ماہِ صفر کی حقیقت اور توہمات کا رد

ماہِ صفر کی حقیقت اور توہمات کا رد

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

تمام تعریفیں اللّٰہ ربّ العالمین کے لیے ہیں، جو زمان و مکان کا خالق، شب و روز کا مالک، اور تمام مہینوں اور ایام کا پیدا کرنے والا ہے۔ درود و سلام ہوں اس ذاتِ اقدس حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر، جنہوں نے انسانیت کو جہالت، توہم پرستی اور باطل عقائد کی تاریکیوں سے نکال کر علم، یقین اور توحید کی روشنی عطا فرمائی۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے انسان کو ہر قسم کے باطل تصورات، توہمات، بدشگونیوں اور غیر شرعی رسوم سے نجات دلائی۔ جاہلیت کے دور میں لوگ پرندوں کی آواز، جانوروں کی حرکت، ستاروں کی گردش، دنوں اور مہینوں کو منحوس سمجھتے تھے۔ اسلام نے اعلان کیا کہ نفع و نقصان، عزّت و ذلت، خوشی و غم، رزق و موت اور خیر و شر سب کچھ صرف اللّٰہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

بدقسمتی سے آج بھی امت کے ایک طبقے میں بعض جاہلی عقائد مختلف صورتوں میں زندہ ہیں، جن میں ماہِ صفر المظفر کو منحوس سمجھنا ایک نمایاں مثال ہے۔ بہت سے لوگ صفر میں شادی، کاروبار، سفر، مکان کی خرید و فروخت، نئے کام کی ابتدا یا دیگر خوشی کے مواقع سے گریز کرتے ہیں، حالانکہ ان عقائد کی نہ قرآن میں کوئی بنیاد ہے اور نہ ہی سنّتِ نبویﷺ میں۔ یہ مضمون انہی غلط فہمیوں کا علمی، تحقیقی اور مدلل جائزہ پیش کرتا ہے تاکہ مسلمان قرآن و سنّت کی روشنی میں صحیح عقیدہ اختیار کریں۔

اسلامی سال کا دوسرا مہینہ صفر کہلاتا ہے۔ عربی زبان میں "صفر” کے کئی معانی بیان کیے گئے ہیں۔ بعض اہلِ لغت کے نزدیک اس کا مطلب "خالی ہونا” ہے، کیونکہ عرب اس مہینے میں جنگ یا تجارت کے لیے اپنے گھروں سے نکل جاتے تھے اور بستیاں خالی ہوجاتی تھیں۔ بعض علماء کے نزدیک اس مہینے میں حملوں اور لڑائیوں کے باعث اموال خالی ہوجاتے تھے، اسی مناسبت سے اس کا نام "صفر” پڑ گیا۔ اسلام نے اس نام کو برقرار رکھا لیکن اس کے ساتھ وابستہ تمام باطل عقائد کو ختم کردیا۔

قرآنِ کریم کی کسی آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ صفر منحوس مہینہ ہے، بلکہ قرآن کا عمومی اصول یہ ہے کہ زمانہ بذاتِ خود نہ نفع دیتا ہے اور نہ نقصان۔ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "کوئی مصیبت اللّٰہ کے حکم کے بغیر نہیں پہنچتی” (سورۂ تغابن: 11)۔ دوسری جگہ فرمایا: "زمین میں یا تمہاری جانوں میں جو بھی مصیبت آتی ہے، وہ پیدا کرنے سے پہلے ہی ایک کتاب میں لکھی جاچکی ہوتی ہے” (سورۂ الحدید: 22)۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ خیر و شر کا تعلق مہینوں سے نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی مشیت سے ہے۔

اسلام نے جاہلیت کے اس عقیدے کو ایک ہی جملے میں ختم کردیا۔ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ”۔ "کوئی چیز اپنی ذات سے متعدی نہیں، بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں، ہامہ (جاہلی عقیدہ) کی کوئی حقیقت نہیں، اور صفر (کو منحوس سمجھنے) کی بھی کوئی حقیقت نہیں”۔ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی ہے اور عقائد کے باب میں نہایت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ علمائے حدیث نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں "ولا صفر” سے مراد یہی جاہلی عقیدہ ہے کہ صفر منحوس مہینہ ہے۔ نبی کریمﷺ نے اس کی مکمل نفی فرما دی۔

توہم پرستی انسان کو اللّٰہ پر توکل سے دور اور وہم و خوف کا غلام بنا دیتی ہے۔ جب انسان کسی مہینے، دن یا تاریخ کو منحوس سمجھنے لگتا ہے تو اس کا اعتماد اللّٰہ تعالیٰ کے بجائے غیر حقیقی تصورات پر منتقل ہونے لگتا ہے، جب کہ اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ نفع صرف اللّٰہ دیتا ہے۔ نقصان صرف اللّٰہ کے حکم سے پہنچتا ہے۔ کوئی مہینہ یا دن اپنی ذات میں منحوس نہیں۔ ہر وقت اور ہر زمانہ اللّٰہ کی تخلیق ہے۔ اسی لیے اسلام نے انسان کو اس عقیدے کی تعلیم دی کہ وہ ہر حال میں اللّٰہ پر بھروسہ کرے، اس سے دعا مانگے، اسباب اختیار کرے اور وہم و گمان کے بجائے یقین کی راہ اپنائے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ دورِ جاہلیت میں بعض قبائل صفر المظفر کے مہینے کو جنگوں، قتل و غارت اور مصیبتوں سے جوڑتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تصور عوام میں راسخ ہوگیا کہ گویا یہ مہینہ بذاتِ خود نحوست لے کر آتا ہے۔ اسلام نے اس باطل تصور کو ختم کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر کسی مہینے میں کوئی حادثہ پیش آجائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پورا مہینہ منحوس ہوگیا۔ اگر ایسا اصول مان لیا جائے تو پھر ہر مہینہ کسی نہ کسی واقعے کی وجہ سے منحوس قرار پائے گا، جو عقل، شریعت اور حقیقت؛ تینوں کے خلاف ہے۔ اسلام انسان کو واقعات سے سبق لینے کی تعلیم دیتا ہے، مہینوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کی نہیں۔

اگر ماہِ صفر المظفر حقیقتاً منحوس ہوتا تو اس مہینے میں خیر، برکت اور اسلام کی عظیم کامیابیاں رونما نہ ہوتیں، جب کہ تاریخ اس کے بالکل برعکس گواہی دیتی ہے۔ بہت سے اہم اور مبارک واقعات اسی مہینے میں پیش آئے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کسی مہینے کو بذاتِ خود منحوس قرار نہیں دیتا۔ بعض مؤرخین کے مطابق رسولِ اکرمﷺ نے ہجرتِ مدینہ کی تیاری کے مراحل ماہِ صفر ہی میں مکمل فرمائے۔ اسی مہینے میں آپﷺ نے مختلف قبائل کی طرف دعوتِ اسلام کے لیے وفود بھی روانہ فرمائے اور متعدد غزوات و سرایا کی ابتدا بھی اسی مہینے میں ہوئی۔ اگر صفر فی نفسہٖ نحوست کا مہینہ ہوتا تو رسول اللّٰہﷺ اس میں اہم دینی اور اجتماعی اقدامات ہرگز نہ فرماتے۔

اسی طرح اسلامی تاریخ میں بے شمار علماء، محدثین، فقہاء اور اولیائے کرام کی ولادتیں، خدمات اور علمی کارنامے ماہِ صفر میں ملتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی مہینے کی فضیلت یا نقص کا تعلق اس میں پیش آنے والے واقعات سے نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی مشیت سے ہے۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض المناک واقعات، جیسے واقعۂ رجیع اور حادثۂ بئرِ معونہ، اسی مہینے میں پیش آئے، جن میں متعدد صحابۂ کرامؓ شہید ہوئے۔ لیکن کیا ان واقعات کی وجہ سے صفر کو منحوس قرار دیا جاسکتا ہے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ اسی منطق سے محرم، رمضان، ذوالحجہ اور دیگر مہینوں میں پیش آنے والے مصائب کی بنیاد پر انہیں بھی منحوس کہنا پڑے گا، جب کہ اسلام اس تصور کو سرے سے رد کرتا ہے۔

بدقسمتی سے امت کے بعض طبقات میں آج بھی متعدد ایسے عقائد پائے جاتے ہیں جن کی نہ قرآن میں کوئی اصل ہے اور نہ حدیث میں۔ مثلاً بعض لوگ کہتے ہیں کہ صفر میں شادی نہیں کرنی چاہیے۔ اس مہینے میں نیا کاروبار شروع کرنا نقصان دہ ہے۔ گھر کی تعمیر یا خرید و فروخت سے گریز کرنا چاہیے۔ سفر کرنا منحوس ثابت ہوتا ہے۔ بیماریاں اس مہینے میں زیادہ آتی ہیں۔ آخری بدھ کو خصوصی غسل یا مخصوص عبادت مصیبتوں کو دور کرتی ہے۔ یہ تمام باتیں شرعی دلائل سے ثابت نہیں ہیں۔ ان کی بنیاد محض سنی سنائی روایات، ضعیف حکایات یا عوامی توہمات ہیں۔ اسلام میں کسی عمل کو عبادت یا عقیدہ قرار دینے کے لیے قرآن و سنّت سے واضح دلیل ضروری ہے۔ جس بات کی دلیل نہ ہو، اسے دین کا حصّہ بنانا بدعت اور لوگوں میں پھیلانا سنگین دینی ذمّہ داری ہے۔

برصغیر میں ایک مشہور رسم یہ ہے کہ ماہِ صفر کے آخری بدھ کو "آخری چہار شنبہ” کے نام سے خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ اس دن مخصوص کھانے پکاتے ہیں، سیر و تفریح کے لیے جاتے ہیں، یا مخصوص نمازیں اور وظائف ادا کرتے ہیں، اس عقیدے کے ساتھ کہ اس دن رسول اللّٰہﷺ بیماری سے شفا یاب ہوئے تھے۔ محدثین اور محققین نے واضح کیا ہے کہ اس دعوے کی کوئی معتبر تاریخی یا حدیثی بنیاد موجود نہیں۔ بلکہ مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ کی آخری بیماری کے ایام اسی عرصے میں جاری رہے اور بعد میں آپﷺ کا وصال ربیع الاوّل میں ہوا۔ لہٰذا اس دن کو عید، تہوار یا خصوصی عبادت کا دن سمجھنا درست نہیں۔ اگر کوئی شخص محض تفریح یا کھانے پینے کا اہتمام کرے، بغیر کسی دینی عقیدے کے، تو وہ الگ مسئلہ ہے؛ لیکن اسے مذہبی فضیلت یا نحوست سے جوڑنا شرعاً درست نہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں: "ہم نے دیکھا ہے کہ صفر میں ہمارے ساتھ ہمیشہ مصیبت آتی ہے”۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی ایک شخص یا چند افراد کے ذاتی تجربات سے شرعی اصول ثابت نہیں ہوتے۔ اگر کسی کا حادثہ صفر میں پیش آیا، تو لاکھوں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں اسی مہینے میں کامیابیاں، شادیاں، اولاد، صحت اور رزق کی فراوانی ملی۔ بعض کہتے ہیں: "بزرگوں سے یہی سنتے آئے ہیں”۔ اسلام میں معیار بزرگوں کی بات نہیں بلکہ قرآن و سنّت ہیں۔ اگر کسی بزرگ کی بات دلیلِ شرعی کے خلاف ہو تو مسلمان پر لازم ہے کہ وہ رسول اللّٰہﷺ کی تعلیم کو اختیار کرے۔ بعض کہتے ہیں: "احتیاط میں کیا حرج ہے؟”۔ اگر احتیاط کا مطلب کسی مہینے کو منحوس سمجھ کر اس سے بچنا ہے، تو یہی وہ جاہلی عقیدہ ہے جس کی رسول اللّٰہﷺ نے نفی فرمائی۔ مؤمن احتیاط ضرور کرتا ہے، مگر وہم اور بدشگونی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ عقل، تدبیر اور شرعی رہنمائی کی بنیاد پر۔

ایک سچا مسلمان یہ یقین رکھتا ہے کہ تمام مہینے اللّٰہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں۔ کسی مہینے میں ذاتی طور پر نحوست نہیں۔ نفع و نقصان صرف اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہر کام کی ابتدا استخارہ، دعا، مشورہ اور توکل کے ساتھ کرنی چاہیے۔ بدشگونی ایمان کو کمزور اور توکل کو متاثر کرتی ہے۔ جب یہ عقیدہ دل میں راسخ ہوجاتا ہے تو انسان ہر قسم کے وہم، خوف اور غیر شرعی تصورات سے آزاد ہو جاتا ہے، اور اس کا دل صرف اللّٰہ تعالیٰ پر اعتماد کرتا ہے۔ یہی اسلام کی حقیقی تعلیم اور توحید کا تقاضا ہے۔

اسلام نے عقائد کے باب میں ایک نہایت واضح اور مضبوط اصول عطا فرمایا ہے کہ ہر عقیدہ اور ہر دینی عمل کی بنیاد صرف قرآنِ کریم، سنّتِ رسولﷺ، اجماعِ اُمت اور معتبر شرعی دلائل پر ہوگی۔ جو عقیدہ ان اصولوں سے ثابت نہ ہو، اسے دین کا حصّہ بنانا جائز نہیں۔ ماہِ صفر کے بارے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں کہیں بھی یہ نہیں فرمایا گیا کہ صفر منحوس ہے، یا اس میں کسی جائز کام سے اجتناب کیا جائے۔ اسی طرح رسول اللّٰہﷺ سے بھی کوئی ایسی صحیح حدیث منقول نہیں جس میں صفر کے مہینے کو نحوست کا مہینہ قرار دیا گیا ہو۔ اس کے برعکس، نبی کریمﷺ نے واضح طور پر جاہلیت کے اس باطل عقیدے کی نفی فرمائی۔ یہ صرف ایک مہینے کی اصلاح نہیں بلکہ پوری انسانی فکر کی اصلاح ہے۔ اسلام انسان کو وہم و گمان کے بجائے یقین، توکل اور عقلِ سلیم کی بنیاد پر زندگی گزارنے کی دعوت دیتا ہے۔

ائمۂ حدیث اور شارحینِ بخاری و مسلم نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے واضح فرمایا ہے کہ "ولا صفر” سے مراد ماہِ صفر کی نحوست کا انکار ہے۔ امام نوویؒ لکھتے ہیں کہ اہلِ جاہلیت صفر کو منحوس سمجھتے تھے، رسول اللّٰہﷺ نے اس عقیدے کو باطل قرار دیا۔ علامہ ابنِ حجر عسقلانیؒ بھی فرماتے ہیں کہ صفر کے بارے میں جاہلی تصورات کی کوئی شرعی حیثیت نہیں، اور مسلمان کو ان سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ علامہ ابنِ رجب حنبلیؒ نے بھی یہی وضاحت کی ہے کہ اسلام نے زمانے، مہینوں اور ایام سے وابستہ باطل بدشگونیوں کو ختم کر دیا ہے۔ اسی طرح برصغیر کے متعدد جلیل القدر علماء نے بھی واضح کیا ہے کہ صفر کی نحوست کا عقیدہ بے بنیاد ہے اور مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہیے۔

افسوس کی بات ہے کہ بعض علاقوں میں ماہِ صفر کے نام پر مختلف غیر شرعی رسومات رائج ہوچکی ہیں۔ کہیں مخصوص وظائف کو لازمی سمجھا جاتا ہے، کہیں آخری بدھ کو تہوار کی صورت دی جاتی ہے، کہیں خاص کھانے، تعویذ یا ٹونے ٹوٹکوں کو مصیبتوں سے نجات کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ تمام امور اس وقت قابلِ مذمت بن جاتے ہیں جب انہیں دین، ثواب یا نحوست کے ازالے کا ذریعہ سمجھا جائے، کیونکہ عبادات اور عقائد کی بنیاد صرف وحی ہے، نہ کہ رسم و رواج یا عوامی روایات۔ اسلام کا حسن یہی ہے کہ اس نے انسان کو ہر قسم کی خود ساختہ پابندیوں سے آزاد کیا اور صرف اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کا پابند بنایا۔

آج کا مسلمان سوشل میڈیا، غیر مستند پیغامات اور من گھڑت روایات کے دور میں زندگی گزار رہا ہے۔ ماہِ صفر آتے ہی مختلف قسم کے پیغامات گردش کرنے لگتے ہیں جن میں کبھی نحوست کی باتیں ہوتی ہیں، کبھی بے اصل فضائل، اور کبھی ایسی دعائیں یا وظائف جن کی کوئی معتبر سند نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں ہر مسلمان کی ذمّہ داری ہے کہ وہ قرآن و سنّت کی روشنی میں ہر بات کو پرکھے۔ تحقیق کے بغیر کوئی مذہبی پیغام آگے نہ بڑھائے۔ توہمات کے بجائے توحید اور توکل کو فروغ دے۔ اپنی اولاد کو صحیح اسلامی عقیدہ سکھائے۔ معاشرے میں علم، بصیرت اور اعتدال کو عام کرے۔

ایک باشعور مسلمان وہ نہیں جو ہر سنی سنائی بات پر یقین کر لے، بلکہ وہ ہے جو ہر عقیدے کو کتاب و سنّت کی کسوٹی پر پرکھے۔ ماہِ صفر نہ رحمت سے خالی ہے، نہ برکت سے محروم، اور نہ ہی اپنی ذات میں منحوس ہے۔ یہ بھی اللّٰہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے، جس کی حیثیت وہی ہے جو دیگر مہینوں کی ہے۔ اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ زمانوں، دنوں اور مہینوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے اعمال، اپنے ایمان اور اپنے تعلق باللّٰہ کا جائزہ لیں۔

حقیقی نحوست کسی مہینے میں نہیں بلکہ گناہوں، ظلم، جھوٹ، خیانت، قطع رحمی، حقوق العباد کی پامالی اور اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ہے۔ اسی طرح حقیقی برکت بھی کسی خاص تاریخ یا مہینے میں نہیں، بلکہ ایمان، تقویٰ، اخلاص، حسنِ عمل، دعا اور توکل علی اللّٰہ میں ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنّت کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھام لیں، تو نہ وہ توہمات کا شکار ہوں گے، نہ بدعات میں مبتلا ہوں گے، اور نہ ہی جاہلیت کے فرسودہ عقائد ان کے ایمان کو متاثر کر سکیں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ، صحیح فہم، سنّت کی پیروی اور ہر قسم کی بدعات، خرافات اور توہمات سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
🗓️ (10.07.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے