انسان، کائنات اور اختیار: فکرِاقبال میں خود شناسی اور ذمہ داری کا تصور

انسان، کائنات اور اختیار:  فکرِاقبال  میں خود شناسی اور ذمہ داری کا تصور

انسان، کائنات اور اختیار:
فکرِاقبال میں خود شناسی اور ذمہ داری کا تصور

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

 

اقبال کے فلسفے میں انسان ایسا وجود ہے جو اپنے بارے میں سوچتا ہے، کائنات کے راز جاننے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے حالات بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ زندگی کو محض پیش آنے والے واقعات کا سلسلہ سمجھ کر قبول نہیں کرتا، بلکہ اپنے ارادے اور عمل سے اس کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے۔ تاہم اقبال کے نزدیک انسانی عظمت کا معیار صرف علم، ذہانت یا قوت نہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور اپنے اعمال کی ذمہ داری کس حد تک قبول کرتا ہے۔ یہی سوال اقبال کے تصورِ انسان کی بنیاد ہے۔

انسان کے اندر جاننے کی خواہش بھی ہے اور اپنی انفرادیت منوانے کی طلب بھی۔ وہ اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے، لیکن اسی ماحول کو بدلنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ اس کے سامنے مشکلات اور حدود ہیں، مگر ان کے باوجود آگے بڑھنے کے امکانات باقی رہتے ہیں۔ اقبال اسی امکان کو انسانی زندگی کی بنیادی قوت سمجھتے ہیں۔ ان کے ہاں خودی، عشق، آزادی، ضبطِ نفس اور مردِ مومن کے تصورات اسی فکر کے مختلف پہلو ہیں۔ ان سب کا تعلق ایسی شخصیت کی تعمیر سے ہے جو اپنے وجود کا شعور رکھتی ہو، اپنے ارادے کو مضبوط بنائے اور زندگی میں اپنے کردار کی اہمیت کو سمجھے۔

جستجو اور قوتِ عمل:
اقبال کے نزدیک انسان کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک اس کی جستجو ہے۔ وہ اپنے وجود اور کائنات کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ اس کی نگاہ سامنے موجود چیزوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ ان کے پس منظر اور حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہے۔ تاہم ہر سوال کا جواب اسے فوراً نہیں ملتا۔ بعض حقیقتیں اس کی سمجھ میں آتی ہیں تو بعض نئے سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ بانگِ درا کے حصۂ دوم کی نظم ’’انسان‘‘ میں اقبال نے انسانی فطرت کی اسی بے قراری کو موضوع بنایا ہے:
قدرت کا عجيب يہ ستم ہے!
انسان کو راز جو بنايا
راز اس کي نگاہ سے چھپايا
بے تاب ہے ذوق آگہي کا
کھلتا نہيں بھيد زندگی کا
انسان کو جاننے کی خواہش ہے، لیکن زندگی کے تمام راز اس پر آشکار نہیں ہوتے۔ یہی کیفیت اسے مسلسل غور و فکر پر آمادہ رکھتی ہے۔ وہ کسی حقیقت کو سمجھتا ہے تو اس کے سامنے مزید سوالات آ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس طرح علم کا سفر کسی ایک جواب پر ختم نہیں ہوتا۔ ہر دریافت اس کے لیے آگے بڑھنے کا ایک نیا راستہ کھولتی ہے۔ اقبال کے تصورِ انسان میں سوال کرنے اور حقیقت کی تلاش جاری رکھنے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ جو ذہن سوال اٹھانے اور اپنی رائے کو دلیل کی کسوٹی پر پرکھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، وہ فکری جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔

انسان کی ایک دوسری نمایاں خصوصیت قوتِ عمل ہے۔ وہ اپنے گردوپیش کو صرف دیکھتا اور اس کے بارے میں سوچتا ہی نہیں، بلکہ اسے بدلنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ بانگِ درا کے حصۂ سوم کی نظم ’’انسان‘‘ میں اقبال نے اسی صلاحیت کو نمایاں کیا ہے:
منظر چمنستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبا
محروم عمل نرگس مجبور تماشا ہے
رفتار کی لذت کا احساس نہیں اس کو
فطرت ہی صنوبر کی محروم تمنا ہے
تسلیم کی خوگر ہے جو چیز ہے دنیا میں
انسان کی ہر قوت سرگرم تقاضا ہے
اس ذرے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم
یہ ذرہ نہیں شاید سمٹا ہوا صحرا ہے
چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنستاں کی
یہ ہستیٔ دانا ہے بینا ہے توانا ہے

اس نظم میں اقبال انسان کی قوتِ عمل کو دوسری مخلوقات کے فطری دائرے کے مقابل رکھتے ہیں۔ نرگس منظر دیکھتی ہے اور صنوبر اپنی فطرت کے مطابق کھڑا رہتا ہے، لیکن انسان کے اندر موجودہ صورتِ حال سے آگے بڑھنے کی خواہش ہے۔ وہ اپنے ماحول کو سمجھتا ہے، اس کی خامیوں کو محسوس کرتا ہے اور اسے بدلنے کی تدبیر کرتا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی صلاحیت اسے ایک فعال وجود بناتی ہے۔ وہ حالات کو آخری حقیقت سمجھ کر قبول نہیں کرتا، بلکہ اپنے ارادے اور قوت سے ان میں تبدیلی لانے کی کوشش کرتا ہے۔
البتہ انسانی اختیار کی بھی حدود ہیں۔ انسان ہر واقعے کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں ڈھال سکتا اور نہ ہی ہر کوشش کا نتیجہ اس کے ارادے کے مطابق نکلتا ہے۔ اس کے باوجود حالات بہتر بنانے کی کوشش اس کی ذمہ داری ہے۔ اقبال کی فکر میں انسانی عظمت اسی شعور سے وابستہ ہے کہ انسان اپنے حصے کا کام انجام دے اور اپنے اعمال کے نتائج کی جواب دہی قبول کرے۔

خودی: شخصیت کی تعمیر:
اقبال کے فلسفے میں خودی کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ عام استعمال میں یہ لفظ اکثر انا، خود پسندی یا ذاتی مفاد کے معنی میں لیا جاتا ہے، لیکن اقبال کے ہاں اس کا مفہوم کہیں زیادہ وسیع ہے۔ خودی انسان کی اپنی انفرادی شخصیت کا شعور ہے۔ اس میں ارادے کی قوت، فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور اپنے کردار کو سنوارنے کا جذبہ شامل ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ انسان اپنی قدر پہچانے، اپنی صلاحیتوں کو ضائع نہ کرے اور زندگی کو کسی بامقصد راستے پر آگے بڑھائے۔
اقبال کی فارسی مثنوی اسرارِ خودی میں یہ تصور پوری فکری قوت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ ان کے نزدیک شخصیت ایسی حقیقت نہیں جو انسان کو پیدائش کے ساتھ مکمل صورت میں مل جاتی ہو۔ اس کی تعمیر کے لیے محنت، مقصد سے وابستگی، محبت اور ضبط کی ضرورت ہوتی ہے۔ بے سمت خواہشات انسان کی قوت کو منتشر کر دیتی ہیں، جب کہ کسی بلند مقصد سے وابستہ ارادہ شخصیت کو استحکام عطا کرتا ہے۔ خودی کی پرورش کا مطلب اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا اور مسلسل عمل کے ذریعے انہیں بہتر بنانا ہے۔

اقبال نے اسی خیال کو اپنے مشہور شعر میں یوں بیان کیا ہے:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اس شعر میں انسانی ارادے کی قوت اور خدا کے ساتھ اس کے تعلق کو ایک ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اقبال انسان کو تقدیر کے نام پر بے عملی اختیار کرنے کے بجائے اپنی شخصیت سنوارنے اور اپنے عمل سے زندگی میں تبدیلی لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ تاہم خودی کی بلندی خدا سے بے نیازی کا نام نہیں۔ انسان اپنی قوت کو خدا کے مقابل کھڑا نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک امانت سمجھ کر استعمال کرتا ہے۔ اس کی خودی بندگی کے شعور سے الگ نہیں ہوتی۔

قرآن مجید میں انسان کی زمینی حیثیت کے حوالے سے ارشاد ہے:
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (سورۂ البقرہ، آیت 30)
ترجمہ: "اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب (خلیفہ )بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا: کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں۔ (خدا نے) فرمایا: میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔”

اس آیت میں انسان کے لیے لفظ ’’خلیفہ‘‘ استعمال ہوا ہے۔ اس لفظ کی تفسیری جہات پر مفسرین نے مختلف پہلوؤں سے گفتگو کی ہے۔ اقبال کی فکر میں یہ تصور انسان کی زمینی ذمہ داری اور اس کی صلاحیتوں کے استعمال سے معنوی تعلق رکھتا ہے۔ انسان کو جو مقام دیا گیا ہے، اس کے ساتھ جواب دہی بھی وابستہ ہے۔ آیت کے سیاق میں فرشتوں کا سوال بھی قابلِ توجہ ہے کہ انسان زمین میں فساد اور خون ریزی کر سکتا ہے۔ گویا انسانی وجود میں تعمیر کی صلاحیت کے ساتھ بگاڑ کا امکان بھی موجود ہے۔ اس کی عظمت کا فیصلہ صرف اس کے مقام سے نہیں، بلکہ اس بات سے بھی ہوگا کہ وہ اپنے اختیار کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔

قرآن مجید کی ایک اور آیت انسان کی ذمہ داری کو امانت کے تصور سے جوڑتی ہے:
إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (سورۂ الاحزاب، آیت 72)
ترجمہ: "ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمین پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے۔ اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا۔”
آیتِ امانت میں انسان کے کردار کا ایک پیچیدہ پہلو سامنے آتا ہے۔ اس نے امانت کا بار اٹھایا، لیکن اس کے اندر ظلم اور نادانی کا امکان بھی موجود ہے۔ اس لیے امانت کو محض انسانی برتری کی سند سمجھنا درست نہیں۔ اس میں ذمہ داری کا بوجھ بھی شامل ہے اور اس کے تقاضے پورے نہ کرنے کا خطرہ بھی۔ اقبال کے تصورِ خودی کو اس قرآنی تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ انسانی قوت کی قدر اس کے اخلاقی استعمال سے متعین ہوتی ہے۔

خودی کی تعمیر کے لیے محض بلند خیالات کافی نہیں۔ اس کے لیے نظم و ضبط اور اپنے نفس پر قابو پانے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ اسرارِ خودی کے نویں باب میں اقبال نے خودی کی تربیت کے تین مراحل بیان کیے ہیں: اطاعت، ضبطِ نفس اور نیابتِ الٰہی۔ رینالڈ اے نکلسن نے اپنی انگریزی ترجمانی “The Secrets of the Self” میں ان کے لیے بالترتیب Obedience ، Self-control اور Divine Vicegerency کی اصطلاحیں استعمال کی ہیں۔ یہ ترجمہ 1920ء میں شائع ہوا تھا۔
• اطاعت سے مراد اس قانون کی پابندی ہے جو انسان کی زندگی کو نظم اور سمت عطا کرتا ہے۔ اقبال کے نزدیک قانونِ الٰہی کی پیروی ارادے کو کمزور نہیں کرتی، بلکہ اسے بے سمتی سے بچاتی ہے۔ جو شخص ہر خواہش کے پیچھے چلتا ہے، وہ رفتہ رفتہ اپنے نفس کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہے۔ اصولوں کی پابندی اسے اپنی قوتیں ایک مقصد کے لیے جمع کرنے میں مدد دیتی ہے۔

• ضبطِ نفس اس تربیت کا دوسرا مرحلہ ہے۔ اس میں انسان اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو پانا سیکھتا ہے۔ وہ ہر فوری خواہش پوری کرنے کے بجائے یہ طے کرتا ہے کہ کون سی خواہش اس کے مقصد اور کردار کے لیے مناسب ہے۔ ضبطِ نفس کا مطلب جذبات کو ختم کرنا نہیں، بلکہ انہیں قابو میں رکھ کر درست فیصلہ کرنا ہے۔ اسی صلاحیت سے ارادے میں پختگی آتی ہے اور انسان مشکل حالات میں بھی اپنے مقصد پر قائم رہ سکتا ہے۔
• تیسرا مرحلہ نیابتِ الٰہی ہے، جسے اقبال خودی کی تربیت کی بلند منزل قرار دیتے ہیں۔ اس کا مطلب الوہیت کا دعویٰ کرنا یا خدا کی صفات میں شریک ہونا نہیں۔ نکلسن کے ترجمے میں اقبال اس منزل پر پہنچنے والے انسان کو ایسی شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں جس میں علم اور قوت، فکر اور عمل ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ اس کی صلاحیتیں ذاتی غلبے کے بجائے خیر اور تعمیری عمل کے لیے وقف ہوتی ہیں۔ وہ اپنے اختیار کو امانت سمجھتا ہے اور اس کے استعمال میں اخلاقی ذمہ داری کو پیش نظر رکھتا ہے۔

عشق اور عقل کا باہمی تعلق:
اقبال کے ہاں عشق خودی کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہاں عشق سے مراد صرف جذباتی وابستگی نہیں، بلکہ ایسی روحانی قوت ہے جو انسان کو ایک اعلیٰ حقیقت اور مقصد سے جوڑتی ہے۔ اسرارِ خودی میں عشق کو خودی کی مضبوطی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ انسان جب کسی بلند مقصد سے گہری وابستگی پیدا کرتا ہے تو اس کے اندر یقین اور استقامت پیدا ہوتی ہے۔ وہ مشکلات کے باوجود اپنے راستے پر قائم رہنے کا حوصلہ پاتا ہے۔
ابراہیم موسیٰ نے اقبال کے تصورِ انسان پر اپنے مطالعے میں واضح کیا ہے کہ خودی کو خود غرض انفرادیت کے بجائے انسانی شخصیت اور خدا سے محبت کے رشتے میں سمجھنا چاہیے۔ اقبال کے ہاں عشق انسان کو اپنی ذات کے حصار میں محدود نہیں کرتا، بلکہ اس کے اندر ایسی قوت پیدا کرتا ہے جو اسے بلند مقصد کے لیے عمل پر آمادہ کرتی ہے۔
اقبال عقل کے مخالف نہیں۔ ان کی تنقید اس عقل پر ہے جو اپنے آپ کو حساب، مصلحت اور ظاہری فائدے تک محدود کر لیتی ہے۔ عقل انسان کو حقائق سمجھنے اور اپنے فیصلوں کے نتائج جانچنے میں مدد دیتی ہے، جب کہ عشق اسے مقصد سے وابستہ رکھتا ہے۔ اقبال کی فکر میں دونوں ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ انسانی شخصیت کی تکمیل میں دونوں کا اپنا مقام ہے۔ عقل رہنمائی کرتی ہے اور عشق انسان کو اپنے یقین پر قائم رہنے کی قوت دیتا ہے۔
اسی لیے اقبال کے نزدیک علم کی قدر اس کے عملی اثرات سے بھی متعین ہوتی ہے۔ علم انسان کے کردار، فیصلوں اور طرزِ عمل میں تبدیلی پیدا کرے تو اس کی افادیت نمایاں ہوتی ہے۔ محض معلومات جمع کر لینا کافی نہیں؛ انہیں سمجھنا اور زندگی میں درست طور پر استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔ خودی کی تربیت میں مطالعے اور غور و فکر کے ساتھ عملی جدوجہد اور اخلاقی پختگی بھی شامل ہیں۔

اپنے باطن کی طرف رجوع بھی اسی تربیت کا حصہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
اس شعر میں انسان کو اپنی ذات کے اندر جھانکنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اسے اپنی خواہشات، کمزوریوں اور صلاحیتوں کو پہچاننا چاہیے، تاکہ دوسروں کی توقعات اور معاشرتی دباؤ کے بجائے اپنے شعور کی روشنی میں زندگی کا راستہ متعین کر سکے۔ اقبال کے نزدیک خود شناسی انسان کو عملی زندگی سے بے نیاز نہیں کرتی، بلکہ اسے اپنے فرائض کا زیادہ احساس دلاتی ہے۔ اپنی ذات کو سمجھنے والا شخص اپنے فیصلوں اور کردار کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ہو جاتا ہے۔

فرد اور معاشرہ:
اقبال کے تصورِ انسان کو صرف انفرادی خودی تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اسرارِ خودی میں فرد کی شخصیت کی تعمیر پر گفتگو کے بعد رموزِ بے خودی میں وہ فرد اور جماعت کے تعلق کو موضوع بناتے ہیں۔ یہ مثنوی 1918ء میں لاہور کے یونین اسٹیم پریس سے شائع ہوئی۔ ان دونوں کتابوں کو ساتھ پڑھنے سے اقبال کے تصورِ فرد اور اجتماع کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
بے خودی کا مطلب اپنی شخصیت کو مٹا دینا نہیں، بلکہ اپنی انفرادیت کو ایک وسیع اجتماعی مقصد سے وابستہ کرنا ہے۔ فرد معاشرے سے الگ رہ کر اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار نہیں لا سکتا۔ اسے زبان، تہذیب، علم اور اجتماعی تجربے سے بہت کچھ ملتا ہے۔ دوسری طرف معاشرے کی ترقی بھی ایسے افراد کے بغیر ممکن نہیں جو سوچنے، سوال کرنے اور نئے راستے تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اقبال کے نزدیک فرد اور جماعت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ فرد اپنی آزادی اور انفرادیت قائم رکھتے ہوئے دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں سے اجتماعی زندگی کو بہتر بنانے میں حصہ لیتا ہے، جب کہ معاشرہ اس کی نشوونما کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ ایسی اجتماعیت جو فرد کی آواز دبا دے، درست نہیں۔ اسی طرح ایسی انفرادیت بھی معاشرے کے لیے مفید نہیں جو دوسروں کے حقوق اور مفادات کو نظر انداز کرے۔

یہی بات اقبال کے تصورِ خودی کو خود غرضی سے الگ کرتی ہے۔ مضبوط شخصیت کا مطلب دوسروں پر برتری حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنی قوت کو ایسے مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے جس سے اجتماعی زندگی کو فائدہ پہنچے۔ خودی کی پختگی انسان کو اپنی ذات کے ساتھ دوسروں کے حقوق اور ضروریات کا احساس بھی دلاتی ہے۔
آزادی، تقدیر اور جواب دہی:
اقبال کے فلسفے میں انسانی آزادی کا سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انسان کو ارادہ اور انتخاب کی صلاحیت حاصل ہے، اسی لیے وہ اپنے اعمال کا ذمہ دار بھی ہے۔ اگر اسے اپنے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل نہ ہو تو اسے اپنے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی ممکن نہیں رہتا۔ اقبال انسان کو ایسی شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں جو اپنے فیصلوں کے ذریعے اپنی زندگی کی تشکیل میں حصہ لیتی ہے، اگرچہ اس کا اختیار لامحدود نہیں۔ اسے ایسے حالات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جنہیں اس نے خود پیدا نہیں کیا اور جنہیں بدلنا ہمیشہ اس کے بس میں نہیں ہوتا۔

قرآن مجید فرد کی جواب دہی کا اصول نہایت واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے:
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ۚ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (سورۂ الانعام، آیت 164)
ترجمہ: "کہو: کیا میں خدا کے سوا اور پروردگار تلاش کروں، حالاں کہ وہی ہر چیز کا مالک ہے؟ اور جو کوئی (برا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے، اور کوئی شخص کسی دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے، تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔”
اسی اصول کو سورۂ نجم میں بھی بیان کیا گیا ہے:
أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۝ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ (سورۂ النجم، آیات 38 تا 39)
ترجمہ: "یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔”

ان آیات میں دو بنیادی اصول سامنے آتے ہیں: ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور اس کی کوشش کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ اقبال کے نزدیک انسانی خودی کی انفرادیت اسی اخلاقی جواب دہی سے وابستہ ہے۔ انسان اپنی زندگی کے فیصلوں میں حصہ لیتا ہے، اس لیے اسے اپنے عمل کے نتائج سے بے تعلق نہیں رہنا چاہیے۔ اس کے اعمال کی ذمہ داری کسی دوسرے پر منتقل نہیں کی جا سکتی۔
تشکیل جدید الہیات اسلامیہ (The Reconstruction of Religious Thought in Islam)کے چوتھے خطبے کا عنوان (The Human Ego—His Freedom and Immortality.)ہے۔ اس میں اقبال انسانی خودی کی انفرادیت، آزادی، ذمہ داری اور موت کے بعد اس کی بقا کے سوالات پر بحث کرتے ہیں۔ وہ انسانی شخصیت کو ایک ایسی حقیقت سمجھتے ہیں جس کی انفرادیت اور معنویت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے نزدیک موت کے بعد انسان کی انفرادی شناخت کا باقی رہنا مذہبی اور فلسفیانہ اعتبار سے اہم مسئلہ ہے۔ اسے محض جسمانی زندگی کے تسلسل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اقبال کی توجہ اس بات پر ہے کہ انسان کی شخصیت اور اس کی انفرادیت کا آخری انجام کیا ہوگا۔ ان کی بحث میں بقا کا تصور ایک سنجیدہ فلسفیانہ مسئلہ ہے۔ اسے اخلاقی تربیت کے کسی فوری نتیجے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔

تقدیر کے بارے میں بھی اقبال کا نقطۂ نظر انسان کو بے عملی کی طرف نہیں لے جاتا۔ وہ زندگی کو ایک جاری تخلیقی عمل سمجھتے ہیں جس میں انسانی ارادہ اور عمل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی سورۂ رعد میں قوموں کی حالت اور ان کے اندر تبدیلی کے تعلق کو یوں بیان کیا گیا ہے:
لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ (سورۂ الرعد، آیت 11)
ترجمہ: "اس کے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار(فرشتے ) ہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی۔ اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔”

اس آیت کا متعلقہ حصہ اجتماعی تبدیلی کے بارے میں ایک اہم اصول بیان کرتا ہے۔ قوموں کی حالت میں تبدیلی کا تعلق ان کے اپنے رویوں اور اندرونی کیفیت سے بھی ہے۔ اقبال کی فکر میں اس اصول کی معنوی اہمیت یہ ہے کہ اجتماعی اصلاح کے لیے انسانوں کی کوشش ضروری ہے۔ تاہم آیت کو اس مفہوم تک محدود نہیں کرنا چاہیے کہ ہر فرد اپنی قوتِ ارادی سے ہر مشکل دور کر سکتا ہے۔ اس کا پیغام انسانی کوشش، اجتماعی ذمہ داری اور خدا کے اختیار کو ایک ساتھ سامنے رکھتا ہے۔ حالات بدلنے کے لیے عمل ضروری ہے، لیکن نتائج کا آخری اختیار انسان کے پاس نہیں۔

مردِ مومن: خودی کی عملی صورت:
اقبال کے تصورِ انسان کی عملی اور اخلاقی صورت مردِ مومن کے کردار میں سامنے آتی ہے۔ وہ ایسا انسان ہے جس کا ارادہ مضبوط اور مقصد واضح ہے۔ اس کی قوت اس کے کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔ وہ مشکل حالات میں اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے اور اپنی طاقت کو دوسروں پر غلبہ پانے کے بجائے حق کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کی خود اعتمادی بندگی کے شعور سے الگ نہیں ہوتی۔ وہ اپنے اختیار کو بے قیدی نہیں سمجھتا اور اپنی قوت کے استعمال میں اخلاقی حدود کا خیال رکھتا ہے۔
اقبال کی شاعری میں شاہین بلند حوصلگی، خود انحصاری اور مسلسل جستجو کی علامت ہے۔ شاہین کا تصور صرف بلند پرواز یا طاقت کا استعارہ نہیں، بلکہ اس میں اپنی منزل تلاش کرنے اور آسانیوں کا محتاج نہ ہونے کا جذبہ بھی شامل ہے۔ اقبال نوجوانوں کو ایسے کردار کی طرف بلاتے ہیں جو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور مشکل راستوں سے گھبرائے نہیں۔ اس کے لیے قوت کے ساتھ ضبط اور بلند حوصلگی کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ فرماتے ہیں :
شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُردم ہے اگر تو’ تو نہیں خطرۂ افتاد
اقبال کے تصورِ خودی کا تقابل مغربی فلسفے کے بعض مباحث سے بھی کیا گیا ہے۔ ہنری برگساں کے فلسفے میں زندگی کی حرکت، تخلیقی ارتقا اور تجربے کی اہمیت ایسے پہلو ہیں جن کی روشنی میں اقبال کی فکر کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ سلیمان بشیر دیاگنے نے اقبال اور برگساں کے فکری تعلق پر اپنے مقالے میں خودی، انسانی شخصیت اور کائنات کے تخلیقی امکانات پر گفتگو کی ہے۔ دونوں مفکرین زندگی کو ایک متحرک حقیقت کے طور پر دیکھتے ہیں، تاہم اقبال کی فکر خدا، وحی اور روحانی تجربے سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اس لیے دونوں کے درمیان مماثلت کو مکمل یکسانیت نہیں سمجھنا چاہیے۔
اسی طرح نطشے کے تصورِ خود سے آگے بڑھنے اور اقبال کی خودی میں بعض ظاہری مماثلتیں دکھائی دیتی ہیں، لیکن دونوں کے فکری مقاصد مختلف ہیں۔ اقبال کے ہاں انسانی بلندی خدا کی بندگی، اخلاقی ضبط اور اجتماعی ذمہ داری سے وابستہ ہے۔ ان کا مطلوب انسان اپنی قوت بڑھانے یا دوسروں پر غلبہ پانے کو زندگی کا مقصد نہیں بناتا، بلکہ اپنی شخصیت کو ایک اخلاقی اور روحانی نصب العین کے مطابق سنوارتا ہے۔

آج کے انسان کے لیے اقبال کی معنویت:
آج معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور ڈیجیٹل نظاموں نے علم حاصل کرنے، کام کرنے اور روزمرہ فیصلے کرنے کے طریقے بدل دیے ہیں۔ ان ذرائع سے انسان کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن ان کے استعمال نے ایک اہم سوال بھی پیدا کیا ہے: معلومات حاصل کرنے کی سہولت کیا انسان کی سوچنے اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کر رہی ہے؟

اقبال کے تصورِ خودی کی روشنی میں اس سوال کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ٹیکنالوجی انسان کی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتی ہے، لیکن ضمیر، مقصد اور اخلاقی ذمہ داری کی جگہ نہیں لے سکتی۔ معلومات حاصل کرنا اور ان کی صحت جانچ کر درست نتیجے تک پہنچنا دو الگ باتیں ہیں۔ انسان کو اپنی عقل استعمال کرنی، معلومات کو پرکھنا اور اپنے فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ اگر وہ ہر رائے اور ہر فیصلے کے لیے خودکار نظاموں کا محتاج ہو جائے تو اس کی فکری خودمختاری کمزور پڑ سکتی ہے۔ اقبال کا تصورِ خودی اسی فکری آزادی اور ذاتی ذمہ داری کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔

یہی اصول اجتماعی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جس معاشرے میں سوال کرنے، اختلاف رکھنے اور نئی بات کہنے کی گنجائش نہ ہو، وہاں فکر اور تخلیقی صلاحیتیں آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ اقبال کا انسان روایت سے اپنا تعلق توڑے بغیر اسے سمجھتا اور پرکھتا ہے۔ وہ علم سے فائدہ اٹھاتا ہے، مگر اپنی سوچ دوسروں کے حوالے نہیں کرتا۔ اس کی خودی اسے اپنی ذات کے ساتھ معاشرے کے لیے بھی جواب دہ بناتی ہے۔

اقبال کے تصورِ انسان میں خودی کی تعمیر ایک مسلسل عمل ہے۔ اس کا آغاز اپنی ذات کو پہچاننے سے ہوتا ہے، مگر اس کی معنویت اس وقت سامنے آتی ہے جب انسان اپنے علم اور صلاحیت کو عمل میں ڈھالتا ہے۔ وہ اپنے حالات کو سمجھتا ہے، اپنی آزادی کا شعور رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کے نتائج قبول کرتا ہے۔ اس کی شخصیت کا معیار دوسروں پر اس کا غلبہ نہیں، بلکہ اپنے کردار اور عمل کی پختگی ہے۔ اقبال کا انسان زندگی کے واقعات کا خاموش تماشائی بن کر نہیں رہتا، بلکہ اپنے اختیار کی حدود پہچانتے ہوئے اپنی دنیا کی تعمیر میں حصہ لیتا ہے۔
———–

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے