مساجد چھوٹی ہوں یا بڑی ,شہر کی ہوں یا دیہات کی وہ جگہیں ہیں جہاں پر روزانہ اللہ تعالی کی رحمتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے یہ الگ بات ہے کسی جگہ رحمتوں کا نزول کم اور کسی جگہ رحمتوں کا نزول زیادہ ہوتا ہے مگر یہ طے ہے کہ مسجد ایسی جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں پر انسان اللہ کو راضی کرنے کے لیے اور رب ذوالجلال کی عبادت کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں ۔۔۔
شروع زمانے سے امامت کا منصب لوگوں کے درمیان بہت ہی اعلی اور ممتاز تصور کیا جاتا رہا ۔۔۔عام طور پر جو امیر المومنین ہوتے وہی قوم کے امام کہلاتے تھے چنانچہ رسول اکرم ﷺ کی حیات طیبہ میں سوائے چند نمازوں کے ساری نمازوں میں امامت رسول ﷺ نے فرمائی ہے ۔۔۔حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق ،حضرت عثمان غنی ، اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین امیر المومنین رہنے کے دور میں امامت کے فرائض انجام دیتے رہے ۔۔۔۔اور امامت کے پیشے کو بڑی عظمت وقعت اور قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا رہا ۔۔۔۔ابتدائے زمانہ میں مساجد کی کمیٹیوں کی ائمہ کرام کی تنخواہوں کے معاملے میں عوام سے کوئی ربط کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی اس لیے کہ مساجد کا سارا انتظام بیت المال کے ذمہ ہوا کرتا تھا ۔۔۔۔بیت المال کی اہمیت گھٹ گئی کہہ لیجئے یا بیت المال کے نظام کو لوگوں نے پس پشت ڈال دیا تو مساجد کی دیکھ بھال اور اس کی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے مساجد کی کمیٹیاں بنائی جانے لگی، مسجد کی انتظامی کمیٹی کے ذمے مسجد کی اندرونی ذمہ داریاں جیسے نمازوں کے اوقات متعین کرنا، مسجد کی صاف صفائی کے انتظامات کروانا ،مسجد کے امام صاحب اور مؤذن صاحب کی ضرورتوں کے اعتبار سے ان کی تنخواہوں کا تعین کرنا ،کوئی غیر مسلم اسلام کے بارے میں معلومات کرنے کی غرض سے مسجد کو آئے تو آنے والے مہمان کو تشفی بخش جوابات کے انتظامات کروانا وغیرہ ۔۔۔۔
مسجد کی کمیٹی کا ممبر بننا کوئی کھیل یا شوقیہ عمل نہیں ہے بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے مسجد کی انتظامی کمیٹی پر۔۔۔ اب تو مسجد کی کمیٹی کا ممبر بننا اور صدر بننا شریف لوگوں کے بس میں نہیں رہا ۔۔باضابطہ انتخابات کرواۓجاتے ہیں ووٹنگ ہوتی ہے جیسے سیاسی محکموں میں انتخابات کروائے جاتے ہیں ایسے ہی مساجد کو دنگل بنا کر رکھ دیا گیا (الامان والحفیظ )۔
مسجد کی کمیٹی کے طور پر کیسے افراد کو منتخب کیا جانا چاہیے اس سلسلے میں کسی دارالافتاء سے فتوی معلوم کیا گیا تو وہاں کے ذمہ دار مفتی حضرات نے جواب میں یوں لکھا ” مسجد کی کمیٹی کے لئے ایسے افراد کا انتخاب کرنا چاہئے جو دیانت دار اور دین دار ہوں ،فسق وفجور سے اجتناب کرتے ہوں ،نیزان کے اندر انتظامی امور کو سمجھنے اور انجام دینے کی صلاحیت ہو ،اور امورِ وقف میں دلچسپی رکھتے ہوں” معلوم ہوا کہ مسجد کی کمیٹی کا صدر یا رکن بن جانا یوں ہی کوئی عہدہ نہیں ہے بلکہ اس کی بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے ۔۔۔۔مسجد کا امام پوری قوم کا لیڈر ہوتا ہے عرب ممالک میں اور انگریزی ممالک میں امام کی اہمیت حقیقت میں لیڈر کی ہوتی ہے اسلیے کہ مسجد سے متعلق اہم اور ضروری معاملات میں مسجد کے امام صاحب کو ضرور شامل کیا جاتا ہے ،بر خلاف ایشیائی ممالک کے جہاں امام صاحب کی اہمیت کو اتنا گھٹا دیا گیا کہ امام کو ایک ادنی درجے کا ملازم سمجھا جاتا ہے جو بہت تکلیف دہ بات ہے۔۔۔۔۔مسجد کی کمیٹی کے ذمہ دار حضرات مساجد کے ائمہ کو بعض مرتبہ غیر ضروری پریشان بھی کرتے ہیں ۔۔۔ابھی چند دن پہلے کرناٹک کے علاقے کے ایک امام صاحب کا استعفی آپ کی نظروں سے گزرا ہوگا "امام صاحب نے کئی برس تک ایک مسجد میں امامت کی اور استعفی دینے کی وجہ کے طور پر لکھا کہ انتظامی کمیٹی کی جانب سے مسلسل دباؤ کی وجہ سے امامت چھوڑتا ہوں ” اتنے بڑے منصب کو انہوں نے صرف کمیٹی کے نااہل لوگوں کے دباؤ کی وجہ سے چھوڑ دیا اور ذریعۂ معاش کے طور پر کسی اور کام میں لگ گئے دو پانچ دن ہی گزرے تھے کسی حادثے کی وجہ سے انتقال کر گئے ۔۔۔یہ ایک واقعہ نہیں ایسے کئی واقعات پیش آرہے ہیں ائمۂ کرام کے ساتھ ۔۔۔۔بعض ائمۂ کرام مجبوریوں کے پیش نظر کمیٹی کے افراد کی طرف سے کی جانے والی زیادتیوں کو برداشت کر لیتے ہیں اور بعض ائمۂ کرام برداشت نہیں کر سکتے تو امامت چھوڑ کر کوئ اور پیشہ اختیار کر لیتے ہیں جیسے گاڑی چلانا یا کوئی اور کام کرنا وغیرہ ۔۔۔ کیا مساجد کی کمیٹی والے ائمۂ کرام کو پریشان کر کے خود سکون سے رہ سکتے ہیں؟ اور کیا جواب دیں گے اللہ تعالی کو جب اللہ تعالی کے حضور پیش ہوں گے ؟۔۔۔۔
حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام اور علمائے حق کے بعد نماز پڑھانے والے ائمہ کا درجہ ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان رابطہ کا ذریعہ ہیں۔۔۔۔۔
★ مہنگائی کا دور ہے اسلیے مسجد کے امام کی تنخواہ اتنی مقرر کی جائے کہ امام کی ضرورتیں متوسط درجے کی آ سانی سے مکمل ہو جائیں ۔۔۔
★ہر سال امام صاحب کی سالانہ چھٹیاں مقرر کی جائیں اور ہفتہ واری تعطیل بھی مقرر کرنا ضروری ہے کہ اس لیے کہ ان کے بھی بیوی بچے ہیں اور ان کے اپنے ذاتی تقاضے ہو سکتے ہیں ۔۔۔★ مسجد میں کوئی مہمان مقرر آنے والے ہوں یا کوئی معزز مہمان آنے والے ہوں تو امام صاحب کو پہلے سے اطلاع دی جائے ۔بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ اچانک امام صاحب سے کہا جاتا ہے آج کے جمعہ میں آپ کو تقریر نہیں کرنا ہے کوئی مہمان مقرر آنے والے ہیں یہ اپنے مقررہ امام کے ساتھ حق تلفی اور زیادتی ہے جس کا اللہ کو جواب دینا ہے ۔۔۔★امام صاحب کی ترقی کو دیکھ کر جلنے حسد کرنے کے بجائے خوشی اور مسرت کا اظہار کرنا چاہیے اس لیے کہ اس مقررہ امام کی جگہ اگر آپ کا داماد یا آ پ کا بیٹا ہوتا تو کیا آ پ اپنے داماد اور بیٹے کی ترقی سے خوش ہوتے یا حسد کرتے تھے
★رمضان المبارک میں خصوصی انعام کے طور پر مسجد کے امام صاحب کی تنخواہ دگنی یا اس سے بھی زیادہ کی جائے بہت بہتر بات ہے ★ مسجد کی تعمیر و مرمت پر زیادہ پیسہ خرچ کرنے کے بجائے مسجد کو آباد کرنے کی شکلیں اور فکریں سوچتے رہیں اس لیے کہ مسجد نبوی ہم سب کے لیے نمونہ اور آ ئیڈیل ہے مسجد نبوی بہت زیادہ عالیشان نہیں تھی رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں یا حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے میں مگر مسجد 24 گھنٹے مسلسل آباد رہتی تھی اور ایسا بھی نہیں تھا کہ ان کے پاس غربت تھی صحابہ میں بڑے مالدار صحابہ جیسے حضرت عثمان غنی حضرت عبدالرحمن ابن عوف حضرت ابوبکر صدیق وغیرہ کو اگر نبی اکرم ﷺ اشارہ فرما دیتے تو "مسجد نبوی "عالیشان مسجد بن سکتی تھی مگر رسول اکرم ﷺ نے تعمیر و مرمت سے زیادہ اس کی آبادی کی فکر فرمائی ۔۔۔۔★ امام صاحب سے مسجد کے ایسے ہی کام لیے جائیں جو کام امام صاحب کی شان کے مطابق ہوں اس لیے کہ وہ امام ہیں جس کو انگریزی میں لیڈر بھی کہا جاتا ہے کیا اپ اپنے کسی لیڈر سے صاف صفائی کے کام یا اپنے گھریلو کام لیتے ہیں ؟
★عام طور پر دیکھا جاتا ہے جب تک مسجد کی تعمیر پرانی رہتی ہے مسجد کے پرانے امام صاحب اور مؤذن صاحب اپنی ملازمت پر بدستور قائم رہتے ہیں اور جیسے ہی مسجد کی جدید تعمیر کی جاتی ہے تو کچھ نہ کچھ بہانے کے ذریعے امام صاحب اور مؤذن صاحب کو رخصت کر دیا جاتا ہے اور عذر میں یوں کہا جاتا ہے کہ امام صاحب کی تلاوت اچھی نہیں ہے آ واز بہتر نہیں ہے مؤذن صاحب کی اذان کو لوگ پسند نہیں کر رہے ہیں وغیرہ ۔۔۔۔ اتنے سال سے کہاں گئی تھی یہ سوچ آ پ کی ؟۔۔۔★کسی بھی عوامی چندے میں مالی خرد برد کرنا ہرگز پسندیدہ نہیں ہے اور مسجد کی ہر چیز امانت ہے حساب کتاب بالکل صاف ستھرا رکھیں اپنے ذاتی اخراجات میں مسجد کا پیسہ بطور قرض بھی آ پ نہیں لے سکتے ۔۔۔★مسجد کی ملگیاں یا جائیداد اگر ہیں تو ان ملگیوں اور جائیداد میں رہنے والوں سے چاہے وہ کرایہ دار آ پ کا بیٹا یا آ پ کا داماد ہی کیوں نہ ہو معمول کے مطابق کرایہ لیں اور معمول کے مطابق کرائے میں اضافہ بھی کرتے رہیں اس لیے کہ دنیا میں آ پ سرکاری عہدداروں کو یا وقف بورڈ کے ملازمین کو بے وقوف بنا سکتے ہیں مگر اللہ تعالی کی عدالت میں اللہ کو بے وقوف ہرگز نہیں بنا سکتے ۔۔۔۔★کمیٹی کے ممبران خاص طور پر سیکرٹری صاحب اور صدر صاحب اپنے آپ کو مسجد کا خادم سمجھیں صدر یا سیکرٹری کا ڈھونس امام صاحب پر یا کسی اور پر جمانے کی ہرگز فکر نہ کریں ۔۔۔★ امام صاحب کی ذمہ داری بنتی ہے امام صاحب نماز کا جو وقت متعین کیا گیا اس سے دو پانچ منٹ پہلے مسجد کو پہنچ جائیں کبھی اتفاق سے امام صاحب کے آ نے میں تاخیر ہوجاۓ تو مقررہ وقت سے دو چار منٹ پانچ منٹ تک امام صاحب کے آ نے کا انتظار کرنا چاہیے یہ امام صاحب کے ادب اور احترام کی وجہ سے ہے ۔۔۔★چونکہ امام صاحب مقتدیوں کے لیے نمونہ اور آئیڈیل ہیں اس لیے امام صاحب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ نماز سے پہلے کی اور نماز کے بعد کی سنتیں مسجد میں ادا کریں ۔۔۔۔★امام صاحب کسی مخصوص طبقۂ فکر کے امام نہیں ہیں اس لیے اپنی تقریروں میں اختلافی مسائل کو چھیڑے بغیر مثبت انداز میں معاشرے کی اصلاح کو پیش نظر رکھتے ہوئے تقریر کرنے کا اہتمام کریں ۔۔۔۔★ چونکہ امام صاحب کے ذمہ مسائیہ اور صباحیہ میں طلباء کو پڑھانا بھی ہے تو امام صاحب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آ پ پوری توجہ کے ساتھ طلبہ پر محنت کریں تاکہ آ پ کے ذریعے اس مسجد میں کئی ایسے شاگرد تیار ہو جائیں جو آ پ کے غیاب میں کبھی نماز بھی پڑھا سکیں اور کل آ پ کے انتقال کے بعد آ پ کی آ خرت میں ثواب جاریہ کا ذریعہ بنتے رہیں ۔۔۔★ائمۂ مساجد مقتدیوں کے لیے نمونہ اور آئیڈیل ہیں اپنے کپڑے صاف ستھرے پہننے کا اہتمام فرمائیں۔۔۔★ نمازوں میں مسنون تلاوت جیسے فجر اور ظہر میں طوال مفصل عصر اور عشاء میں اوساط مفصل اور مغرب میں قصار مفصل والی سورتوں میں سے یا ان سورتوں کی مقدار کے بقدر پوری قرآن کریم میں سے جو مناسب معلوم ہو تلاوت کا معمول بنالینا چاہیے۔۔۔★ جمعہ کے موقع سے لوگ بڑے اہتمام سے بیان سننے کے لیے مسجد کو اتے ہیں سرسری مطالعہ والا یا کسی اخبار کو ایسے ہی سرسری پڑھ لیا اور وقت گزاری کے لیے بیان نہ کیجیے بلکہ پوری تیاری کر کے عوام کی کیا ضرورت ہے اس ضرورت کے مطابق بیان کیجئے ۔۔۔اس لیے کہ جس ممبر سے اپ بیان کر رہے ہیں اسی ممبر سے نبی اکرم ﷺ نے اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اولیاء اللہ بزرگان دین نے بیانات کر کے لوگوں کے دلوں کو نہ صرف پلٹایا بلکہ کافروں کو دین اسلام کی دعوت دی تو انہی محرابوں کی دعوت سے متاثر ہو کر بے شمار لوگ اسلام لے ائے ۔۔۔
یہ چند گزارشات ہیں مساجد کی کمیٹی کے ذمے دار حضرات اور ائمۂ کرام کی خدمت میں ۔۔۔بات اصل یہ ہے کہ مساجد کی کمیٹی اور ائمۂ کرام دونوں بھی افراط اور تفریط کا شکار ہیں کسی جگہ امام صاحب کی زیادتی ہے اور اکثر جگہوں پر کمیٹی والوں کی زیادتی ہے دونوں کو اللّه کے پاس جواب دینا ہے۔۔۔