تمل ناڈو گئو کشی میں عدالت کی سیاست

تمل ناڈو گئو کشی میں عدالت کی سیاست

تمل ناڈو گئو کشی میں عدالت کی سیاست

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

جمہوریت میں انتخاب لڑ کر اقتدار میں آنا اور اس پر جمے رہنے کی خاطر بار بار الیکشن لڑنا سیاست دانوں کی مجبوری ہوتی ہے مگر عدالت میں جج ترقی کی ہوس یا ذاتی منافرت کے سبب انصاف کو پامال کرنے لگیں تو بہت بری بات ہے؟ عدل و انصاف کی چوکھٹ سے ظلم و جبربدترین خیانت ہے۔ تمل ناڈو میں امسال 27؍ مئی کو بقرعید سے عین پہلے ‘ہندو مکل کاچی’ نامی انتہا پسند تنظیم کے جنرل سیکریٹری کے۔ سوریا پرشانت نےگائےکی محبت میں عدالت سے رجوع کرکے مفادِ عامہ کی ایک عرضی (PIL) داخل کی ۔ اس میں درخواست گزار نے صرف یہ ہدایت مانگی کہ کوئمبتور شہر میں ذبیحہ صرف مقررہ مقامات پر ہو۔ اس پر ہائی کورٹ نے یہ فرض کر لیا کہ عوامی مقامات پر گایوں کی قربانی دی جا رہی تھی یا دی جائے گی۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے پولیس نے اپنے جوابی حلف نامے میں بار بار یہ یقین دہانی کرائی کہ عوامی مقامات پر قربانی کے نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے پہلے ہی احتیاطی اقدامات کیے جا چکے تھے اور ہر مذہبی قربانی بند، غیر عوامی مقامات (یعنی مذبح خانوں ) تک ہی محدود رہے گی۔
سرکار کی اس یقین دہانی کے بعد یاتو ہائی کورٹ کو پی آئی ایل خارج کردینی چاہیے تھی یا پولیس کواپنی ذمہ داری ادا کرنے کی تاکید کرکے کیس نمٹا دینا چاہیے تھا مگر چائے سے گرم کیتلی کی مصداق ہائی کورٹ نے کسی بھی دن اور کسی بھی جگہ گائے اور بچھڑوں کے ذبح پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم صادر فرما دیا۔ حکم جاری کرتے وقت ہائی کورٹ نے اس سرکاری حکم کا سہارا لیا، جس میں کہا گیا تھا کہ دودھ کی پیداوار اور دیہی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے گائے کے ذبح پر پابندی ضروری تھی۔ ہائی کورٹ کے جسٹس جی آر سوامی ناتھن اور وی لکشمی نرائن کی بینچ نے جوش میں آکر اپنے فیصلےکے اندر سپریم کورٹ کے ان فیصلوں کا حوالہ دیا، جن میں کہا گیا تھا کہ بقرعید منانے کے لیے گائے کی قربانی ضروری نہیں ہے۔ ہائی کورٹ کے اس غیر ضروری اور متنازع حکم کو ریاستی حکومت کی اسٹینڈنگ کاؤنسل اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ جے شری نرسمہن نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ ریاستی حکومت نے یہ معقول دلیل دی کہ جب قانون مخصوص قسم کی گایوں کو مقررہ مقامات پر ذبح کرنے کی اجازت دیتا ہے تو قانونی دفعات کے برخلاف کوئی عدالتی ہدایت جاری نہیں کی جا سکتی۔کاش کہ اتنی معمولی سے بات معزز جج صا حبان کی سمجھ میں آجاتی؟
ریاستی حکومت نے اعتراض کیا کہ ہائی کورٹ نےجس سرکاری حکم نمبر 1715 پر انحصار کیا اس کی قانونی حیثیت یا نفاذ کا سوال کبھی اٹھایا ہی نہیں گیا تھا۔ یہ انتظامی حکم تمل ناڈو میں جانوروں کی قربانی سے متعلق قوانین سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ ریاستی حکومت نے دلیل بھی دی کہ ہائی کورٹ کے سامنے دائر رِٹ پٹیشن کا دائرہ کوئمبتور شہر میں بقرعید کے دوران عوامی مقامات پر گایوں کی قربانی روکنے تک محدود تھا لیکن ڈویژن بینچ نے مقدمے کا دائرہ بڑھاتے ہوئے گائے کی قربانی پر "مکمل اور ہر حال میں پابندی” عائد کر دی، جس میں مقررہ سلاٹر ہاؤس بھی شامل تھے،جبکہ ایسی راحت طلب ہی نہیں کی گئی تھی۔ اس طرح بلادلیل ایک ایسی راحت دے دی گئی جس کا مطالبہ ہی نہیں کیا گیا تھا۔ عدلیہ نے سوچا ہوگا کہ ریاست میں نیا وزیر اعلیٰ اقتدار پر فائز ہوا ہے۔ اس کی ناتجربہ کاری کا فائدہ اٹھا کر نئی سرکار کو ایک فتنہ پرور تنازع میں الجھا دیا جائےتاکہ مرکزی حکومت کی خوشنودی اور ترقی ہوجائے لیکن یہ سارے خواب چکنا چور ہوگئے۔ وزیر اعلیٰ وجئے تھلا پتی نے نہایت سوجھ بوجھ اور جرأتمندی کے ساتھ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں لے جاکر ایک ناپاک منصوبے کو کیفرِ کردار تک پہنچا دیا۔
ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے میں تضاد کو واضح کرتے ہوئے مذکورہ فیصلے کے اس حصے کی جانب توجہ مبذول کرائی کہ جس میں جانوروں کی قربانی کے مقررہ سلاٹر ہاؤسز میں قربانی کا حق تسلیم کیا گیا تھا لیکن ساتھ ہی اس نے یہ ہدایت بھی دی تھی کہ بقرعید یا کسی بھی دن کسی بھی گائے یا بچھڑے کو ذبح نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت کے مطابق اس سے فیصلہ خود اپنے اندر تضاد سے پُر ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کے مؤقف کا الٹا مطلب نکالا۔ ریاست نے دلیل دی کہ ہائی کورٹ کا حکم ‘تمل ناڈو مویشی تحفظ ایکٹ، 1958’ کے بھی خلاف ہے۔ یہ ایکٹ مجاز اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر 10 سال سے زیادہ عمر کی ان گایوں کے ذبح کی اجازت دیتا ہے جو کام اور افزائشِ نسل کے لیے موزوں نہ ہوں۔ مذکورہ قانون کے علاوہ، دیگر نافذ العمل قوانین جیسے ‘جانوروں پر ظلم کی روک تھام ایکٹ، 1960’، ‘جانوروں پر ظلم کی روک تھام (سلاٹر ہاؤس) قواعد، 2001’، ‘تمل ناڈو شہری مقامی ادارہ جات ایکٹ، 1998’ اور ‘تمل ناڈو شہری مقامی ادارہ جات قواعد، 2023’ ان شرائط کو منظم کرتے ہیں جن کے تحت جانوروں کا ذبح کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کرتا۔
اس طرح گویا مکمل پابندی کا حکم دے کر ہائی کورٹ نےآئین کی جگہ عدالتی قانون نافذ کر دیا یعنی ’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا تو اس نے مدراس ہائی کورٹ کے اس حکم پر روک لگا دی، جس میں بقرعید یا کسی بھی دوسرے دن تمل ناڈو ریاست میں کہیں بھی گائے یا بچھڑے کے ذبح پر پابندی لگانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس طرح جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بینچ نےمدراس ہائی کورٹ کے اس حکم پر جس میں ریاست بھر کے اندر گایوں اور بچھڑوں کے ذبح پر مکمل پابندی کے خلاف تمل ناڈو ریاست کے موقف کو تسلیم کیا ۔ فی الحال نوٹس جاری کرتے ہوئے یہ عبوری حکم صادر کیا گیا امید ہے کہ آگے حتمی فیصلہ بھی اس کے مطابق ہوگا ۔ بی جے پی کے لیے ہندووں کے جذبات سے کھیلنے کا سب سے آسان طریقہ سبزی خوری ہے۔ مغربی بنگال میں سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس کا استعمال بی جے پی کے خلاف کرنے کی کوشش کی تو انوراگ ٹھاکر اور منوج تیواری جیسےارکان پارلیمان لوگوں نے کیمرے کے سامنے مچھلی کھاکر لوگوں کو یقین دلایا کہ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی بلکہ بی جے پی کے امیدوار مچھلی ہاتھ میں لے کر گھومتے تھے۔
الیکشن کے بعد عید آئی تو وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے گئو کشی کےبارے میں ‘ویسٹ بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ، 1950’ کے تحت جانوروں کے ذبیحہ کے لیے سخت شرائط وضع کردی۔اس پر مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس سال گائے کے بجائے بکرے کی قربانی کریں گے۔ اس کے بعد گائے پالنے اور بیچنے والے ہندو بیوپاری مشکل میں آگئے ۔ اس کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ کے دو ججوں پر مشتمل بینچ نے 16 اگست 2018 کے حکم کی تعمیل میں جاری کی گئی نوٹس کو برقرار رکھا ۔ نتیجے کے طور پر، کسی بھی گائے، بیل، بچھڑے یا بھینس کو بھی سرکاری حکام سے "سرٹیفکیٹ آف فٹنس” (صحت و تندرستی کا سرٹیفکیٹ) حاصل کیے بغیر ذبح تونہیں کیا جا سکتا تھا لیکن تمام تر بیان بازی کے باوجود، اس نوٹیفکیشن میں 14 سال سے زائد عمر کی گایوں کو ذبح کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس پر ہندوتوا کے حامیوں میں بجا طور پر ناراضی پائی گئی کیونکہ یہ منطق عجیب تھی کہ ایک خاص عمر تک جو مویشی ماں کا درجہ رکھتا تھا وہ اچانک کاٹ کر کھانے کی شئے ہوگیا۔ اس اٹھا پٹخ میں ہندو تاجروں کا پچیس ہزار کروڈ کا نقصان ہوگیا جو ادھیکاری سرکار کا اپنے کٹر ہندو رائے دہندگان کو پہلا تحفہ تھا۔
مغربی بنگال میں جس وقت یہ ہنگامہ چل رہا تھا راجستھان کے شہر جیسلمیر میں کوڑا پھینکنے کی ایک جگہ پر سینکڑوں گایوں کی لاشیں ملنے کے حالیہ واقعے نے سوشل میڈیا پر بجا طور پر شدید غم و غصے کو جنم دیا۔ چند سال قبل، چھتیس گڑھ سے بھی گایوں کی بھوک سے اجتماعی ہلاکتوں کا ایسا ہی ایک واقعہ سامنے آیا تھا۔ شمالی ہندوستان میں گائے پر سیاست آسان ہے مگر جنوب یا مشرقی ہند میں یہ معاملہ الٹ جاتا ہے۔ شمال مشرق کی بی جے پی ریاستوں میں بھی گئو کشی ہوتی ہے۔ ہیمنتا بسوا سرما جیسا فرقہ پرست وزیر اعلیٰ بھی کہتا ہے کہ مسلمان گائے کھاتے ہیں میں منع نہیں کرتا مگر وہ اپنے گھر میں کھائیں ۔ یہ آدھا سچ ہے کیونکہ ان سے پہلے بی جے پی کے وزیر اعلیٰ سروانند سونووال نے اعلان کیا تھا وہ بیف کھاتے ہیں موصوف مرکزی وزیر ہیں اور کرن رجیجو بھی یہ کہہ چکے ہیں۔ شنکراچاریہ اوی مکتیشور انند جب اس گئو کشی کے خلاف مہم چلانے کے لیے اروناچل پردیش اور تریپورہ گئے تو انہیں ہوائی اڈے سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا ۔ بی جے پی کی مرکزی سرکار اپنے وزیر اعلیٰ کی سرزنش تک نہیں کرسکی۔ زعفرانی دانشور اور ترجمان اور سدھانشو ترویدی نے متھن گائے کو حلال قرار دے دیا۔ اس سے لوگ پریشان ہوگئے کیونکہ انہوں نےمتھن چکرورتی کا نام تو سنا تھا مگر متھن گائے کا نہیں۔ زعفرانی منطق چونکہ کمزور ہوتی ہے اس لیے تمل ناڈو یا مغربی بنگال میں وہ لوگ اپنے ہی جال میں پھنس جاتے ہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے