اللہ تبارک و تعالی ساری کائنات کے خالق و مالک ہیں اسی نے ہم سب کو اپنے فضل وکرم سے ان گنت و بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن کا احصاء واحاطہ ناممکن ہے کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے اللہ تبارک و تعالی کی جانب سے انسانوں کو عطاء ہونے والی نعمتوں کی کوئ حد نہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اس قدر نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہ ساری کائنات مل کر اس کو شمار کرنا چاہے تو شمار نہیں کر سکتی۔یہ بات اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں خود فرمائی ہے:
وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا(سورہ ابراہیم)
اگرتم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایمان علم صحت تندرستی اعضاءکی سلامتی اور عقل جیسی بیش بہا نعمتوں سے نوازا اس کے علاوہ کائنات کے نظام بدلتےموسم ہوا پانی بارش اناج وغیرہ کو بھی انسان کی بقاء کے لئے بنایا ان نعمتوں میں ایک بڑی نعمت آسمان سے بارش کا نزول بھی ہے جس کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں میں سے بھی بتایا بارش صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ روئے زمین پر بسنے والی تمام مخلوقات کے لیے ایک بڑی نعمت اور ان کی حیات و بقاء کا اہم ترین ذریعہ ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بارش کو اپنی قدرت کے نشانیوں میں سے بتایا ہے
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ الۡفُلۡکِ الَّتِیۡ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪ وَّ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿سورہ بقرہ﴾
ترجمہ:
بیشک آسمان اور زمین کی تخلیق میں رات دن کے لگاتار آنے جانے میں اور ان کشتیوں میں جو لوگوں کے فائدے کا سامان لیکر سمندر میں تیرتی ہیں اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا اور اس کے ذریعے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشی اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے، اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع دار بن کر کام میں لگے ہوئے ہیں، ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہی نشانیاں ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں
آیت شریفہ میں اللہ تبارک و تعالی نے توحید باری تعالی کے اثبات میں اور قدرت الہی کی نشانیوں میں سے چوتھی نشانی کے طور پر آسمان سے بارش کے نزول کو بیان کیا جس صاف معلوم ہوتا ہے کہ بارش اس کرہ ارض پر بسنے والی تمام مخلوقات کے لیے تحفہ خداوندی
قران مجید نے اللہ تعالی کی جن نعمتوں کا بارہا ذکر کیا ہے ان میں پانی کا بھی ذکرموجود ہے بلکہ فرمایا ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی ہی سے پیدا کیا ہے
وَ جَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ (الأنبیاء)
اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی کا مدار تو پانی پر ہے جتنے بھی ذی روح جانور ہیں ان کی زندگی کا بقاء بھی پانی ہی پر منحصر ہے
ایسے ہی قران کریم کے دیگر مقامات پر اللہ تبارک و تعالی نے بارش کے تعلق سے فرمایا
وَ ہُوَ الَّذِیۡ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا قَنَطُوۡا وَ یَنۡشُرُ رَحۡمَتَہٗ ؕ وَ ہُوَ الۡوَلِیُّ الۡحَمِیۡدُ (شوری)
ترجمہ:
اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی ہے جو سب کا کارساز ہے قابل تعریف ہے
یوں تو عادت اللہ اور قدرت کا نظام یہی ہے کہ جب زمین کو پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے اللہ تبارک وتعالی آسمان سے بارش نازل فرماتے ہیں لیکن یہاں” نا امید ہو جانے” کا لفظ ارشاد فرما کر اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ کبھی کبھی باری تعالی بارش برسانے میں عام عادت کے خلاف اس قدر تاخیر کر دیتے ہیں کہ لوگ نا امید ہونے لگتے ہیں اس سے آزمائش کے علاوہ اس بات پر تنبیہ مقصود ہوتی ہے کہ بارش اور قحط سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے جب وہ چاہتا ہے لوگوں کی بد اعمالیوں کے سبب بارش کو روک لیتا ہے تاکہ لوگ اس کی رحمت کی طرف متوجہ ہو کر اس کے سامنے عجز و نیاز کا مظاہرہ کریں ورنہ اگر بارش کا بھی کوئی لگا بندھا وقت ہوتا جس سے کبھی سرمو انحراف نہ ہو تو لوگ اسے ظاہری اسباب کے تابع سمجھ کر اللہ کی قدرت سے بے توجہ ہو جاتے (معارف القرآن)
بارش کا نزول یہ ایک نعمت خداوندی ہے اور اللہ تبارک و تعالی کے قبضہ قدرت میں ہے جب جب روئے زمین پر ظلم و فساد عام ہوگا اور اللہ تعالی کی نافرمانی عام ہوگی اور لوگ کثرت سے گناہوں میں مبتلا ہوں گے تو لوگ آسمانی آفتوں اور مصیبتوں کا شکار ہوجائیں گے بارش کا نازل نہ ہونا یا کم مقدار میں ہونا یہ بھی اللہ تعالی کی ناراضگی کی ایک علامت ہے اور ہمارے بداعمالیوں کا نتیجہ ہےحدیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس قوم پر اللہ عذاب بھیجنا چاہے تو بارش کو روک دیتا ہے۔” (مسند احمد)
اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر ہم اپنی زندگیوں کو نیک اعمال سے نہیں سنواریں گے ، تو اللہ تعالیٰ ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے اپنی نعمتوں کو روک دیتے ہیں ۔ ایسے موقع پر ہمیں دعا کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
اس طرح حدیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
جب لوگ زکوٰۃ روک لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے بارش کو روک لیتے ہیں اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو اسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا (ابن ماجہ)
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے کے اندر زکوۃ نکالنے والے افراد کی تعداد کم ہے اور جو لوگ زکوٰۃ نکالتے بھی ہیں تو مکمل حساب کے ساتھ زکوۃ نہیں نکالتے اگر تمام صاحب نصاب مسلمان اپنی پوری زکوۃ ادا کریں تو اس ملک کا کوئی مسلمان بھوکا نہیں رہ سکتا اس لیے اپنے مالوں کا صحیح حساب کر کے مکمل زکوۃ ادا کرنے کی کوشش کریں اور پہلا مرحلہ یہی ہے کہ ہم اپنا احتساب کریں اور انفرادی طور پر خوب توبہ اور استغفار کریں اس لیے کہ قرآن میں خود اللہ تبارک و تعالی نے استغفار کرنے کا حکم دیا جس کا فائدہ یہ بتایا گیا کہ خوب بارش ہوگی چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا یُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا(النوح)
ترجمہ:
اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو، یقین جانو وہ بہت بخشنے والا ہے وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس چند لوگ مختلف شکایات لے کر آئے ان میں سے ایک شخص نے قحط سالی کی شکایت کی دوسرے نے فقر و فاقہ کی شکایت کی تیسرے نے فصل خشک ہوجانے کی شکایت کی اور چوتھے نے بیٹے کی خواہش کی ۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نےان سب سے مذکورہ بالا آیت مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تم سب کثرت سے استغفار کرو ۔ اس سے اللہ تعالیٰ ہم پر بارش بھی نازل فرمائے گا اور مال میں اضافہ فرمائے گا ۔ کھیتی بھی اگائے گا اور بیٹوں کے ذریعہ سے تمہاری مدد فرمائے گا ۔
دوسرا مرحلہ رجوع اللہ کا اور نماز استسقاء کا موقع ہے اس لیے کہ نماز اللہ تبارک و تعالی سے لینے کا بہترین ذریعہ ہے قران مجید میں اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ (البقرہ)
ترجمہ:
اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کے اس ارشاد کو عملی سانچے میں ڈھالا اور ہر ضرورت کے وقت آپ نے صحابہ کو نماز سکھائی کسی کو خوشی کا موقع مل جائے تو نماز شکر کسی مسلمان کا انتقال ہو جائے تو نماز جنازہ کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو نماز توبہ کسی معاملے میں خیر و شر سمجھ میں نہ آئے تو نماز استخارہ سورج گرہن ہو تو نماز کسوف چاند گرہن ہو تو نماز خسوف کوئی ضرورت درپیش ہو تو نماز حاجت اسی طرح اگر بارش رک جائے تو نماز استسقا کا بھی حکم دیا
نماز استسقاء قحط سالی اور بارش کی شدید قلت کے وقت اللہ تعالی سے رحمت کی بارش طلب کرنے کے لیے ایک مستحب نماز ہے جس کو نہایت عاجزی و انکساری توبہ و استغفار کے ساتھ کھلے میدان یا عید گاہ میں ادا کرنے کا حکم ہے جس کے لئے امام لوگوں کے لئےکوئ دنمتعین کرے اور اس دن کھلے میدان عید گاہ پہنچ کر دو رکعت نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائے جس میں بلند آواز سے قرات کرے نماز کے بعد زمین پر کھڑے ہو کر اور عصا کا سہارا لے کر عید کی طرح دو خطبے دے یہ رائے فقہاء احناف میں امام محمد رحمہ اللہ کی ہے اور اسی پر فتوی ہے اس خطبے میں زیادہ تر استغفار کے کلمات کہے کیونکہ موقع اللہ تعالی سے استغفار کا ہے اور خطبے کی ابتدا میں چادر پلٹے یہ چادر پلٹنا گویا زبان حال سے اللہ کے سامنے اپنی عرضی داشت پیش کرنا ہے کہ قحط کی حالت کو اسی طرح بدل دیجیے پھر قبلہ رو کھڑے ہو کر خوب گڑگڑا کر دعا مانگے اورمقتدی حضرات بیٹھ کر آمین کہیں اگر بارش نہ ہو تو مسلسل تین دن تک نماز ادا کی جائے ، استسقا کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف دعائیں منقول ہے
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ دعا سکھائی:*
اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا
جس کا ترجمہ ہے اے اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، ہمیں بارش عطا فرما، ہمیں بارش عطا فرما (صحیح بخاری)
یہ دعا اللہ تعالیٰ کی رحمت کو طلب کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ہمیں یہ دعا کثرت سے کرنی چاہئے اور دعا کے ساتھ ہمیں دل کی گہرائی سے توبہ اور استغفار کرنا چاہیے تاکہ ہماری دعا قبول ہو
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لیے اس دعا کا بھی اہتمام فرمایا ہے
اَللّٰھُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مُّغِیْثًا مَّرِیْئًا مَّرِیْعًا نَّافِعًاغَیْرَ ضَآرٍّ عَاجِلًا غَیْرَ اٰجِلٍ
جس کا ترجمہ یہ ہے اے اللہ! ہمیں پانی پلا، ہم پر ایسی بارش نازل فرما جو ہماری تشنگی بجھا دے، جس کا انجام اچھا ہو، جس سے ارزانی ہو جائے، جو نفع پہنچانے والی ہو، نقصان پہنچانے والی نہ ہو، جلدی آنے والی ہو، دیر میں آنے والی نہ ہو(ابو داؤد)
اَللّٰھُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَ بَھَآئِمَكَ وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ وَاَحْیِ بَلَدَكَ الْمَیِّتَ
جس کا ترجمہ یہ ہے اے اللہ اپنے بندوں اور اپنے جانوروں کو پانی پلا، اپنی رحمت کو پھیلا دے اور اپنی مُردہ زمین کو زندہ کر دے( ابو داؤد)
یہ دعا ئیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو طلب کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ہمیں کثرت کے ساتھ یہ دعائیں کرنی چاہئیں اور دعا کے ساتھ ہمیں دل کی گہرائیوں سے توبہ اور استغفار کرنا چاہیے تاکہ ہماری دعا قبول ہوسکے