ہندوستان کے خارجی امورمیں اس ہفتے بڑا دھماکہ اس وقت ہوا جب دہلی میں بیٹھ کر شیخ حسینہ واجد نے ورچوئل پریس کانفرنس کے ذریعہ بنگلہ دیش واپس جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے بدھ( 6 ؍اگست 2026) کے دن دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماہِ دسمبر میں وطن واپس لوٹیں گی۔ انہوں نے اس کا یہ جواز پیش کیا کہ بنگلہ دیش میں "جمہوریت اور انصاف کی بحالی” کے لیے وہ گرفتاری یا سزائے موت کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں ۔ وہ بھول گئیں کہ اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے بنگلہ دیش کے اندر کارگزار صدر کی نگرانی میں انتخاب کروانے کی پابندی کو خاطر کروانے کے لیے آئین میں تبدیلی کردی تھی۔ حزب اختلاف نے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تو اس کے بغیر اپنے ہی آزاد امیدواروں کے خلاف الیکشن لڑ کرزبردست مگر جعلی کامیابی درج کرائی تھی۔ اس وقت ملک میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں جانب حسینہ کے لوگ براجمان تھے ۔ اس طرح عوام کی مشاورت جس کو وہ جمہوریت کہتی ہیں کو خود انہوں نے قدموں تلے پامال کیا اس لیے اب وہ کس منہ سے اس کی دہائی دے رہی ہیں۔
عدل و انصاف کی بات کریں تو اپنے دورِ اقتدارمیں انہوں نے بے شمار لوگوں کو غائب کروادیا۔ کئی بے قصور مخالفین کو تختۂ دار پر پہنچا دیا۔ طلباء نے احتجاج کیا تو اسے کچلنے کے لیے 1400؍ سے زیادہ لوگوں کو شہید کردیا گیا۔یہ وہی شیخ حسینہ ہے جس نے اپنی معزولی سے قبل کمال سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئےفوج کو حکم دیا تھا کہ قوت کا بے دریغ استعمال کرکے ہر حال میں مظاہرین کو روکا جائے۔ فوج اگر ان کی بات مان لیتی تو ہزاروں بے قصور نوجوان و طلباء موت کے گھاٹ اتار دئیے جاتے لیکن فوجی سربراہوں نے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں بھاگ نکلنے کا محفوظ راستہ دے دیا ور نہ شیخ حسینہ یہ یہ دعویٰ کرنے کے لیے زندہ نہ ہوتیں۔پانچ اگست 2024 کی مبارک صبح کو بنگلہ دیش کی عوام نے ایک ظالم آمر کے آہنی چنگل سے نجات حاصل کی اور وہ اگر تلہ سے ہوکر ہندوستان آگئیں۔ اس کے بعد میڈیا کے ساتھ اپنی پہلی عوامی گفتگو میں، حسینہ نے ایک ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ "میری واپسی اقتدار کے لیے نہیں ہے، بلکہ بنگلہ دیش کو ترقی، سیکولرازم اور خوشحالی کی راہ پر واپس لانے کے لیے ہے۔” اسے کہتے ہیں سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی ۔
شیخ حسینہ فرماتی ہیں "مجھے معلوم ہے کہ وہ مجھے جیل میں ڈال سکتے ہیں یا مار سکتے ہیں مگرمیں اپنے لوگوں کے ساتھ رہنے کے لیے گھر واپس جاؤں گی.” ۔ سوال یہ ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو چھوڑ کر باہر آئی ہی کیوں تھیں اور دسمبر میں ایسا کیا ہوجائے گا کہ ان کی واپسی کا شرمندۂ تعبیر ہوجاے؟ ڈھاکہ سے فرار ہونے والی 78 سالہ حسینہ ابھی کیوں نہیں جاتیں؟ ایسا لگتا ہے کہ وہ پانی میں پتھر مارکراس کی گہرائی اور لہروں کا ارتعاش دیکھنا چاہتی ہیں تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ اپنے بیٹے سجیب واجد کے سرپرتاج سجانے کا وقت ابھی آیا ہے یا نہیں؟ اس موقع پرہندوستانی رہنماوں کو خوش کرنے کی خاطرانہوں نے ہندوستان کو اپنے ملک کے "عظیم دوست” کے طور پر سراہا لیکن مودی سرکار کو یاد رکھنا چاہیے کہ سابق وزیر اعظم اور بنگلہ دیش کے اندر بہت بڑا فرق ہے اور ان کے اچھے دوست کا بنگلہ دیش کا ہمنوا ہونا ضروری نہیں ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ گذشتہ سال نومبر میں، ڈھاکہ کی ایک اسپیشل ٹربیونل نے حسینہ کو ان کی حکومت کی طرف سے سال 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر کی جانے والی بے رحمانہ کارروائی کے لیے، ان کی غیر موجودگی میں "انسانیت کے خلاف جرائم” کے الزام میں سزائے موت سنا رکھی ہے۔ اسپیشل ٹربیونل فیصلے کے بعد سےبنگلہ دیشی حکومت نئی دہلی سے شیخ حسینہ کو قانون کا سامنا کرنے کے لیے واپس بھیجنے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔
بنگلہ دیشی بین الاقوامی جرائم کے ٹریبونل نے جب ایک فیصلے کے ذریعہ شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم ٹھہرا کر موت کی سزا سنا دی تو ان کی واپسی لازم ہوگئی۔ بنگلہ دیش اور ہندوستان کے درمیان سال 2013 میں یہ طے پانے والے معاہدے کے تحت سزا یافتہ مجرم حسینہ کوحکومتِ بنگلہ دیش واپس بھیجنے کے لیے بار بار اصرار کررہی ہے جبکہ حکومتِ ہند کی جانب سے ان درخواستوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔مودی سرکار ایک سابق حکمراں کو بچانے کے لیے پڑوسی ملک کی حکومت سمیت وہاں کی عوام کو ناراض کرنے کی فاش غلطی کررہی ہے۔ 2024 میں طلبہ کے زیرقیادت مظاہروں پر ریاست کا کریک ڈاؤن عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنا۔ ٹریبونل نے انہیں سیاسی بدامنی کے دوران مظاہرین کی ہلاکتوں کو روکنے میں حکم دینے یا ناکام ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس فیصلے میں ٹربیونل نے سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال کو سزائے موت اور سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس چودھری عبداللہ المامون کو پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی ۔ اس فیصلے کے تحت عدالتی ادارے نے ریاست کو شیخ حسینہ اور کمال دونوں کے اثاثے ضبط کرنے کی بھی ہدایت کرچکی ہے۔
اس تناظر میں ہندوستان کی سرزمین پر شیخ حسینہ کی ورچول پریس کانفرنس کو الفا کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے ۔ آسام کی ممنوعہ تنظیم یونائیٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام (الفا) کا بانی جنرل سکریٹری 48 سالہ چٹیہ اغواء ، قتل ، بینک ڈکیتی اور جبری وصولی کی وارداتوں میں ملوث ہونے کے سبب دو دہائیوں سے بنگلہ دیش میں فرار تھا ۔ نومبر 2015 میں شیخ حسینہ واجد وزیر اعظم کی حیثیت سے انوپ چٹیہ کوہندوستان کی تحریری درخواست واپس کردیا تھا ۔ اس سے قبل ممبئی کے ڈان چھوٹا راجن کی انڈونیشیا سے حوالگی بھی عمل میں آئی تھی ۔ چٹیہ کو مارچ 1991 ء میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن جب سابق وزیر اعلیٰ آسام ہتیشورسائیکیا نے اس کو رہا کردیا تو وہ ہندوستان سے بنگلہ دیش فرار ہوگیا تھا ۔حکومت ہند 20 سال سے چٹیہ کی حوالگی کا مطالبہ کررہی تھی لیکن بنگلہ دیش کی حکومت کے ساتھ حوالگی کا سمجھوتہ نہ ہونے کی وجہ ب سے مسلسل انکار ہورہا تھا ۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ خود سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے ہی حوالگی کے راستے کو ہموار کیا اور اب اس میں پھنس گئیں ۔ اس کے بعد اسی طرح کا معاہدہ انڈونیشیا کے ساتھ بھی کیا گیا اور اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ملک کے ایک انتہائی مطلوب مجرم چھوٹا راجن کی چند دن بعد ہی حوالگی عمل میں آئی ۔ وہ 27 سال سے مفرور تھا ۔
مذکورہ بالا واپسی پروزیراعظم نریندر مودی کے شخصی مداخلت کی خوب تعریف و توصیف کی گئی تھی ۔ مودی جی کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کی محنت کو بھی سراہا گیا تھا لیکن اب بازی الٹ چکی ہے۔ شیخ حسینہ واجد کی پریس کانفرنس کو نکسلوادیوں کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ بفرضِ محال کوئی نکسلی یا خالصتانی رہنما پاکستان جاکر وہاںشیخ حسینہ کی طرح پاکستان کی اسی طرح کہے کہ جیسے شیخ حسینہ کررہی ہیں "بھارت ہمیشہ سے بنگلہ دیش کا بہت اچھا دوست رہا ہے۔” تو اس کے خلاف حکومتِ ہند کیا کرے گی ؟وہ رہنما اگر پاکستان میں بیٹھ کر کہے کہ’’ بنگلہ دیش (ہندوستان) میں حالات انتہائی تشویشناک ہیں‘‘ تو ہمارا ردعمل کیا ہوگا؟حسینہ تو دو سال سے دور رہنے کے باوجود فرماتی ہیں کہ "گھروں، کام کی جگہوں اور تعلیمی اداروں میں خوف کا ماحول ہے‘‘ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے ڈر کو قومی خوف پر مہمول کررہی ہیں ۔ شیخ حسینہ واجد نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اب وہ بنگلہ دیش نہیں ہے جسے ہم نے بنایا تھا۔ اب اگر کانگریس پارٹی یہی بات بی جے پی سے کہے ہم نے آزادی کے بعد جو ہندوستان بنایا تھا یہ وہ نہیں ہے تو اس کا ردعمل کیا ہوگا؟ مودی سرکار اگر اس سوال پر ٹھنڈے ذہن سے غور کرے تو مستقبل کی حکمت عملی بنانے میں سہولت ہو جائے گی ۔
شیخ حسینہ واجد نے اپنی پریس کانفرنس کے اندر ایک جملہ کہہ کر اس پورے معاملے کو مشکوک بنا دیا ۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ جمہوریت اور انصاف کے لیے بنگلہ دیش کے لوگوں کی جدوجہد میں ان (حسینہ) کے ساتھ کھڑے ہوں۔ بنگلہ دیش کے اندر ہنوز فوجی حکومت ہوتی تب بھی سابق وزیر اعظم کے لیے یہ الزام لگانا آسان نہیں تھا کیونکہ فوجیوں نے انہیں مظاہرین کے رحم و کرم پر چھوڑ کر تماش بین بننے کے بجائے محفوظ راستے سے نکل جانے کا موقع دیا۔ اس احسانمندی کا تقاضہ تھا کہ فوج پر الزام تراشی نہیں کی جاتی لیکن اب تو بات بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ فوج نے اپنا وعدہ نبھاتے ہوئے انتخابات کا انعقاد کردیا۔ عوام نے جوش و خروش کے ساتھ اس میں حصہ لیا ۔ شیخ حسینہ کے دور اقتدار میں جب آخری الیکشن ہوا تو عوام کے اندر ایک سردمہری تھی مگر اس بار کیفیت بدلی چکی تھی۔ بنگلہ دیشی انتخاب کے غیر جانبدار ہونے کی گواہی عالمی ایجنسیوں نے دی ۔ وہاں پر اب عوام کی منتخبہ حکومت برسرِ اقتدار ہے۔ اس کے باوجود اگر شیخ حسینہ عالمی طاقتوں کی مدد سے اپنے بیٹے کی تاجپوشی کے لیے تختہ پلٹ دینا چاہتی ہیں تو یہ اقدام عوام اور حکومت دونوں کی ناراضی کا سبب بنےگا اور اس میں حکومتِ ہند کا تعاون باہمی تعلقات میں کشیدگی کا سبب بن جائے گا۔
(۰۰۰۰۰جاری)