ممبئی کے تاریخی خلافت ہاؤس کی ازسرنو تعمیر. 45 برس بعد ایک نئی شروعات، مگر مستقبل کی بنیاد شفافیت اور اعتماد پر ہونی چاہیے

ممبئی کے تاریخی خلافت ہاؤس کی ازسرنو تعمیر. 45 برس بعد ایک نئی شروعات، مگر مستقبل کی بنیاد شفافیت اور اعتماد پر ہونی چاہیے

ممبئی کے تاریخی خلافت ہاؤس کی ازسرنو تعمیر.
45 برس بعد ایک نئی شروعات، مگر مستقبل کی بنیاد شفافیت اور اعتماد پر ہونی چاہیے

ازقلم:جاوید جمال الدین

ممبئی کے تاریخی خلافت ہاؤس کی ازسرنو تعمیر کا منصوبہ محض ایک نئی عمارت تعمیر کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخی وراثت کو نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش ہے جس کا تعلق ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد، خلافت تحریک، قومی بیداری اور ہندو مسلم اتحاد کی تاریخ سے رہا ہے۔ تقریباً 45 برس بعد اس مقام پر نئی تعمیر کا منصوبہ سامنے آیا ہے تو اس کے ساتھ نئی توقعات بھی وابستہ ہیں اور کچھ بنیادی سوالات بھی۔

مجوزہ منصوبے کے تحت تقریباً 17 منزلہ عمارت تعمیر کرنے کی بات سامنے آئی ہے، جس میں اسپتال، تعلیمی ادارے، بی ایس سی نرسنگ انسٹی ٹیوٹ، کانفرنس ہال اور مختلف دفاتر شامل ہوں گے۔ منصوبے کی تخمینی لاگت تقریباً 120 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے اور اسے تقریباً 2030 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ اگر یہ منصوبہ اپنے بنیادی مقاصد کے مطابق مکمل ہوتا ہے تو خلافت ہاؤس ایک تاریخی مقام کے ساتھ صحت، تعلیم اور سماجی خدمت کا جدید مرکز بھی بن سکتا ہے۔

لیکن ایسے منصوبے کی کامیابی صرف ایک بلند و بالا عمارت سے نہیں ناپی جائے گی۔ اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا نئی تعمیر اپنے تاریخی ورثے، قانونی حیثیت، عوامی اعتماد اور سماجی ذمہ داری کے تقاضوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھتی ہے؟

تاریخ سے جڑی ایک عمارت

خلافت ہاؤس کی شناخت محض ممبئی کی ایک قدیم عمارت کے طور پر نہیں کی جاسکتی۔ خلافت تحریک کے دور میں یہ جگہ قومی اور سیاسی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز رہی۔ مہاتما گاندھی، مولانا محمد علی جوہر، شوکت علی، پنڈت جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل، مولانا ابوالکلام آزاد، حکیم اجمل خان اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری سمیت آزادی کی جدوجہد سے وابستہ متعدد رہنماؤں کا اس ادارے اور اس سے وابستہ سرگرمیوں سے تعلق رہا۔

خلافت تحریک کا تاریخی پس منظر اپنی جگہ ایک مستقل موضوع ہے، لیکن خلافت ہاؤس کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ اس دور کی اس سیاسی روایت کی علامت رہا جس میں قومی آزادی اور ہندو مسلم یکجہتی کے تصورات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

اسی تاریخی پس منظر کے پیش نظر نئی تعمیر میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ ترقی کے ساتھ تاریخ بھی محفوظ رہے۔ عمارت بدل سکتی ہے، اس کا استعمال بدل سکتا ہے اور ادارہ نئے تقاضوں کے مطابق اپنے دائرۂ کار کو وسیع کرسکتا ہے، لیکن اس مقام کی تاریخی شناخت کو محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔

1981 میں خلافت ہاؤس کی تعمیر نو کے بعد 19 اپریل 1981 کو اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے عمارت کا افتتاح کیا تھا۔ اب چار دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر تعمیر نو کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ اس لیے یہ مرحلہ صرف تعمیراتی سرگرمی نہیں بلکہ ادارے کے مستقبل کی سمت متعین کرنے کا موقع بھی ہے۔

صحت کے شعبے میں نئی سمت

مجوزہ اسپتال اس منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ ممبئی جیسے بڑے شہر میں معیاری اور قابل رسائی طبی سہولتوں کی ضرورت ہمیشہ موجود رہی ہے۔ اگر خلافت ہاؤس کی نئی عمارت میں صحت کی سہولت کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے تو اس سے تاریخی ادارے کی سماجی خدمت کی روایت کو جدید شکل دی جاسکتی ہے۔

تاہم اسپتال کا قیام صرف عمارت، مشینری اور طبی آلات کا نام نہیں۔ اس کے معیار کا انحصار ڈاکٹروں، نرسنگ اسٹاف، انتظامی نظام، مریضوں کے حقوق، علاج کے اخراجات اور غریب و ضرورت مند مریضوں کے لیے پالیسی پر بھی ہوگا۔

اس حوالے سے یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ اسپتال کے انتظام اور آپریشن کا ماڈل کیا ہوگا۔ اگر کوئی نجی ادارہ اسپتال چلائے گا تو ٹرسٹ اور آپریٹر کے درمیان معاہدے کی بنیادی شرائط، عمارت کی ملکیت، انتظامی ذمہ داریاں، آمدنی کا طریقۂ کار اور ضرورت مند مریضوں کے لیے سہولتوں کی پالیسی واضح ہونی چاہیے۔

ایسی معلومات کسی فرد یا ادارے پر الزام عائد کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک عوامی اہمیت کے حامل منصوبے کی بنیادی ساخت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔

بی ایس سی نرسنگ انسٹی ٹیوٹ: تعلیم اور روزگار کا موقع

اس منصوبے میں بی ایس سی نرسنگ انسٹی ٹیوٹ کا تصور بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ صحت کے شعبے میں تربیت یافتہ نرسنگ عملے کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے اور نرسنگ کی پیشہ ورانہ تعلیم نوجوانوں کے لیے روزگار کے اہم راستے پیدا کرسکتی ہے۔

خصوصاً خواتین کے لیے نرسنگ کا شعبہ اعلیٰ تعلیم، پیشہ ورانہ ترقی اور معاشی خودمختاری کے مواقع فراہم کرسکتا ہے۔ اگر نرسنگ انسٹی ٹیوٹ اور اسپتال ایک مربوط تعلیمی و طبی نظام کے تحت کام کریں تو طلبہ کو نظری تعلیم کے ساتھ عملی تربیت بھی اسی ماحول میں حاصل ہوسکتی ہے۔

اس کے لیے ضروری ہوگا کہ ادارہ متعلقہ تعلیمی، طبی اور پیشہ ورانہ ضوابط کے مطابق قائم کیا جائے۔ داخلوں کا معیار، فیکلٹی، تربیتی سہولتیں، کلینیکل پریکٹس، امتحانی نظام اور پیشہ ورانہ منظوری جیسے معاملات کو ابتدا ہی سے واضح اور مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔

اس طرح نرسنگ انسٹی ٹیوٹ محض منصوبے کا ایک حصہ نہیں رہے گا بلکہ خلافت ہاؤس کو صحت اور تعلیم کے شعبے میں ایک مستقل خدمت گاہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔

120 کروڑ روپے اور مالی شفافیت

تقریباً 120 کروڑ روپے کا تعمیراتی منصوبہ ایک بڑی مالی ذمہ داری ہے۔ اتنے بڑے منصوبے میں مالی شفافیت کسی اضافی خوبی کے بجائے بنیادی انتظامی ضرورت بن جاتی ہے۔

منصوبے کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا، تعمیراتی اخراجات کیسے طے ہوں گے، فنڈز کا انتظام کس طرح ہوگا، ٹرسٹ کے وسائل کا کتنا حصہ استعمال ہوگا اور اگر عطیات، قرض یا نجی سرمایہ کاری کا سہارا لیا جائے گا تو اس کا ڈھانچہ کیا ہوگا—یہ وہ سوالات ہیں جن کی بنیادی معلومات ادارے کے متعلقین اور عوام کے سامنے ہونی چاہئیں۔

تعمیراتی منصوبوں میں پیشہ ورانہ نگرانی، باقاعدہ حسابات اور آزاد آڈٹ مالی نظم کو مضبوط بناتے ہیں۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے علاوہ تعمیرات، انجینئرنگ اور مالیاتی ماہرین کی نگرانی بھی منصوبے کے معیار اور اعتماد کو بہتر بنا سکتی ہے۔

شفافیت کا مطلب کسی ادارے یا فرد پر بداعتمادی نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ایک تاریخی اور عوامی اہمیت کے حامل ادارے کے بڑے منصوبے میں فیصلے دستاویزی بنیادوں پر ہوں اور مستقبل میں غیر ضروری سوالات کے لیے گنجائش کم سے کم رہے۔

قانونی حیثیت کی وضاحت ضروری

خلافت ہاؤس کی زمین اور ادارے کی قانونی حیثیت کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آتی رہی ہیں۔ بعض حلقے اسے وقف سے متعلق معاملہ قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب یہ موقف سامنے آیا ہے کہ زمین کلکٹر کی ہے اور ٹرسٹ کا اندراج چیریٹی کمشنر کے تحت ہے۔

ایسے معاملے میں قیاس آرائی کے بجائے متعلقہ سرکاری اور قانونی دستاویزات کی بنیاد پر صورتحال واضح کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔

زمین کا اصل ریکارڈ، ملکیت یا لیز کی حیثیت، ٹرسٹ کی رجسٹریشن، متعلقہ اجازت نامے، این او سی اور تعمیراتی منظوریوں کی قانونی حیثیت اگر واضح طور پر سامنے ہو تو بہت سے سوالات خود بخود ختم ہوسکتے ہیں۔

ایک تاریخی ادارے کے مستقبل کے لیے قانونی وضاحت اس لیے بھی ضروری ہے کہ آج کی تعمیر کل کے کسی قانونی تنازع میں تبدیل نہ ہو۔

قبر کا سوال: تاریخ اور تحقیق

خلافت ہاؤس کے احاطے میں موجود ایک قدیم قبر بھی عرصے سے توجہ کا مرکز رہی ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ یہ قبر مولانا محمد علی جوہر کی اہلیہ امجدی بانو بیگم کی ہوسکتی ہے، جبکہ خلافت کمیٹی کی جانب سے اس نسبت کا مستند ریکارڈ نہ ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب سر فراز آرزو نے تاریخی حوالوں کی بنیاد پر اس نسبت پر سوال اٹھایا ہے اور بتایا ہے کہ امجدی بانو بیگم اپنی علالت کے دوران دہلی کے قرول باغ میں تھیں اور 28 مارچ 1947 کو ان کا انتقال ہوا، جس کی روشنی میں ممبئی میں تدفین کے دعوے کی مزید تحقیق ضروری ہوجاتی ہے۔

یہ معاملہ جذباتی بحث سے زیادہ تاریخی تحقیق کا متقاضی ہے۔ قبر کی شناخت، پرانے ریکارڈ، اخباری حوالوں، خاندانی دستاویزات اور دیگر دستیاب تاریخی مواد کی مدد سے باقاعدہ تحقیق کرائی جاسکتی ہے۔

اگر کسی مرحلے پر قبر کی منتقلی یا تعمیراتی منصوبے سے اس کی جگہ متاثر ہونے کا سوال پیدا ہو تو مذہبی و قانونی تقاضوں کے ساتھ اہل علم اور متعلقہ فریقوں کی مشاورت بھی ضروری ہوگی۔ تاریخ کے کسی غیر واضح باب کو خاموشی سے ختم کرنے کے بجائے تحقیق کے ذریعے واضح کرنا زیادہ دیرپا حل ہوسکتا ہے۔

عوامی اعتماد سب سے بڑا سرمایہ

خلافت ہاؤس کی اصل طاقت صرف اس کی زمین یا عمارت نہیں بلکہ اس سے وابستہ تاریخی اور عوامی اعتماد ہے۔

یہ وہ مقام ہے جو آزادی کی جدوجہد، قومی بیداری اور سماجی سرگرمیوں کی ایک طویل روایت کا حصہ رہا ہے۔ اس لیے اس کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں وضاحت، ذمہ داری اور مشاورت کی اہمیت عام تعمیراتی منصوبے سے کہیں زیادہ ہے۔

قانونی حیثیت کی وضاحت، قبر کے تاریخی پس منظر کی تحقیق، مالی معاملات میں شفافیت اور اسپتال و تعلیمی اداروں کے انتظامی ڈھانچے کی بنیادی معلومات اگر مناسب انداز میں سامنے رکھی جائیں تو منصوبے کے بارے میں اعتماد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

خاموشی اور ابہام اکثر قیاس آرائیوں کو جنم دیتے ہیں، جبکہ دستاویزی وضاحت سوالات کو جواب میں تبدیل کردیتی ہے۔

اختلاف کو تنازع بننے سے بچانا ہوگا

کسی تاریخی ادارے کے مستقبل کے بارے میں مختلف آرا کا سامنے آنا فطری ہے۔ اختلاف کو لازماً مخالفت یا دشمنی سمجھنے کے بجائے اسے تعمیری مشاورت کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

قانونی سوالات دستاویزات سے واضح ہوسکتے ہیں، تاریخی اختلافات تحقیق سے دور کیے جاسکتے ہیں، مذہبی حساسیت اجتماعی مشاورت سے حل کی جاسکتی ہے اور مالی معاملات آڈٹ و شفافیت کے ذریعے واضح کیے جاسکتے ہیں۔

ایک مضبوط ادارہ سوالات سے گھبراتا نہیں بلکہ ان کا جواب ریکارڈ، دلیل اور شفاف طریقۂ کار کے ذریعے دیتا ہے۔

وسیع مشاورتی بورڈ کی ضرورت

خلافت ہاؤس جیسے تاریخی اور بڑے منصوبے کے لیے ایک وسیع مشاورتی بورڈ کا قیام مفید ہوسکتا ہے۔ اس میں خلافت کمیٹی اور ٹرسٹ کے ذمہ داران کے ساتھ تاریخ دان، قانونی ماہرین، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، طبی ماہرین، تعلیمی ماہرین، معمار، شہری منصوبہ بندی کے ماہرین، معتبر علما اور ممبئی کی سماجی زندگی سے وابستہ غیر جانب دار شخصیات شامل کی جاسکتی ہیں۔

ایسا بورڈ روزمرہ انتظامیہ میں مداخلت کے بجائے منصوبے کے اہم مرحلوں پر مشورہ، نگرانی اور دستاویزی شفافیت کو یقینی بنانے میں معاون ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ منصوبے کی پیش رفت، تعمیراتی مراحل، مالیاتی آڈٹ اور ادارے کی سماجی ذمہ داریوں سے متعلق سالانہ رپورٹ بھی جاری کی جاسکتی ہے۔ اس سے ادارے اور عوام کے درمیان رابطہ مضبوط ہوگا۔

تاریخی ورثے اور جدید ضرورتوں میں توازن

خلافت ہاؤس کی ازسرنو تعمیر کا سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ جدید تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے تاریخی شناخت کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔

ایک طرف جدید اسپتال، نرسنگ انسٹی ٹیوٹ اور تعلیمی سہولتوں کی ضرورت ہے، دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ نئی عمارت میں خلافت ہاؤس کی تاریخ کو نمایاں جگہ دی جائے۔

عمارت کے اندر ایک مستقل تاریخی گیلری یا میوزیم قائم کیا جاسکتا ہے جہاں خلافت تحریک، آزادی کی جدوجہد، خلافت ہاؤس سے وابستہ شخصیات اور ادارے کی تاریخ کو دستاویزی شکل میں محفوظ کیا جائے۔ پرانی تصاویر، اخباری تراشے، خطوط، دستاویزات اور تاریخی اشیا کو ڈیجیٹل آرکائیو کے ساتھ محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

اس طرح نئی عمارت صرف ایک جدید طبی یا انتظامی مرکز نہیں بلکہ ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک زندہ پل بن سکتی ہے۔

خدمت کا تصور عمارت سے بڑا ہونا چاہیے

کسی بھی تاریخی ادارے کی کامیابی کا اصل پیمانہ اس کی عمارت کی بلندی نہیں بلکہ معاشرے کے لیے اس کی افادیت ہے۔

اگر اسپتال معیاری علاج فراہم کرے، نرسنگ انسٹی ٹیوٹ قابل نوجوان تیار کرے، تعلیمی سرگرمیاں فروغ پائیں اور ضرورت مندوں کے لیے حقیقی سہولت پیدا ہو تو خلافت ہاؤس کی تاریخی روایت کو ایک نئے دور میں زندہ کیا جاسکتا ہے۔

خصوصاً غریب مریضوں، کم آمدنی والے طلبہ اور خواتین کی تعلیم و روزگار کے لیے واضح سماجی پالیسی اس منصوبے کو محض تعمیراتی منصوبے سے ایک حقیقی عوامی خدمت کے ادارے میں تبدیل کرسکتی ہے۔

مستقبل کے لیے بنیادی اصول

خلافت ہاؤس کی نئی تعمیر کے دوران چند اصول ابتدا ہی سے واضح رہیں تو مستقبل کے بہت سے سوالات سے بچا جاسکتا ہے۔

اول: زمین اور ادارے کی قانونی حیثیت کے بارے میں مکمل دستاویزی وضاحت۔

دوم: تعمیراتی منصوبے اور مالی وسائل کے بارے میں بنیادی معلومات کی شفاف فراہمی۔

سوم: باقاعدہ آزاد آڈٹ اور پیشہ ورانہ مالی نگرانی۔

چہارم: اسپتال کے آپریٹر اور ٹرسٹ کے درمیان معاہدے میں واضح ذمہ داریاں اور سماجی خدمت کا فریم ورک۔

پنجم: نرسنگ انسٹی ٹیوٹ کے لیے اعلیٰ تعلیمی و پیشہ ورانہ معیار کی پابندی۔

ششم: قبر اور اس سے وابستہ تاریخی دعوے کی غیر جانب دار تحقیق۔

ہفتم: تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے مستقل آرکائیو یا میوزیم کا قیام۔

ہشتم: منصوبے کے اہم مراحل میں ماہرین اور متعلقہ شہری و سماجی حلقوں سے مشاورت۔

یہ اصول کسی ایک فریق کے حق یا مخالفت میں نہیں بلکہ ایک تاریخی ادارے کے طویل مدتی مفاد میں ہیں۔

ایک نئی شروعات، مگر ماضی سے رشتہ برقرار رہے

خلافت ہاؤس کی ازسرنو تعمیر کو اگر صرف پرانی عمارت کی جگہ نئی عمارت کھڑی کرنے کے طور پر دیکھا جائے تو اس منصوبے کی اصل معنویت محدود ہوجائے گی۔

یہ دراصل ایک تاریخی روایت کو نئے زمانے میں منتقل کرنے کا موقع ہے۔

چار دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد تعمیر نو کا یہ مرحلہ خلافت ہاؤس کو دوبارہ صحت، تعلیم، سماجی خدمت اور تاریخی شعور کا اہم مرکز بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن اس کے لیے تعمیراتی منصوبے کے ساتھ ادارہ جاتی شفافیت، قانونی وضاحت، مالی نظم، تاریخی تحقیق اور عوامی مشاورت بھی ضروری ہوگی۔

خلافت ہاؤس کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ عمارتیں صرف اینٹ اور پتھر سے نہیں بنتیں؛ انہیں نظریات، جدوجہد، قربانیوں اور عوامی اعتماد سے معنویت ملتی ہے۔ نئی عمارت کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو، اس کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب وہ اپنے ماضی کی عزت کرتے ہوئے مستقبل کی نسلوں کے لیے صحت، تعلیم اور سماجی خدمت کا قابل اعتماد مرکز بن سکے۔

45 برس بعد ہونے والی یہ نئی شروعات اسی وقت دیرپا تاریخی اہمیت اختیار کرے گی جب تعمیر کے ساتھ اعتماد بھی تعمیر ہو، عمارت کے ساتھ ادارہ بھی مضبوط ہو اور ترقی کے ساتھ تاریخ کا رشتہ بھی برقرار رہے۔

Javed Jamaluddin,
Editor In Chief ./HOD
Contact :9867647741.
02224167741

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے