پیر. جولائی 13th, 2026

الفاظ کا جادو… وہ شخصیت، تعلقات اور تاریخ بناتے ہیں

الفاظ کا جادو… وہ شخصیت، تعلقات اور تاریخ بناتے ہیں

الفاظ کا جادو… وہ شخصیت، تعلقات اور تاریخ بناتے ہیں

ازقلم:عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
فیملی کاؤنسلر
•••••••

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں ، مگر ان میں ایک عظیم نعمت زبان ہے ۔ یہی زبان انسان کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے اور اسی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ اس کی شخصیت ، تربیت ، فکر، تہذیب اور کردار کا تعارف بن جاتے ہیں۔ انسان کو اکثر اس کے چہرے سے پہلے اس کے الفاظ پہچان دیتے ہیں ۔
قرآن کریم نے گفتگو کے آداب پر خصوصی توجہ دلائی :
"اور لوگوں سے بھلی بات کہو۔”
وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرہ: 83)
اور فرمایا:
"میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہیں جو سب سے بہتر ہو۔”
گویا اسلام نے صرف زبان نہیں سنواری بلکہ الفاظ کا معیار بھی مقرر کر دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)»
الفاظ بے جان نہیں ہوتے۔ ان کے ہونٹ نہیں ہوتے مگر بولتے ہیں۔ ان کے دانت نہیں ہوتے مگر کاٹ لیتے ہیں۔ ان کے کان نہیں ہوتے مگر سماعتوں سے ہوتے ہوئے دل میں اتر جاتے ہیں ۔ ان کے ہاتھ نہیں ہوتے مگر وہ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کو سہارا بھی دے سکتے ہیں اور مضبوط تعلقات کو بکھیر بھی سکتے ہیں۔
الفاظ بولتے بھی ہیں، رولاتے بھی ہیں ، اور کانوں میں رس بھی گھولتے ہیں ۔

ایک محبت بھرا جملہ برسوں کی ناراضی ختم کر دیتا ہے ، جبکہ ایک تلخ لفظ عمر بھر کا زخم دے سکتا ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ زبان کی چوٹ تلوار کی چوٹ سے زیادہ گہری ہوتی ہے ۔

الفاظ میں وسعت ہونی چاہیے تاکہ وہ بڑے خیالات کو خوبصورتی سے ادا کر سکیں۔ کمزور الفاظ ، کمزور اظہار پیدا کرتے ہیں، جبکہ وسیع مطالعہ انسان کو ایسا ذخیرۂ الفاظ عطا کرتا ہے جو دلوں اور ذہنوں دونوں کو متاثر کرتا ہے ۔
درست وقت پر درست لفظ کا استعمال بات کی اہمیت بڑھا دیتا ہے۔ بعض اوقات ایک ہی بات دو افراد کہتے ہیں، لیکن ایک کے الفاظ دل میں اتر جاتے ہیں اور دوسرے کی بات رد کر دی جاتی ہے ۔ فرق صرف الفاظ کے انتخاب اور اندازِ بیان کا ہوتا ہے ۔

غلط الفاظ انسان کی ذہنیت ، مزاج اور تربیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ گفتگو میں بدزبانی، طنز ، تحقیر اور تمسخر صرف سننے والے کو نہیں بلکہ بولنے والے کے اخلاقی معیار کو بھی ظاہر کرتے ہیں ۔
حضرت علیؓ کا مشہور قول ہے :
"آدمی اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے ۔
یعنی جب تک انسان بولتا نہیں ، اس کی حقیقت پوری طرح سامنے نہیں آتی۔
الفاظ جادوگر بھی ہیں ۔ وہ امید پیدا کرتے ہیں، اعتماد بحال کرتے ہیں ، محبت جگاتے ہیں اور مایوسی کو حوصلے میں بدل دیتے ہیں۔ اسی لیے کامیاب قائد ، معلم، داعی ، ادیب ، شاعر اور بہترین فیملی کاؤنسلر سب سے پہلے الفاظ کا انتخاب سیکھتے ہیں ۔
ادب بھی لفظوں کا معجزہ ہے ۔ انہی سے کہانی وجود میں آتی ہے، غزل مہکتی ہے ، نظم جنم لیتی ہے، مرثیہ دل کو رلاتا ہے ، خطبہ ذہنوں کو بیدار کرتا ہے اور تاریخ محفوظ ہوتی ہے۔ الفاظ کی درست ترتیب ہی ادب کو ادب بناتی ہے

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں ، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

اثر الفاظ میں نہیں ، اخلاص اور حسنِ انتخاب میں پیدا ہوتا ہے ۔
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور

صرف بات کہنا کافی نہیں، اندازِ بیان بھی انسان کی شناخت ہوتا ہے۔

فیملی کاؤنسلنگ کے تجربات بتاتے ہیں کہ بہت سے گھر مالی تنگی سے نہیں بلکہ تلخ الفاظ سے ٹوٹتے ہیں، اور بہت سے بکھرے ہوئے رشتے صرف چند نرم اور محبت بھرے جملوں سے دوبارہ جڑ جاتے ہیں ۔ شوہر ، بیوی ، والدین، اولاد، بہن بھائی اور دوست ۔۔۔۔سب کو محبت ، عزت اور حوصلہ افزائی کے الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے ۔
اس لیے بولنے سے پہلے خود سے چند سوال ضرور پوچھیں:
– کیا میری بات سچی ہے ؟
– کیا یہ کہنا ضروری ہے ؟
– کیا میں اسے زیادہ نرم اور مہذب انداز میں کہہ سکتا ہوں؟
– کیا میرے الفاظ کسی کا دل تو نہیں دکھائیں گے؟
– کیا یہ الفاظ میرے کردار کی اچھی نمائندگی کرتے ہیں؟
اگر ہر انسان صرف اپنے الفاظ کی اصلاح کر لے تو بہت سے گھریلو جھگڑے ، معاشرتی تنازعات اور سوشل میڈیا کی تلخیاں خود بخود ختم ہو جاتے ہیں ۔
– الفاظ شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں ۔
– الفاظ دلوں کے دروازے بھی کھولتے ہیں اور بند بھی کرتے ہیں ۔
– الفاظ سے انسان دل پر بھی چڑھتا ہے اور دل سے اتر بھی جاتا ہے ۔
– میٹھے الفاظ صدقہ ہیں ، اور تلخ الفاظ فتنہ ۔
– بولنے سے پہلے لفظوں کو تول لیجیے ، کیونکہ واپس آنے والے تیر بھی مل جاتے ہیں ، مگر واپس آنے والے الفاظ نہیں ۔
یاد رکھیے!
الفاظ صرف آواز نہیں ، امانت ہیں ۔ ان سے انسان بنتا بھی ہے اور بگڑتا بھی ہے، خاندان جڑتے بھی ہیں اور ٹوٹتے بھی ہیں ، دل آباد بھی ہوتے ہیں اور ویران بھی۔ اس لیے ایسے الفاظ منتخب کیجیے جو محبت بانٹیں ، احترام پیدا کریں ، امید جگائیں اور انسانیت کو قریب لائیں ، کیونکہ مہذب معاشروں کی بنیاد ہمیشہ مہذب الفاظ پر قائم ہوتی ہے ۔

اپنے الفاظ کم رکھو مگر ان کا وزن زیادہ ہو ۔۔۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے