ایس آئی آر، دستاویزات اور شہریت
سپریم کورٹ کی آئینی رہنمائی
تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ: 9700389755
ایسے وقت میں جب ملک بھر میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے تحت شہریوں سے اپنی شہریت کے ثبوت طلب کیے جا رہے ہیں، اور بالخصوص آسام جیسی سرحدی ریاستوں میں محض غیر ملکی ہونے کے شبہے پر افراد کو حراست میں لینے، سرحد تک پہنچا کر دوسری جانب دھکیل دینے اور دیگر سخت انتظامی اقدامات کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، سپریم کورٹ ہند نے ایک ایسے تاریخی اور دور رس اثرات کے حامل فیصلے کے ذریعے آئین کی روح کو ازسرِنو اجاگر کیا ہے جو مستقبل میں شہریت سے متعلق تمام قانونی مباحث کے لیے ایک مضبوط رہنما اصول کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے نہایت واضح اور دوٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ کسی بھی شخص کی شہریت یا اس کے غیر ملکی ہونے کا تعین صرف منصفانہ، قانونی اور معقول طریقۂ کار کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں محض رسمی کارروائی، یک طرفہ سماعت، تکنیکی نقائص یا دستاویزات کی معمولی خامیوں کی بنیاد پر کسی فرد کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ شہریت کا سوال محض ایک انتظامی یا دفتری معاملہ نہیں بلکہ ایک بنیادی آئینی حق سے وابستہ مسئلہ ہے، اس لیے اس کے فیصلے میں انصاف کے تمام تقاضوں کی مکمل پاسداری ناگزیر ہے۔
اسی اصول کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے آسام کے ستائیس افراد کو غیر ملکی قرار دینے سے متعلق گوہاٹی ہائی کورٹ اور فارینرس ٹریبونلز کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کے مقدمات دوبارہ سماعت کے لیے متعلقہ ٹریبونلز کو واپس بھیج دیے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ شہریت کا تعین ایک نہایت حساس اور دور رس نتائج کا حامل قانونی و آئینی معاملہ ہے، لہٰذا اس کا فیصلہ صرف اسی صورت میں معتبر قرار دیا جا سکتا ہے جب پورا عمل انصاف، شفافیت اور قانون کے تقاضوں کے مطابق انجام دیا گیا ہو۔
یہ مقدمہ اس لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ انہیں صرف ووٹر لسٹوں، سرکاری ریکارڈ میں نام کی ہجوں کے معمولی اختلاف، ٹائپنگ کی غلطیوں یا دستاویزات میں جزوی عدم مطابقت کی بنیاد پر غیر ملکی قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ بعض درخواست گزار، جن میں محمد اکبر علی، عابدہ خاتون، انوارہ خاتون، سبیتری ڈے اور اجبہار علی شامل ہیں، نے اپنی شہریت کے ثبوت کے طور پر ۱۹۷۱سے قبل کی ووٹر فہرستیں، زمین کے ریکارڈ، خاندانی شجرۂ نسب اور دیگر اہم دستاویزات بھی پیش کیے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کے شواہد کا مطلوبہ قانونی معیار کے مطابق جائزہ نہیں لیا گیا۔
سپریم کورٹ نے اس موقع پر ایک نہایت اہم اصولی نکتہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کے نام کی ہجوں میں معمولی فرق، املا یا ٹائپنگ کی غلطی، یا سرکاری ریکارڈ میں موجود تکنیکی خامی کسی فرد کو ازخود غیر ملکی نہیں بنا دیتی۔ شہریت جیسے حساس اور بنیادی حق کا فیصلہ محض تکنیکی بنیادوں پر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ تمام دستیاب شواہد کو مجموعی، غیر جانب دارانہ اور منصفانہ انداز میں پرکھنا ناگزیر ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ حقیقت بھی تسلیم کی کہ ریاست کو اپنی سرحدوں، شہریت کے نظام اور قانونی ڈھانچے کے تحفظ کا پورا حق حاصل ہے، بلکہ یہ اس کی آئینی ذمہ داری بھی ہے کہ جو افراد قانونی طور پر ہندوستانی شہریت کے مستحق نہیں، وہ جعلی دستاویزات، جھوٹے دعووں یا قانونی عمل کے ناجائز استعمال کے ذریعے شہریت حاصل نہ کر سکیں۔ تاہم عدالت نے نہایت وضاحت کے ساتھ یہ بھی باور کرایا کہ قانون کا نفاذ انصاف کی قربانی دے کر نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست کی انتظامی قوت اسی وقت آئینی جواز رکھتی ہے جب وہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے تابع ہو۔
عدالت کے مطابق کسی شخص کو غیر ملکی قرار دینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایسا اقدام ہے جس کے اثرات اس کی آزادی، رہائش، روزگار، جائیداد، خاندانی زندگی، سماجی شناخت اور انسانی وقار تک محیط ہوتے ہیں۔ اس لیے اس نوعیت کے مقدمات میں معمولی سی ناانصافی بھی ایک سنگین آئینی بے انصافی کا روپ اختیار کر سکتی ہے۔
اپنے تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے آئینی قانون کا ایک نہایت بنیادی اصول بیان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کا کوئی بھی اقدام محض اس لیے قانونی تحفظ کا مستحق نہیں ہو جاتا کہ اسے کسی قانون یا ضابطے کی شکل دے دی گئی ہو۔ اگر کسی کارروائی کے نتیجے میں کسی فرد کی شہریت خطرے میں پڑ سکتی ہو یا اسے غیر ملکی قرار دیا جا سکتا ہو تو ایسی کارروائی اسی وقت آئینی طور پر قابلِ قبول ہوگی جب اختیار کیا گیا طریقۂ کار حقیقی معنوں میں منصفانہ، غیر جانب دار، معقول اور شفاف ہو۔ محض رسمی کارروائی، یک طرفہ سماعت یا سنجیدہ غور و فکر سے عاری فیصلہ آئین کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر سکتا۔
اسی تناظر میں عدالت نے فارینرس ٹریبونلز کو ہدایت دی کہ ہر مقدمے میں اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ متعلقہ شخص کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مؤثر اور منصفانہ موقع فراہم کیا گیا، اس کے خلاف عائد کیے گئے الزامات اور ان کی بنیادیں پوری وضاحت کے ساتھ اس کے سامنے رکھی گئیں، اس کی جانب سے پیش کردہ تمام شواہد کا آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیا گیا اور جو نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے وہ ریکارڈ پر موجود مواد سے حقیقی طور پر ثابت ہوتا ہے۔ اگر ان بنیادی تقاضوں میں سے کوئی بھی شرط پوری نہ ہو تو ایسا فیصلہ آئینی اور قانونی جانچ کی کسوٹی پر برقرار نہیں رہ سکتا۔
اس مقدمے میں گوہاٹی ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کی اپیل محض اس بنیاد پر مسترد کر دی تھی کہ انہوں نے فارینرس ٹریبونل کے فیصلے کو تقریباً تئیس برس بعد چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ کے مطابق نوٹس کی تعمیل کے باوجود درخواست گزار نہ ٹریبونل کے روبرو حاضر ہوئے، نہ تحریری جواب داخل کیا اور نہ ہی اپنے حق میں کوئی ثبوت پیش کیا، اس لیے انہیں غیر ملکی قرار دینے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں تھا۔
لیکن سپریم کورٹ نے اس استدلال سے اختلاف کرتے ہوئے قرار دیا کہ شہریت جیسے بنیادی آئینی مسئلے میں صرف تاخیر، غیر حاضری یا سابقہ کارروائی کی بنیاد پر کسی شخص کو ہمیشہ کے لیے غیر ملکی قرار دینا انصاف اور فطری عدل کے مسلمہ اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔ ایسے مقدمات میں عدالتوں کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حقیقت تک رسائی حاصل کریں، نہ کہ محض تکنیکی بنیادوں پر کسی فرد کے بنیادی حقوق کا خاتمہ کر دیں۔
اسی اصول کی روشنی میں سپریم کورٹ نے تمام ستائیس افراد کو دوبارہ فارینرس ٹریبونلز کے سامنے پیش ہو کر اپنی شہریت کے حق میں شواہد پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ازسرِنو سماعت کے دوران ٹریبونلز نہ اپنے سابقہ فیصلوں سے متاثر ہوں گے اور نہ ہی گوہاٹی ہائی کورٹ کے مشاہدات کو فیصلہ کن حیثیت دیں گے، بلکہ تمام دستاویزات، شواہد اور حالات کا آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور منصفانہ جائزہ لے کر قانون کے مطابق نیا فیصلہ صادر کریں گے۔
عدالتِ عظمیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ نئی سماعت مکمل ہونے تک ان افراد کے خلاف کسی قسم کی جبری کارروائی، گرفتاری یا ملک بدری کا اقدام عمل میں نہ لایا جائے۔ یہ ہدایت اس بنیادی آئینی اصول کی عکاسی کرتی ہے کہ جب تک کسی فرد کے خلاف قانونی عمل مکمل نہ ہو جائے اور اس کی حیثیت کا حتمی تعین نہ کر دیا جائے، اس وقت تک اسے محض شبہے کی بنیاد پر ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس امر کی وضاحت بھی ضروری سمجھی کہ مقدمات کو دوبارہ سماعت کے لیے بھیجنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عدالت نے درخواست گزاروں کو ہندوستانی شہری قرار دے دیا ہے۔ عدالت کا مقصد صرف یہ ہے کہ شہریت جیسے نہایت حساس اور بنیادی معاملے میں حتمی فیصلہ مکمل قانونی، آئینی اور منصفانہ طریقۂ کار اختیار کرنے کے بعد ہی کیا جائے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ کسی بھی فرد کے مستقبل کا فیصلہ قیاس، تکنیکی خامیوں یا محض رسمی کارروائی کی بنیاد پر نہ ہو، بلکہ حقائق اور قانون کی روشنی میں کیا جائے۔
موجودہ حالات میں، جب ملک کے مختلف حصوں میں شہریت کی جانچ کا عمل وسیع ہو رہا ہے اور لاکھوں افراد کے قانونی تشخص سے متعلق سوالات زیرِ بحث ہیں، سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ محض ستائیس افراد کے مقدمے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورے ملک کے لیے ایک اہم آئینی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس فیصلے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ شہریت کا تعین صرف کاغذات کے ظاہری اختلافات، ناموں کی معمولی غلطیوں یا سرکاری ریکارڈ کی فنی خامیوں کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔آئینِ ہند ہر فرد کو مساوی قانونی تحفظ، منصفانہ سماعت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے۔ ریاست کو اپنی قانونی ذمہ داریوں کی تکمیل ضرور کرنی چاہیے، لیکن اس عمل میں انصاف، شفافیت اور انسانی وقار کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی آئین کی روح ہے، یہی قانون کی حکمرانی کا بنیادی اصول ہے اور یہی ایک مہذب جمہوری نظام کی پہچان بھی۔سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ دراصل اس ابدی اصول کی یاد دہانی ہے کہ قانون کی طاقت صرف اس کے نفاذ میں نہیں، بلکہ اس انصاف میں پوشیدہ ہے جو ہر شہری تک یکساں طور پر پہنچتا ہے۔