جب خواب احتجاج بن جائیں
جنتر منتر کی خاموش چیخ، سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اور ہندوستان کی ایک بے چین نسل کا مقدمہ
از قلم: اسماء جبین فلک
"میں کوئی بزدل یا دہشت گرد نہیں ہوں، میں صرف ایک ماں ہوں۔ میں یہاں اپنی بیٹی کے خواب بچانے آئی ہوں۔”
دہلی کے جنتر منتر پر بلند ہونے والی یہ آواز محض ایک ماں کی فریاد نہیں تھی، بلکہ اس ہندوستان کی اجتماعی بے چینی کا استعارہ تھی جہاں لاکھوں نوجوان اپنے خوابوں، اپنی محنت اور اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کے احساس میں مبتلا ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں جب ایک ماں اپنے بچے کے خواب بچانے کے لیے سڑک پر آ جائے تو معاملہ محض ایک احتجاج یا دھرنے کا نہیں رہتا، بلکہ یہ ریاست، سماج اور جمہوریت کے باہمی اعتماد کا سوال بن جاتا ہے۔
ہر جمہوریت کے پاس ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں عوام کی خاموشی احتجاج کی زبان اختیار کر لیتی ہے۔ امریکہ میں نیشنل مال، فرانس میں پلیس ڈی لا ریپبلک اور مصر میں تحریر اسکوائر اسی علامت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، جبکہ ہندوستان میں یہ کردار جنتر منتر ادا کرتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کسانوں، کھلاڑیوں، خواتین، بے روزگار نوجوانوں اور سماجی کارکنوں نے اسی مقام کو اپنے مطالبات اور محرومیوں کی آواز بنایا۔ جنتر منتر دراصل ہندوستانی جمہوریت کا وہ نبض خانہ ہے جہاں وقتاً فوقتاً عوامی اضطراب اپنی شکل اختیار کرتا رہا ہے۔
آج اسی مقام پر جمع ہونے والے نوجوان، والدین اور سماجی کارکن ایک ایسے بحران کی نشاندہی کر رہے ہیں جو بظاہر امتحانی بے ضابطگیوں سے جڑا ہوا ہے، مگر درحقیقت ادارہ جاتی اعتماد کے زوال سے تعلق رکھتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں مختلف قومی اور ریاستی سطح کے امتحانات میں مبینہ پرچہ لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور انتظامی کمزوریوں کے الزامات نے لاکھوں طلبہ کو متاثر کیا ہے۔ جون 2024 میں ملک کے سب سے بڑے میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ (NEET-UG) کے نتائج پر اٹھنے والے سوالات اور مبینہ پرچہ لیک کے انکشافات نے پورے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ اسی دوران یو جی سی نیٹ (UGC-NET) کا امتحان منسوخ کرنا پڑا اور متعدد ریاستی سطح کے بھرتی امتحانات بھی تنازعات کی زد میں آئے۔ لاکھوں طلبہ، جو برسوں کی محنت، معاشی قربانیوں اور خوابوں کے ساتھ امتحان گاہوں میں داخل ہوتے ہیں، اچانک خود کو ایک ایسے نظام کے سامنے کھڑا پاتے ہیں جس کی شفافیت ہی زیرِ سوال آ جائے تو ان کے لیے یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ان کی برسوں کی ریاضت کا جنازہ بن جاتی ہے۔
حکومت ہند نے ان واقعات کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے حوالے کیں۔ وزارتِ تعلیم کی سرکاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ امتحانات کی شفافیت اور طلبہ کے مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسی تناظر میں حکومت نے "پبلک ایگزامینیشنز (پریوینشن آف انفئیر مینز) ایکٹ، 2024” نافذ کیا، جس کے تحت پرچہ لیک، جعل سازی اور امتحانی دھوکہ دہی میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں اور بھاری جرمانوں کی دفعات رکھی گئیں۔ مختلف ریاستوں میں گرفتاریوں اور تحقیقات کا سلسلہ بھی شروع ہوا، مگر احتجاج کرنے والوں کا استدلال ہے کہ بحران کی جڑیں کہیں زیادہ گہری ہیں اور مسئلہ صرف چند افراد کی گرفتاری یا ایک قانون کے نفاذ سے حل نہیں ہوگا۔
اس بے چینی کو سمجھنے کے لیے ہندوستان کی آبادیاتی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔ اقوامِ متحدہ کے آبادیاتی تخمینوں کے مطابق ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور تقریباً پینسٹھ فیصد آبادی پینتیس برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ ماہرینِ معیشت اسے ہندوستان کا "ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ” قرار دیتے ہیں، یعنی ایسی نوجوان افرادی قوت جو ملک کی معاشی ترقی کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔ مگر یہ آبادیاتی سرمایہ اسی وقت قوت میں تبدیل ہو سکتا ہے جب نوجوانوں کو معیاری تعلیم، منصفانہ مواقع اور شفاف ادارے میسر ہوں۔
وزارتِ تعلیم کی "آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن” (AISHE) کی تازہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخل ہونے والے طلبہ کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور خواتین کا مجموعی داخلہ تناسب پہلی مرتبہ مردوں سے آگے نکل گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہندوستانی خاندان تعلیم کو محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی ترقی، معاشی استحکام اور بہتر مستقبل کی امید کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایسے میں اگر امتحانی نظام پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو جائے تو دراصل پورا سماجی معاہدہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔
اسی پس منظر میں ایک شخصیت نے خصوصی توجہ حاصل کی ہے، اور وہ ہیں سونم وانگچک۔ لداخ سے تعلق رکھنے والے یہ معلم، انجینئر، ماحولیاتی کارکن اور اختراع کار اپنی تعلیمی خدمات اور سماجی جدوجہد کے سبب بین الاقوامی سطح پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے تعلیمی ماڈل نے یہ تصور پیش کیا کہ تعلیم صرف نصابی کتابوں کا نام نہیں بلکہ سماجی تبدیلی اور انسان سازی کا عمل ہے۔ حالیہ مہینوں میں انہوں نے لداخ کے آئینی، ماحولیاتی اور سیاسی حقوق کے لیے بھوک ہڑتال اور احتجاجی تحریک کی قیادت کی، جس نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ اگرچہ ان کا بنیادی مطالبہ امتحانی اصلاحات نہیں ہے، لیکن ان کی موجودگی نے اس پورے احتجاجی ماحول کو ایک وسیع تر اخلاقی تناظر فراہم کیا ہے۔ ان کی جدوجہد ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: اگر ایک قوم اپنے نوجوانوں کے خوابوں اور اپنے شہریوں کے اعتماد کی حفاظت نہیں کر سکتی تو ترقی، اقتصادی نمو اور عالمی قیادت کے تمام دعوے کس حد تک معتبر رہ جاتے ہیں؟
بھوک ہڑتال ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ایک منفرد علامتی حیثیت رکھتی ہے۔ مہاتما گاندھی نے اسے اخلاقی دباؤ اور پرامن مزاحمت کے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا۔ آج بھی جب کوئی شخص اپنے جسم کو دلیل اور اپنی خاموشی کو احتجاج بنا دیتا ہے تو وہ محض اپنے مطالبات پیش نہیں کرتا بلکہ معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ سونم وانگچک کی کمزور ہوتی صحت اور ان کے اردگرد جمع ہونے والے لوگوں کی تعداد اس حقیقت کی غماز ہے کہ ہندوستان میں صرف انتظامی یا معاشی مسائل نہیں، بلکہ اعتماد کا ایک گہرا بحران جنم لے رہا ہے۔
جمہوریت کی بنیاد صرف آئین، پارلیمان یا انتخابات پر قائم نہیں ہوتی بلکہ اس یقین پر استوار ہوتی ہے کہ ریاستی ادارے بالآخر انصاف کریں گے اور محنت کرنے والوں کو ان کا حق ملے گا۔ اگر نوجوان اس یقین سے محروم ہونے لگیں تو معاشرے کے اندر خاموش مایوسی جنم لیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نوجوانوں کی اجتماعی مایوسی کسی بھی قوم کے لیے معاشی بحران سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
ایک ہندوستانی ماں اپنے بچوں کو یہ سبق ضرور دے سکتی ہے کہ محنت، دیانت اور استقامت کامیابی کی کنجیاں ہیں، مگر وہ انہیں یہ یقین نہیں دلا سکتی کہ اگر ادارے خود کمزور پڑ جائیں تو صرف محنت ہی منزل تک پہنچا دے گی۔ یہی وہ خوف ہے جو آج لاکھوں خاندانوں کے دلوں میں موجود ہے۔ کیونکہ جب ایک نوجوان اپنا خواب کھو دیتا ہے تو صرف ایک فرد ناکام نہیں ہوتا؛ ایک خاندان کی امید ٹوٹتی ہے، ایک معاشرے کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور ایک قوم اپنی سب سے قیمتی دولت یعنی اپنی نوجوان نسل کے حوصلے کو کھونے لگتی ہے۔
شام کے سائے جنتر منتر پر آہستہ آہستہ پھیل رہے ہیں۔ کچھ نوجوان اب بھی نعرے لگا رہے ہیں، کچھ خاموش بیٹھے ہیں اور کچھ کی نظریں دور افق میں گم ہیں، گویا وہ برسوں کی محنت اور خوابوں کا حساب مانگ رہی ہوں۔ انہی چہروں کے درمیان وہ ماں بھی کھڑی ہے جو کہتی ہے: "میں کوئی بزدل یا دہشت گرد نہیں ہوں، میں صرف ایک ماں ہوں۔ میں یہاں اپنی بیٹی کے خواب بچانے آئی ہوں۔”
شاید پورے احتجاج کا خلاصہ اسی ایک جملے میں پوشیدہ ہے۔ یہ احتجاج حکومت کے خلاف کم اور ناانصافی کے خلاف زیادہ ہے۔ یہ دھرنا صرف امتحانی اصلاحات یا کسی ایک پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ نہیں، بلکہ ایک ایسے یقین کی بازیافت کی کوشش ہے کہ محنت اب بھی خوابوں تک پہنچنے کا سب سے معتبر راستہ ہے۔ ممکن ہے تاریخ ایک دن یہ لکھے کہ اکیسویں صدی کے ہندوستان میں ایک نسل سڑکوں پر اس لیے نہیں نکلی تھی کہ اسے زیادہ مراعات درکار تھیں، بلکہ اس لیے کہ وہ یہ یقین دوبارہ حاصل کرنا چاہتی تھی کہ اس کے خواب، اس کی محنت اور اس کا مستقبل اب بھی محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔