بھارت میں آزادیِ صحافت کا بحران اور کینسل کلچر کا عروج
(عالمی انڈیکس اور بھارتی میڈیا کی تنزلی کی تلخ حقیقت)
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
فروری 2026 کی ایک شام تھی جب ممبئی کے مشہورِ زمانہ ‘کلا گھوڑا آرٹس فیسٹیول’ میں ایک سیمینار کی منسوخی نے بھارتی دانشور طبقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس اہم سیشن کا عنوان "انکاریسرائٹڈ: ٹیلز فرام بیہائنڈ بارز” یعنی "قید: سلاخوں کے پیچھے کی کہانیاں” تھا، جس میں انسانی حقوق کے نامور کارکن اور ماہرِ تعلیم آنند تیلتمبڈے، ممتاز صحافی نیتا کولہاٹکر، اور ‘اسکرول ڈاٹ ان’ کے ایڈیٹر نریش فرنینڈس شریک تھے۔ 3 فروری 2026 کی دیر رات، جب اس سیشن کا پوسٹر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا تو دائیں بازو کے صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا، جس کے فوری بعد منتظمین نے ای میل کے ذریعے شرکا کو مطلع کر دیا کہ یہ نشست منسوخ کی جا چکی ہے۔ اس فیصلے پر روشنی ڈالتے ہوئے فیسٹیول ڈائریکٹر برندا ملر نے اسے "بدقسمت” قرار دیا اور کہا کہ وہ اس تنازع سے تب تک بالکل بےخبر تھیں جب تک پولیس نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر ضروری سنسنی خیزی اور تنازعات سے بچنا ہی بہتر ہے۔ دوسری جانب ممبئی پولیس کے ذرائع کا مؤقف تھا کہ چونکہ اس تقریب کے دعوتی کارڈ پر مہاراشٹر حکومت اور ممبئی پولیس کا بینر موجود تھا، اور مہمانوں میں ایک ایسا شخص شامل تھا جسے ماضی میں ریاستی پولیس نے گرفتار کیا تھا، اس لیے امن و امان کے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر یہ سرگرمی مناسب نہیں تھی۔ اگرچہ پولیس اسے قانونی تحفظ کا اقدام قرار دے رہی تھی، تاہم آنند تیلتمبڈے نے اس منسوخی کو مضحکہ خیز گردانتے ہوئے کہا کہ یہ مختلف آوازوں کو کچلنے کا ایک فاشسٹ مظاہرہ ہے۔
واضح رہے کہ آنند تیلتمبڈے، جو 2018 کے بھیما کوریگاؤں کیس میں 14 اپریل 2020 کو این آئی اے کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بعد گرفتار ہوئے تھے، تالوجا سینٹرل جیل میں 31 ماہ زیرِ تفتیش رہے۔ بعد ازاں 18 نومبر 2022 کو بمبئی ہائی کورٹ نے انہیں 1 لاکھ روپے کے مچلکے پر ضمانت دے دی، اور سپریم کورٹ نے بھی این آئی اے کی اپیل کو مسترد کر دیا۔ اگرچہ این آئی اے کا الزام تھا کہ تیلتمبڈے ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں، تاہم عدالتِ عالیہ نے ان کے مقدمے کو ضمانت کے قابل قرار دیا۔ بظاہر یہ واقعہ ایک معمولی سی منسوخی کا دکھائی دیتا ہے، مگر اس میں پوری دنیا کی اس فکری روش کا عکس نمایاں تھا جسے امریکی مصنف ایلبرٹ ہبرڈ نے ایک صدی قبل اپنے طنزیہ قول میں یوں بیان کیا تھا کہ تنقید سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے، اور وہ یہ کہ کچھ نہ کرو، کچھ نہ کہو، اور کچھ نہ بنو۔ یہ قول، جو اکثر غلطی سے ارسطو سے منسوب کر دیا جاتا ہے، دراصل ہبرڈ ہی کی تخلیق ہے۔
مگر آج کا ڈیجیٹل دور اس فکری خوف کو ایک نئی اور ہولناک جہت دے چکا ہے۔ ‘رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز’ (RSF) کی 2026 کی عالمی پریس آزادی رپورٹ کے مطابق، بھارت 6 درجے نیچے پھسل کر اب 180 ممالک میں سے 157ویں پوزیشن پر آ گیا ہے، جو گزشتہ سال کے 151ویں درجے سے بھی بدتر ہے۔ اس ادارے نے بھارت کو آزادیِ صحافت کے لحاظ سے "انتہائی سنگین” زمرے میں شامل کیا ہے، اور رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ آزاد میڈیا کو عدالتی ہراسانی کا سامنا ہے، جو فحاشی اور قومی سلامتی کے قوانین کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔ 25 سال کی تاریخ میں پہلی بار دنیا کے نصف سے زائد ممالک اس اشاریے میں "مشکل” یا "انتہائی سنگین” حالات سے دوچار ہو چکے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر پاکستان اس فہرست میں 153ویں اور فلسطین 156ویں نمبر پر ہے، یعنی یہ دونوں خطے بھی اس وقت پریس آزادی میں بھارت سے آگے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح ‘فریڈم ہاؤس’ کی 2026 کی رپورٹ "فریڈم ان دی ورلڈ” نے بھارت کو 100 میں سے 62 اسکور دیتے ہوئے "جزوی طور پر آزاد” قرار دیا ہے، جو پچھلے سال کے 63 اسکور کے مقابلے میں واضح گراوٹ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، صحافیوں، غیر سرکاری تنظیموں اور حکومتی ناقدین کو نشانہ بنانے کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یہ عددی تنزلی محض خشک اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ یہ انسانی جانوں کی قیمت پر حاصل ہونے والا ایک سنگین سچ ہے۔ جنوری 2025 میں چھتیس گڑھ کے بستار علاقے سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ فری لانس صحافی مکیش چندرکار کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، اور ان کی لاش 3 جنوری 2025 کو بیجاپور میں ایک سیپٹک ٹینک سے برآمد ہوئی۔ چندرکار نے سڑک کی تعمیر میں ہونے والی وسیع کرپشن اور بے ضابطگیوں کو بے نقاب کیا تھا، جس کی پاداش میں ٹھیکیدار سوریش چندرکار اور اس کے ساتھیوں نے انہیں بے دردی سے قتل کر دیا، اگرچہ بعد میں پولیس نے اس جرم میں ملوث 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ اظہارِ رائے پر حملوں کا یہ سلسلہ صرف بھارت تک محدود نہیں، بلکہ برطانیہ کا نامور ادبی ایوارڈ ‘پولاری پرائز’ بھی اگست 2025 میں اس وقت منسوخ کرنا پڑا جب طویل فہرست میں شامل مصنف جان بوئن کے خلاف شدید تنازع کھڑا ہو گیا۔ اس احتجاج میں 16 مصنفین اور 2 ججز نے ایوارڈ سے دستبرداری اختیار کر لی اور پبلشنگ انڈسٹری کے 800 سے زائد افراد نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے۔ منتظمین نے انتہائی دکھ کے ساتھ اعتراف کیا کہ یہ باوقار ایوارڈ اب درد اور غصے کے سائے میں ڈھک چکا ہے۔
دوسری جانب، یورپی یونین کا ‘ڈیجیٹل سروسز ایکٹ’ (DSA)، جو بظاہر آن لائن نقصان دہ مواد کو روکنے کے لیے وضع کیا گیا تھا، اپنے سخت ترین جرمانوں کی وجہ سے بڑی ٹیک کمپنیوں کی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ اس قانون کے تحت کمپنیوں کو ان کی عالمی سالانہ آمدنی کا 6% تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اسی سلسلے میں 10 جولائی 2026 کو یورپی کمیشن نے میٹا کو انسٹاگرام اور فیس بک کے نشہ آور ڈیزائن کے باعث اس ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا، اور اس نافرمانی کی صورت میں یہ جرمانہ میٹا جیسی بڑی کمپنی کے لیے 12 ارب ڈالرز کی خطیر رقم تک پہنچ سکتا ہے۔ اس تناظر میں یہ تسلیم کرنا بھی ناگزیر ہے کہ ‘کینسل کلچر’ نے تاریخی طور پر اقلیتوں، خواتین اور ایل جی بی ٹی کیو+ جیسے کمزور طبقات کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔ اس کی ایک روشن مثال ‘#MeToo’ تحریک ہے، جس نے جنسی ہراسانی کے خلاف لاکھوں خواتین کو لب کشائی کا حوصلہ دیا۔ البتہ، جب یہی رجحان ایک ہمہ گیر "خوف کی ثقافت” کا روپ دھار کر فکری اختلاف اور تعمیری بحث کے راستے بند کر دیتا ہے، تو یہ اپنے اصل مقصد سے انحراف کر جاتا ہے۔
اگر تاریخی سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو بھارت میں پریس آزادی کا یہ بحران کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 1975 سے 1977 کی ہنگامی صورتحال کے دوران، اندرا گاندھی کی حکومت نے صحافت کو بدترین سنسرشپ کا نشانہ بنایا تھا۔ آج کی صورتحال بلاشبہ اسی تاریک دور کی یاد دلاتی ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ اب طریقوں کو بدل کر سنسرشپ کو ڈیجیٹل، قانونی اور معاشی دباؤ کے ہتھیاروں سے مسلط کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ بھارت کی سپریم کورٹ نے متعدد اہم مواقع پر پریس آزادی کے حق میں فیصلے دیے ہیں، جیسا کہ 2023 کے ‘رامیش بمقابلہ یو او آئی’ کیس میں عدالت نے دوٹوک لفظوں میں کہا تھا کہ آزاد صحافت جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر تلخ زمینی حقیقت یہ ہے کہ عملی میدان میں صحافیوں کو مسلسل عدالتی ہراسانی، توہینِ عدالت کے مقدمات اور قومی سلامتی کے سخت قوانین کے تحت قید و بند کی صعوبتیں جھیلنی پڑ رہی ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ‘تنقید برائے تذلیل’ کے اس تباہ کن رویے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور معاشرے میں ‘تنقید برائے اصلاح’ کے مثبت رجحان کو پروان بڑھائیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے چند عملی اور انقلابی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے، حکومت کو چاہیے کہ وہ ناروے اور سویڈن کی طرز پر میڈیا سبسڈی کے لیے ایک خود مختار فنڈ قائم کرے تاکہ آزاد صحافت کو معاشی بیساکھیوں کے بغیر مضبوط کیا جا سکے؛ دوسرے، سپریم کورٹ کو پریس آزادی کے مقدمات کی تیز ترین سماعت کے لیے ایک خصوصی بینچ تشکیل دینا چاہیے تاکہ صحافیوں کو فوری اور مؤثر قانونی تحفظ میسر آ سکے؛ تیسرے، تمام یونیورسٹیوں میں میڈیا لٹریسی کو لازمی مضمون کا درجہ دیا جائے تاکہ نئی نسل تنقید اور ہراسانی کے مابین فرق کو سمجھ سکے؛ اور چوتھے، سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنے الگورتھم اور اپیل کے نظام کو ہر قسم کے ابہام سے پاک کرنا ہوگا تاکہ ہجوم کے دباؤ میں آ کر کسی بھی سچی آواز کو دبایا نہ جا سکے۔
جیسا کہ ‘رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز’ نے بھی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں زور دیا ہے کہ میڈیا کے تنوع کا تحفظ، صحافت کا معاشی استحکام اور اشتہاری کمپنیوں کی اخلاقی ذمہ داری ہی وہ بنیادی عناصر ہیں جو ہمیں سنسرشپ اور کینسل کلچر کے اس شیطانی چکر سے نجات دلا سکتے ہیں۔ کلا گھوڑا کا ایک سیشن منسوخ کر دینا بظاہر ایک معمولی واقعہ تھا، مگر یہ ایک گہری عالمگیر بیماری کا پیش خیمہ ہے۔ جب ایک آرٹس فیسٹیول، جو بنیادی طور پر اظہارِ رائے اور تنوع کا استعارہ ہونا چاہیے، خود مصلحت کی خاموشی اختیار کر لے تو پھر آزادانہ سوچ کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ تنقید کا خوف دراصل تخلیق کا قتل ہے، اور ڈیجیٹل دور کا یہ نیا عقوبت خانہ ہر اس آزاد ذہن کو نگل رہا ہے جو اوسط درجے کی سوچ سے ہٹ کر کچھ نیا کرنے کی جرات کرتا ہے۔ بھارت، جو کبھی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے پر نازاں تھا، آج صحافت کی آزادی کے عالمی اشاریے میں پاکستان اور فلسطین سے بھی پیچھے کھڑا ہے۔ یہ ایک ایسی بھیانک حقیقت ہے جس پر ہر باشعور شہری کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی زندہ اور غیور قوم تنقید کے خوف سے مفلوج ہونا قبول نہیں کرتی، کیونکہ جو قومیں خاموشی کا سمجھوتہ کر لیتی ہیں، وہ رفتہ رفتہ اپنی فکری شناخت کھو بیٹھتی ہیں۔ آج کا ہمارا یہ فیصلہ ہی کل کی تقدیر کا تعین کرے گا کہ آیا ہم تنقید کو اپنے فکری ارتقا کا زینہ بناتے ہیں، یا پھر خاموشی کی اس اتھاہ گمنامی میں گم ہو جاتے ہیں جس کے بارے میں ہبرڈ نے ایک صدی قبل خبردار کیا تھا۔