تین تاریخی مساجد اور باہمی رضا مندی کی تجویز!

تین تاریخی مساجد اور باہمی رضا مندی کی تجویز!

گیان واپی مسجد وارانسی، شاہی عید گاہ متھرا، شاہی جامع مسجد سنبھل

✍️افتخاراحمدقادری

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کی جانب سے وارانسی کی جامع مسجد، متھرا کی شاہی عیدگاہ اور سنبھل کی شاہی جامع مسجد سے متعلق مقدمات کو باہمی رضامندی کے ذریعے حل کرنے کی غرض سے "سمادھان سماروہ ۲۰۲۶” کے تحت خصوصی لوک عدالت میں بھیجنے کی تجویز نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے اس عمل کو مکمل طور پر فریقین کی رضامندی سے مشروط قرار دیا لیکن مسلم اور ہندو دونوں فریقوں کی جانب سے ثالثی میں عدم دلچسپی ظاہر کیے جانے کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ یہ تنازعات قانونی نہیں بلکہ تاریخی، مذہبی، آئینی اور جذباتی نوعیت بھی اختیار کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان مقدمات کے بارے میں ہر قدم نہایت احتیاط، آئینی بصیرت اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان تینوں مقدمات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ان کے ساتھ صرف تین عبادت گاہوں کا معاملہ وابستہ نہیں بلکہ ہندوستان کے آئینی ڈھانچے، مذہبی آزادی، قانون کی بالادستی اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان اعتماد کا مستقبل بھی وابستہ ہے۔ اسی لیے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد عبادت گاہوں کے تحفظ ایکٹ ۱۹۹۱ کو اس پورے تنازعے کی بنیاد قرار دیتی ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو جس عبادت گاہ کی جو مذہبی حیثیت تھی اسے برقرار رکھا جائے تاکہ ماضی کے تنازعات کو بنیاد بنا کر مستقبل میں مسلسل نئے مقدمات کا سلسلہ شروع نہ ہو۔ اسی قانون کے سہارے کئی مسلم فریقوں نے عدالت سے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان مقدمات کی سماعت ہی قابل قبول نہیں ہونی چاہیے کیونکہ پارلیمنٹ پہلے ہی اس بارے میں واضح قانون بنا چکی ہے۔ دوسری جانب بعض ہندو تنظیمیں مختلف تاریخی اور مذہبی دلائل کی بنیاد پر ان مقامات کے بارے میں اپنے دعوے پیش کر رہی ہیں۔ اس اختلاف کا فیصلہ بہرحال عدالتوں نے قانون اور شواہد کی روشنی میں کرنا ہے نہ کہ جذبات یا سیاسی نعروں کی بنیاد پر۔
آج سپریم کورٹ کی ثالثی کی تجویز کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر حساس مذہبی تنازعات عدالت سے باہر باہمی رضامندی سے حل ہو جائیں تو اس سے ملک میں بھائی چارہ مضبوط ہوگا اور برسوں سے جاری کشیدگی ختم ہو سکتی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ایسے معاملات میں مذاکرات اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں جب دونوں فریق مکمل اعتماد کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں اور کسی بھی جانب کو یہ احساس نہ ہو کہ اس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے یا اس سے یکطرفہ قربانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ایودھیا مقدمے کے بعد ملک میں متعدد دیگر عبادت گاہوں کے بارے میں دعوے سامنے آئے۔ وارانسی، متھرا، سنبھل، بھوج شالہ، بدایوں اور بعض دیگر مقامات مختلف اوقات میں قانونی یا سیاسی بحث کا حصہ بنے۔ اسی پس منظر میں مسلمانوں کے ایک طبقے کے اندر یہ خدشہ پیدا ہونا فطری ہے کہ اگر موجودہ تنازعات میں کسی ایک صورت پر اتفاق بھی ہو جائے تو کیا واقعی آئندہ ایسے مزید دعوے سامنے نہیں آئیں گے؟ اس کا قطعی جواب آج کسی کے پاس موجود نہیں کیونکہ مستقبل کا انحصار قانون، عدالتی فیصلوں، سیاسی ماحول اور مختلف تنظیموں کے طرز عمل پر ہوگا۔ بعض ہندوتوا نظریات سے وابستہ تنظیمیں طویل عرصے سے یہ مؤقف پیش کرتی رہی ہیں کہ بعض تاریخی مذہبی مقامات کے بارے میں دو بارہ غور ہونا چاہیے جبکہ دیگر سیاسی اور سماجی حلقے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ماضی کے ہر تاریخی تنازعے کو دو بارہ زندہ کیا جائے تو ملک کبھی بھی مستقل امن کی طرف نہیں بڑھ سکے گا۔ اسی لیے آئین اور قانون کو ہی فیصلہ کن حیثیت حاصل ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی شہری کو اپنے مذہبی حقوق کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مسلمانوں کے لیے اس مرحلے پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ جذبات کے بجائے حکمت، اتحاد اور آئینی شعور کے ساتھ حالات کا سامنا کریں۔ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اپنی عبادت گاہوں کے تحفظ اور عدالت سے انصاف حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔ اگر مسلمان خود قانون پر اعتماد چھوڑ دیں یا اشتعال انگیزی کا راستہ اختیار کریں تو اس کا نقصان خود انہی کو ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر قانونی کارروائی کا جواب قانونی ذرائع سے دیا جائے اور ہر اختلاف کو آئینی حدود کے اندر رہ کر آگے بڑھایا جائے۔ اسی کے ساتھ مسلم معاشرے کے اندر بھی اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہ وقت باہمی اختلافات، مسلکی نزاعات یا تنظیمی رقابتوں کا نہیں بلکہ مشترکہ حکمت عملی، قانونی تیاری اور اجتماعی ذمہ داری کا ہے۔ جب کوئی مسئلہ پوری ملت سے متعلق ہو تو اس کا جواب بھی اجتماعی دانش، صبر اور دور اندیشی سے ہی دیا جا سکتا ہے۔ جذباتی بیانات وقتی جوش تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن عدالتوں میں فیصلے دستاویزی شواہد، قانونی دفعات اور آئینی اصولوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو اپنے بہترین قانونی ماہرین، مؤرخین، ماہرین آثارِ قدیمہ اور آئینی ماہرین کی خدمات سے فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ ہر مقدمے میں مضبوط اور مدلل موقف پیش کیا جا سکے۔ تاریخ کا دفاع صرف نعروں سے نہیں بلکہ تحقیق، دستاویزات اور قانونی مہارت سے ہوتا ہے۔ اس وقت ملک کا ہر ذمہ دار شہری یہ سمجھے کہ مذہبی ہم آہنگی کسی ایک طبقے کی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی ضرورت ہے۔ اگر عدالتوں کے ذریعے یا باہمی رضامندی سے کوئی ایسا راستہ نکلتا ہے جو آئین، قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو تو وہی ملک کے لیے بہتر ہوگا۔ لیکن اگر اعتماد کا ماحول قائم نہیں ہوتا تو صرف مذاکرات کا نام لے لینے سے کوئی دیرپا حل پیدا نہیں ہوگا۔ پائیدار حل وہی ہوگا جس میں انصاف، آئین، مساوات اور باہمی احترام چاروں اصول یکساں طور پر موجود ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کو آزمائشوں کا سامنا ہوا اس کی قیادت کے فیصلوں نے اس کے مستقبل کا تعین کیا۔ اس لیے آج درگاہوں کے سجادگان، معتبر علماء، مسلم تنظیموں کے ذمہ داران، وکلاء، دانشوروں اور سماجی قائدین پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ وقتی جذبات سے بلند ہو کر ملت کے اجتماعی مفاد کو سامنے رکھیں۔
مسلم قیادت کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قوم میں خوف اور مایوسی کے بجائے حوصلہ، اتحاد اور آئین پر اعتماد پیدا کرے۔ ایسے حالات میں اشتعال انگیز تقاریر، غیر ذمہ دارانہ بیانات یا ایسے دعوے جو قانونی طور پر مددگار نہ ہوں ملت کے مفاد کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ قوم کو یہ یقین دلانا ضروری ہے کہ ہندوستان کا آئین اور عدالتی نظام انصاف فراہم کرنے کے ادارے ہیں اور ہر مقدمہ قانون اور ثبوت کی بنیاد پر لڑا جانا چاہیے۔ علماء کرام کی ذمہ داری صرف مذہبی جذبات ابھارنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ انہیں امت کو صبر، حکمت، نظم و ضبط اور قانونی شعور کی بھی تعلیم دینی چاہیے۔ اسلام نے ہر حال میں عدل، حکمت اور امن کو اہمیت دی ہے۔ اگر قوم جذبات کے بجائے شعور کے ساتھ آگے بڑھے گی تو وہ اپنے موقف کو زیادہ مضبوط انداز میں پیش کر سکے گی۔ اسی طرح سجادگان اور خانقاہوں کے ذمہ داران کو بھی چاہیے کہ وہ مختلف مسالک، جماعتوں اور تنظیموں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔ یہ وقت اختلافات کو بڑھانے کا نہیں بلکہ ملت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا ہے۔ اگر اندرونی انتشار بڑھتا ہے تو اس کا فائدہ ہمیشہ وہی عناصر اٹھاتے ہیں جو مسلمانوں کو تقسیم شدہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
آج یہ سوال بڑی تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے کہ اگر ان تین مقدمات کا کوئی حل نکل بھی آئے تو کیا مستقبل میں کسی دوسری مسجد یا درگاہ کے بارے میں نئے دعوے سامنے نہیں آئیں گے؟ اس کا حتمی جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ لیکن ہاں! ہندوستان ایک آئینی جمہوریت ہے اور ہر نیا مقدمہ اپنی قانونی حیثیت اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے۔ اسی لیے مختلف حلقوں میں اس بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ان تنازعات کے حل سے مستقبل میں اعتماد کی فضا بہتر ہو سکتی ہے جبکہ بعض دوسرے حلقے یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر قانونی اصولوں کی واضح پابندی نہ رہی تو مزید دعوے بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق قانون اور اس کی عدالتی تشریح اس پورے معاملے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ لہذا! مسلمان اس وقت ہر قسم کے ردعمل کو آئینی دائرے میں رکھیں۔ عدالتوں میں مضبوط قانونی تیاری، تاریخی ریکارڈ، مستند دستاویزات اور ماہرین کی خدمات حاصل کرنا ہی سب سے مؤثر حکمت عملی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو بھی آئین، قانون اور اپنے حقوق کے بارے میں تعلیم دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یاد رکھیں کہ جذبات وقتی طاقت دیتے ہیں لیکن مستقل کامیابی علم، تنظیم اور قانونی بصیرت سے حاصل ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے سماجی اور تعلیمی ادارے اپنی داخلی مضبوطی پر توجہ دیں۔ ایک ایسا معاشرہ جو تعلیم، معیشت، تحقیق اور سماجی خدمت میں آگے ہو، وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی زیادہ مؤثر انداز میں آواز اٹھا سکتا ہے۔ اس لیے موجودہ حالات کو صرف ایک بحران کے طور پر نہیں بلکہ خود احتسابی اور اصلاح کے موقع کے طور پر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کی طاقت اس کی مذہبی، ثقافتی اور سماجی گوناگونی میں مضمر ہے۔ اگر تاریخی تنازعات کو مسلسل سیاسی یا سماجی کشیدگی کا ذریعہ بنایا جائے تو اس سے قومی یکجہتی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے آئینی اداروں، سیاسی قیادت، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اختلافات کو قانون، مکالمے اور باہمی احترام کے دائرے میں رکھا جائے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تین تاریخی مساجد سے متعلق مقدمات صرف چند عمارتوں کا تنازع نہیں بلکہ قانون، آئین، مذہبی آزادی، قومی اعتماد اور ہندوستان کے جمہوری کردار کا امتحان بھی ہیں۔ ان معاملات کا کوئی بھی پائیدار حل وہی ہوگا جو انصاف، آئینی اصولوں، باہمی احترام اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہو۔ اگر تمام فریق انہی اصولوں کو اپنی رہنمائی کا ذریعہ بنائیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ اختلافات کے باوجود ملک کا آئینی اور سماجی توازن برقرار رہے گا اور یہی راستہ ہندوستان کے روشن اور پر امن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے