جی ڈی پی اورمہنگائی کا رشتہ کیا کہلاتا ہے؟

جی ڈی پی اورمہنگائی کا رشتہ کیا کہلاتا ہے؟

جی ڈی پی اورمہنگائی کا رشتہ کیا کہلاتا ہے؟

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

برکس سربراہ کانفرنس کی ہوا سازی کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ہفتہ قبل 7.8 فیصد مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی ترقی کے لئے عوام کی آڑ میں اپنی پیٹھ تھپتھپانے کی کوشش کی ۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ کامیابی جنگ، عدم استحکام اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باوجود حاصل ہوئی ہے۔ اسی کے ساتھ گودی میڈیا نے ڈھول بجانا شروع کردیا کہ جی ڈی پی کے میدان میں امریکہ ،چین اور جاپان سمیت ساری دنیا کو ہندوستان نے پیچھے چھوڑ دیا ہے اور کا سہرہ مودی جی کے سر باندھ دیا گیا۔ اس طرح ہر طرف شادیانے بجنے لگے لیکن اسی دن ظاہر ہونے والے مہنگائی اور اس دوچار دن پہلے سرکار کے نیتی آیوگ کی جانب سے پیش کیے جانے والے بیروزگاری کے اعدادو شمار نے عوام کے ہوش ٹھکانے لگا دئیے اور لوگ سوچنے لگے کہ آخر جی ڈی پی کےچورن اور مہنگائی کے بھوجن کا یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟ اوپر سے بیروزگاری کی مار کا انکار تو خود سرکاری رپورٹ بھی نہیں کرسکی ۔ ’ ’ری امیجننگ اِسکلنگ فار وِکست بھارت @ 47‘‘ کے عنوان سے جاری کی جانے والی مودی سرکار کے نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ نے تصدیق کر دی کہ ملک میں اس وقت 15؍ سے 29؍ سال کے 8؍ کروڑ 70؍ لاکھ نوجوان ایسے ہیں جو نہ زیرتعلیم ہیں، نہ برسرروزگار اور نہ ہی کوئی ہنر سیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں جی ڈی پی کی افیون پر غالب کا یہ شعر معمولی ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو جی ڈی پی کیا ہے؟

سوال یہ ہے کہ نوجوانوں کی اتنی کثیر تعداد نہ تو پڑھتی لکھتی ہے، نہ کوئی کام دھام کرتی ہے اور نہ ہنر مندی کی جانب مائل ہے تو آخر کرتی کیا ہے؟ حکومتِ وقت نے انہیں مختلف کاموں میں الجھا رکھا ہے مثلاً کانوڈ یاترا میں لاکھوں بلکہ کروڈ سے زیادہ طالب علم اور نوجوانوں نے شرکت کی ہوگی ۔ وہ اگر اسکول و کالج جارہے ہوتے یا کسی کارخانے و دفتر میں ملازم ہوتے تو کیا کانوڈ اٹھا کر چلم کی دم لگاتے پھرتے؟ سرکاری رپورٹ میں تو سفارش کی گئی ہے کہ نوجوانوںکو کم خرچ پر اور سبسیڈی دےکر ہنر سیکھنے کی سہولت فراہم کی جائے لیکن یوگی جی ان پر پھول برسا رہے ہیں اور پولس اہلکار ان کے پیر دبا رہے ہیں ۔ کیا ان حماقتوں سے نوجوانوں کی مشکلات حل ہوجائیں گی؟رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاں مالی مشکلات زیادہ ہوں وہاں خصوصی مالی معاونت بھی فراہم کی جانی چاہیے لیکن خزانہ تو سرکار دربار کی ملمع سازی میں خرچ ہوجاتا ہے۔ یوگی جی نے اپنی تشہیر پر خرچ کے معاملے میں مودی جی کو بھی مات دے دی ہے۔ان لوگوں یاترا کے دوران تو بھنڈارا لگا کر کھانا کھلوا دیاجاتاہے لیکن بھوک تو بعد میں بھی لگتی ہے۔ اس یاترا کے دوران منشیات کے عادی بن جانے والے بیروزگار نوجوان باقی دنوں میں اپنے خاندان کے لیے مصیبت کھڑی کردیتے ہیں۔ ان کے اندر کا غم و غصہ کبھی تو جنتر منتر کےمظاہرے میں نظر آتا ہے تو کبھی منی پور کے موسیقارچونگتم وکرم سنگھ کی ماب لنچنگ سے ظاہر ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے اس سرکاری رپورٹ نے تعلیم اور روزگار کے محاذ پر مودی سرکار کی قلعی کھول دی اور اپوزیشن کو نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرنے کی الزام تراشی کا نادرموقع عطا کردیا ۔

جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافے کے ساتھ ہی مہنگائی کا دھماکہ بھی ہوگیاکیونکہ سرکاری تیل کمپنیوں نے ماہِ ستمبر کے پہلے دن ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا ۔ اس سے جی ڈی پی کی خوشی ہوا ہوائی ہوگئی کیونکہ 19 کلو کے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں اضافہ ہو گیا۔ فروری کے آخر میں مغربی ایشیا بحران شروع ہونے کے بعد، کمرشل ایل پی جی کی قیمت میں 1,373 روپے فی 19 کلوگرام سلنڈر بڑھا دی گئیں تھیں ۔اس کے بعد مسلسل اضافہ جاری رہا یعنی فروری میں جو سلنڈر 1,740.50 روپئے مل رہا تھا اس کی قیمت جون میں 3,113.50 روپے تک پہنچ گئی۔ عالمی سطح پر حالات میں بہتری آئی تو 19 کلوگرام کے سلنڈر کی قیمت میں یکم اگست کو 192 روپے اور یکم جولائی کو 183.5 روپے کی کمی کی گئی تھی مگر اب ممبئی کی مہانگر گیس نے سی این جی کی قیمتوں میں دو روپے فی کلو اور گھریلو پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) میں ایک روپئے فی معیاری مکعب میٹر (ایس سی ایم) کے اضافے کا اعلان کردیا۔ ایسا کرنے کے لیےکمپنی نے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے سبب ان پٹ لاگت میں اضافہ کا حوالہ دیا ۔

ممبئی کے صارفین کو اب سلنڈر 2,701 روپئے میں دستیاب ہے۔ فی الحال گیس کا استعمال باورچی خانہ کے علاوہ سڑک پر بھی ہوتا ہے۔ ممبئی، تھانے، رائے گڑھ، رتناگیری، لاتور اور مہاراشٹر میں دھاراشیو اور کرناٹک میں چتردرگا اور داونگیرے میں تقریباً 13 لاکھ سی این جی گاڑیاں ایم جی ایل کے سپلائی نیٹ ورک پر منحصر ہیں۔ان کو بھی اس مہنگائی نے متاثر کیا کیونکہ یکم ستمبر کی آدھی رات سے کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی نئی قیمت ممبئی اور اس کے آس پاس 88 روپئے فی کلوگرام ہوگئی۔مہنگائی کے اس قہر سے قومی دارالحکومت اور آس پاس کے علاقے بھی محفوظ نہیں رہے بلکہ وہاں پر گیس فراہم کرنے والی اندرا پرستھ گیس کی جانب سے سی این جی کی قیمتوں میں 3.89 روپے فی کلوگرام اضافے کا اعلان ہوگیا۔ گھریلو پی این جی کی قیمت اس اضافے کے سبب 30 لاکھ گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فی ایس سی ایم میں ایک روپئے کا اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ تجارتی سلنڈر کی قیمت میں 9.50 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس سے نئی شرح 2,747.50 روپئے ہو گئی ۔چنئی کا حال اور بھی برا ہے وہاں پر نئی قیمت 2,916.50 روپئے تک بڑھ گئی ہے۔ کولکاتہ، حیدرآباد، اور بھونیشور جیسے شہروں میں مقامی ٹیکسوں کی وجہ سے قیمتوں میں 11.50 روپئے تک کا اضافہ دیکھا گیا ۔

تیل کمپنیاں ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ایل پی جی کے نئی قیمتوں کا اعلان کرتی ہیں۔ یہ ایڈجسٹمنٹ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے میں ہندوستانی روپئے کے شرح پر غور کرنے کے بعد کیاجاتا ہے۔ اس بار تہوار کے موسم کا خیال رکھ کر گھریلو سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا مگر بکرے کی اماں کب تک خیر منائے گی؟عوام کی ضروریات میں ایندھن کے ساتھ دودھ بھی شامل ہے ۔ ستمبر 2026ء کے دوران ممبئی میں دودھ کی قیمتوں میں 9 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد وہاں ہول سیل نرخ 102 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ غیر معمولی جھٹکا تہواروں کے موسم میں لگ گیا جبکہ مٹھائی کے اندر دودھ اور چینی کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔ چینی کی قیمت پہلے ہی بڑھ چکی ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ شادیوں کا موقع آئے تو سونے کی قیمتیں بڑھ جائیں اور تہوار کے آتے ہی دودھ و چینی مہنگی ہوجائے ۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یا سازش کے تحت عام لوگوں کا استحصال ہے؟ دوسری صورت ہو تو حکومت اس کو کیوں نہیں روکتی ؟ کہیں وہ خود بھی اس لوٹ مار کی حصہ دار تو نہیں ہے؟

ممبئی کے اندردودھ فراہم کرنے والی بمبئی ملک پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (BMPA) نےیکم ستمبر 2026ء سے دودھ کی قیمتوں میں 9 روپے کا اضافہ نافذکردیا ۔ اس کی وجہ مویشیوں کے چارے (اجناس، کھل اور ہرا چارہ) کی قیمتوں میں 25 فیصد تک اضافہ اور اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کا بڑھنا بتایا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ مویشیوں کے چارے میں یہ غیر معمولی اضافہ کیونکر ہوگیا؟ کیا اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہےکیونکہ تیل کی مانند اسے ڈالر میں درآمد کرنے کی مجبوری بھی نہیں ہے۔ملک کے اندرمہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس سے قبل مئی 2026ء میں ملک بھر کی مختلف ڈیری کمپنیوں (جیسے مدر ڈیری اور امول) نے بھی پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث قیمتوں میں 2 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا ایک قلیل وقفہ میں دوسری بار عوام پر مصیبت آن پڑی ۔ عام لوگ تو مہنگائی کے سبب مرے جارہے ہیں مگر اقتدار کے خمار میں مست مودی جی فرما رہے ہیں ’’میں ملک کے لوگوں کو 7.8 فیصد جی ڈی پی کی ترقی پر مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ یہ ان کے اجتماعی عزم اور کوششوں سے ہی ممکن ہوا ہے‘‘۔ ان کی بات کو درست مان لیا جائے تب بھی عوام کی محنت نے تو یہ چمتکار کردیا مگر مہنگائی کو کم کرنے کے لیے انہوں نے لفاظی کے سوا کیا سعی کی؟ پہلے وہ عوامی جلسوں میں جاکر جملہ بازی کرتے تھے ۔ وہاں لوگوں پیسے دے کر لانا پڑتا تھا اب وہ جھنجھٹ بھی ختم ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم کو گھر بیٹھے ریل بناکر شائع کرنے کا شوق لگ گیا ہے۔ اسی پر کبھی اپنی اور کبھی پارٹی کی پیٹھ تھپتھپا کر خوش ہوجاتے اور بھگتوں کا یہ عالم ہے کہ؎

وہ آئیں ویڈیو میں میرے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی مودی جی کو دیکھتے ہیں

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے