مسلمانوں کو منصبوں میں رنگ بھرنے والی قیادت کی ضرورت ہے خوف و دہشت پیدا کرنے والی نہیں!

مسلمانوں کو منصبوں میں رنگ بھرنے والی قیادت کی ضرورت ہے خوف و دہشت پیدا کرنے والی نہیں!

مسلمانوں کو منصبوں میں رنگ بھرنے والی قیادت کی ضرورت ہے خوف و دہشت پیدا کرنے والی نہیں!

✍️ ذوالقرنین احمد
9096331543

ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار کی ذمہ دار ایسی تنظیمیں اور جماعتیں بھی ہے جنہوں نے اپنے جلسوں، اجتماعات میں عوام و خواص میں صرف خوف، ناامیدی، وحشت کی نفسیات پیدا کرنے کا کام کیا ہے گزشتہ دو سے تین دہائیوں پر بھی اگر نظر ڈالی جائے تو ہم نے یہی سنا ہے کہ حالات مسلمانوں کے مخالف ہے مسلمانوں کو سنبھل کر رہنا چاہیے، مسلمانوں کی جان و مال عزتیں محفوظ نہیں ہیں، مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی جارہی ہیں، مسجدیں محفوظ نہیں، قانونی ترامیم کے ذریعے مسلمانوں کو حقوق سے محروم کرنے کی سازش ہورہی ہے، مذہبی منافرت پھیلا کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، مسلمان لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھانس کر مذہب تبدیل کروایا جارہا ہے، نوجوانوں کو ماب لنچنگ کا نشانہ بنایا جارہجارہا ہیں، اس طرح کی تقاریر اور بیانات ہمارے جلسوں میں سنائی دیتے ہیں۔ جو خطیب اور مقرر سب سے زیادہ خوف، دہشت، تشویش پیدا کرنے والا ہوں اسے باشعور اور بڑا مفکر سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے جو منفی اثرات مسلمانوں پر مرتب ہوئے ہیں کبھی ہمارے مقررین، واعظین نے اس پر غور و فکر نہیں کیا نا ہی اپنی تقریروں کو جائزہ لینا مناسب سمجھا، نا حالات کی تبدیلی پر غور کیا، کہیں ہماری تقریروں سے لوگوں کے دلوں میں بے بسی، ناامیدی، خوف، وحشت کا ماحول تو نہیں پیدا ہوچکا ہے اور یہی ہوا جس وقت کسی قوم پر حالات آتے ہیں وہ پست ہوتی ہے یا کسی معرکے میں کوئی گروہ کمزور ہونے لگتا ہے تو وہاں موجود قیادت، کمانڈر ان کے اندر حوصلہ ہمت اور جزبات ابھارنے کی کوشش کرتا ہے زندگی کی رمق باقی رکھنے کی کوشش کرتا ہے جیت حاصل کرنے کے خواب دکھاتا ہے اس کی حسین تعبیریں بیان کرتا ہے ناکہ ناامیدی اور دشمنوں کے خوف کے ذریعے ان کے ہمت و حوصلہ کو کمزور کرتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ملی مذہبی، سیاسی قیادتیں مسلمانوں کے اسٹیج سے مسلمانوں کے اندر حالات اور مصیبتوں کے باوجود زندہ رہنے اپنے حقوق کی بازیابی اپنے مذہبی شعائر کی حفاظت، اپنے نسلوں کے تحفظ، ترقی اور مستقبل کے لیے کیا کام کیا جائیں اس پر بات ہونی چاہیے، تنظیموں، جماعتوں کے مشورہ اور پروگرامز میں صرف جذباتی بیانات ،تقاریر، اور نعرہ بازیوں کے بجائے اپنے ذمہ داروں، ممبروں، کارکنان کو روڑ میپ کے تحت زمین پر اتار کر کام کرنے کے لیے دیے جائیں، نوجوانوں کو ساتھ لے کر قوم کے اندر ہمت و حوصلہ پیدا کرنے ان کے اندر زندگی کی رمق پیدا کرنے، خوف و دہشت کے ماحول سے نکالنے کی کوشش ہونی چاہیے، مسلمانوں کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے معاشی، تعلیمی ،اقتصادی، سیاسی، ترقی کے لیے منصوبہ بندی ہونی چاہیے ہر 3 مہینے یا 6 مہینے میں جو پروگرام ہوتے ہیں اس میں اپنے کارکنان سے ضلعی، تعلقہ صدور سے انھیں دیے گئے کام کے بارے میں سوالات کیے جائیں کہ جو کام دیا گیا تھا وہ زمیں پر اتر کیا گیا ہے یا نہیں یا صرف کاغذوں میں ہی خانہ پوری کی جارہی ہے۔ اگر وہ لوگ اہل نہیں ہیں تو قابل اعتماد نوجوانوں کو ذمہ داریاں سونپی جائے جو شخص مسلمانوں اجتماعی مفادات کے ساتھ دھوکہ دہی یا سمجھوتہ کرتا ہے اسے مسلمانوں کی قیادت کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے۔ ذمہ داریوں کا احساس اگر نہ ہو تو پھر بے حسی،ناکامی بذدلی، ذلت و رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنے والا، اگر قوم کو ہر محاذ پر مضبوط و مستحکم بنانا ہے تو منصبوں میں رنگ بھرنے والی قیادت ہونی چاہیے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے