ٹرمپ اور مودی کا انجام :
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی سیاست میں ایک بار ہار نےکے بعد دوسری بار انتخاب جیتنے کا نادر اعزاز حاصل تو لیکن آج وہ اس کامیابی کو کوس رہے ہوں گے ۔ وہ سوچ رہے ہوں گے کہ کاش وہ دوبارہ انتخاب لڑ کر صدر منتخب ہی نہ ہوتے تو کم ازکم وسط مدتی انتخاب کی اس ذلت آمیز شکست سے بچ جاتے ۔ عام طور پر انتخابی نتائج کا کوئی نہ کوئی ایسا پہلو ہوتا ہے کہ جس پر ہارنے والا بھی اطمینان کا سانس لیتا ہے مگر امریکہ کے اندر اس بار ٹرمپ ہر محاذ پر بری طرح ہارے اور انہیں کہنا پڑا ، ’’میں الیکشن میں نہیں تھا، اور اگر میں ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔‘‘ سچائی یہ ہے انتخاب کے دوران ہر طرف ٹرمپ ہی ٹرمپ تھے مگر اب سیاسی افق سے ان کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔ اب وہ وہاں موجود تو ہیں مگر ان کے اوپر چھائے ذلت و رسوائی کے بادلوں نے ان کو زندہ بدست مردہ کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے۔ یہ وہی متکبر حکمراں ہےجو ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کا خواب دیکھ رہا تھا ۔ وہاں پر بزورِ قوت اقتدار تبدیل کردینا چاہتا تھا لیکن اب اس کی اپنی حکومت مفلوج ہوکر رہ گئی ہے ۔ وہ خود تسلیم کررہا ہے کہ ایران کی جنگ نے انتخاب میں بھی اسے چاروں خانے چت کردیا ۔ میدانِ جنگ کے بعد انتخاب میں ٹرمپ کی اس رسوا کن شکست پر امیر مینائی کےیہ شعر صادق آتاہے ؎
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
امریکہ میں جملہ تین طرح کی ریاستیں ہیں ۔ ان میں سے کچھ سرخ ریپبلکن ریاست کہلاتی ہیں اورکچھ نیلی ریاستیں جو ہمیشہ ڈیموکریٹ پارٹی کا ساتھ دیتی ہیں۔ اصل فیصلہ ان تیسرے قسم کی ریاستوں کے جھکاو سے ہوتا ہے جو اپنی وفاداری دونوں جماعتوں کے درمیان بدلتی رہتی ہیں لیکن اس بار یہ دیکھنے میں آیا کہ کچھ روایتی طور پر ریپبلکن ریاستوں میں بھی اسے زبردست شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا۔ مثلاً کنساس میں، پادری اور سیاست دان ایڈم ہیملٹن نے تقریباً 100 سالوں کے بعد ڈیموکریٹ کے لیے سینیٹ کی نشست جیت کر تاریخ رقم کردی۔اوہائیو میں ریپبلکن جان ہسٹڈ اپنی سینیٹ کی نشست ڈیموکریٹ شیروڈ براؤن سے ہار گئے ۔ یہ دراصل جے ڈی وینس کاگڑھ ہے۔ ان کے نائب صدر منتخب ہونے کے بعد ہسٹڈ کو اس سیٹ پر مقرر کیا گیا تھا۔ وہیں اوہائیو میں ہی ڈیموکریٹ راب سینڈز نے ریپبلکن جیک لہن کو شکست دے کر گورنر شپ جیت لی۔ ٹیکساس میں ڈیموکریٹ جینا ہینوجوسا نے موجودہ گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دے کر ٹیکساس کی گورنر شپ کے لیے منتخب ہونے والی پہلی لاطینی خاتون بن گئیں۔ جارجیا میں کیشا لانس باٹمز نے ریپبلکن امیدوار رک جیکسن کو شکست دے کر ریاست کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بننے کا تاریخی اعزاز حاصل کرلیا ۔
رنجیو پوری کا مشی گن کے ایوانِ نمائندگان کااسپیکر منتخب ہونا بھی ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اس باوقار عہدے پر فائز ہونے والے وہ پہلےہندوستانی نژاد امریکی ہیں۔ انہوں نے اس عہدے پر منتخب ہونے کے بعد فخر کے ساتھ عاجزی کا اظہار کیا ۔42 سالہ رنجیو پوری 2020 میں مشی گن کے ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہونے والے پہلے سکھ امریکن تھے۔پنجابی تارکینِ وطن کے گھر میں پیدا ہونے والے رنجیو پوری کو 2025 میں ریپبلکنز کے کنٹرول والے 110 رکنی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کا لیڈر مقرر کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا، "جب میرے والدین اس ملک میں نقل مکانی کر کے آئے تھے، تو وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کا بیٹا ایک دن نئی تاریخ رقم کرے گا، رکاوٹیں توڑے گا اور مشی گن ہاؤس کی قیادت کرے گا۔ یہی امریکہ کا اصل وعدہ ہے۔”رنجیو پوری نے یونیورسٹی آف شکاگو بوتھ اسکول آف بزنس سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اور مشی گن واپس آ گئے، جہاں انہوں نے آٹوموٹو (گاڑیوں کی) انڈسٹری میں کام کیا۔ رنجیو پوری کی تاریخ ساز کامیابی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب ہندوستانی تارکین وطن کے خلاف چھیڑی جانے والی اہانت آمیز مہم کا منہ توڑ جواب ہے ۔
صدر ٹرمپ کو اس بار مسلمانوں کے علاوہ ہندوستانی نژاد امریکیوں نے بڑا مزہ چکھایا ۔ مثلاً رنجیو پوری کے علاوہ سابق صدر باراک اوباما کے مشیر سوہاس سبرامنیم نے ورجینیا کے 10ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کل ووٹوں کا 61.5 فیصد سے زائد حصہ حاصل کیا، جبکہ ان کے ریپبلکن حریف، ڈیو بیک وِدھ کو 36.4 فیصد ووٹ ملے۔ہیوسٹن میں بھارتی نژاد والدین کے ہاں پیدا ہونے والے سبرامنیم نے نیو اورلینز کی ٹولین یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران خدمتِ خلق کی جانب راغب ہوئے۔ وہاں قیام کے دوران، انہوں نے ’ہریکین کترینہ‘ (سمندری طوفان) سے متاثرہ لوگوں کی بحالی میں مدد کے لیے رضاکاروں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ان کےساتھ ہندوستانی نژاد امریکی پیا ڈنڈیا نے فلوریڈا کے 22 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست جیت لی۔ انہوں نے اس مقابلے میں میرین کور کے سابق اہلکار کیسی اسکر کو شکست دی۔ ہائی اسکول کی سابق پرنسپل پیا ڈنڈیا نے 51.9 فیصد ووٹ حاصل کیے اور ان کے مدمقابل، کیسی اسکر صرف 49.1 فیصد ووٹ حاصل کرسکیں۔
امریکی انتخاب میں الٹ پھیر کی سب سے پہلی خبر شمالی کیرولینا سے آئی جہاں ڈیموکریٹ رائے کوپر نے ریپبلکن مائیکل واٹلی کو شکست دے دی۔ جنوبی کیرولینا بھی ریپبلکن پارٹی کا ناقابلِ تسخیر قلعہ مانا جاتا تھا۔ وہاں ٹرمپ کے وفادار لنڈسے گراہم کی بہن سینیٹر ڈارلین گراہم کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں اس سال کے شروع میں لنڈسے گراہم کی موت کے بعد بقیہ مدت پوری کرنے کے لیے سینیٹر مقرر کیا گیا تھا۔ ٹیکساس نےتقریباً 40 سالوں کے بعد پہلی بار کسی ڈیموکریٹ کو سینیٹ میں بھیجا ۔وہاں پر جیمز ٹیلیریکو نے کین پیکسٹن کی شکست سے دوچار کیا ۔ اس کے باوجود ٹرمپ کہتے ہیں کہ انہیں ٹیکساس کے ریپبلکن اٹارنی جنرل کین پیکسٹن اور ڈارلین گراہم جیسے امیدواروں کی حمایت کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگرافسوس نہیں ہے تو کیا ان کی شکست پر خوشی ہے؟ دراصل بیچارے ٹرمپ نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ شیخ چلی کا خواب دیکھنے والی ٹرمپ سرکارکی صلاحیت میں اب نمایاں کمی واقع ہوگی۔ ان کی من مانی پر لگام لگے گی کیونکہ امریکی کانگریس کے پاس صدارتی فیصلوں کو زیر کرنے کے وسیع اختیارات ہیں۔ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل ہونے کی بدولت، ڈیموکریٹس کمیٹی تحقیقات، سماعتوں اور طلبی کے احکامات جاری کرنے کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ پر کانگریسی نگرانی کو نمایاں طور پر مضبوط کر سکتے ہیں۔
ڈیموکریٹس کے سینیٹ پر کنٹرول کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ صدر ٹرمپ کے نامزد کردہ افراد کی تقرری کو روک سکتے ہیں، اور ساتھ ہی نئی قانون سازی کی منظوری کا عمل بھی ان کے لیے آسان ہو جائے گا۔ٹرمپ نے ‘دی نیویارک ٹائمز’ کو بتایا کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بیان ان کے اس دعوے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اگلے دو سال تک اپنے ‘ویٹو’ کے حق کا استعمال کرتے ہوئے حکومت چلائیں گے۔ ویسے ٹرمپ کے پاس ایگزیکٹو آرڈرز جاری کرنے یا اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کے لیے کانگریس کے منظور کردہ بلوں کو ویٹو کرنے کا اختیار باقی رہے گا مگر اس کھینچا تانی سے انتظامی چپقلش اور ریپبلکن پارٹی کی مقبولیت میں جوکمی ہوگی اس کے سبب اگلی بارپارٹی کا جیتنا ناممکن ہوجائے گا۔ ٹرمپ کو تو آگے انتخاب نہیں لڑنا ہے مگر جن کو قسمت آزمائی کرنی ہے وہ ٹرمپ پر دباو بنائیں گے ۔ بات نہیں بنی تو پارٹی میں بغاوت بھی ہوسکتی ہے۔ اس خانہ جنگی کے نتیجے میں اگر ٹرمپ کو بیچ ہی ہٹا دیا جائے تو یہ ایران کی بہت بڑی فتح ہوگی۔صدرٹرمپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست میں اہم کردار ادا کیا۔
فاکس نیوز کے ساتھ ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا، "میرا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی اس کی ایک وجہ ہے، لیکن ساتھ ہی، لوگوں نے ایران کے حوالے سے میرے اٹھائے گئے اقدامات کی اہمیت کو بھی سمجھا۔” اگر ایسا ہوتا تو یہ نتائج نہیں آتے۔فاکس نیوز کے مطابق نوجوان، آزاد خیال، دیہی علاقوں کے رہائشی اور ہسپانوی نژاد ووٹرز بڑی تعداد ایران کے ساتھ جنگ اور ٹیرف کا نفاذ کے سبب ریپبلکن پارٹی کے خلاف ہو گئی ۔ اسی لیے ڈیموکریٹس نے ان علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کی جنہیں ریپبلکن پارٹی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ جنوبی کیرولائنا اور ٹیکساس میں سینیٹ کی نشستیں گنوانا معمولی بات نہیں ہے۔ ٹیکساس ایک ایسی ریاست ہے جہاں ڈیموکریٹس 1994 کے بعد سے نہیں جیتے تھے. اس "بلیو ویو” (نیلی لہر) کے نتیجے میں کنساس میں بھی سینیٹ کی نشست پر کامیابی ملی، جس سے اس ریاست میں ریپبلکن پارٹی کی تقریباً 100 سالہ بالادستی کا خاتمہ ہو گیا۔ایران اور ٹیرف کے علاوہ ووٹرز نے مہنگائی اور ٹرمپ کے ذاتی مفاد کی خاطر عہدے کے استعمال والے طرزِ عمل کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ ٹرمپ نے امریکہ میں جو غلطیاں کیں وہی سب مودی ہندوستان میں کررہے ہیں اس لیے آج جو حشر ٹرمپ کا ہوا وہی کل مودی کا بھی ہوگا۔