بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ کا آغاز نصف شب کی الٹی گنتی کے ساتھ رات 11 بج کر 59 منٹ پرکیا ۔ حزب اختلاف اگر الٹی گنتی چلاتا تو بی جے پی کو بہت برا لگتا مگر ایک خوشی کے موقع پریہ منحوس کام تو خود اسی نے کردیا ۔ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے توالٹا وزیر اعظم نریندر مودی کو سالگرہ پر مبارکباد دے دی۔ کانگریس قائدین نےمودی کی اچھی صحت اور لمبی عمر کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کے علاوہ این سی پی-ایس پی ایم پی سپریہ سولے ،بہوجن سماج پارٹی کی سپریمو مایاوتی ، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ یہاں تک کہ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال اوربیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے صدر نوین پٹنائک بھی پیچھے نہیں رہے ۔اس بابت کچھ لوگوں کواس پر تعجب ہے سارے حزب اختلاف نے اس کشادہ دلی کا مظاہرہ کیسے کردیا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اپوزیشن کو معلوم ہے بی جے پی کو انتخاب میں شکست فاش سے دوچار کروانے میں سب سےموثر کردار مودی جی ہی ادا کرسکتے ہیں۔ انہیں کی وجہ سے یہ جہاز بہت جلد ڈوب جائے گااسی لیے امیت شاہ یا یوگی ادیتیہ ناتھ کاکوئی بیان میڈیا میں بحث کا موضوع نہیں بنا کیونکہ ان کو یہ فکر لاحق ہے کہ اگر کمل مرجھا گیا ان کے مستقبل کا کیا ہو گا؟
انسان کا ایک بڑا دشمن خود اس کی اپنی ذاتِ والا صفات ہوتی ہے۔ اس دشمنی کا مظاہرہ اس موقع پر کھل کر ہوجاتا ہے کہ جب وہ دوسروں کو دی جانے والی نصیحت پر کوئی خود عمل در آمد نہ کرے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کی 76 ویں سالگرہ پر دنیا کے دیگر ممالک سے بھی مبارکباد کے پیغامات موصول ہوئے۔ ہندوستان میں جاپانی سفیر اونو کیچی نے ‘ترقی یافتہ ہندوستان’ کے ویژن کو آگے بڑھانے میں وزیر اعظم مودی کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ہندوستان-جاپان شراکت داری اور بھی بلندیوں تک پہنچ جائے گی کیونکہ دونوں ممالک اگلے سال سفارتی تعلقات کے 75 سال کا جشن منانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر فلپ گرین نے اپنی پوسٹ لکھا، ’’سالگرہ مبارک ہو، وزیر اعظم نریندر مودی۔ آپ کے حالیہ دورہ آسٹریلیا نے آسٹریلیا-بھارت تعلقات کی غیر معمولی گرم جوشی اور مضبوطی اور ہمارے لوگوں کے درمیان گہرے تعلقات کو ظاہر کیا ہے۔ آپ کی اچھی صحت اور آنے والا ایک شاندار سال‘‘۔
سلوواکیہ کے سفیر رابرٹ میکسیان نے بھی ان “محبت، دوستی، اور یادگار لمحات” کو یاد کیا اور انسٹاگرام پر لکھا، ’’محترم وزیر اعظم نریندر مودی جی، آپ کو سالگرہ کی بہت بہت مبارکباد! آپ کو اچھی صحت، خوشی، طاقت اور آنے والے بہت سے کامیاب سالوں کی خواہش! سلواکیہ کے آپ کے حالیہ دورے کے لیے آپ کا شکریہ – یہ شاندار سفر اب بھی ہمارے دلوں میں نقش ہے، اور ہم آنے والے دوستی کے لمحات اور یادگار پلوں کو خوشی کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ آنے والا سال آپ کے لیے اور ہندوستان کے لوگوں کے لیے امن، خوشحالی اور مسلسل ترقی لائے۔‘‘ مودی جی عدم مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ یہ پیغامات ساتھ سمندر پار سے نہیں آئے بلکہ دہلی میں بیٹھے ہوئے سفیروں سے لکھوائے گئے۔ہندوستان میں امریکی سفارت خانے کے پیغام کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پی ایم مودی کو سالگرہ کی مبارکباد دی گئی تھی ۔ سوال یہ ہے کہ یہی کام خود صدر ٹرمپ نے براہِ راست کیوں نہیں کیا؟ عاصم منیر کی تعریف کرنے والے ٹرمپ نے مودی جی کے لیے چند جملے کیوں نہیں لکھے؟ امریکی مشن نے اپنے ای میل میں کہا، ’’صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے، ہم وزیر اعظم نریندر مودی کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہم آپ کے لیے آنے والے سال میں اچھی صحت اور خوشی کی خواہش کرتے ہیں!‘‘
امریکی حکومت مودی جی کی تو خیر خواہ ہوسکتی مگر ہندوستانی عوام کی ہرگز نہیں ہے ورنہ وہاں کی ایوانِ پارلیمان سینکشننگ روس اینڈ ایران ایکٹ 2026 کے حوالے سے بحث نہیں ہو رہی ہوتی۔ امریکی سینیٹ نے مودی جی سالگرہ کے ہی دن لنڈسے او گراہم نامی بل کو 86 کے مقابلے 11 ووٹوں کی زبردست اکثریت سے منظور کرلیا۔ یہ قانون اگر ایوان نمائندگان میں بھی منظور ہوجائے تو اس کے بعد روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے والے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی محصولات عائد کیے جائیں گے۔ اس بل کے ذریعے امریکی حکومت بنیادی طور پر روس کی قیادت اور توانائی کے شعبے پر پابندیاں عائد کرنا چاہتی ہے۔امریکہ کا دعویٰ ہے کہ روس خام تیل بیچ کر یوکرین کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ اس لیے وہ ان جہازوں پر بھی پابندی لگانا چاہتا ہے جو روس کی تیل کی پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے تیل کی تجارت کو قابل بنا رہے ہیں۔ ہندوستان بھی چونکہ روس سے خام تیل در آمد کرتا ہے بلکہ 2026 کے کچھ مہینوں میں ہندوستان کی کل خام تیل کی درآمدات میں روسی تیل کا حصہ تقریباً نصف تک پہنچ گیا تھا۔
مستقبل میں اگر امریکہ ہندوستانی اشیاء پر 100 فیصد ٹیرف لگاتا ہے تو ہندوستانی مصنوعات امریکی مارکیٹ میں نمایاں طور پر مہنگی ہوسکتی ہیں۔ اس سے ہندوستانی برآمد کنندگان کی لاگت اور امریکی مارکیٹ میں ان کی مسابقت پر اثر پڑ سکتا ہے۔فی الحال 100 فیصد ٹیرف کوئی حتمی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ قدم ہے مگر خطرہ موجود ہے۔ امریکہ اس سے قبل روسی تیل کے حوالہ سے ہندوستان کو نشانہ بنا چکا ہے۔ اس وقت ہندوستان پر کل 50فیصد کے ٹیرف لگائے گئے تھے، جنہیں بعد میں کم کیا گیا۔صدر ٹرمپ کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ہمدردی ہے مگر ہندوستانیوں سے نہیں لیکن ماضی بدقسمتی ہمارے حکمرانوں کی وفاداری امریکہ کے ساتھ ہوتی تھی۔ حالیہ برکس نے اجلاس نے ہوا کا رخ بدلا ہے۔’سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ‘ کے حوالے سے بہت عرصہ کے بعد حکومتِ ہند نے اپنی ریڑھ کی ہڈی دکھاتے ہوے واشنگٹن کو دو ٹوک الفاظ میں سخت سفارتی پیغام دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان اپنی 1.4 ارب آبادی کی توانائی کی ضروریات اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے اور عالمی منڈی کے حالات کے مطابق مختلف ذرائع سے تیل اور گیس کی خریداری جاری رکھے گا۔
16 ستمبر 2026 کو منظور کیے گئے اس امریکی بل میں روس سے توانائی درآمد کرنے والے ممالک پر اضافی سخت ٹیرف عائد کرنے کی تجویز کا براہِ راست اثر ہندوستان جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں پر پڑ ے گا ۔ مودی سرکار اس پر کب تک قائم رہ سکے گی یہ کہنا مشکل ہےکیونکہ ماضی کا تجربہ تلخ رہا ہے۔فی الحال نئی دہلی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے قومی، تجارتی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کو تیار ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران اس حساس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح پر کئی ادوار میں کھل کر بات چیت ہو چکی ہے۔ ہندوستان نے امریکہ کو واضح طور پر سمجھا دیا ہے کہ ایسے یک طرفہ فیصلوں کا اثر نہ صرف دونوں ملکوں کے باہمی تجارتی تعلقات پر پڑے گا بلکہ بین الاقوامی توانائی کی منڈی میں بھی شدید اتھل پتھل پیدا ہو سکتی ہے۔ حکومت نے صنعت اور تجارتی تنظیموں کے ساتھ مل کر اس قانون سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر کام شروع توکر دیا ہے مگر مودی جی کی سالگرہ پر ان کے دوست ٹرمپ کا یہ تحفہ نہایت نایاب ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ساری دنیا کے پیغامات کی اہمیت اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی سے کم ہے۔ انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو سالگرہ کی مبارکباد دی۔میلونی نے اپنی پوسٹ میں پی ایم مودی کے لیے تین دعا ئیں کیں ۔ پہلی تو اچھی صحت، دوسرے توانائی اور بالآخر کامیابی کی دعا کی گئی۔اس عمر میں صحت کےبہتر ہونے اور توانائی کے بڑھنے کا تو کوئی امکان نہیں ہے اس لیے کامیابی کیونکرہاتھ آئے گی ؟ میلونی نے پی ایم مودی کی سالگرہ کے موقع پر انہیں ’’میرے دوست‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جس سے مودی بھگت بہت خوش ہیں لیکن نہ تو انہیں اور نہ مودی جی کو خود کبھی ان کی اصلی میلوڈی یشودھا بین کا خیال آتا ہے۔ مودی جی کو دنیا بھر سے مبارکباد آئی مگر نہیں آئی تو نصف بہتر سے نہیں آئی۔ کون جانے کہ یشودھا بین کی بددعا کا اثر ہےکہ اس عظیم الشان سے قبل مودی جی نے یو پی آئی کے لین دین پر ایک طرح کا ٹیکس لگا دیا اور اس نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ اس معاملے میں چالاکی دکھانے کے لیےٹیکس کو مرچنٹ ڈسکاونٹ کا نام دیا گیا ۔ مودی جی کو معلوم ہونا چاہیے کہ نمک کی شیشی پر شکر لکھ دینے سے اس کی تلخی مٹھاس میں نہیں بدلتی ۔ اسی طرح مودی جی کی کبر سنی کو یہ جشن جوانی میں نہیں بدل سکتا۔ مودی جی کو تلوک چند محروم کا یہ شعر یاد رکھنا چاہیے؎
جوانی اور بوئے گل میں یا رب کیا تعلق تھا
کہ بوئے گل سے پیری میں جوانی یاد آتی ہے