’’اَمربیل‘‘

’’اَمربیل‘‘

’’اَمربیل‘‘

از:سیما شکور، حیدر آباد

میرے خوابوں کے شبستاں میں …
جب بھی…
یادوں کے گُلاب کھِلتے ہیں…
یادوں کی اَمر بیل…
پھر…
بڑھتی ہی چلی جاتی ہے !
چُپکے سے …
دھیرے سے …
سرگوشی میں…
جو کبھی کہی تھی…
تم نے وہ بات…
اُس کی خوشبو…
پھیلتی ہی چلی جاتی ہے !
پھر…
ستارے…
میری آنکھوں میں اُتر جاتے ہیں!
بھیگے بھیگے سے قطرے…
باغی سے ہوجاتے ہیں!
میرے عارض کو بھِگوجاتے ہیں!
اُن بھیگے بھیگے…
لمحوں میں پھر…
تم سے کبھی…
نہ کہی وہ بات بہت یاد آتی ہے
نہ کہی وہ بات بہت یاد آتی ہے

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے