سنجیدہ ،اصولی اور قانونی جدوجہد ہی بورڈ کا طریقہ کار ہے. آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

سنجیدہ ،اصولی اور قانونی جدوجہد ہی بورڈ کا طریقہ کار ہے. آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

سنجیدہ ،اصولی اور قانونی جدوجہد ہی بورڈ کا طریقہ کار ہے.
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

نئی دہلی: 22؍ستمبر 2026

17؍ستمبر کو پولیس کی جانب سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو دھرنے کی اجازت نہ دینے اور اس کے بعد بورڈ کی جانب سے دھرنا منسوخ کرنے کے فیصلے پر میڈیا اور سوشل میڈیا میں بعض افراد حقائق سے ناواقفیت کی بنا پر بورڈ کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور بعض لوگوں نے تو اخلاقی حدود سے بھی تجاوز کیا ہے۔ حقائق سے واقفیت کے بغیر بعض گوشوں سےتنقیدیں، بورڈ کو کمزور کرنے اوراسلام مخالف طاقتوں کومضبوط کرنے کی نادانستہ کوشش ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک ذمہ دار ملت کے افراد سے اس نامناسب رویے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عوام ان گمراہ کن تبصروں سے متأثر نہ ہوں، اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کے بعض اہم حقائق ان کے سامنے رکھے جائیں۔انہوں نے کہا:
(1) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام سے لے کر آج تک اس کے اکابر اور ذمہ داران نے ہمیشہ شریعت اور ملکی قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔ بورڈ کے پہلے صدرحکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمد طیب صاحبؒ سے لے کرحضرت مولاناسید محمد رابع حسنی ندوی ؒ تک بورڈ کا مزاج جذباتی سیاسی ردعمل کے بجائے سنجیدہ، قانونی اور اصولی جدوجہد پر مبنی رہا ہے۔ اس کے فیصلے وقتی جذبات سے نہیں، بلکہ حالات کے گہرےتجزیے، امت کے مفاد اور دور رس نتائج کو سامنے رکھ کر کیے جاتے رہے ہیں۔
(2) بورڈ ایسا کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کرتا جس کے نتیجے میں مسلم نوجوانوں کو غیر ضروری طور پر سڑکوں پر آنے اور حکومت کو ان کے خلاف سخت کارروائی کا موقع ملے۔ موجودہ حالات میں جب پہلے ہی ہزاروں مسلم نوجوان جیلوں میں بند ہیں اوران کے گھر والے ان کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں، ایسے میں کسی بھی احتجاجی اقدام کے ممکنہ نتائج پر غور کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ احتجاج کا مقصد مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ ہے نہ کہ نوجوانوں کو ایسے خطرات سے دوچار کرنا جن کے نتائج پوری ملت کو بھگتنا پڑیں۔
(3) آج ملک میں برادرانِ وطن کے مختلف طبقات کی جانب سے حکومت کی پالیسیوں، سماجی ناہمواریوں اور اونچ نیچ کے خلاف آوازیں بلندہو رہی ہیں، ریزرویشن کے مسئلے پر بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ایک طرف برسراقتدار پارٹی کا روایتی اپر کاسٹ ووٹ بینک ریزرویشن کے خلاف ہے تو دوسری طرف بی جے پی ملک کے پسماندہ طبقوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ریزرویشن کی بات کررہی ہے، اس کی وجہ سے خودپارٹی کے اندر شدیدکش مکش اوربے چینی پائی جاتی ہے، بعض ریاستوں میں انتخابات قریب ہیں اوراس پارٹی کا ہمیشہ سے یہ طریقہ رہاہے کہ اس نے ترقیاتی کاموں کے بجائے فرقہ وارانہ مسائل پر ووٹ حاصل کیے ہیں۔ ان حالات میں ہر اقدام کے سیاسی اور سماجی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ بورڈ کی کوشش ہے کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے حکمراں جماعت کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے نئی توانائی حاصل کرنے یا عوامی توجہ کو اصل مسائل سے ہٹانے کا موقع ملے۔
(4) بورڈ نے 17؍ ستمبر کے احتجاج کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے تھے اور احتجاج کے تعلق سے بھرپور کوشش کی تھی اور تمام اسٹیک ہولڈرس سے بات بھی کرلی تھی؛ جنتر منتر پر بورڈ اس سے قبل بھی دو مرتبہ احتجاج کرچکا ہے، اس لیے توقع تھی کہ اس بار بھی اجازت حاصل ہوجائے گی؛ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا اورآخروقت میں اجازت کینسل کردی گئی ۔مگراحتجاج کی اجازت نہ ملنے کو بورڈ کی کمزوری یا اپنے موقف سے دست برداری سمجھنا درست نہیں ہے۔
(5) بورڈ کی موجودہ انتظامیہ نے ملک کے مرکزی شہروں میں ایسے بڑے احتجاجات منعقد کیے ہیں ، جن کی مثال اس سے قبل کم ہی ملتی ہے۔ ماضی کے حالات ایسے تھے کہ حکومت کے ساتھ گفت وشنید اور مذاکرات کا دروازہ کھلا ہوا تھا،لیکن موجودہ صورتِ حال میں مشکلات کی نوعیت مختلف ہے۔ حکومت نے نہ صرف اقلیتوں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھی گفت وشنید کےدروازے بند کررکھے ہیں اورمسلم مخالف اقدامات کو سیاسی فائدے کے لیے کھلے عام اختیار کیا جارہا ہے۔ ایسے ماحول میں احتجاجی حکمت عملی کے لیے پہلے سے زیادہ احتیاط، تدبر اور دور اندیشی درکار ہے۔
(6) آج کے حالات میں میڈیا کے ایک بڑے حصے کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں،عوام میں انہیں بجاطورپر گودی میڈیا کہاجاتاہے، یعنی ایسا میڈیا جو حکومت کی گود میں بیٹھاہوا ہے اور حکومت کی منشاء کے مطابق کام کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں ہر احتجاجی اقدام کے پیغام، اس کی پیش کش اور اس کے ممکنہ نتائج پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے، بورڈ کا مقصد محض احتجاج کرنا نہیں، بلکہ ملت کے حقوق اور مسائل کو مؤثر انداز میں حکومت اور عوام کے سامنے پیش کرنا بھی ہے۔
(7) اگرچہ جنتر منتر پر دھرنا نہیں ہوسکا، لیکن احتجاج کا بنیادی مقصد، یعنی بورڈ کے موقف کو عوام اورمتعلقہ حلقوں تک پہنچانا، ایک مختلف انداز میں زیادہ مؤثر طور پر سامنے آیاہے۔ اجازت نہ ملنے کے بعد بورڈ کی پریس کانفرنس اور وضاحت کو میڈیا نے نمایاں طور پر نشر کیا۔ اس طرح بورڈ کی آواز ملک کے مختلف حصوں کے علاوہ بیرونِ ملک تک بھی پہنچی۔یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ احتجاج کی اجازت نہ ملنے کے واقعے نے بورڈ کے موقف اور اس کی آواز کو وسیع پیمانے پر زیرِ بحث لایا، اس صورتِ حال سے یہ بات واضح ہوئی کہ بورڈ کے موقف اور اجتماعی آواز کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
(8) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحریک دستور بچاؤ، ملک بچاؤ جاری ہے اور آئندہ بھی حالات، مواقع اور ماحول کے مطابق جاری رہے گی۔ بورڈ اپنے اصولی موقف سے دست بردار نہیں ہوا ہے اور ملت کے دینی، قانونی اور اجتماعی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا، احتجاج کے طریقۂ کار اور وقت کا تعین حالات کے مناسب جائزے کے بعد کیا جائے گا۔
(9) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ملت کا ایک اجتماعی پلیٹ فارم ہے، جس میں مسلمانوں کی تمام دینی و ملی جماعتیں، مسالک، اہم دینی مدارس، ملک کے ممتاز علماء و دانشور شامل ہیں۔ بورڈ میں جہاں ایک طرف ملک کی مؤقر تنظیم جمعیت علماء ہند کے دونوں گروپس موجود ہیں، وہیں مرکزی جمعیت اہل حدیث، جماعت اسلامی ہند اور امارت شرعیہ پٹنہ بھی اس میں شامل ہے۔ بریلوی مکتبہ فکر اور مؤقر شیعہ علماء کی نمائندگی بھی ہے۔ اس کے مرکزی مناصب پر فقیہ ملت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی(صدر)، مؤقر عالم دین اور ممتاز دینی رہنما مولانا سیدارشد مدنی، مولانا عبیداللہ خاں اعظمی (سابق ایم پی)، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، جناب سید سعادت اللہ حسینی، مولانا محمد علی محسن تقوی( نائب صدور)، مولانا محمد فضل الرحیم مجددی ( جنرل سکریٹری)، مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی، مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی اور مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی (سکریٹریز) پر فائز ہیں اور مولانا سید محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند بھی شامل ہیں۔ بورڈ کے تمام اہم فیصلے اس کی مجلس عاملہ میں اور مرکزی ذمہ داران کی موجودگی میں اتفاق رائے سے طے پاتے ہیں۔ ایک غلط تأثر یہ پیدا کیا جا رہا ہے کہ ایک دو افراد ہی بورڈ کے اہم فیصلے کر تے ہیں جو کہ خلاف حقیقت اور کذب بیانی ہے۔
بورڈ کے ترجمان نے آگے کہا:
(10) آج سوشل میڈیا پر بعض ایسے افراد کی جانب سے بورڈ کو کمزور، بے اثر یا بے وزن ثابت کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں،جن کا سماج میں کوئی اثر نہیں ہے،مسلمانوں کو ایسی مہمات سے متأثر ہونے کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔ اختلافِ رائے کا حق اپنی جگہ مسلم ہے؛ لیکن اجتماعی اداروں کی اہمیت کو کمزور کرنا اور ملت کی اجتماعیت کو نقصان پہنچانا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنی اجتماعیت کو برقرار رکھیں، ذمہ دار اداروں کے ساتھ تعلق اور اعتماد کو قائم رکھیں اور کسی بھی معاملے میں جذباتی ردعمل کے بجائے سنجیدگی، بصیرت اور باہمی تعاون سے کام لیں۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ ا ٓل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور ملت کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی، جمہوری اور مؤثر جدوجہد جاری رکھنے کا عزم رکھتا ہےاوربورڈ کے آئندہ اقدام ان شاءاللہ اس کے اس عزم کی گواہ ہوں گے۔

جاری کردہ:ڈاکٹر وقارالدین لطیفی آفس سکریٹری

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے