زندگیاں برباد ، انصاف میں تاخیر :
7/11کیس میں گرفتاری کے 20 سال بعد
از قلم ڈاکٹر عبدالواحد شیخ ممبئی
8108188098
7/11کیس میں بے گناہ گرفتار کیے ہوئے اور رہا کیے جانے والے قریب سبھی قیدی ایک ساتھ 20 سال بعد آج ایرنکلم کیرلا میں سولیڈرٹی یوتھ موومنٹ کوزی کوڈ کیرلا کی جانب سے منعقد کیے گئے پروگرام وار آن ٹیرر میں مل رہے ہیں۔امریکہ کی جانب سے شروع کیے گئے اس مہم کی 25 سالہ ناکامی کے موقع سے یہ پروگرام کیا جا رہا ہے اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ بھارتی پولیس اور ایجنٹسی کی 20 سالہ ناکامی کا بھی تذکرہ اس میں شامل ہے۔ 20 سال کا پرانا واقعہ لکھنے میں ایک جملہ محسوس ہوتا ہے سوچنے میں ایک سیکنڈ لیکن جس پر بیتی ہے جب وہ اس پر غور کرنے لگتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ دو دہائی کتنی مشکل سے گزری ہے ۔
7/11 کیس میں جب ہمیں گرفتار کیا گیا تو محسوس ہی نہیں ہوا کہ اتنا لمبا عرصہ جیل میں زیر سماعت قیدی اور سزا یافتہ قیدی کے طور پر ہمیں بتانا پڑے گا۔پہلے تو ہمیں دھوکہ دے کر گرفتار کیا گیا اور ہم کئی دن تک یہ سمجھتے رہے کہ رونگ فل ائیڈنٹیفیکیشن ( wrongful identification)کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہوگا اس لیے جلد ہی ہم رہا ہو جائیں گے ۔ لیکن یہ سوچ غلط ثابت ہوئی اے ٹی ایس والے تفتیش کے دوران دھڑلے سے جھوٹ بولا کرتے تھے اور ان میں سے ایک جھوٹ یہ بھی تھا کہ اصل لوگ پکڑے جائیں گے تب ہم آپ لوگوں کو چھوڑ دیں گے۔ دوسرا جھوٹ یہ تھا کہ تمہی اصل لوگ ہوں اسی لیے پکڑے گئے ہوں۔ تیسرا جھوٹ یہ تھا کہ ہمیں اصل لوگ نہیں ملے اس لیے نقلی لوگوں کو اس کیس میں فٹ کیا جا رہا ہے ۔ روز تفتیش کے نام پر نئے نئے جھوٹ بولے جاتے تھے جس کی وجہ سے ہم کئی دنوں تک کنفیوز رہتے۔ زیر سماعت قیدی بننے کے بعد پھر ہمیں محسوس ہوا کہ ایک لمبا عرصہ ہمیں قید میں گزارنا پڑے گا ۔ لیکن ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہمیں سزا بھی ملے گی۔ کولہاپور سینٹرل جیل کے جیلر نے 2008 ہمیں کہا کہ تمہارا فیصلہ جب بھی آےگا تو ہو سکتا ہے کچھ لوگ چھوٹ جائے ، کچھ لوگوں کو سزا ہو جائے۔ اس وقت میں نے حیرت سے پوچھا تھا کہ کیا جھوٹے ثبوتوں کی بنیاد پر بھی سزا ہوتی ہے ۔ تو اس نے مسکرا کر کہا تھا کہ پتہ چل جائے گا ۔ جب 2015 میں ٹرائل کورٹ نے ججمنٹ سنایا، پانچ لوگوں کو پھانسی اور سات لوگوں کو عمر قید کی سزا دی گئی تو مجھے پتہ چل گیا کہ ہندوستانی عدلیہ میں جھوٹ اور جھوٹے ثبوت کی بنیاد پر سزا دینا عام بات ہے۔
جب ہم کہتے ہیں کہ پولیس نے غلط طریقے سے لوگوں کو گرفتار کیا تو یہ کوئی ایک معمولی جملہ نہیں ہے ۔گرفتار کر کے چھوٹے ثبوت کی بنیاد پر عدالت میں چارج شیٹ داخل کر کے پولیس بھول جاتی ہے۔ اور پھر نئے کیس میں نئے لوگوں کو غلط طریقے سے گرفتار کرنے میں لگ جاتی ہے ۔لیکن جو لوگ گرفتار ہوتے ہیں ان کے بارے میں کوئی سوچتا نہیں۔ نہ صرف پولیس انہیں جھوٹے کیس میں گرفتار کرتی ہے، ان کی آزادی سلب کرتی ہے بلکہ انہیں ٹارچر بھی کیا جاتا ہے اور عدالتوں سے سزا دلا کر جسمانی اور روحانی طور پر ان کو مجروح کیا جاتا ہے۔
پولیس نے جس بے دردی سے ہمیں ٹارچر کیا اس وقت ہمارے منہ سے نکلنے والی جینخیں تو کوئی سن نہ سکا، اس وقت جسم پر پڑنے والے زخم مند مل ہو گئے، اس کے نشانات کچھ کچھ ہمارے جسموں پر آج بھی باقی ہیں ۔لیکن پولیس کے ٹارچر کے درد کو اج بھی ہم محسوس کرتے ہیں ۔اس درد کا کوئی پیمانہ نہیں اس درد کو ہم لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے ، بس یہ دعا کرتے ہیں کہ آئندہ کسی قیدی کو ٹارچر نہ کیا جائے اور ٹارچر کرنے والے پولیس والوں کا احتساب ہو۔ جب مجھے پولیس والے بے دردی سے پیٹا کرتے تو میں ان لا توں اور گھونسوں کو گنا کرتا اور دل ہی دل میں یہ کہتا کہ ہندوستانی قانون و دستور میں کسی کو مارنا جرم ہے اور یہ دستور ہمیں ضرور اس کا بدلہ دلائے گا یعنی جتنے ڈنڈے یہ مجھے مار رہے ہیں قانون کے حساب سے اتنے ہی ڈنڈے ان کو پڑیں گے۔ لیکن افسوس ہمارے قانون میں پولیس کے ڈنڈوں کو روکنے اور پولیس کے ڈنڈوں کا حساب لینے کی طاقت نہیں ہے ۔ آپ ذرا غور کیجئے کہ بامبے ہائی کورٹ جب یہ کہتا ہے کہ اس کیس میں ٹارچر کر کے کنفیشن ریکارڈ کیا گیا ہے ، او ر یہ کہ پورا کیس فرضی ہے لیکن وہی ہائی کورٹ ٹارچر کرنے والے ہاتھ کا حساب نہیں لیتا اور ان سے کوئی باز پرس نہیں کی جاتی ۔ یہ اس کیس کا سب سے افسوسناک پہلو ہے۔
مجھے یاد ہے کہ جیل میں بیٹھ کر ہم تمام ہی قیدیوں نے کئی سیاسی لیڈروں کو اور حکومت وقت کے ذمہ داروں کو خطوط لکھ کر بار بار یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ پولیس نے ہمارے ساتھ غلط کیا ہے ۔ لیکن ہمارے سیاسی لیڈران ہماری بات سننے کو تیار نہیں تھے ۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ پولیس صحیح ہے اور شاید پولیس کے اس ڈائیلاگ پر وہ ایمان رکھتے تھے کہ ہر پکڑا جانے والا چور یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ چور نہیں۔ لیکن سیاسی لیڈران کی عقل پر ماتم اس وقت کیوں نہ کیا جائے جب بامبے ہائی کورٹ کے دو معزز ججوں نے یہ کہا کہ پکڑے جانے والے یہ چور اصل چور نہیں ہیں ،یہ بے گناہ ہیں ۔اس وقت ہمارے سیاسی لیڈران کو تھوڑی دیر ٹھہر کر سوچنا چاہیے تھا کہ پولیس سے غلطی ہوئی ہے یا پولیس نے جان بوجھ کر غلطی کی ہے۔ آج کے نفرتی ماحول میں اگر کہا جائے تو ہائی کورٹ کے دو ہندو جج 13 مسلم دہشت گرد قیدیوں کے رشتہ دار نہیں ہیں۔ نہ ہم ان ججوں کو خرید سکتے تھے۔ ضمیر کی آواز پر انہوں نے یہ فیصلہ سنایا ہیں ۔اگر وہ حکومت کے دباؤ میں پولیس کا من چاہا فیصلہ سنا دیتے تو پانچ پھانسی کنفرم ہو جاتی ، لیکن پھانسی کے پھندے پر چڑھے بغیر وہ دونوں جج روحانی طور پر اپنی موت آپ مر جاتے ، وہ خدا کو کیا منہ دکھاتے۔ شاید اسی جذبے کے تحت انہوں نے انصاف سے کام لیا۔ حکومت کو سوچنا چاہیے تھا کہ دو جج اگر یہ بات کہہ رہے ہیں کہ یہ بے گناہ ہے تو انہیں تسلیم کرنا چاہیے تھا لیکن اسی دن وزیراعلی دیوندر فڈنویس یہ کہتے ہیں کہ انہیں ہائی کورٹ کے فیصلے پر افسوس و حیرت ہے اور وہ اس فیصلے سے ناخوش ہیں اور اسی دن وہ سپریم کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کر دیتے ہیں۔ 19 سال کے بعد رہا ہونے کے باوجود مزید 19 سال سپریم کورٹ کے چکر لگانے پر قیدی مجبور کیے گئے ۔تلوار اب بھی ان کے سروں پر لٹک رہی ہے ۔ دھڑکا لگا ہے کہ یہ تلوار کب گرے اور ان کی گردن جسم سے الگ کر دی جائے۔ نہ وہ معاوضہ مانگ سکتے ہیں نہ وہ کوئی اچھی نوکری پا سکتے ہیں نہ وہ سکون سے زندگی کے بچے ہوئے ایام گزار سکتے ہیں ۔ ہمارا عدالتی نظام تہے دار ہے اور جتنے اعلی عدالت ہوگی اتنا لمبا سفر طے کرنا پڑے گا ۔ اگر ٹرائل کورٹ میں نو سال لگے ہیں تو ہائی کورٹ میں 10 سال اور شاید سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے میں 20 سال۔ ہمارے ایک ساتھی قیدی نے ہنستے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک شاہد ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچے۔ اگر انصاف اتنا سست اور طویل ہوگا تو کون انصاف کی امید کرے گا ۔ اگر یہ انصاف انسانی عمر کو بھی مات دے دے تو ایسے انصاف کو موت کی ضرورت ہے۔
ہمارے ایک قیدی ساتھی سہیل شیخ نے کہا کہ 20 سال بعد پہلی مرتبہ میں اپنے بیوی بچوں کو لے کر گھر سے اتنے لمبے سفر پر کیرلا روانہ ہوا ہوں تو مجھے بڑی خوشی ہو رہی ہے ۔ میں نے اور ساجد نے سوچا کہ اپنی نوجوان بچیوں کو کیرلا وزٹ کرا دے کیا خبر کہ یہ آخری وزٹ ہو اور اس کے بعد ان کی شادی ہو جائے اور وہ اپنے گھروں کو چلے جائیں ۔ ہم باقی بچی ہوئی زندگی میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں ، ڈھیر ساری خوشیاں سمیٹ لینا چاہتے ہیں ۔ لیکن کیا 19 سال کی خوشیوں سے محروم شخص ان خوشیوں کو دوبارہ پا سکتا ہے؟ شاید نہیں۔ اور ہماری خوشیاں چھین لینے والے اور زخم دینے والے پولیس افسران کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا ۔ نہ ہمارا قانون اور نہ ہمارا عدالتی نظام ۔ یہ سوچ کر ہمیں افسوس ہوتا ہے۔ اور جب پولیس والے یہ سوچتے ہیں تو وہ مزید غلط کاری کرنے میں شیر بن جاتے ہیں اور ٹارچر کا سلسلہ یوں ہی بھارت میں جاری رہتا ہے۔۔
اس کیس کو لے کر پولیس ڈیپارٹمنٹ میں شاید بہت اختلاف ہو ۔ پولیس والے آپ سے ہر کیس پر بات کرنا چاہیں گے لیکن اس کیس پر وہ بات کرنے سے کتر اتے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے بمیں پولیس کمشنر دیون بھارتی سے ملاقات کا اتفاق ہوا اور جب 7/11 کیس کی بات نکلی تو فورا انہوں نے کہا کہ میں اس کیس پر کچھ بولنا نہیں چاہتا۔ اور میں نے اس کیس میں کچھ غلط نہیں کیا ہے۔ بلکہ میں نے آج تک کچھ غلط کیا ہی نہیں ہے ۔اگر کسی کو میں نے جھوٹا گرفتار کیا ہو تو بتائیے ؟ میں آپ لوگوں کی کیا مدد کر سکتا ہوں یہ بتائیے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت میں اگر پولیس سے سیون لیون کیس پر بحث کی جائے گی تو ہمیشہ وہ اس پر بات کرنے سے بچیں گے اور ڈیفنس پوزیشن لے لیں گے ۔اس لیے نہیں کہ انہیں اس پر افسوس ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اس پر کھل کر بات نہیں کر سکتے ۔ انہیں تسلیم کرنا ہوگا کہ اس کیس میں وہ بہت غلط کر چکے ہیں۔
21 جولائی کو ججمنٹ آنے کے بعد آج ایک سال مکمل ہونے آرہا ہے۔ لیکن کسی بھی قیدی کو کوئی مناسب روزگار میسر نہیں آیا ہے۔ مسلم ادارے کے ذریعے چلائے جانے والی مسلم ایمبولنس نے ڈاکٹر تنویر کو دوبارہ اسپتال میں نوکری کے لیے رکھ لیا ہے جس کے لیے ہم مسلم ایمبولنس اور ڈاکٹر عبدالرؤف سمار کے بے حد شکر گزار ہے ھیں ۔ جس طرح کہ ہم ڈاکٹر ظہیر قاضی اور انجم الاسلام ممبئی کے شکر گزار ہے کہ انہوں نے 10 سال پہلے جب میں رہا ہوا تھا تو مجھے دوبارہ نوکری پر رکھ لیا تھا ۔ وہ بھی ایک مسلم ادارہ ہے۔ لیکن افسوس کسی بھی دیگر مسلم یا غیر مسلم ادارے نے ایسی فراخ دلی کا مظاہرہ اب تک نہیں کیا ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ سماج میں بسنے والے مسلم غیر مسلم ادارے اور کاروبار کرنے والے لوگ ضرور اس جانب توجہ دیں گے اور ان قیدیوں کے لیے کوئی مناسب روزگار فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو نگے۔
مائلز ٹو اسمایل کے ڈاکٹر آصف مجتبی نے اس معاملے میں آگے بڑھ کر کہا ہے کہ ان قیدیوں کو روزگار شروع کرنے کے لیے جو بھی رقم درکار ہوگی وہ فنڈنگ کا انتظام کرنے میں پورا پورا تعاون کریں گے اور انہوں نے کچھ تعاون کیا بھی ہے جس کے لیے ہم ان کے بھی شکر گزار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آگے بھی وہ اسی طرح دیگر قیدیوں کے لیے تعاون کرتے رہیں گے۔
مسلم ایمبولنس کے یہ وہی ڈاکٹر عبدالرؤف سمار ہے جنہوں نے عدالت میں آکر ڈاکٹر تنویر انصاری کی حمایت میں سچی گواہی پیش کی تھی ۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے بہت ہی بولڈ انداز میں کہا تھا کہ جس دن بم بلاسٹ ہوا اس پورے ہفتے ڈاکٹر تنویر برابر ہسپتال میں کام کرنے کے لیے آتے رہے اور تنویر نے کئی مریضوں کا علاج کیا۔ وہ اپنے اسپتال کا میڈیکل رجسٹر اور دیگر کاغذات بھی ثبوت کے طور پر عدالت میں لائے تھے لیکن افسوس عدالت نے ان کی گواہی کو تسلیم نہیں کیا اور ڈاکٹر تنویر کو سزا دے دی تھی ۔ بات صرف تنویر کی نہیں ہے بلکہ سبھی ملزمین کی حمایت میں بہت اچھی گواہیاں ریکارڈ پر آئی تھی لیکن عدالت نے کسی کی بھی ایک نہ سنی۔ شکر ہے کہ ہائی کورٹ نے ساری باتوں کو محسوس کیا اور ایک منصفانہ فیصلہ دیا۔
کمال انصاری کا انتقال ہو چکا ہے نہ انہیں کسی نوکری کی ضرورت ہے نہ کسی روزگار کی ۔ لیکن آج بھی ان کے چھ بچے اور بیوہ پریشان ہیں۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ ہم نے ججمنٹ آنے کے بعد ناگپور قبرستان جا کر کمال کی قبر پر ججمنٹ سنانے کی کوشش کی اور مقصد یہ تھا کہ دنیا کو یہ بتایا جائے کہ کس طرح ہمارا عدالتی نظام سست ہے کہ ایک جھوٹے کیس کے فیصلے کے لیے ایک انسانی زندگی ناکافی ہے ۔
ہم انوسنس نیٹورک کے بینر تلے پچھلے 10 سالوں سے اس کیس کے سلسلے میں عوامی بیداری کے لیے 11 جولائی کو ہر سال ایک پروگرام کرتے ہیں جس میں ہم یہ بتاتے ہیں کہ یہ ایک جھوٹا کیس اے ٹی ایس نے مسلم نوجوانوں پر بنایا ہے اور 13 مسلم نوجوانوں کو بیجا اس میں گرفتار کر کے جھوٹے ثبوت گڑے ہے اور غلط طور پر سزا دی گئی ہے۔ ہم نے بار بار اس پروگرام کے ذریعے اس کیس میں انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سال بھی ہم یہ پروگرام کرنا چاہتے تھے گو کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ہمارے حق میں آچکا ہے لیکن ہم چاہتے تھے کہ یہ پروگرام جاری رہے اور اس میں اس بات کا اضافہ کیا جائے کہ فیصلہ بڑی دیر سے آیا ہے اور جن پولیس والوں نے ہمیں پھنسایا ہے انہیں سزا دی جائے اور بلاسٹ میں مرنے والے وکٹم کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے اس کیس کو دوبارہ ری اوپن کیا جائے۔ لیکن ہمارے وکیلوں کا احترام کرتے ہوئے ہم نے اس سال یہ پروگرام ملتوی کر دیا ۔ان کا کہنا ہے کہ اس پروگرام سے نقصان ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ یہ کیس ابھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔