آسمانِ گیتی نے جمعہ(31؍جولائی 2026) کو پپو یادو کے علامتی ڈرامے کا وہ منظر دیکھا جو کسی کے تصورِ خیال میں بھی نہیں تھا۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔ اس کا56؍ انچ کی چھاتی والا خود ساختہ وشوگرو( عالمی قائد) وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہے۔ پردھان سیوک کے سر پر ٹرمپ کا آشیرواد اور ہاتھوں میں نیتن یاہو کا ہاتھ ہے۔ ارکان پارلیمان کو ڈرا دھمکا کر انہیں خریدنے والے نہایت وفادار اور مغرور وزیر داخلہ کا ساتھ ہے۔ ای ڈی اور سی بی آئی کی مدد سے شاہ جی نے چہار جانب خوف و دہشت کا ماحول پھیلا رکھا ہے اچانک ایوانِ پارلیمان کے احاطے میں رام مندر چندہ چوری پر ایک تمثیلی نکڑ ناٹک ہوجائے اور مودی سرکار کے سارے ارکان پارلیمان کی حالت ”ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم“ کی سی ہوجائے تو تعجب کے نہیں ہونے پر حیرت ہوگی۔ ٹک ٹک دیدم ا یک فارسی مصرع ہے جس کے معنی ہوتے ہیں”ٹکٹکی باندھ کر دیکھا اور سانس تک نہ لی”۔ یہ فقرہ اُس موقع پر بولا جاتا ہے جب کوئی شخص حیرت، صدمے، خوف یا بے بسی کی وجہ سے بالکل خاموش ہو جائے اورزبان تک کو جنبش نہ دے سکے گویا کسی انوکھی یا خوفناک چیز کو دیکھ کر پتھر ہو جائے یا اس کی آنکھیں پتھرا جائیں ۔ وہ حالات کے سامنے مجبور ہو کر بس دیکھتا رہ جائے کچھ بول نہ پائے۔
ایوانِ پارلیمان کے احاطے میں پپو یادو پجاری کے بھیس میں اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے جیسے یوگی کا چولا اوڑھ کر اجے موہن بشٹ نے خود کو ادیتیہ ناتھ کہنا شروع کردیا ہے۔ ’’چندا چور گدی چھوڑ‘‘ اور ’’جواب تم کو دینا ہوگا‘‘ کے نعرے گونج رہے تھے مگر وزیر اعظم سمیت وزیر داخلہ غائب تھے ۔ اس پجاری اور فراری کے کھیل میں ارکان پارلیمان یہ نعرہ بھی لگا رہے تھے ’’ امیت شاہ پارلیمنٹ میں آؤ‘‘ مگر اس سے دور وزیر داخلہ نہ جانے کس جوڑ توڑ میں کھوئے ہوئے تھے ۔ بی جے پی کے ارکان پارلیمان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ’کریں تو کریں کیا؟‘کسی فوج کا سپہ سالار میدان چھوڑ کر بھاگ جائے تو اس دستے کا جو حال ہوتا ہے اسی کیفیت میں بی جے پی کے ارکان پارلیمان مبتلا تھے ۔ پورنیا کے رکن پارلیمان پپو یادو کا بھگوا لباس پہن کر مندر کے پجاری کی حیثیت سے سامنے آ نا اور ایودھیا کے رام کی تصویر دِکھا کر عقیدت مندوں سے چندہ مانگنا نہایت خوش کن منظر تھا ۔اس ناٹک میں حزب اختلاف کے اراکین پارلیمان بھکتوں کا کردار ادا کرتے ہوئے چندہ دینا بھی کم دلچسپ نہیں تھا ۔
مودی بھگت پریشان تھے کہ یہ تو رام بھگت بن کر آگئے ۔ ان کا کیا کریں ؟ ایسے میں اگر مودی بھگتوں اور رام بھگتوں کے درمیان مہا بھارت نے بی آر چوپڑہ کو بھی حیران کرنے کے لیے کافی تھی۔ اس رنگا رنگ ڈرامے میں بی جے پی کے چہیتے نہ بابر اور نہ مسلمان موجود تھے اس لیے وہ اگر مخالفت کرتے بھی تو کس کی کرتے ؟ ٹیلی ویژن پر اس سے تفریح لینے والے ناظرین سوچ رہے تھے کہ اس چمپت رائے نے ہمیں کہاں لاکر مار دیا کہ کہا بھی نہ جائے اور سہا بھی نہ جائے ۔ رام مندر میں چندہ چوری کاپنڈورا بکس سماجوادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو نے کھولا اور 7؍ کروڈ کی چندہ چوری کا الزام لگایا لیکن جب لوگ اس دیوہیکل کمرہ نما بکسے میں گھسے تو ہزاروں کروڈوں کی چوری نکل آئی۔ خود سماجوادیوں کو بھی اس کی امید نہیں تھی۔ وہ اس لوٹ کو باہر لاکر اچھالنے لگے ۔ یوپی سرکار نے معاملے کو رفع دفع کرنے کی خاطر ایس آئی ٹی جیسی کوئی چیز بنائی تو اس کے انکشافات نے معاملہ مزید خراب کردیا۔ رام مندر ٹرسٹ نے کہا45 دن پرانا ویڈیو ازخود ڈیلیٹ ہوجاتا ہے تو ایس آئی ٹی نے ڈیڑھ ماہ کی فلم دیکھنے پر اکتفاء کیا اور پتہ چلا کہ اس دوران 70مرتبہ چوری ہوئی۔ یہ سماجوادیوں کا الزام نہیں بلکہ اس یوگی کے قائم کردہ ایس آئی ٹی کا انکشاف تھا جو بار بار کہہ رہے تھے کہ کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔
یہ یوگی جی کا تکیہ کلام ہے۔ جب بھی کو ئی سنگین واردات ہوتی ہے وہ اسے دوہرا دیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ 9؍ سال حکومت کرنے کے بعد بھی ایسا ہوتا کیوں ہے؟ پورے اتر پردیش کو جرائم سے پاک کرنے کا نعرہ لگانے یوگی کے اپنے حلقۂ انتخاب میں اس ہفتہ ایک سُنار کے بیٹے کو اغوا کرکے قتل کردیا گیا ۔ جو وزیر اعلیٰ خود اپنے حلقۂ انتخاب کو جرائم سے پاک نہ کرسکے وہ پورے صوبے کو کیا خاک کرے گا؟ رام مندر کے معاملے پہلے کانگریس پارٹی ذرا محتاط تھی مگر وقت کے ساتھ اس کے حوصلے بلند ہوگئے اور پارٹی ترجمان سپریا شرینیت پریس کانفرنس کرنے کے لیے ناگپور یعنی سنگھ کے گڑھ میں پہنچ گئیں۔ رام مندر کونظر انداز کرنے والے راہل گاندھی نے کھل کر پپو یادو کے ڈرامے میں سامنے آگئے اور چندہ دے کر ’تکلف برطرف‘ کردیا اور کیوں نہ کریں جب یہ سرکار دہلی کے مظاہرین میں شامل دو ہزار سے زیادہ لوگوں کے جرائم پیشہ ہونے کا دعویٰ کر کے اپنی تحقیق مکمل کردیتی ہے مگر چندہ چوری کی تفتیش مکمل ہی نہ ہوتی ہو تو مخالفین کے حوصلے بڑھنے ہی بڑھنے ہیں۔
پپو یادو کے ناٹک میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب پجاری چندے کی رقم کو ڈبے میں رکھنے کے بجائے وہ اپنی جیب میں بھرنا شروع کردیتے ہیں اور ایسے میں ایودھیا سے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمان اودھیش پرشاد پاسی کی انٹری ہوتی ہے۔وہ رام بھگتوں کی نمائندگی کرتے ہوئےچندہ چوری کرنے والے پجاری کا گلا دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور مجمع ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجاتا ہے۔ شام کو گودی میڈیا کے چینلس پر ٹسوے بہانے والے ارکان پارلیمان میں سے کسی ہمت نہیں ہوتی کہ ناٹک کے قریب پھٹکے ۔ ڈرامہ جاری رہتا ہے کھلے عام چندہ چوری کرنے والا نقلی پجاری( پپو یادو) اعلان کردیتا ہے کہ نہ کوئی غلط کام ہوا اور نہ چندہ چوری ہوئی مگر پھر انہیں ناراض بھکتوں کے جارحانہ ہجوم کے غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالآخر ان کو ڈرامائی انداز میں راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک نہایت انوکھے طنز اور موثر علامت نگاری کے ذریعے اپوزیشن نے پورے ملک کی توجہ چندہ چوری کے الزامات کی طرف مبذول کروائی۔
ایوانِ پارلیمان کے مکڑ دوار پرمنعقد ہونے والے دوہرے احتجاج میں طلباء مظاہرین کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی کے ساتھ ایودھیا میں رام مندرکے اندر مبینہ ’’عطیات کی چوری‘‘ پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا ۔مندر کے چندے کی مبینہ چوری اور اس کے انتظام میں ممکنہ بے ضابطگیوں کی اس علامتی عکاسی کے ذریعہ اپوزیشن نے یہ پیغام دیا کہ لاکھوں عقیدت مندوں کے اعتماد اور مذہبی جذبات کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے اور اس معاملے میں مکمل شفافیت ضروری ہے۔حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ یہ صرف مالی معاملہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور مذہبی عقیدت سے جڑا ہوا مسئلہ ہے، اس لیے اس میں شفافیت، جواب دہی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب رام مندر چندہ کے مبینہ غبن سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور اس معاملے میں پہلے ہی کئی گرفتاریاں ہونے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے کہا ہے کہ جب تک ذمہ داری طے نہیں ہو جاتی، وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ اور عوامی سطح پر اٹھاتی رہیں گی۔
ایوان پارلیمان کے علاوہ چندہ چوری کا یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی گونج رہا ہے۔ وہاں پر اتر پردیش حکومت نے27؍ جولائی کو کو بتایا کہ اس نے عدالت کے پہلے احکامات کی روشنی میں ایودھیا میں رام مندر میں دیئے جانے والے عطیات کی مبینہ غبن کی تحقیقات کے لیے ایک نئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کرن ایس نئی ایس آئی ٹی کی سربراہ ہیں۔ سالیسیٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ ٹیم میں ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل، ایک سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور ایک ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بھی شامل ہیں،۔ اس نئی ایس آئی ٹی (خصوصی تحقیقاتی ٹیم) کاقیام اور تحقیقات کی نگرانی بلواسطہ وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ کی قائم کردہ پرانی ایس آئی ٹی پر عدم اعتماد کا اظہار نہیں تو اور کیا ہے؟ ورنہ سرکار کی وفادار عدالتِ عظمیٰ یہ بھی تو کہہ سکتی تھی کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری تفتیش کے تکمیل کا انتظار کیا جائے۔ سپریم کورٹ کا ریاست کی پیش کردہ رپورٹ کا نوٹس لےکر ایس آئی ٹی کو دو ہفتوں کے اندر جائزہ رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دینا ٹال مٹول سے ناراضی کااظہار ہے ۔ بابری مسجد کو شہید کرنے والے جس طرح رام مندر کی چندہ چوری میں پھنس چکے ہیں اس پر قرآن مجید کی یہ آیت ہو بہو منطبق ہوتی ہے:’’ اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکر و فریب کا جال پھیلائیں دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں، مگر اُنہیں اس کا شعور نہیں ہے ‘‘۔