موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں۔۔
کرناٹک میں یس آئی آر: مایوس نہ ہوں، بیدار رہیں!
ازقلم: ایڈوکیٹ طاہر حسین
کرناٹک میں ووٹر لسٹوں کی درستگی اور جانچ پڑتال کے لیے جاری "اسپیشل انٹینسو ریویژن”نے اس وقت ریاست بھر میں ایک ہلچل مچا رکھی ہے۔ ناموں کا کٹنا، غلطیوں کا سامنے آنا اور دستاویزات کی مانگ نے ہر عام و خاص کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ لیکن اس تشویش کے دوران سب سے اہم بات جو ہم سب کو سمجھنی ہے وہ یہ ہے کہ ‘یہ کسی ایک قوم، کسی ایک مذہب یا کسی ایک مخصوص طبقے کا مسئلہ نہیں ہے۔’
یہ ایک انتظامی اور تکنیکی مہم ہے جس کی زد میں ہر وہ شہری آیا ہے جس کے دستاویزات یا اندراج میں کوئی کمی تھی۔ اس لیے سب سے پہلے اپنے دلوں سے یہ خوف نکال دیں کہ کسی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جب پڑھے لکھے، بااثر اور ہر مذہب کے لوگ پریشان ہیں: چند سچی مثالیں
اس مہم کے دوران سامنے آنے والے چند واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ امیر، غریب، پڑھے لکھے اور ان پڑھ، سب کے لیے یکساں ہے:
سابق ہائی کورٹ جج کی تشویش: ریاست کے ایک سابق ہائی کورٹ کے جج (جو قانون کے سب سے بڑے محافظوں میں سے ہیں) نے خود اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ جب انہوں نے رابطہ کیا، تو قانون کے دائرے میں رہ کر ان کے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں ان کی رہنمائی کی گئی۔
پولیس اہلکار کا فون: محکمہ پولیس کے ایک فرض شناس اہلکار نے خود فون کر کے اس مہم کے حوالے سے اپنی پریشانی کا اظہار کیا اور اپنے مسئلے کا ذکر کیا۔ انہیں بھی اس کا قانونی اور درست حل بتایا گیا۔
عیسائی برادری کے بزرگ کا تاثر: ایک مقام پر جب بیداری کا پروگرام اختتام پذیر ہوا، تو ‘عیسائی مذہب کے ایک معمر (بزرگ) شخص’ آگے بڑھے، انہوں نے محبت سے گلے لگایا اور جذباتی ہو کر کہا: "ہمیں بھی ایسی ہی معلومات اور رہنمائی کی اشد ضرورت تھی…” ان کے یہ الفاظ یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ اس وقت ہر مذہب کا شہری پریشان ہے اور اسے صحیح رہنمائی کا انتظار ہے۔
ہنسور کے آدیواسیوں کی جدوجہد: میسور ضلع کے ہنسور تعلقہ میں تقریباً ۲۳ ایسے دیہات ہیں جہاں آدیواسی (قبیلے کے لوگ) بستے ہیں۔ ان غریب اور معصوم لوگوں کے پاس تو بنیادی دستاویزات (کاغذات) تک موجود نہیں ہیں اور وہ شدید پریشان ہیں۔ ان سے رابطہ کرکے ان کی ان کی بھی رہنمائیکی جا رہی ہے۔
الغرض چاہے کوئی جج ہو یا پولیس والا، پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ، غریب ہو یا امیر، مسلمان ہو، ہندو، دلت، عیسائی ہو یا آدیواسی—یہ مسئلہ اس وقت کرناٹک کے ہر شہری کا ہے۔ جب یہ تکلیف سب کی ہے، تو ہمیں مل کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہوگا اور اس کا سامنا کرنا ہوگا۔
سوشل میڈیا کے طوفان اور افواہوں سے بچیں!
آج کے دور میں سب سے بڑا فتنہ اور خوف پھیلانے کا ذریعہ سوشل میڈیا بن چکا ہے۔
یوٹیوب اور ریلز (Reels) کے اثر سے بچیں: ویوز (Views) حاصل کرنے اور سنسنی پھیلانے کے لیے یوٹیوب اور ریلز پر خوفناک تھمب نیل اور سنسنی خیز ویڈیوز بنائی جاتی ہیں جو لوگوں کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیتی ہیں۔ ان سنسنی خیز اور گمراہ کن ویڈیوز کو دیکھ کر اپنے ذہن پر خوف مسلط نہ کریں۔
افواہوں پر کان نہ دھریں:جب تک کسی خبر کی سرکاری سطح پر یا معتبر ذرائع سے تصدیق نہ ہو جائے، اس پر یقین نہ کریں اور نہ ہی اسے آگے شیئر کریں۔
مایوسی کی ضرورت نہیں: یہ گھڑی بھی ٹل جائے گی!
ایک پکا یقین رکھیں: کوئی بھی مشکل وقت مستقل نہیں ہوتا۔ اگر آج ووٹر لسٹ کی درستگی کا یہ کڑا وقت سامنے آیا ہے، تو یہ گھڑی بھی ٹل جائے گی۔ ہمیں مایوس ہونے یا ہمت ہارنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوموں پر ایسے صبر آزما مراحل آئے، انہوں نے عقل، اتحاد اور بیداری سے ان پر قابو پایا۔
اب ہمیں کیا کرنا ہے؟ (عملی اقدامات)
خوفزدہ ہونے کے بجائے ہمیں ان تین باتوں پر عمل کرنا ہے:
1. اطمینان اور سکون قائم رکھیں: گھبراہٹ میں انسان ہمیشہ غلط فیصلے کرتا ہے۔ پرسکون رہیں، اپنے پڑوسیوں اور برادری کے لوگوں کو بھی تسلی دیں اور ان کا حوصلہ بڑھائیں۔
2.بیدار اور چوکنا رہیں: اپنے علاقے میں آنے والے بی ایل او (BLO) یا مہم کے کارندوں پر نظر رکھیں۔ اپنے گھر کے ہر فرد کا نام ووٹر لسٹ میں چیک کریں اور تصدیق کریں۔
3.ضروری کاغذات تیار رکھیں: اپنے تمام بنیادی دستاویزات جیسے برتھ سرٹیفکیٹ ، اسکول کی ٹی سی،مارکس کارڈ ،پاسپورٹ ،زمین کے کاغذات وغیرہ کو ترتیب سے تیار رکھیں۔ اگر ناموں میں ہجے (Spelling) کی کوئی غلطی ہے، تو اسے ابھی سے درست کرانے کی کوشش شروع کریں۔
اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔ اگر آپ پڑھے لکھے ہیں، تو اپنے آس پاس کے ان پڑھ، غریب، آدیواسی یا کسی بھی دوسرے مذہب کے بھائیوں کی مدد کریں جنہیں فارم بھرنے یا دستاویزات سمجھنے میں دشواری ہو رہی ہے۔
ہمت رکھیں، بیدار رہیں اور اپنی شہریت کے سب سے بڑے حق یعنی "ووٹ” کو ہر حال میں محفوظ بنائیں۔ فتح ہمیشہ بیداری، بھائی چارے اور صبر کی ہوتی ہے!۔