اسرائیلی صدر کی جانب سے قادیانی فرقہ کی ستائش پر مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کے ذمہ دار علماء کرام کا رد عمل
حیدرآباد،21ستمبر(پریس نوٹ ) مولانا انصار اللّٰہ قاسمی آرگنائزر مجلس تحفظ ختم نبوت کے بموجب میڈیا میں اسرائیلی صدر کی جانب سے خود کو احمدیہ جماعت کہنے والے قادیانی فرقہ کی ستائش کی خبروں پر ریاستی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ تلنگانہ وآندھراپردیش کے ارکان و عہدیداران مولانا شاہ جمال الرحمن مفتاحی، مولانا مفتی غیاث الدین رحمانی قاسمی، مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی، مولانا محمد عبدالقوی، مولانا حافظ خواجہ نذیر الدین سبیلی، مولانا محمد امجد علی قاسمی، مولانا مصلح الدین قاسمی اور مولانا محمد ارشد علی قاسمی نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا : خود کو احمدیہ کمیونٹی کہنے والے قادیانی فرقہ کی حقیقت اور اس کی تاریخ سے جو لوگ واقف اور باخبر ہیں،
انھیں غاصب اور ظالم انتہا پسند اسرائیلی ریاست کے صدر کی جانب سے احمدیہ جماعت کی تعریف و ستائش کرنے پر کوئی حیرت و تعجب نہیں ہے، ان کے نزدیک یہ ایک تاریخی حقیقت اور سچائی کا اظہار ہے، جو لوگ احمدیہ کمیونٹی کو ایک مذہبی اقلیت سمجھ کر ان کے لئے مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں،انھیں اپنی غلط فہمی کے خول سے باہر آنا چاہیے کیوں کہ احمدیہ جماعت کا مذہب سے کوئی رشتہ و تعلق ہی نہیں ہے اس کا مقصدِ وجود ہی مذہب کے لبادے میں استعماری طاقتوں کے یار اور آلہ کار بن کر ان کے مذ موم مقاصد اور مفادات کو پورا کرنا ہے، قادیانی فرقہ روزِ اول ہی سے ظلم و زیادتی اور ناانصافی کے شکار طبقات بالخصوص مسلمانوں کے خلاف اپنے ایجنڈہ پر پوری طرح عمل پیرا ہے،
اسرائیل جیسے انتہا پسند اور دہشت گرد ملک میں پوری آزادی کے ساتھ قادیانی فرقہ کی سرگرمیوں کا جاری رہنا اور اس کو تمام سرکاری مراعات کا حاصل ہونا خود اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ احمدیہ کمیونٹی وقت کی ظالم و جابر اور غاصب قوتوں کا پیدا کردہ اور ان ہی کا پروردہ گروہ ہے آزادی سے پہلے ہندوستان پر قابض اور ظالم حکومت برٹش ایمپائر نے احمدیہ گروہ کو وجود بخشا تھا اور اس کا بھرپور سپورٹ کیا تھا، آج یہ گروہ ایک ظالم انتہا پسند اور متعصب ریاست اسرائیل کی گود میں کھیل رہا ہے، جس نے غزّہ کے لاکھوں نہتّے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی حقوق کو پامال کرنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا، اسرائیل صدر کا بیان قادیانی فرقہ کی ستائش سے زیادہ اس کی مکروہ تاریخ اور ظالم و جابر طاقتوں کے ساتھ اس کے ناپاک گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنے والا ہے