ صحت، تعلیم، روزگار اور معیارِ زندگی میں امیر اور غریب کے درمیان فرق آج بھی نمایاں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان تمام آئینی ہدایات کو یکساں اہمیت دی جا رہی ہے یا صرف آرٹیکل 44 ہی سیاسی مباحث کا مرکز بن گیا ہے؟
آرٹیکل 37 کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ریاستی پالیسی کے رہنما اصول، بشمول آرٹیکل 44، عدالتوں کے ذریعے نافذ نہیں کرائے جا سکتے، اگرچہ وہ ملک کی حکمرانی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور قانون سازی کرتے وقت ریاست پر ان کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔ اسی آئینی پس منظر میں مہاراشٹر حکومت نے ایک ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرکے یکساں سول کوڈ کی تیاری کا عمل شروع کیا ہے۔ کمیٹی کو موجودہ قوانین کا جائزہ لینے، مختلف فریقوں سے مشاورت کرنے اور ریاست کے لیے یکساں سول کوڈ کا مسودہ تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ابھی تک نہ کوئی مسودہ عوام کے سامنے آیا ہے اور نہ ہی اسمبلی میں کوئی بل پیش کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق مجوزہ یکساں سول کوڈ کا مقصد نکاح، طلاق، وراثت، جانشینی، گود لینے، سرپرستی اور نان و نفقہ جیسے معاملات میں تمام شہریوں کے لیے یکساں سول قانون نافذ کرنا ہے تاکہ قانون کے سامنے مساوات قائم ہو اور خاندانی قوانین کو یکساں بنایا جا سکے۔
اگر مجوزہ یکساں سول کوڈ موجودہ مسلم پرسنل لاء (شریعت) کی جگہ لے لیتا ہے یا اسے بڑی حد تک غیر مؤثر بنا دیتا ہے تو مسلمانوں کے لیے نکاح، طلاق، خلع، مبارأت، مہر، نفقہ، میراث، جانشینی، ہبہ، وصیت، ولایت، حضانت اور نسب و ولدیت جیسے معاملات شریعت کے بجائے یکساں سول کوڈ کے تحت آ سکتے ہیں۔ اسی طرح عیسائیوں، پارسیوں، یہودیوں اور دیگر مذہبی برادریوں کے پرسنل لاء بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی اقلیتی تنظیمیں، آئینی ماہرین اور سول سوسائٹی کے ادارے اس تجویز پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر برادریوں کے پرسنل لاء کو ختم یا محدود کیا گیا تو اس سے مذہبی آزادی اور ثقافتی تنوع کے آئینی تحفظات متاثر ہو سکتے ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو ضمیر کی آزادی اور اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 26 مذہبی فرقوں کو اپنے مذہبی معاملات چلانے کا حق دیتا ہے جبکہ آرٹیکلز 29 اور 30 اقلیتوں کی زبان، ثقافت، رسم الخط اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ اس لیے اصل آئینی سوال صرف یہ نہیں کہ آرٹیکل 44 نافذ ہونا چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کا نفاذ ان بنیادی حقوق کو برقرار رکھتے ہوئے ممکن ہے جو ہندوستان کے مذہبی تنوع، ثقافتی تکثیریت اور آئینی شناخت کی بنیاد ہیں۔ اس سوال کا حتمی جواب مجوزہ قانون کی اصل دفعات اور بعد ازاں آئینی عدالتوں کی تشریح سے ہی سامنے آئے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بڑے دل کے ساتھ اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کا کوئی خیال کرےگی ایسا نہیں لگتا اور ایسی کوئی توقع بھی رکھنا فضول ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے