بجھ رہے ہیں چراغ سالگرہ ، دل جلاو کہ روشنی کم ہے

بجھ رہے ہیں چراغ سالگرہ ، دل جلاو کہ روشنی کم ہے

بجھ رہے ہیں چراغ سالگرہ ، دل جلاو کہ روشنی کم ہے

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

وزیر اعظم مودی 17 ستمبر 1950 کو گجرات کے وڈ نگر میں پیدا ہوئے اور اب اپنی 76؍ ویں سالگرہ منارہے ہیں ۔ لوگ باگ سالگرہ کا جشن ایک دن کے لیے مناتے ہیں مگر مودی جی پورا ماہ منا رہے ہیں ۔ ان کی اس سالگرہ کے موقع پر مدھیہ پردیش کے اجین میں شپرا ندی کے کنارے 25 لاکھ دیے جلانے کی تیاری کی گئی ہے۔ ویسے یہ بہت بڑی تعداد ہے لیکن اڈانی کے شراکت دار کے پاس دھن دولت کی کیا کمی؟ وہ اس کے تین گنا زیادہ دیے جلواسکتے ہیں اور عمر کے لحاظ سے یہی ہونا چاہیے تھا مگر شرم آڑے آگئی۔ یہ جین زی کا زمانہ ہے وہ کہیں گے کہ یہ صاحب تو ہمارے دادو سے بھی بوڑھے ہیں اور اگر اپنے’ گرانڈ پا‘ گھر کے اندر کچھ نہیں کرپاتے تو مودی جی ملک بھر میں کیا کرسکیں گے ؟ اس لیے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے گویا مودی جی پچیس سال کے گبرو جوان ہیں۔ اس طرح بی جے پی اپنے اندھے بھگتوں کو تو بیوقوف بنا سکتی ہے کیونکہ وہ دماغی پیدل ہیں مگر دماغی نکسلوں کو جھانسا نہیں دے سکتی ۔ فی الحال دنیا میں دماغ والوں کا دور دورہ اور کمل والوں کا چل چلاو ہے ۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے مئی 2026 میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور عالمی سطح پر پیٹرولیم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر ملک کے عوام سے پیٹرول، ڈیزیل اور گیس (ایندھن) انتہائی احتیاط سے استعمال کرنے اور تیل بچانے کی پرزور اپیل کی تھی۔ انہوں نے اسے ملک کا قیمتی زرِ مبادلہ بچانے کی مہم قرار دیا تھا۔مودی جی نے تیل کو بچانے کے لیے نجی گاڑیوں کا کم استعمال کرکے پبلک ٹرانسپورٹ مثلاً میٹرو، الیکٹرک بسوں پر انحصار کرنے کی ترغیب دی تھی ۔مودی جی کی سالگرہ کے آتے ہی یہ ساری نصیحتیں ہوا ہوگئیں۔ملک بھر میں آشیرواد ریلیوں کا انعقاد ہونے لگا اور ظاہر ہے اس کے لیے نجی سواریوں کا زور شور سے استعمال شروع ہوگیا۔ وزیراعظم نریندر مودی کی 76 ویں سالگرہ اور عوامی زندگی میں ان کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر بی جے پی نے "سیوا سنکلپ ابھیان” کے تحت ایک بہت بڑی ملک گیر موٹر سائیکل ریلی کا آغاز کیا ہے۔ یہ ریلی وزیراعظم مودی کے انتخابی حلقے وارانسی سے ان کی جائے پیدائش وڈ نگر (گجرات) تک اور اسی طرح وڈ نگر سے وارانسی تک بیک وقت چلائی جا رہی ہےجو مجموعی طور پر 10 ریاستوں، 193 اضلاع اور 1,159 دیہاتوں سے گزرتے ہوئے تقریباً 40,000 کلومیٹر کا سفر طے کرے گی۔

اس ریلی کو17 ستمبر 2026 کے دن وڈ نگرمیں وزیر داخلہ امیت شاہ نے ہری جھنڈی دکھائی، جبکہ وارانسی سے اس کا آغاز وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کیا۔ اس ریلی کے لیے وارانسی میں 500 سے زائد نئی موٹر سائیکلیں فراہم کی گئیں جن پر تقریباً 1,000 نوجوان بائیکرز حصہ لے رہے ہیں۔سوال یہ ہے کیا یہ موٹرسائیکلس ایندھن استعمال نہیں کریں گی؟ کیا وہ پانی پی کر 7 ا؍اکتوبر 2026 تک دوڑتی پھریں گی؟ وزیر اعظم نےقوم کو کرونا کے دور کی یاد دلا کر کمپنیوں اور ملازمین سے اپیل کی تھی کہ جہاں تک ممکن ہو سکے، گھر سے کام اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دیں تاکہ سڑکوں پر گاڑیوں کا رش اور ایندھن کا استعمال کم ہو۔مودی جی کو چاہیے تھا کہ یہی مشورہ امیت شاہ ، راجناتھ سنگھ اور یوگی ادیتیہ ناتھ کو دیتے تاکہ وہ ہری کے بجائے لال جھنڈی دکھا کر اس بے فائدہ تشہیری مہم کو روک دیتے۔ ملک بھر میں جلائے جانے والے چراغوں کے بارے میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس کی روشنی پھیلانے کے لیےپٹرولیم یا مٹی کے تیل کی ضرورت نہیں مگر اس طرح کی صفائی دینے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ مودی جی نے صحت اور ملکی درآمدات پر بوجھ کم کرنے کے لیے خاندانوں سےخوردنی تیل کے استعمال میں 10 فیصد تک کمی لانے کی بھی اپیل کی تھی ۔

مودی جی کا وہ مطالبہ معقول تھا کیونکہ بھارت اپنی ضرورت کا تقریباً 60 فیصد کھانے کا تیل درآمد کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سالانہ 19؍ ارب ڈالر سے زائد کا زر مبادلہ خرچ کیا جاتا ہے، اس میں پام آئل، سویا بین آئل اور سورج مکھی کا تیل شامل ہے۔ اس میں انڈونیشیا اور ملائیشیا سے پام آئل، جبکہ لاطینی امریکہ اور دیگر ممالک سے سویا بین اور سورج مکھی کا تیل درآمد کیا جاتا ہے۔ اس طرح ملک کے غرباء و مساکین کے نوالہ سے تیل چھیننے والوں نہ جانے کتنے ٹن تیل اپنے چہیتے رہنما کی سالگرہ مانانے پر پھونک دیا۔ اس کو کتھنی اور کرنی میں فرق نپہں تو کیا کہا جائے؟ وزیر اعظم کی سالگرہ پر یہ فضول خرچی کسی دھناّ سیٹھ کی جیب سے نہیں بلکہ ریاستی حکومت کے خزانے سے کی جا رہی ہے یعنی عوام کے ٹیکس کا پیسہ ان کی فلاح و بہبود کے بجائے ایک ایسے رہنما کی سالگرہ پر برباد کیا جارہا ہے جس کی کوئی افادیت نہیں ہے۔ اس جشن کا نام ’سیوا سنکلپ مہا ابھیان‘ رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے خدمت کے عہد کی مہم یعنی وزیر اعظم کو پچیس سال تک اقتدار کی عیش و عشرت کے بعد عوام کی خدمت کرنے کا خیال آیا ہے۔

مودی جی اس عمر میں خود تو اس قابل نہیں ہیں کیونکہ اپنی گاڑی میں پٹہّ باندھنے کے لیے بھی دوسروں کے محتاج ہوگئے ۔ اس کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوچکی ہے۔ اس لیے بھگتوں سے کہا جارہاہے کہ عوام کی خدمت نہ سہی تو ارادہ ہی کرلو اور اتنا سا کام کرانے کی خاطر پورے مہینے مہم چلائی جائے گی ۔ اس کے بعد کون جانے ان بھگتوں میں سے کتنے لوگ ارادہ فرمائیں گے اور ان میں کوئی اس پر عملدرآمد بھی کرے گا یا نہیں؟ ان لوگوں کا ماضی گواہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ہی اقتدار کی ملائی کھاکر دوسروں سے اپنی خدمت کرواتے رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنی مادرِ تنظیم کا نام راشڑ سیوا سنگھ ضرور رکھا لیکن کبھی کسی کی خدمت نہیں کی تو آگے کیا کریں گے؟ سالگرہ کا یہ تام جھام اس شخص کے لیے کیا جارہا ہے جس نے اپنے احسانمندوں کو 75؍ سال کی عمر میں عملی سیاست سے سبکدوش کردیا تھا ۔ ایک سازش کے تحت مارگ درشک منڈل یعنی رہنما مجلس بنائی گئی اور ان بیچاروں کو اس بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ یہ احسان فراموشی اور منافقت کی انتہا ہے کہ جب جھولا اٹھا کر جانے کی اپنی باری آئی تو دیہ جلوایا جارہا ہے۔

اس موقع پر میری دو معمر براہمن صحافیوں سے ملاقات ہوئی تو ان میں سے ایک نے کہا ’ یہ اس قدر جاہل لوگ ہیں کہ نہیں جانتے دیہ کب جلایا جاتا ہے؟ یہ یوم پیدائش نہیں بلکہ موت کے دن کی رسم ہے ‘۔ اس پر دوسرا بولا ’ یہ اپنا اختتام دیکھ رہے ہیں اس لیے ٹھیک ہی کررہے ہیں ‘۔ مودی جی اس احمقانہ حرکت نے کورونا کی وباء کے دوران تھالی بجانے کی یاد تازہ کردی ۔ اس طرح کی نوٹنکی کرنے کے بجائے بغیر اگر منصوبہ بند اقدام کیے جاتے تو لاکھوں لوگوں کو ہزاروں میل کی مسافت پیدل طے کرکے اپنے گاوں گھر نہیں جانا پڑتا۔ کئی لوگوں کی ریل کی پٹری پر موت کے منہ میں نہیں جاتے ۔ حکومت نے اس سے بھی سبق نہیں سیکھا بلکہ کورونا کی دوسری لہر آئی تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے سرکار کے پاس آکسیجن تک نہیں تھا۔ اس کے بعد اتنے لوگ مرے کہ جلانے کے لیے لکڑیاں کم پڑگئیں۔ شمشان گھاٹ بھر گئے ۔ لاشوں کو نہ صرف اِدھر اُدھر جلایا گیا بلکہ گنگا میں بہادیا گیا اور ساحل پر دفنا دیا ۔ کیا مودی جی کو گنگا نے اسی لیے گجرات سے بلایا تھا ؟ کورونا کازمانہ تو بیت گیا مگر عوام کی مشکلات کا دور اب بھی جاری و ساری ہے۔

مدھیہ پردیش کی حکومت عوام کے پیسے سے پچیس لاکھ دیے جلا رہی مگر اسی ریاستی حکومت کے پاس عوام کی صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں پر خرچ کرنے کے لیے سرمایہ نہیں ہے۔ اسی ریاست کے بالاگھاٹ علاقہ سے ابھی حال میں 30 سے زیادہ قبائلی بچوں کی بیماری اور غذائی قلت سے موت کی اندو ہناک خبرآ چکی ہے۔ریاست کے اندر بنیادی صحت کی سہولتوں کا زبردست فقدان ہے۔ اس لیے خسرہ، ملیریا، غذائی قلت اور دیگر عوامل بچوں کی جان لے رہے ہیں اور وزیر اعظم کی سالگرہ کا جشن منایا جارہا ہے ۔ اسی لیے حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے وزیراعلیٰ موہن یادو سے کہا کہ اگر حکومت کو دیے جلانے اور جشن منانے سے فرصت مل گئی ہو تو وہ ریاست کی زمینی صورت حال بھی دیکھے۔وہاں بیماری، غذائی قلت، صاف پانی کی کمی اور صحت کے علاوہ ملاوٹی ادویات اور غیر قانونی زہریلی شراب کا عفریت بھی منڈلا رہا ہے۔ قبائلی علاقوں کے باہر بھی ریاست کی تعلیم کا نظام ملک میں سب سے زیادہ خراب حالت میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت کو ’ہندوستان کی سب سے بدعنوان اور سب سے بدانتظام حکومت‘ ہےجس نے 17؍ ستمبر کی شام اجین کے مہاکال لوک میں شپرا ندی کے کنارے 25 لاکھ مٹی کے دیے روشن کرکے’آشیرواد کا دیا‘ پروگرام کا اہتمام کیااور اس میں تقریباً 30 ہزار رضاکاروں کاوقت برباد کیا۔ مودی جی کے جنم دن پر چراغ جلا کر اندھیرا پھیلایا جارہا ہے۔ ایسے میں یہ مشہور شعر معمولی ترمیم کے ساتھ یاد آرہا ہے؎
بجھ رہے ہیں چراغِ سالگرہ
دل جلاو کہ روشنی کم ہے

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے