امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن معاہدے کے خاتمہ کا اعلان کیا اور اسی کے ساتھ پھر جنگ شروع ہوگئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب میں ایران کے خلاف نئی کارروائیوں کا اعتراف کیا اور اس کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنابتایا تا کہ وہ آبنائے ہرمز پر بحری جہازوں پر حملےنہ کرسکے۔ اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکیوں نے اس بار لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں اورفضائی ڈرونز کے ساتھ پہلی مرتبہ ’سمندری ڈرونز‘ کا استعمال کیا۔ اس پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے اڈوں کو استعمال کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ اسی کے ساتھ سینٹکام نے یہ اعلان بھی کردیا کہ اس دوران ایران کے خلاف نئی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں۔ امریکی کارروائی پھر سے کب شروع ہوجائے یہ تو ٹرمپ بھی نہیں جانتے اس لیے کوئی اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ ویسے امریکیوں کے بقول آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کردیا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اب یہ دعویٰ بھی کردیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے اور اس پر ایران کنٹرول نہیں رکھتا۔‘ مزید یہ کہا گیا کہ ’امریکی افواج اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تعینات اور تیار ہیں تاکہ تجارتی جہاز آزادانہ طور پر آمد و رفت کر سکیں، باوجود اس کے کہ ایران اپنی بلاجواز جارحیت، ہراسانی، دھمکیوں اور یک طرفہ اعلانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔‘امریکی دعووں کے برخلاف ایران نے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے اتوار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ بحری تجارت کی اہم گزر گاہ آبنائے ہرمز تمام آمد و رفت کے لیے بند ہے۔ ویسے ایک بیان میں ٹرمپ نے تو یہ کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کا راستہ تمام جہازوں کے لیے کھلا ہے تاہم شپ ٹریکنگ پلیٹ فارم کپلر کے ڈیٹا کے مطابق گذشتہ روز صرف چھ جہاز بحری وہاں سے گزر سکے ہیں ممکن ہے وہ چین وغیرہ کی جانب ایران کی اجازت سے جانے والے جہاز ہوں۔ ایران کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت بند کیا گیا جب ایک جہاز غیر منظور شدہ راستے پر سفر کر رہا تھا اور اسے نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے خبردار کیا کہ اس واقعے کے جواب میں کی جانے والی کسی بھی کارروائی پر ’سخت ردعمل‘ دیا جائے گا۔
امریکی حملوں کے جواب میں ایران میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف ایک آپریشن کرچکا ہے جس میں میں اردن کے شہزادہ حسن ایئر بیس، بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس اور کویت میں دو فضائی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ جنگ کا چھُٹ پُٹ آغاز ہوچکا ہے۔ امریکہ کے اس اقدام کا پس منظر یہ ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں سفارت کاری کو موقع فراہم کرنے کے مقصد سے مذاکرات کی تکمیل کے لیے 60 روزہ جنگ بندی نافذ کی گئی ۔ ایران کے ساتھ امریکہ کے یہ بالواسطہ مذاکرات گذشتہ ہفتے کسی واضح پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے ۔ اس کے بعد اپنے دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’یا تو ہم معاہدہ کریں گے یا پھر کام تمام کر دیں گے۔‘ اس وقت ان کی زبان قابو میں تھی اس انہوں نے کہا تھا کہ ’کام تمام کرنا کوئی مشکل نہیں ہوگا۔ میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا، کیونکہ میں 9 کروڑ 10 لاکھ لوگوں کو متاثر نہیں کرنا چاہتا۔‘ اس کے جواب میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے ٹرمپ کے بیان کو ’وہم پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایرانی دھمکیوں کی زبان سے ناواقف نہیں ہیں۔ لہٰذا ایرانی عوام سے احترام کے ساتھ بات کریں، ورنہ ہم بھی دوسری زبان میں جواب دیں گے۔‘
ٹرمپ نے اپنے مخصوص دھمکی آمیز لہجے میں یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ’ہم ایک گھنٹے میں ان کے پل تباہ کر سکتے ہیں، ان کی توانائی کی فراہمی بند کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس اب کوئی پیسہ نہیں ہے، اور ہم نے انہیں کوئی رقم نہیں دی۔‘ ٹرمپ نے اس پر ایک ہفتے بعد عمل درآمد کرکے دکھا دیا کہ وہ اپنی حماقتوں کو عملی جامہ پہنانے میں پس و پیش نہیں کرتے۔امریکہ کا ایک طرف آبی گزرگاہ کی آزادی کا نعرہ لگانا اور دوسری جانب ایران کے اندر بمباری کرکے روس اور چین سے جوڑنے والے پل کو تباہ کر دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ کسی خود مختار ملک کی اپنی سرحدوں کے اندر اختیار عمل کو تسلیم کرنے کا بھی روادار نہیں ہے۔ امریکہ نے ایران کی لائف لائن سمجھے جانے والے اہم ریلوے پل پر حملہ کرکے ثابت کردیا کہ اس کی نیت و ارادے میں فتور ہے۔یہ ریلوے پل ایران کو اس کے دو سب سے بڑے اتحادیوں، چین اور روس سے جوڑتا ہے۔ یہ راستہ دونوں ممالک کے درمیان سامان کی ترسیل اور تجارت کے لیے ایک نہایت اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ایران نے اس حملے کو ایک نئی اور سنگین کشیدگی قرار دیا ہے کیونکہ اس کے ذریعے خطے کے سب سے بڑے تجارتی اور نقل و حمل کے راستوں میں سے ایک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایران کے مطابق یہ پل اس بڑے ریلوے نیٹ ورک کا حصہ ہے جو ایران کو ایشیا کے دیگر اہم ممالک سے جوڑتا ہے۔ اس کے ذریعے زمینی راستوں سے مشرق اور مغرب کے درمیان سامان کی نقل و حرکت اور تجارت آسان ہوتی تھی۔ اس لیے ایران کو رکاوٹ ڈالنے سے روکنا اور خود اس کے اندرگھس کر تجارتی شاہراہ کو مسدود کردینا کہاں کا انصاف ہے؟ اس ناانصافی قیمت امریکہ کو چکانی پڑے گی۔ ایرانی پاسدارن انقلاب نے خوزستان صوبہ پر ہونے والے امریکی فضائی حملہ میں پاسداران کے 3 اہلکاروں کی شہادت تسلیم کی ہے ۔ اسی کے ساتھ ایرانی بحری فوج نے وارننگ بھی دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مہم یا جہاز رانی میں مداخلت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایران کے مطابق غیر ملکیوں کو آبنائے ہرمز میں کوئی دلچسپی نہیں ہونی چاہیے اور اس نے آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے میں رکاوٹ کا الزام امریکہ کی فوجی مہم پر لگایا ۔
اس موقع پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر امریکہ کو اس علاقے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ امریکہ دراصل گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی فراہم کرنے والی بنیادی قوت رہا ہے۔ ایرانی انقلاب کو محدود کرکے عرب حکمرانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بہانے اس نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں، بحری بیڑوں، انٹیلی جنس نیٹ ورکس اور اسلحے کی فروخت کے ذریعہ اپنی برتری مسلط کردی مگر ایران اورامریکہ جنگ نے اس نظام کی دراڑ ڈال دی ۔ امریکہ کی نام نہاد عسکری قوت ایران کو جھکا کر اپنی مرضی کے مطابق نام نہاد پائیدار استحکام قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔اس جنگ کے دوران ٹرمپ سبھی سے مدد کی گہار لگائی مگر دنیا کا کوئی ملک اس کے ساتھ نہیں آیا۔ ایک طرف یوروپ اور دوسری جانب خلیجی ممالک کے تعاون سے انکارنے امریکہ کو اپنی کم مائیگی کا احساس دلا کر جنگ بندی اور سفارت کاری پر مجبور کردیا ۔ اس جنگ نے واضح کردیا کہ مغربی ایشیا میں دیرپا امن صرف فوجی طاقت نہیں بلکہ باہمی اعتماد و یکجہتی کے ذریعہ ہی قائم ہوگا ۔خلیجی ممالک کے اندر پیدا ہونے والا یہ احساس امریکی موجودگی جڑ کاٹتا ہے ۔
امریکی اڈوں پر ہونے والے ایرانی حملےیہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ بے ضرر کھلونے جو خود اپنی حفاظت نہیں کرسکتے وہ بھلا دوسروں کے کس کام آئیں گے ۔ اس لیے اب ایران کے ساتھ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کو تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود مل بیٹھ کر مشترکہ آبی راستوں ، توانائی کا بنیادی ڈھانچوں اور تجارتی گزرگاہوں کی سکیورٹی کا انتظام بیرونی مداخلت کے بغیر باہمی تعاون و اشتراک سے کرنا ہوگا۔ فریقین کے لیے لازمی ہے کہ وہ پائیدار امن و استحکام کی خاطر آپس میں ایک دوسرے کو حریف کے بجائے حلیف سمجھیں ۔فی الحال سعودی عرب و قطر ،ایران اور جی سی سی کے درمیان بات چیت کے حامی ہیں۔ یہ بیل اگر پروان چڑھ جائے توایران کا بہت بڑا مسئلہ ہوجائے گا کیونکہ تہران خلیج میں امریکہ کی وسیع فوجی موجودگی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ سمجھتا ہے۔ اس لیے اگر نیا سکیورٹی ڈھانچہ بن جائے تو اسرائیل کے ساتھ ابراہم معاہدہ اپنی موت مرجائے گا کیونکہ بیک وقت ایران اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال رکھنا ناممکن ہے ۔ یہی اندیشے امریکی صدر کو بار بار اپنا موقف بدلنے پر مجبور کردیتے ہیں لیکن اب مسلم ممالک پریہ حقیقت منکشف ہو چکی ہے کہ؎
ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشیدِ مبیں
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے