مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مصلحت کے نام پر ناکام قیادت
ازقلم: مدثراحمد شیموگہ۔
9986437327
حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانیؒ نے کہا تھا کہ”وہ احتیاط جو بزدلی کا تحفہ دے، وہ پرہیز جو حالات سے گریز سکھائے، وہ صبر جو ظلمِ مسلسل کی حسین تعبیر تلاش کرے اور وہ برداشت جو بے عملی تک پہنچا دے، زندہ افراد اور زندہ اداروں کے لیے ناقابلِ قبول ہے اور نہ گوارا ہے۔” مولانا رحمانیؒ کا یہ قول آج کے حالات میں خاص طور پر غور طلب ہے اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے موجودہ رویے کے حوالے سے اس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کو احتجاج کے لیے اجازت نہ ملنا کیا احتجاج نہ کرنے کا عذر ہوسکتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ پُرامن احتجاج کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ متعلقہ حکام کو اطلاع دینا کافی ہوتا ہے، اور یہ بات بھارت کے مڈل اسکول میں پڑھنے والا طالب علم بھی جانتا ہے۔ پھر صرف اجازت نہ ملنے کو احتجاج سے پیچھے ہٹنے کی وجہ بنانا عوام کے لیے قابلِ فہم نہیں۔
ماضی کو چھوڑیے، حالیہ مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ دہلی میں مسلم خواتین پُرامن احتجاج کرتی رہی ہیں، کسانوں نے احتجاج کیا، طلبہ و طالبات نے اپنی آواز بلند کی اور وکلا نے بھی احتجاج کیا۔ ایسے میں یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ اگر دوسرے طبقات اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر آ سکتے ہیں تو مسلم پرسنل لا بورڈ اجازت نہ ملنے کو رکاوٹ کیوں سمجھتا ہے؟ کیا بھارت کے آئین میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے لیے کوئی الگ قانون ہے؟
اگر بورڈ کے ذمہ دار پُرامن احتجاج کے لیے نکلتے اور پولیس انہیں کسی مقام پر روک دیتی تو وہیں رک جاتے۔ پولیس انہیں پھانسی کے تختے پر تو نہیں لٹکا دیتی اور نہ ہی قومِ مسلم انہیں تنہا چھوڑتی۔ اصل ضرورت ہمت، ارادے اور واضح قیادت کی تھی۔
یہاں سوال صرف ایک احتجاج کا نہیں بلکہ قیادت کے انداز کا ہے۔ اگر مسلم پرسنل لا بورڈ مسلمانوں کی ایک اہم نمائندہ تنظیم ہے تو اس سے توقع بھی یہی کی جاتی ہے کہ مشکل وقت میں وہ قوم کو راستہ دکھائے، رکاوٹ کے سامنے رک نہ جائے اور صرف خطوط اور بیانات تک محدود نہ رہے۔
اگر لیٹر پیڈ بورڈ کے ذمہ داران بے باک اور بے خوف ہوکر شعوری طور پر مسلمانوں کی قیادت کرسکتے ہیں تو انہیں یہ ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو پھر قیادت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرنا چاہیے۔ قوم کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو بات کرنے کے ساتھ عملی میدان میں بھی موجود ہو۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کو ایک بڑے Gen Z انقلاب کی ضرورت ہے۔ تمام اہم عہدیداران کو اپنے عہدوں سے الگ ہوکر نئی نسل کے لیے راستہ کھولنا چاہیے اور ایسے لوگوں کو قیادت سونپی جانی چاہیے جن کی سرکار کے پاس کوئی فائل دبی نہ ہو، جن کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہ ہو، جو بزدل نہ ہوں اور جنہیں جیل جانے سے بھی خوف نہ ہو۔
ہماری موجودہ قیادت گزرے ہوئے زمانے کے لوگوں پر مشتمل ہے اور فی الوقت وہ موجودہ حالات کے مطابق قیادت کرنے کے قابل نظر نہیں آتی۔ زمانہ جس تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اس سے نمٹنے کی صلاحیت نئی نسل، خصوصاً Gen Z، میں زیادہ نظر آتی ہے۔ عمومی طور پر پرانی قیادت اگر وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو تبدیل نہ کرے تو وہ فرسودہ ہوجاتی ہے۔
ہر دور میں تبدیلی نئے خیالات اور نئی نسل کے ذریعے آتی ہے۔ ہندوستان میں امتِ مسلمہ کو بھی ایک تبدیلی اور ایک نئے انقلابی اندازِ فکر کی اشد ضرورت ہے۔ اب مسلم پرسنل لا بورڈ کے بارے میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ وہ آل انڈیا لیٹر پیڈ بورڈ بن کر رہ گیا ہے۔ یہ تاثر اگر غلط ہے تو اسے عملی کارکردگی کے ذریعے غلط ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔
حالات اسی سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ پرانی قیادت ناکارہ تھی، ناکارہ ہے اور آگے بھی ناکارہ رہے گی، یہ تاثر عام ہوتا جارہا ہے۔ مجموعی طور پر باصلاحیت، ایماندار اور بے خوف قیادت کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ قوم کو ایسی شخصیات کی ضرورت ہے جو اپنے مفادات سے بالاتر ہوکر قوم کی بات کرسکیں اور مشکل وقت میں پیچھے نہ ہٹیں۔
پوری ملتِ اسلامیہ فرقوں، مسلکوں، گروہوں، اداروں، مسجدوں اور خانقاہوں میں بکھری ہوئی ہے۔ متحد ہونے کے آثار بھی بہت کم نظر آتے ہیں۔ اس کے باوجود ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہم سب کا اپنا حق ہے۔ اتحاد نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ظلم کے خلاف آواز بھی خاموش کردی جائے۔
آج ہندوستانی مسلمانوں کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو موجودہ دور کی رفتار کو سمجھ سکے، نئے حالات کا سامنا کرسکے، بے خوف ہوکر اپنی بات کہہ سکے اور عملی طور پر قوم کی رہنمائی کرسکے۔ نئی نسل کو صرف جلسوں میں شریک کرنے یا سوشل میڈیا پر استعمال کرنے کے بجائے قیادت اور فیصلہ سازی میں بھی جگہ دینا ہوگی۔
زمانہ بدل چکا ہے، اس لیے قیادت کے انداز بھی بدلنے چاہییں۔ ہر دور اپنی نئی قیادت پیدا کرتا ہے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ نئی نسل آگے آئے، پرانی قیادت اپنی کارکردگی کا جائزہ لے اور مسلم ادارے خود کو موجودہ حالات کے مطابق تبدیل کریں۔
ہندوستانی مسلمانوں کو ایک ایسے انقلاب کی اشد ضرورت ہے جو انہیں بے عملی، مصلحت اور خاموشی سے نکال کر عملی جدوجہد، اتحاد اور مؤثر قیادت کی طرف لے جائے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے۔