امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے شہر انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران کہا کہ ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات کرنا ’وقت کا ضیاع‘ ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کی موت کا اعلان کرتے ہوئے موصوف نے فرمایا ’میرا خیال ہے کہ یہ ختم ہو چکا ہے‘۔ اس طرح ایرانی قیادت کو ’گھٹیا لوگ‘ اور ’پاگل‘ قرار دیتے ہوئے ایک جنونی سربراہِ مملکت نے ٹی وی پر براہِ راست نشریات کے دوران گذشتہ ماہ جنیوا کے جھیل کنارے واقع ایک ریزورٹ میں طے پانے والے معاہدے کو ختم کر دیا۔ ایک امن معاہدے کو بلا دلیل ختم کرکے صدر ٹرمپ نے ان القاب کو خود اپنے آپ پر چسپاں کرلیا کہ جسے وہ مخالفین کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ ایرانی حکومت کے بارے میں ٹرمپ نے فرمایا : ’ان کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے۔‘ پھر مزید کہا: ’میں انہیں پسند نہیں کرتا۔‘ مسئلہ ایرانیوں کے ساتھ نہیں بلکہ خود ان کے ساتھ ہے۔ وہ کب کیا کر بیٹھیں گے اس کا اندازہ خود ان کو نہیں ہوتا۔ دنیا بھر میں جنگ و امن کا دارومدار کسی فرد کی پسند و ناپسند پر نہیں ہوتا۔ دنیا کے کچھ ممالک اگرٹرمپ کو ناپسند کرتے ہوں تو کیا وہ امریکہ سے سارے معاہدے توڑ دیں اور جنگ کربیٹھیں؟ یہ کہاں کی دانشمندی ہے ۔
صدرٹرمپ ناٹو کی ضرورت کے منکر ہیں وہ اسے پسند نہیں کرتے تو کیا اس ادارے کو ختم کردیا جائے یا وہ اس میں شامل ممالک سے جنگ چھیڑ دیں گے؟ کیا عالمی امن و جنگ کوئی گڈا گڑیا کا کھیل ہے جسے کچھ لوگوں کی پسند و ناپسند کے بھینٹ چڑھا دیا جائے؟ ٹرمپ جیسے جنگی جنونیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ سے جان و مال کا نقصان ہوتا ہے۔ خواتین بیوہ ہوتی ہیں ۔ بچے یتیم ہوتے ہیں۔ غربت و افلاس کا دور دورہ ہوجاتا ۔اچھے خاصے خوشحال ممالک کی معیشت تباہ ہوجاتی ہے۔ ٹرمپ کی اس بیان بازی کا پس منظر سمجھنے میں امریکی سینٹرل کمانڈ کا بیان معاون و مدد گار ہے۔ اس کے مطابق ایران کی ’بین الاقوامی بحری تجارت پر حملے جاری رکھنے کی صلاحیت کمزور کرنے‘ کے لیے 80 سے زیادہ ایرانی اہداف پر حملے کیے گئے ۔ امریکی سینٹ کام نے قشم جزیرہ، سیریک اور بندر عباس کے علاقے میں حملے کی تصدیق کی ۔ امریکہ کا دعویٰ تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔ جنوبی ایران میں امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی فوج نے بحرین اور کویت میں 80 سے زیادہ امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنادیا لیکن آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کو روکنے کی غرض سے کیے گئے امریکی حملوں کے باوجود اس ہفتے قطر اور سعودی عرب کے تیل بردار بحری جہاز اس گزرگاہ میں نشانہ بنے۔اس سے بوکھلا ہٹ کا شکار ہوکر ٹرمپ صاحب نے جو یاوہ گوئی کی اس پر غالب کا یہ شاعر صادق آگیا؎
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
صدر ڈونلڈٹرمپ کی دھونس دھمکی اب بے اثر ہوچکی ہے ۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ایرانی حکومت اور عوام میں اس سے کوئی تشویش پیدا نہیں ہوئی ۔ اس جھڑپ کے دوران سابق رہبر معظم کا جنازہ عراق میں نجف و کربلا گیا ۔ وہاں بھی لاکھوں سوگوار اس میں شریک ہوئے اور پھر منصوبے میں بغیر کسی تبدیلی کے ان کی مشہد تدفین ہوگئی۔ خوف و ہراس کا کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں تھا ۔ امریکی فضائی حملوں کے بعد ایران نے کھلے عام خبردار کردیا کہ وہ اپنے فوجی اور تزویراتی اڈوں پر حملے مزید برداشت نہیں کرے گا اور پورے مغربی ایشیا کو ایک شدید جنگ میں جھونک کر جوابی کارروائی کرے گا۔ تہران کے سینٹر فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے محقق علی اکبر داریینی کے مطابق ایران جنگ نہیں چاہتا بلکہ وہ اس تنازع میں امریکی واسرائیل جارحیت کا شکار رہا ہے۔وہ صدر ٹرمپ کی طرف سے دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کو نظر انداز کر نےکو حالات کےبے قابو ہونے کا ذمہ دار مانتے ہیں۔ ایرانی تجزیہ کارکے مطابق آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو کمزور کرنے کے لیے امریکی فوج کے بزدلانہ اقدامات کے جواب میں ایران اب ایک “افقی جنگ” شروع کرکے بیک وقت متعدد ممالک کی سرحدوں کو عبور کرسکتاہے۔ ٹرمپ اگر یہی چاہتے ہیں تو یہ ہوکر رہےگا۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وہ آبنائے ہر مز کی تجارتی گزرگاہ کو ایران کے تسلط سے آزاد کروانا چاہتا ہے مگر اس کے پیچھے حقیقت یہ ہے کہ امریکی اس پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں اور یہی تنازع کی جڑ ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مفاہمتی یادداشت (MoU) دورانِ جنگ اس علاقے میں پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو یقینی بنانے پر بحث کرتی ہے ۔ اس کے لیے دفع 5 میں آبنائے ہرمز سے فوری طور پر تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت دوبارہ شروع کرنے کاعزم کیا گیا۔ اس کے ساتھ یہ بھی طے پایا تھا کہ ایران ان جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گا اور کم از کم 60 دن یعنی دو ماہ تک ان سے کسی بھی قسم کی فیس وصول نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ 30 دن کے اندر سمندری بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔اب دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف کے مطابق اس کی تشریح کر رہے ہیں ۔ اس وجہ سے امریکہ و ایران کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا اور جنگ پھر سے شروع ہوگئی۔ آبنائے ہر مز میں جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ایران کو سونپ کر بلواسطہ ایران کے تسلط کو تسلیم کرلیا گیا۔
اس تناظر میں ایران کا اس شاہراہ سے گزرنے والے جہازوں پر اپنی مرضی کے مطابق انتظام چاہنا جائز ہے۔ اسی لیے عمان کے ساحل سے جہاز وں کےگزرنے کو ایران نے امریکہ کی دخل اندازی قرار دے کر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف امریکہ بھی چاہتا ہے کہ اس آبی گزرگاہ میں جہازوں کی آمدورفت اس کے طے کردہ نظام کے مطابق ہو لیکن سوال یہ ہے کہ اپنے ملک سے ہزاروں میل دور ٹرمپ کو اس علاقے میں آکر فوجدار بننے کی ضرورت کیا ہے؟ ا س آبی گزرگاہ سے امریکی آمدو رفت متاثر نہیں ہوتی اس لیے اسے بلاوجہ پھٹے میں ٹانگ ڈالنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ایران کے لیے آبنائے ہرمز غیر معمولی تزویراتی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ اس آبی گزرگاہ کو اپنی دفاعی ڈھال کے طور پر دیکھتا ہے۔ ایران کا ماننا ہے کہ امریکہ معاہدے کے آرٹیکل 5 کو اپنے مفاد کے مطابق نافذ کرنا چاہتا ہے۔ ایک اور اہم معاملہ جہازوں کے راستے سے متعلق بھی ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ جہاز پہلے والے راستے سے گزریں، جبکہ امریکہ کی خواہش ہے کہ وہ عمان کے قریبی ساحل والے نئے راستے سے جائیں۔
اس فساد کی جڑ دوسروں کو غلام سمجھ کر اپنی مرضی تھوپنے کی امریکی ذہنیت ہے جس کی قیمت ساری دنیا کے ممالک چکاتے ہیں اور بڑے بڑے عالمی سرمایہ دارتیل کے دام بڑھنے سے منافع کماتے ہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کی صورت میں عالمی اور علاقائی معیشت پر شدید اور فوری منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، عالمی تجارتی راستوں کی بندوبست، اور مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اس کے چند نمایاں ترین نتائج ہو سکتےہیں بشرطیکہ معاملہ فوراً قابو میں نہ کرلیا جائے۔ ماہرین کے مطابق ایران امریکہ جنگ کے ممکنہ معاشی اثرات میں پہلا نمبر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے بند یا متاثر ہونے کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر $100 سے $150 فی بیرل تک بڑھ سکتی ہیں ۔ ہندوستان اور خطہ کی ضروریات کا بڑا حصہ چونکہ مشرق وسطیٰ سے تیل درآمد کرتا ہے اس لیے پیٹرول، ڈیزل اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کے بڑھنے سے مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہو سکتاہے۔
بحیرہ احمر اور خلیج فارس میں بحری جہازوں کی نقل و حمل سخت کے متاثر ہونے کا منفی اثر برآمدات پر بھی ہوگا۔ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی ترسیل کے اخراجات اور انشورنس پریمیم (جیسے وار رسک انشورنس) میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا، یہ بھی درآمدات اور برآمدات کو متاثر کرے گا۔جنگ کے آغاز کی خبروں نے ہی عالمی اسٹاک مارکیٹس (بشمول امریکی، یورپی اور ایشیائی مارکیٹس جیسے کہ BSE Sensex اور Nifty) میں مندی نظر(Crash) آئی۔ اس کا ایک سائیڈ ایفیکٹ یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار خطے سے اپنا سرمایہ نکال کر امریکی ڈالر یا سونے (Gold) جیسی محفوظ سرمایہ کاری کی طرف منتقل کر دیں گے۔تیل اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے دنیا بھر میں افراط زر (Inflation) کی شرح بڑھے گی اور مہنگائی کو قابو میں کرنے کے لیے مرکزی بینک (جیسے کہ ریزرو بینک آف انڈیا اور فیڈرل ریزرو) شرح سود (Interest Rates) میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس سے کاروبار اور عام لوگوں کے لیے قرض لینا مزید مہنگا ہو جائے گا۔ اس طرح صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے مٹھی بھر بہی خواہ سرمایہ دار تو عیش کریں گے مگر عام لوگ پریشان ہوں گے یہی موجودہ جمہوریت کا شعار ہے کہ عوام النس کو اچھے دن کے خواب دکھا کر اقتدار میں آو اور پھر سرکار کے بنانے کے بعد انہیں بھول جاو۔
(۰۰۰جاری)