سکندر علی وجدؔ کی ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ

سکندر علی وجدؔ کی ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ

سکندر علی وجدؔ کی ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ

ازقلم:ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت ولی محی الدین خطیب
اسسٹنٹ پروفیسر(شعبہ اُردو)
یوگیشوری کالج آمباجوگائی ،ضلع بیڑ مہاراشٹر

٭تلخیص(Abstract)
یہ تحقیقی مقالہ بیسویں صدی کے اًردو ادب کے صف اوّل کے عظیم شاعر،ادیب،نقاد سکندرعلی وجدؔ(1914ء1983ء) کی ادبی خدمات کا تنقید جائزہ پیش کرتا ہے۔سکندر علی وجدؔ عظیم ادبی شخصیت تھے۔ انہوں نے اُردو شاعری کو فکری گہرائی فنی پختگی اور جمالیاتی حسن سے ہم کنار کیا۔ سکندر علی وجدؔ کی شاعری میں کلاسکی روایت پاسداری کے ساتھ ساتھ جدید حسیت انسانی اقدار،عشق،قومی شعور،اخلاقی احساسات اور تہذیبی شعور کا خوبصورت اور حسین امتزاج ملتا ہے۔
اس مقالے میں سکندر کی وجدؔ کی شخصیت، ادبی ماحول شعری رجحانات فنی و فکری خصوصیات اسلوب، اظہار زبان و بیان علامت نگاری، استعاراتی نظام اور اُردو ادب میں ان کی مجموعی خدمات کا تحقیقی تنقید مطالعہ کیا گیا ہے۔ سکندر علی وجدؔ کی غزل نظم کے فنی محاسن موضوعاتی تنوع اور فکری جہت کا جائزہ لیتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ انہوں نے روایت اور جدت کے درمیان ایک متوازن اور پائیدار ادبی رویہ اختیار کیا۔
اس مقالے میں مختلف مستند تحقیقی کتابوں کے مطالعہ کی روشنی میں سکندر علی وجدؔ کاادبی مقام کا تعین کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات اخلاق قدروں،روحانی واردات، قومی احساسات، جمالیاتی،ذوق اور فکری وقار کونمایاں کیا گیا ہے۔ادبی کتابوں کے مطالعہ سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ سکندر علی وجدؔ صرف قادر الکلام شاعر ہی نہیں بلکہ اُردو ادب کے ایک خاص شخصیت کے مالک تھے ان کی ادبی خدمات اُردو شاعری کے ارتقاء میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ مقالہ سکندر علی وجدؔکی ادبی شخصیت اور فن کو ادبی تنقید تحقیقی زاویوں سے سمجھنے کی ایک کوشش ہے ،اُردو ادب کے طلباء و طالبات اساتذہ کرام محققین نا قدین، محبان اُردو کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ اس تحقیق سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ سکندر علی وجدؔ کا ادبی سرمایہ نہ صرف اپنے عہد کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ آج بھی اپنی فکری معنویت فنی لطافت اور جمالیاتی اثر کے باعث اُردو ادب میں زندہ جاوید اور موثر حیثیت رکھتا ہے ۔
کلیدی الفاظ : سکندر علی وجدؔ، اُردو شاعری غزل، نظم، کے ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ۔

٭تعارف (Introduction)
سکند رعلی وجدؔ (1914۔1983ء) میں مشہورو معروف شاعر،ادیب نقاد گزرے ہیں۔ ان کی ولادت ویجاپور میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم وہی حاصل کی۔عثمانیہ یونیورسٹی سیگریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ سول سروس کا امتحان کامیاب کیا اور عدلیہ میں بہ حیثیت منصف مقرر ہوئے۔ 1956ء میں لسانی بنیادوں پر صوبہ جات کی تنظیم جدید ہوئی اور ان کی خدمات مہاراشٹر اسٹیٹ کو منتقل کردیا گیا۔ ان کی شاعرانہ خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت ہند نے انہیں پدم شری کے اعزاز سے نوازا۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی روایت شیریں اور جدید احساسات تازگی موجود ہے ان کی شاعری میں عشق، انسان دوستی، اخلاقی اقدار، روحانیت، حسن فطرت، قومی شعور اور تہذیبی احساسات نہایت دلکش انداز میں جلوہ افروز ہوتے ہیں سکندر علی وجدؔ نے اپنی شاعری میں زبان و بیان کی شائستگی فکر کی گہرائی تخیل کی وسعت فنی پختگی کے ذریعے اُردو شاعری کو ایک منفرد اسلوب عطا کیا ان کی شاعری میں جذبات کا اظہار ہی نہیں ملتا، بلکہ انسانی زندگی معاشرت تہذیب اور اخلاق اقدار کا آئینہ دار بھی ہے سکندر علی وجد کی اپنی خدمات صرف شاعری کی حد تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے اُردو ادب کے فروغ ادبی ذوق کی آبیاری اور علمی و ثقافتی روایت کہ استحکام میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کے کلام میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج، لفظ معنی کی ہم آہنگی اور فنی حسن نمایاں ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے عہد کے معتبر اور باوقار شعرا ء میں شمار کیے جاتے ہیں۔ زیر نظر مقالے کا مقصد سکندر علی وجدؔ کی ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ پیش کرنا اور ان کی شخصیت اور فن کا تحقیقی مطالعہ کرنا اہم مقصد ہے ان کی شاعری کی فکری جہت اور ادبی اثرات کا تجزیہ مستند کتب تحقیقی تنقیدی روشنی میں پیش کیا ہے تاکہ ان کے ادبی عظمت کو علمی انداز سے سمجھا جا سکے۔
٭باب اول : سکندر علی وجد کی شخصیت و فن
اُردو ادب میں سکندر علی وجدؔ عظیم شاعر، ادیب، نقاد گزرے ہیں۔ سکندرعلی وجدؔ بنیادی طورپر شاعر تھے۔ان کی ادبی شخصیت محض شاعری تک محدود نہ تھی بلکہ ان کے یہاں شخصیت میں روایت سے وابستگی کے ساتھ ساتھ جدید تقاضوں کا احساس بھی ملتا ہے۔سکندر علی وجدؔ نے روایات اور جدت کے حسین امتزاج سے اور اُردو شاعری کو نئی وسعت عطا کی ان کی شاعری میں زندگی کا شعور جمالیاتی احساس قومی فکر، تہذیبی اقدار اور انسانی جذبات نہایت دلکش انداز میں جلوہ افروز ہوتے ہیں ان کی شخصیت ان کی شائستگی علمی بصیرت اور ادبی ذوق نے ان کے فن کو دوام بخشا۔
سکندر علی وجدؔ باوقار مہذب وسیع المطالعہ اور ذوق نفس کے حامل تھے۔ قانون، تاریخ، فلسفہ، فنون لطیفہ اور ادب پر ان کی گہری نظر تھی موسیفی مصوری اور فنی تعمیر سے ان کی دلچسپی نے ان کی شاعری میں تصویر نغمگی اور حسن اظہار پیدا کیا ان کی شخصیت میں وقار متانت اور انسان دوستی نمایاں تھی جس کا عکس ان کے کلام میں بھی ملتا ہے۔
سکندر علی وجدؔ کا تعلق دکن کی اس عظیم ادبی روایت سے تھا۔ جس نے اُردو زبان و ادب کو گراں قدر سرمایہ عطا کیا دکن کی تہذیب ثقافت اور علمی ماحول نے ان کی شخصیت اور شاعری پر گہرے اثرات مرتب کیے انہوں نے کلاسکی شعری روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید زندگی کے مسائل انسانی جذبات اور سماجی شعور کو اپنی شاعری کا حصہ بنادیا۔
سکندر علی وجدؔ کے شاعری کے موضوعات حسن، عشق،انسان دوستی،قومی شعور، مذہبی اقدار اور سماجی انصاف جیسے موضوعات نمایاں ہیں وہ محض جذبات شاعر نہیں بلکہ زندگی کے حقائق کو شعری پیرائے میں بیان کرتے ہیں ان کے کلام میں اُمید، حوصلہ، مثبت فکر کا عنصر غالب رہتا ہے۔ عشق ان کے نزدیک صرف رومانی جذبہ نہیں بلکہ انسان کی روحانی تکمیل کا وسیلہ بھی ہے اس طرح وطن سے محبت قومی ایکجہتی اور معاشرتی اصلاح کے مضامین بھی ان کے یہاں کثرت سے ملتے ہیں ان کی شاعری میں چند نمایاں فنی خصوصیات بھی ہیں جن میں سادہ مؤثر زبان کلاسکی شعری روایت سے وابستگی جدید فکری رجحانات کی نمائندگی علامت اور استعارے کا خوبصورت استعمال روانی اخلاقی اور اصلاحی فکر ان کے غزل میں داخلی کیفیت کا اظہار نہایت لطیف انداز میں ہوتا ہے جبکہ نظم میں بھی سماجی اور قومی موضوعات زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں. تحقیقی نقط نظر سے دیکھا جائے تو سکندر علی وجد کی شاعری میں زندگی کی حقیقت انسانی اقدار اور معاشرتی شعور کا گہرا احساس موجود ہے انہوں نے روایتی غزل کو محض عشقیہ مضامین تک محدود نہیں رکھا بلکہ عصری مسائل کو بھی اپنے شاعری میں پیش کیا۔
سکندر علی وجدؔ کی شاعری میں جذبہ احساس اور خیال کو اُجاگر کرنے کی عمدہ صلاحیت تھی۔ سکندر علی وجدؔ کی نظموں میں لفظوں کا جادو بکھرا ہوا ہے۔ زندگی کے تجربات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ روح کی گہرائی سے لے کر عصر حاضر تک نہایت خوش اسلوبی سے شاعری میں لفظوں کی پیکر تراشی کی ہے ان کے نظم ’’حاصل عمر‘‘ یہ شعر ملاحظ کیجیے ؎
بہت حسین مگر شاندار گزرے ہیں
صبح و شام سر گزار گزرے ہیں
سکندر علی وجدؔ کے لفظوں کی پیکر تراشی کی بنیادی خصوصیات افکار و پاکیزگی کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے زندگی کے حسین پہلوؤں کو شاعری میں نہایت دلکش انداز میں پیش کیا ہے۔سکندر علی وجدؔ کو زندگی کا گہرا مشاہدہ وہ مطالعہ ہے شعوری تجربوں کے ذریعے لفظوں کے ذریعے زندگی کے مسائل اور تجربات کی ترجمانی اپنے شاعری میں سلیقہ سے پیش کرتے ہیں۔ وجدؔ کی شاعری میں بلند خیالی، لطیف احساسات، ہمدردی، غم گساری، ایثار، قربانی بے ساختگی ندرت و جدت و گہرائی وسعت، تہہ داری، حیات کائنات کے تجربات و مشاہدات کی عکاسی جذبات واحساسات کی آفرینی حقیقت کہ انکشاف اور شعری ادب میں ایک دلکش انداز میں پیش کیا ہے۔
باب دوم : سکندر علی وجدؔ کی ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ
سکندر علی وجدؔ بیسویں صدی کے ممتاز ترین اور منفرد شعراء میں ان کا شمار ہوتا ہے انہوں نے اُردو نظم اور غزل دونوں کو ایک نئی جہت فکری و بلندی اسلوب کی ندرت عطا کی وہ عہد جدید کے ایک باکمال تخلیق کار تھے جن کے یہاں کلاسیکی رچاؤ رومانی دلکشی اور ترقی پسند شعور کا ایک حسین امتزاج ملتا ہے۔دکن کی مٹی سے ولادت پانے والے شاعر نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف دکن کی ادبی روایات کا احیا کیا بلکہ انہوں نے تخلیقی سفر میں ان کے چار شعری مجموعوں کے ذریعے ان کی فکری ارتقا اور اسلوب کو واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
(۱) طرب زار(1944ء) : یہ سکندر علی وجدؔ کا پہلا شعری مجموعہ ہے ابتدائی دور کی رومانی اور جمالیاتی حسیت کا آئینہ دار ہے۔ اس میں دکن کے مناظر حسن و عشق کے ابتدائی تجربات اور روایتی غزل کا رنگ نمایاں ہے۔
(۲) بیاض مریم (1954) : یہ مجموعہ سکندر علی وجدؔ کا افقِ وسیع ترہے اس مجموعے میں فلسفہ حیات اور سماجی شعور کے غزلیات اس میں موجود ہیں۔
(۳) پیکر نسیم (1956) : یہ مجموعہ سکندر علی وجدؔ کی نظم نگاری اور غزل گوئی لکھی گی ہے۔
(۴) آفتاب تازہ (1975) : یہ سکندر علی وجدؔ کا آخری مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں ان کے تجربات مشاہدات اور فکری پختگی کی گہری چھاپ ہے۔ اس میں وطن پرستی قومی ایکجہتی انسانیت دوستی کے جذبات کو نہایت خوبصورت پیرائے میں پیش کیا ہے۔ ان چند مشہور نظمیں، تحسین شناس، شاعر،عالم ہوس میں آ، نظیر اکبرآبادی، نیا گیت, نیلی ناگن موسیقی، چلا گیا،خدا حافظ بشارت،صبح نو، جوہری بم،ایلورا،اجنتا، تاج محل اُمید پیام اقبال، گل، سرور، آفتاب تازہ، جمنا کی فریاد کاروان زندگی نقش نہ تمام، وغیرہ مشہور نظمیں ہیں۔
سکندر علی وجدؔ کی کی نظم تیرے بغیر کا یہ شعر دیکھئے ؎
ہی بے سرور محفل رنداں تیرے بغیر
سونی پڑی ہے پس حسیناں تیرے بغیر
سکندر علی وجدؔ کی شاعری میں جذبہ احساس اور خیال کو اُجاگر کرنے کی عمدہ صلاحیت تھی۔ سکندر علی وجدؔ کی نظموں میں جادو بکھیر ا ہوا ہے۔ زندگی کے تجربات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ روح کی گہرائیوں سے لے کر عصر حاضر تک نہایت خوش اسلوبی سے شاعری میں لفظوں کی بھی کر تراشی کی ہے:’’ مزدور کا پیغام جامع عثمانیہ کے طلبہ کے نام ‘‘
اس نظم کا شعر دیکھئے ؎
نونہالون چمن اہل ہنر جانتے ہیں
جوش زن و قلب ہی میں شوق سفر جانتے ہیں
سکندر علی وجدؔ کی استعاراتی تشبیہاتی خاکے تحہ در تہہ علامتیں پرلطف تراکیب کی ان کی شاعری کی ایک منفرد تخلیقی صلاحیت کی ایک عمدہ شناخت ہے۔
سکندر علی وجدؔ کی شخصیت ان کی شاعری کا آئینہ دار ہے شاعری میں زمانے کے اقدار کی ترجمانی بہت عمدہ لفظوں میں پیش کیے ہیں شاعری کو نیا حسن اور نظم کو جمالیاتی احساس عطا کیا ہے ان کی شاعری غم جانا ں اورغم دوراں کی حکایت ملتی ہیں۔انہوں نے اُردو شاعری میں قدرتی مناظر فطرت کی نہایت دلکش انداز میں عکاسی کی اور لفظوں کی پیکر تراشی کا عمدہ نمونہ پیش کیا ہے ان کی نظم ایلورا کا یہ شعر دیکھئے ؎
میں خیال ہے سنگین ابگینوں میں
دلوں کا سوز نہاں پتھر کے سینوں میں
سکندر علی وجدؔ نے اپنی شاعری میں لفظی تصویروں کے ذریعے اپنی شاعری میں تاثیر پیدا کر کے شاعری میں منفرد مقام حاصل کیا ہے۔
باب سوم : سکندر علی وجدؔ کی شاعری اور فن پیکر تراشی کا جائزہ
سکندر علی وجدؔ نے علمی ادبی شعری ہنر و فن سے اُردو ادب کو روشن کر دیا۔اُردو ادب میں سکندر علی وجد کو لفظوں کا جادو گر یا لفظوں کا پیکر تراش شاعر کہا جاتا ہے۔ سکندرعلی وجدؔ نہایت ماہرانہ فن سے اُردو میں عمدہ سے عمدہ نظمیں، غزلوں کو قلم بند کیا ہے۔ سکندر علی وجدؔ کے کلام میں لفظوں کے پیراہن اور ان کی پیکرتراشی کا ہنر نمایاں نظر آتا ہے۔ سکندر علی وجدؔ قدیم ہندوستانی ورثہ پر فخر کرتے ہیں انہیں آثار قدیمہ سے بے انتہا محبت تھی ،وہ سنگ تراشی، مصوری، مناظر قدرت کے فن تعمیر کی حسن کاریاں لفظوں کے پیکر تراشی میں بڑا کمال رکھتے تھے۔ نظم ’’تاج محل‘‘ میں نہایت خوبصورتی سے حسن و جمال کو پیش کیا ہے۔ ’’تاج محل‘‘ کے اشعار دیکھئے ؎
بارگاہ حسن تیرا فیض عام ہے
دریائے مہر لطف راواں صبح و شام ہے
تو کشتہ وفا کا سہانا پیام ہے
فانی رس پہ نفس بقا دوام ہے
سکندر علی وجدؔ کی شاعری میں جلال وجمال کا بڑا حسین امتزاج نظر آتا ہے، ان کی شاعری میں روایتی حسن و عشق کا ذکر ملتا ہے ان کی شاعری روایتی انداز کی ہے۔ وجدؔ تاج محل کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ ایک ایسی بارگاہ حسن ہے جس کا فیض ہر ایک کے لیے صبح سے شام تک لطف اندوز کا دریا رواں دواں ہے۔ یہ سرزمین ایک ایسا نقش ہے جو ہمیشہ باقی رہے گا تاج محل کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے عشق کی نگاہ کا جادو پتھر پر اثر کرنے لگا تو محبت کا جواب سنگ مر مر سمو گیا بلکہ اس کے ذریعے محبت اور وفاداری کا درس اس میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ تاج محل کی تعمیر کو دیکھ کر وجدؔ فرماتے ہیں کہ حسن کاروں نے اپنے خون جگر سے یہ عمارت اور باغ کی تعمیر کی ہے جس میں ہمیشہ اس میں بہار رہے گی۔ اس میں خزاں کا گزرنا نہ ہوگا ،جب تاج کا عکس جمنا کے پانی پہ پڑتا ہے تو پانی کی لہروں میں اس کی کیفیت سنائی دیتی ہے اسی عمارت کی بے پناہ خوبصورتی سے چاند سورج کی کرنیں ٹکرا کر کانپتی ہیں جب شام کے وقت پیلی اور نرم دھوپ تاج محل کی چھت اور دیواروں کی جالیوں پر پڑتی ہیں تو عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سورج چھپ کر سلام کر رہا ہو، جب رات مشرق کا آئینہ چیر کر چاند نکل آتا ہے تو چاندنی رات میں ایسا لگتا ہے جیسے مہتاب کی کشتی سمندر میں رواں دواں ہے اور تاج محل اس سمندر میں پارے کی کیفیت پیدا کر رہا ہے۔ تاج محل میں جو رنگ آمیزی کی گئی ہے اسے دیکھ کر بڑے سے بڑے مصور اور سنگ تراش بھی حیران ہیں سنگ مرمر کے کلبوں کا نکھار اور رنگ برنگ کے پھول شمع کے اس عمارت کی تکمیل میں اپنے پن کی رنگوں کو بھی شامل کر دیا ہے۔ سنگ مرمر کی باریک جالیوں کو دیکھ کر فن اور ہنر کی تعریف شاعر نے اس نظم میں بخوبی قلم بند کیا ہے۔
سکندر علی وجدؔ کی نظم اجنتا کا یہ اشعار دیکھئے ؎
جہاں خون جگر پیتے رہے اہل ہنر برسوں
جہاں کھلتا رہا رنگوں میں آہوں کا اثر برسوں
جہاں کھنچتا رہا پتھر پہ عکس ہنر برسوں
جہاں قائم رہے گی جنت قلب و نظر برسوں
سکندر علی وجدؔ نے نظم ’’اجنتا‘‘ میں مجسمہ سازی کی فنی عظمت کو بیان فرمایا ہے کہ مجسمہ سازی محض ایک فن نہیں کہا جاتا بلکہ انسانی جذبات اخلاقی اقدار اور حسن نظر کی ابدی اظہار کو پیش کیا ہے شاید نے اجنتا اہل ہنر کے فن کی تعریف کی ہے اہل ہنر نے برسوں اپنے خون جگر یعنی اپنی محنت و لگن قربانی اور خلوص سے پتھروں کو تراشا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ اس فن کی خدمت میں صرف کیا ہے۔ان کی محنت نے بے جان پتھروں میں جان ڈال دی اور فن کو ہمیشہ کے لیے زندہ کیا ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو نظم کے پیکر تراشی میں اُجاگر کیا ہے اپنی نظموں میں انہوں نے لفظوں کے احساسات اور تجروں کو اپنی جادوگری صلاحیتوں سے پیش کیا ہے۔
سکندر علی وجدؔ کی غزل روایت کی دلکشی اور جدید احساسات کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی غزل میں محبت فراق اُمید انسانی وقار اور زندگی کے نشیب و فراز کو لطیف پیرائے میں بیان کیا ہے۔ان کی زبان شستہ رواں اور موسیقیت سے بھرپور ہے۔ ان کی غزلوں میں سادگی کے باوجود فکری گہرائی معنوی وسعت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلیں آج بھی اُردو ادب میں مقبول ہیں۔ان کی غزلوں کا موضوع حسن و عشق قلبی واردات ہے ان کی غزل کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
خوش جمالوں کی یاد آتی ہے
بے مثالوں کی یاد آتی ہے
سکندر علی وجدؔ کی شاعری میں کلاسکی نغمگی خیال آفرینی منفرد لہجہ نمایاں نظر آتا ہے ان کی غزلوں اور نظموں میں پیکر تراشی پیش کی گئی ہے۔ غزلوں میں دل کش انداز میں جذبات و احساسات تجربات کو پیش کیا گیا ہے جو نہایت حقیقی محسوس ہوتے ہیں ان کی شاعری میں احساس واردات کو اپنے اظہار کے لیے لفظوں کا تصور کا روپ دیا ہے۔ سکندر علی وجد ادب میں ماہر پیکرتراش فنکار ہیں۔
ماحصل
سکندر علی وجدؔ(1914ء1983ء) اُردو ادب کے عظیم شاعر تھے، انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ادب کو فکری اخلاقی جمالیاتی سطح پر نئی توانائی عطا کی ان کی شاعری میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ان کی زبان کی سادگی فکر کی وسعت اور انسانی اقدار کے ترجمانی نمایاں ہے ان کی ادبی خدمات اُردو ادب کا اہم سرمایہ ہے۔ مستقبل میں ان کی شاعری پر مزید تحقیقی اور تقابلی مطالعات اور تنقید کو نئی جہتیں فراہم ہونگی۔ اُردو زبان و ادب کے فروغ میں اب بھی ادبی اداروں کی سرپرستی اور تہذیبی شعور کی آبیاری میں ان کا کردار عظیم ہے ان کا شعری سرمایہ اُردو ادب کی ایک قیمتی میراث ہے اور آج بھی تحقیقی و تنقیدی میدان میں اپنی اہمیت برقرار رکھتا ہے۔
٭کتابیات (Biblography)
(۱) اُردو مجلس ترقی ادب لاہور۔جمیل جالبی
(۲) اُدو شاعری کا مزاج سنگ میل۔ڈاکٹر وزیر آغا
(۳) اُردو ادب کی مختصر تاریخ۔ آل احمد سرور ۔ ایجوکیشنل بک ہاؤس نئی دہلی
(۴) اُردو ادب کی تنقید تاریخ اُردو اکیڈمی۔محمد حسن
(۵) کلیات وجد مختلف مطوبہ ایڈیشن سکندر علی وجدؔ

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے