تعلیم گاہ یا عدمِ تحفّظ؟ امائرہ کا سانحہ

تعلیم گاہ یا عدمِ تحفّظ؟    امائرہ کا سانحہ

تعلیم گاہ یا عدمِ تحفّظ؟
امائرہ کا سانحہ

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

کسی بھی مہذب معاشرے میں اسکول محض تعلیم گاہ نہیں ہوتے بلکہ وہ بچّوں کے لیے تحفّظ، اعتماد، شخصیت سازی اور مستقبل کی تعمیر کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ والدین اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اس یقین کے ساتھ تعلیمی اداروں کے سپرد کرتے ہیں کہ وہاں انہیں علم کے ساتھ ساتھ محفوظ اور باوقار ماحول بھی میسر آئے گا۔ اگر یہی ادارے کسی بچّے کے لیے خوف، تنہائی اور عدمِ تحفّظ کی علامت بن جائیں تو یہ صرف ایک خاندان کا سانحہ نہیں رہتا بلکہ پورے تعلیمی نظام، اس کی اخلاقی بنیادوں اور انتظامی ذمّہ داری پر ایک گہرا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

راجستھان کے شہر جے پور کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں نو سالہ امائرہ کی المناک موت کا معاملہ بھی ایسے ہی بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ گزشتہ برس پیش آنے والے اس واقعے کے بعد امائرہ کے والدین مسلسل انصاف، شفاف تحقیقات اور جواب دہی کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان کی بیٹی کی موت محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی غفلت اور مسلسل ناکامیوں کا نتیجہ تھی۔ ان کے مطابق ایک سال گزر جانے کے باوجود نہ کسی ذمّہ دار شخص کی گرفتاری عمل میں آئی اور نہ ہی کسی انتظامی اہلکار کے خلاف مؤثر تادیبی کارروائی کی گئی۔

حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج کے بارے میں مختلف میڈیا رپورٹس اور اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ اس سے واقعے کے کئی نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق امائرہ کو بعض ہم جماعتوں کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے اور ایسے تمسخر کا سامنا تھا جس میں نامناسب اور جنسی مفہوم رکھنے والے جملے بھی شامل تھے۔ مزید یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ اس نے کئی مرتبہ اپنی استاد سے مدد طلب کرنے کی کوشش کی، لیکن اسے مطلوبہ توجہ اور تحفّظ فراہم نہ کیا گیا۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ محض چند بچّوں کی شرارت کا معاملہ نہیں بلکہ تعلیمی ادارے کے حفاظتی، اخلاقی اور انتظامی نظام کی سنگین ناکامی قرار پائے گا۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں امائرہ کو شدید ذہنی اضطراب کی حالت میں اسکول کی مختلف منزلوں پر اکیلے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جب کہ اس دوران کسی استاد یا عملے کے رکن کی جانب سے اس کی کیفیت جاننے یا اسے روکنے کی کوئی مؤثر کوشش نظر نہیں آتی۔ اگر تحقیقات ان مشاہدات کی تصدیق کرتی ہیں تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ ایک کم سن بچی اس قدر پریشان حالت میں پورے تعلیمی احاطے میں گھومتی رہی، مگر کسی بالغ ذمّہ دار فرد نے اس کی طرف فوری توجہ کیوں نہیں دی؟

اس معاملے میں ایک اور حساس پہلو بھی زیرِ بحث آیا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق بعد ازاں یہ تاثر دیا گیا کہ امائرہ جذباتی طور پر کمزور تھی یا وہ اپنے والدین کے مبینہ ازدواجی اختلافات سے متاثر تھی۔ تاہم اہلِ خانہ ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس طرح کی باتیں اصل انتظامی ذمّہ داریوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ یہ معاملہ تحقیقاتی اداروں اور عدالت کے لیے طے کرنا ہے کہ حقیقت کیا ہے، مگر اصولی طور پر کسی بھی بچّے کی شخصیت یا خاندانی حالات کو اس وقت تک کسی سانحے کی بنیادی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک اس کے واضح اور قابلِ اعتماد شواہد موجود نہ ہوں۔

یہ واقعہ ایک وسیع تر سماجی مسئلے کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ دنیا بھر میں اسکولی بُلنگ (Bullying) کو بچّوں کی ذہنی صحت، خود اعتمادی اور تعلیمی کارکردگی کے لیے ایک سنگین خطرہ تسلیم کیا جا چکا ہے۔ ماہرینِ تعلیم اور ماہرینِ نفسیات کے مطابق اگر مسلسل ہراسانی کو بروقت نہ روکا جائے اور متاثرہ بچّے کو فوری جذباتی و نفسیاتی سہارا نہ دیا جائے تو اس کے نہایت سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اسی لیے جدید تعلیمی نظام میں اینٹی بُلنگ پالیسی، کونسلنگ، اساتذہ کی تربیت، بچّوں کی شکایات کے مؤثر نظام اور والدین کے ساتھ مسلسل رابطے کو ناگزیر تصور کیا جاتا ہے۔

دنیا کے متعدد ممالک، خصوصاً برطانیہ، فن لینڈ، آسٹریلیا اور دیگر ترقی یافتہ تعلیمی نظام رکھنے والی ریاستوں میں اسکولوں کے لیے اینٹی بُلنگ پالیسی محض ایک انتظامی ہدایت نہیں بلکہ قانونی اور اخلاقی ذمّہ داری کا درجہ رکھتی ہے۔ ان پالیسیوں کے تحت ہراسانی یا بُلنگ کی ہر شکایت کو باقاعدہ طور پر تحریری ریکارڈ کا حصّہ بنایا جاتا ہے، اس کی فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جاتی ہیں، والدین کو بروقت آگاہ کیا جاتا ہے، متاثرہ طالب علم کو نفسیاتی اور جذباتی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جب کہ قصوروار افراد کے خلاف واضح اور مؤثر تادیبی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ متعدد بین الاقوامی تحقیقات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جب تعلیمی ادارے ایسے منظم، شفاف اور جواب دہ نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کرتے ہیں تو اسکولی بُلنگ، تشدّد اور ہراسانی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے، اور طلبہ کے لیے زیادہ محفوظ، پُرامن اور اعتماد بخش تعلیمی ماحول تشکیل پاتا ہے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق مسلسل تمسخر، سماجی تنہائی، دھمکی آمیز رویے اور جذباتی ہراسانی بچوں کی ذہنی و جذباتی صحت پر گہرے اور دیرپا منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ایسے تجربات نہ صرف شدید اضطراب، خوف، احساسِ محرومی اور خود اعتمادی میں کمی کا سبب بنتے ہیں بلکہ ان کے نتیجے میں تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، سماجی روابط کمزور پڑ جاتے ہیں اور بعض سنگین صورتوں میں خود کو نقصان پہنچانے جیسے خطرناک خیالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ تعلیمی نظاموں میں بچّوں کی ذہنی صحت کو تعلیمی عمل کا لازمی جزو تصور کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسکولوں میں تربیت یافتہ اساتذہ، پیشہ ورانہ صلاحیت رکھنے والے اسکول کونسلرز، ماہرینِ نفسیات اور مؤثر معاونتی نظام کو ادارہ جاتی ڈھانچے کا مستقل حصّہ بنایا جاتا ہے، تاکہ کسی بھی بچے میں ذہنی دباؤ، ہراسانی یا نفسیاتی بحران کی ابتدائی علامات بروقت شناخت کی جا سکیں اور مناسب رہنمائی و معاونت کے ذریعے کسی ممکنہ سانحے سے پہلے ہی مؤثر تدارک کیا جا سکے۔

جدید قانونی اور انتظامی فکر میں ادارہ جاتی جواب دہی (Institutional Accountability) ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تصور کے مطابق اگر کسی ادارے کی نگرانی، حفاظتی انتظامات، داخلی نظم یا شکایات کے ازالے کے نظام میں ایسی کوتاہی ثابت ہو جائے جس کے نتیجے میں کسی فرد کو شدید جسمانی، ذہنی یا جانی نقصان پہنچے، تو ذمّہ داری محض کسی ایک ملازم یا اہلکار تک محدود نہیں رہتی، بلکہ پورے ادارہ جاتی ڈھانچے، انتظامی پالیسیوں اور نگرانی کے نظام کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر دنیا کے متعدد ممالک میں اس نوعیت کے واقعات کے بعد آزادانہ تحقیقات، حفاظتی انتظامات کا جامع آڈٹ، انتظامی ذمّہ داریوں کا تعین اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے پالیسیوں اور طریقۂ کار میں ضروری اصلاحات کو ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔

اس کا بنیادی مقصد صرف ذمّہ دار افراد کا تعین کرنا نہیں بلکہ ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کرکے ایسا محفوظ نظام قائم کرنا بھی ہوتا ہے جو مستقبل میں کسی دوسرے بچّے یا فرد کو اسی نوعیت کے خطرات سے محفوظ رکھ سکے۔ اس سانحے نے یہ سوال بھی پیدا کر دیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی جواب دہی کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ کیا صرف تعلیمی نتائج کسی اسکول کی کامیابی کا پیمانہ ہیں، یا بچّوں کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی سلامتی بھی اتنی ہی بنیادی ذمّہ داری ہے؟ اگر کسی ادارے میں حفاظتی انتظامات، نگرانی کا نظام یا شکایات کے ازالے کا طریقۂ کار مؤثر نہ ہو تو اس کی انتظامیہ کو کس حد تک جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے؟ یہ سوالات صرف ایک اسکول تک محدود نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے اہم ہیں۔

امائرہ کے والدین کی جدوجہد محض اپنی بیٹی کے لیے انصاف کی تلاش نہیں بلکہ ہر اس بچّے کے محفوظ مستقبل کی آواز بھی ہے جو روزانہ اعتماد کے ساتھ اسکول کی دہلیز پار کرتا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ انجام پائیں، ذمّہ داری جہاں بھی ثابت ہو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، اور ایسے مؤثر اصلاحی اقدامات کیے جائیں کہ کسی دوسرے خاندان کو اس نوعیت کے ناقابلِ تلافی سانحے سے نہ گزرنا پڑے۔ یہ مقدمہ صرف ایک بچّی کی المناک موت کا نہیں بلکہ اس اصول کا امتحان ہے کہ کیا ہمارے تعلیمی ادارے واقعی بچّوں کے لیے محفوظ مقامات ہیں، اور کیا کسی بچّے کی جان کے ضیاع کے بعد ریاست، قانون اور ادارے سچائی تک پہنچنے، جواب دہی قائم کرنے اور انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب تک ان سوالات کے شفاف اور قابلِ اعتماد جواب سامنے نہیں آتے، امائرہ کا نام صرف ایک معصوم بچّی کی یاد ہی نہیں بلکہ بچّوں کے تحفّظ، ادارہ جاتی ذمّہ داری اور انصاف کی مسلسل تلاش کی علامت بھی بنا رہے گا۔

امائرہ کا سانحہ صرف افسوس اور تعزیت کا متقاضی نہیں بلکہ یہ پورے تعلیمی نظام کے لیے سنجیدہ خود احتسابی اور مؤثر اصلاحات کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ اگر تعلیمی اداروں کو حقیقی معنوں میں بچّوں کے لیے محفوظ، باوقار اور اعتماد بخش ماحول فراہم کرنا ہے تو چند بنیادی اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر نافذ کرنا ناگزیر ہے۔ ہر اسکول میں واضح، مؤثر اور قابلِ عمل اینٹی بُلنگ پالیسی مرتب کی جائے، جس پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ طلبہ کے لیے شکایات درج کرانے کا ایسا محفوظ، خفیہ اور قابلِ اعتماد نظام قائم کیا جائے جہاں وہ بلا خوف اپنی مشکلات بیان کر سکیں۔ اساتذہ، انتظامیہ اور دیگر عملے کی باقاعدہ تربیت کی جائے تاکہ وہ بُلنگ، ذہنی دباؤ اور نفسیاتی بحران کی ابتدائی علامات کو بروقت پہچان سکیں اور مناسب انداز میں ان سے نمٹ سکیں۔

اسی طرح ہر تعلیمی ادارے میں تربیت یافتہ ماہرِ نفسیات یا اسکول کونسلر کی دستیابی کو انتظامی ڈھانچے کا لازمی حصّہ بنایا جائے تاکہ متاثرہ بچّوں کو فوری جذباتی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جا سکے۔ حفاظتی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے سی سی ٹی وی نگرانی کے واضح ضابطے، حساس مقامات کی مسلسل نگرانی اور ہنگامی صورتِ حال میں فوری کارروائی کا مربوط نظام بھی قائم کیا جانا چاہیے۔ والدین اور اسکول کے درمیان مسلسل، شفاف اور مؤثر رابطے کا ایسا طریقۂ کار اختیار کیا جائے جس کے ذریعے بچّوں کی تعلیمی، نفسیاتی اور سماجی کیفیت سے متعلق معلومات بروقت ایک دوسرے تک پہنچ سکیں۔ اور اگر کسی ادارے میں کوئی سنگین واقعہ پیش آئے تو اس کی آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کے ذریعے نہ صرف ذمّہ دار افراد کا تعین کیا جائے بلکہ ادارہ جاتی خامیوں کی اصلاح کو بھی یقینی بنایا جائے، تاکہ مستقبل میں کسی دوسرے بچّے یا خاندان کو ایسے ناقابلِ تلافی سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اسلام نے بچّوں کو محض خاندان کی ذمّہ داری نہیں بلکہ پوری سوسائٹی کی امانت قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا۔ "بے شک اللّٰہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ” (سورۃ النساء: 58)۔ بچّے بھی ان عظیم امانتوں میں شامل ہیں جن کی حفاظت، تربیت اور عزّت کی ذمّہ داری والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ، تعلیمی اداروں، انتظامیہ اور ریاست پر بھی عائد ہوتی ہے۔ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ”۔ "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔

یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ذمّہ داری صرف اختیار کا نام نہیں بلکہ جواب دہی کا بھی نام ہے۔ ایک استاد اپنی کلاس کے بچوں کا نگہبان ہے، ایک منتظم اپنے ادارے کا، اور ریاست اپنے شہریوں کی حفاظت کی ذمّہ دار ہے۔ اگر کسی معصوم بچّے کی فریاد سننے والا کوئی نہ ہو، اس کے خوف کو محسوس کرنے والا کوئی نہ ہو، یا اس کی حفاظت میں غفلت برتی جائے، تو یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ایک ایسی اخلاقی اور دینی ذمہ داری سے غفلت ہے جس کے بارے میں انسان کو ایک دن اللّٰہ تعالیٰ کے حضور جواب دینا ہوگا۔ امائرہ کا سانحہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی اصل عظمت صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید سہولیات یا شاندار نتائج میں نہیں بلکہ اس اطمینان میں ہے کہ ہر بچّہ وہاں خود کو محفوظ، محترم اور قابلِ قدر محسوس کرے۔ جس معاشرے میں ایک معصوم بچّہ خوف کے ساتھ تعلیم حاصل کرے، وہاں ترقی کے تمام دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ اس سانحے کو محض ایک افسوسناک خبر سمجھ کر فراموش نہ کر دیا جائے، بلکہ اسے ایک بیداری، ایک اجتماعی محاسبے اور ایک اصلاحی تحریک کا نقطۂ آغاز بنایا جائے۔ انصاف صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں، بلکہ ایسا نظام قائم کرنے کا بھی نام ہے جس میں کسی دوسرے بچّے کو دوبارہ ایسی آزمائش سے نہ گزرنا پڑے۔ اللّٰہ تعالیٰ امائرہ پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے، اس کے والدین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور معاشرے، تعلیمی اداروں اور اربابِ اختیار کو یہ توفیق دے کہ وہ ہر بچّے کی جان، عزّت، ذہنی سلامتی اور مستقبل کو ایک مقدس امانت سمجھتے ہوئے اپنی ذمّہ داریاں پوری کریں۔ یہی اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے، یہی انسانیت کا مطالبہ ہے، اور یہی ایک مہذب معاشرے کی حقیقی شناخت بھی۔
🗓️ (13.07.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے