حماس کی دلیری اورسونیا گاندھی کی ہمدردی

حماس کی دلیری اورسونیا گاندھی کی ہمدردی

حماس کی دلیری اورسونیا گاندھی کی ہمدردی

——————-

ازقلم :ڈاکٹر سلیم خان

—————–

غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے ایک ہزار دن کی تکمیل پر جو لرزہ خیز اعدادو شمار سامنے آئے ان
کا درندوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتامگربڑے سے بڑے سنگدل انسان کی بھی آنکھیں نم
ہوجاتی ہیں ۔ اس لیے ہرفردِ بشرفلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ اہلیانِ
غزہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے والے اشتراکی یا مغرب زدہ دانشور اپنے بات کی ابتداء تو
اسرائیل کی مذمت سے کرتے ہیں مگر ان کے نزدیک اس کا بنیادی سبب حماس کا ۷؍ اکتوبر والا
حملہ یعنی طوفان الاقصیٰ ہو تا ہے ۔ ایسا کرنے والوں میں معدودے چند خالص عدم تشدد کے
حامی اس مزاحمت کو دہشت گردی قرار دے کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور کچھ یہ کہتے ہیں
حماس کو اس ردعمل کی توقع کرکےاحتیاطاًیہ خطرہ نہیں مول لینا چاہیے تھا ۔ وہ لوگ یہاں تک
کہہ دیتے ہیں کہ حماس نے جو غلطی کی اس کی قیمت غزہ کے عام لوگ چکا رہے ہیں ۔ ایسے
احمق ہمدرد یہ بھول جاتے ہیں کہ اس طرح و ہ بلا واسطہ اسرائیلی سفاکی کو جواز فراہم کرکے اسے
تمام تر ظالمانہ کارروائی سے بری کررہے ہیں ۔ ان ہمدردانِ فلسطین سے معروضی مکالمہ
ضروری ہے اور اس میں یوکرین و روس کی جنگ سے موازنہ مفید ہوسکتا ہے کیونکہ ان میں سے
چند روس اور کچھ یوکرین کے حامی ہوتے ہیں ۔

اسرائیل کی نظر میں حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ یہ الزام بذاتِ خود حماس کے مزاحمتی
تحریک ہونے کا بینّ ثبوت ہے کیونکہ اسرائیل نہ صرف فلسطین کی آزادی بلکہ ان کے وجود
کا دشمن ہے۔ ایسے میں اس کے خلاف جدوجہد کرنا فلسطینی عوام کا بنیادی حق ہے۔ یہ کشمکش
مسلح بھی ہوسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں گاندھی جی کے عدم تشدد کی حمایت کرنے
والے بھی بھگت سنگھ یا سبھاش چندر بوس پر تنقید نہیں کرتے۔ اسرائیل کوغزہ سے اس وقت تک
کوئی پریشانی نہیں تھی جب تک کہ وہ فتح کے زیر انتظام تھا کیونکہ فی الحال محمود عباس نے
اسرائیلی حکومت سے مصالحت کرلی ہے لیکن جب وہاں کی عوام نے ایک انتخاب کے ذریعہ اقتدار
حماس کو سونپا تو اسرائیل کو یہ فیصلہ ناگوار گزرا ۔ اس کے بعد حماس سمیت وہاں بسنے والے
لوگوں کو اجتماعی تعذیب کا نشانہ بنایا جانے لگا ۔ اب یہ دانشور بتائیں کہ کیااسرائیل کا یہ اقدام
درست تھا؟کیا غزہ کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کردینا جائز عمل تھا؟ اس ظلم کو کب تک برداشت
کیا جاتا؟ کیا اس کو توڑنا ضروری نہیں تھا اور جن لوگوں نے اسے توڑاکیا وہ غلطی پر تھے ؟

طوفان الاقصیٰ کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نےانتونیو گوتریس نے یہ کیوں کہا تھا کہ
۷؍ اکتوبر کا حملہ خلاء میں نہیں ہوا؟ یعنی اس کو ماضی کے مظالم سے الگ کرکے نہیں دیکھا
جاسکتا ۔ ایسے میں طوفان الاقصیٰ کو موردِ الزام ٹھہرا کر اسرائیلی مظالم کو بلواسطہ جائز
ٹھہرانا کون سی دانشمندی ہے؟ اقوام متحدہ کے پاس قوت نفاذ کا فقدان ہے لیکن انسانی حقوق کی
پامالی کے حوالے سے جب وہاں کو معاملہ زیربحث آتا ہے یا اس کی گونج سارے عالم میں سنائی
دیتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے آج بھی اتنے معتبر ہیں کہ ان کے ذریعہ سے جاری کردہ
رپورٹ منظر عام پر آتے ہی بین الاقوامی شہرت اختیار کرلیتی ہے اور اسے جانبدار کہہ کر مسترد
کردینا آسان نہیں ہوتا ۔ اسرائیل کو اپنے کرتوت کی وجہ سے ہمیشہ ایسا کرنا پڑتا ہے لیکن دنیا
کاکوئی ملک اس اسرائیلی ہٹ دھرمی کی تائید نہیں کرتا۔عام طور پر اسے تسلیم کرلیاجاتا ہے یا
نظر انداز کرکے خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔

طوفان الاقصیٰ اور اس کے بعد جنم لینے والے تصادم سے بہت پہلے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق
کونسل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی یروشلم اور اسرائیل کے اندر بین الاقوامی انسانی
قوانین کی مبینہ خلاف ورزیاں درج کرنے کے لیے 27 ؍ نومبر 2021 کو ایک آزاد بین الاقوامی
تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا۔ اس وقت کونسل نے ایک قرارداد منظور کرکے کمیشن آف انکوائری
سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ بار بار کی کشیدگی، عدم استحکام اور تنازعہ کی طوالت سے
متعلق تمام بنیادی وجوہات کی تحقیقات کرے۔ اس تفتیش میں قومی، نسلی، نسلی یا مذہبی شناخت کی
بنیاد پر امتیاز اور منظم جبر پر توجہ دینے کی تلقین کی گئی تھی ۔ حالیہ رپورٹ بتاتی ہے کہ
اسرائیل نے تعلیم و صحت کے نظام کو تباہ کرکے غزہ کے بچوں سے ان کا بچپن تقریباً چھین لیا
اور ایسے اثرات ڈالے جو زندگی بھر ان کے ساتھ رہیں گے۔ان بچوں کو گرفتار ی کے بعد جیلوں
اور حراستی مراکز میں تشدد اور سنگین بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا نیز کئی بچوں کے قیدخانوں کی
معلومات تک نہیں فراہم کی گئیں۔ اسرائیلی حفاظتی اہلکاروں نے بچوں کے خلاف جنسی تشدد کو
اجتماعی تذلیل اور جبر کا ذریعہ بنایا جو نسلی، صنفی اور بین النسلی امتیاز کا نمونہ ہے۔

اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ ایک بار پھر انتہائی دردناک انداز میں اس مؤقف کو دہراتی ہے کہ
اسرائیل کی کارروائیوں کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں کی اجتماعی موجودگی کو ختم کرنا ہے، اور
اسی لیے بچوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔یہ رپورٹ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی
اب تک کم از کم 20 ہزار فلسطینی بچوں کے جاں بحق ہونے اور 44 ہزار سے زائدکے زخمی یا
معذور ہونے کا انکشاف کرتی ہے۔فی الحال غزہ کے 97 فیصد اسکول تباہ کر دیئے گئے ہیں۔

ایسےمیں وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ وہ کس کے ساتھ
کھڑے ہوکر عالمی دہشت گردی کے خا تمے کا پروچن دیتے ہیں کیونکہ انسان کی پہچان اس کے
مصاحبین سے ہوتی ہے۔سونیا گاندھی نےانڈین ایکسپریس میں ایک تفصیلی مضمون لکھ کر اس
تباہی کے لیے اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی کابینہ کے سینئر ارکان سمیت اعلیٰ
ترین رہنماؤں کو ذمہ دار ٹھہرایا اور ان کے متعدد مواقع پر غزہ کے لیے ’’مکمل محاصرہ‘‘ اور
’’مکمل تباہی‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرنےکی یاد دہانی کرائی۔

سونیا گاندھی نے بتایا کہ بعض اسرائیلی رہنماؤں نے فلسطینیوں کو ’’جانور‘‘ قرار دیا، یہ کہا کہ
’’انہیں زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں‘‘ اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کی کامیابی اسی وقت
ممکن ہوگی جب ’’لاکھوں فلسطینی غزہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔‘‘ کانگریسی رہنما نے ان
مظالم کے لیےٹرمپ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔سونیا گاندھی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حکومت پر
بھی تنقید کی کیونکہ اس نے نسل کشی کے ارادے کی عکاسی کے باوجود اسرائیلی حمایت جاری
رکھی جس سے فلسطینیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا راستہ آسان ہوتا چلا گیا ۔ان کے مطابق
امریکی رکاوٹوں اور ویٹو کی سیاست کے باعث اقوامِ متحدہ اسرائیل کے خلاف کسی مؤثر اور فیصلہ
کن کارروائی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، تاہم اس کے مختلف اداروں نے غزہ میں  اسرائیلی
جنگی جرائم کی دستاویز بندی اور شواہد جمع کرنے میں غیرمعمولی کردار ادا کیا ۔
سونیا گاندھی نےجنوبی افریقہ نے تو1948ء کے کنونشن برائے انسدادِ نسل کشی کی مبینہ خلاف
ورزیوں کے الزام میں اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے رجوع کرنے کی جانب
توجہ دلائی جس میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی سیاسی قیادت کے خلاف گرفتاری کے
وارنٹ بھی جاری کیے ہیں۔ انہوں نے لکھا متعدد یورپی ممالک نے اسرائیل کو اسلحہ فروخت کرنے
پر پابندیاں یا قدغنیں عائد کی ہیں، جبکہ لاطینی امریکہ کے کئی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنے

سفارتی تعلقات یا تو محدود کر دیئے ہیں یا مکمل طور پر منقطع کر دیئے ہیں۔سونیا گاندھی نے
اسرائیل کے تئیں مختلف مغربی ممالک کےمؤقف میں نمایاں تبدیلی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے
لکھا کہ کئی دہائیوں تک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے گریز کرنے والے فرانس، برطانیہ،
کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک اب فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں اور دنیا کے بہت سے
ایسے ممالک، جن کے ساتھ ہندوستان کے قریبی سفارتی تعلقات ہیں، غزہ میں اسرائیل کی
کارروائیوں کو نسل کشی قرار دے چکے ہیں۔

سونیا گاندھی کے مطابق ایسے میں مودی حکومت کی مسلسل خاموشی نہ تو عقلی بنیادوں پر قابلِ
فہم ہے اور نہ ہی اخلاقی اعتبار سے اس کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔اس لیے وہ حکومتِ ہند کو اپنی
تاریخی خارجہ پالیسی، نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کی روایت، انسانی حقوق کے احترام اور
عالمی انصاف کے اصولوں کے مطابق فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنے کی تلقین فرماتی
ہیں ۔ ان کے نزدیک یہی ہندوستان کی تاریخی ذمہ داری، اخلاقی فریضہ اور قومی مفاد کا تقاضا ہے۔

یہ دلچسپ اتفاق ہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی رپورٹ ناوی پلئی نامی ہندوستانی
نژاد جنوبی افریقہ کی جج نے تیار کروائی تھی۔ ان کے والدین تمل ناڈو سے ڈربن میں جاکر بس گئے
تھے ۔ امسال جون (2026) میں اسی کمیشن نے تمل ناڈو ہی کے رہنے والے جسٹس (ریٹائرڈ) ایس
مرلی دھر کی سربراہی رپورٹ تیار کی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے انصاف پسند ہندوستانی دل فلسطین
اور مفاد پرست اقتدار اسرائیل کے ساتھ ہے۔ ایسے میں ہر ہندوستانی کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس
کے ساتھ ہے؟

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے