سجدہ کرنا دراصل اللہ تبارک و تعالی کے سامنے اپنی عاجزی وانکساری کا اظہار کرنا ہے ،بندہ اللہ تعالی کے سامنے جھکتا ہے تو اللہ تعالی بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں ،اور شیطان ذلیل و رسوا ہوتا ہے اس لیے کہ کسی بھی بندے کے سجدہ کرنے پر شیطان کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔۔۔۔
پورے قرآن مجید کے الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی قادر مطلق ہیں اور انسان مجبور محض ہے،اور ہر معاملےمیں انسان اللہ تعالی کے احکامات کا پابند بھی ہے اور اللہ تعالی کے سامنے عاجز اور بے بس بھی ہے ۔۔۔۔۔
سجدہ انتہائی فروتنی اور عاجزی کی دلیل ہے جس کے ذریعہ بندہ اللہ کےحضور اپنے فقر و احتیاج اور مسکنت کا اظہار کرتا ہے اس لیے اس حالت میں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور رحمت کا محل بنتا ہے،
اور اسے اللہ تعالیٰ کا انتہائی قرب حاصل ہوتا ہے چنانچہ حدیث شریف میں ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:” أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ”
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا (سجدے میں) تم لوگ بکثرت دعا کیا کرو“۔ [سنن نسائي/حدیث: 1138]۔
پھر سجدہ سجدۀ شکر ہو یا نمازوں والا سجدہ ہو یا آیات سجدہ کی تلاوت کے بعد والا سجدہ ہو ہر سجدے میں بندے کی عاجزی کا اظہار ہے جو اللہ تعالی کی نظر میں محبوب اور پسندیدہ ہے۔۔
پوری قرآن مجید میں 14 مقامات ایسے ہیں جن کی تلاوت کرنا یا تلاوت سننا بغیر کسی واسطے (یعنی ریکارڈنگ والی تلاوت سے سجدہ واجب نہیں ہوتا )کے سجدہ کرنا واجب اور ضروری قرار دیا گیا ۔۔۔۔۔۔
14 سجدوں پر کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ ایک سجدے کی آیت کے انتخاب میں حضرت امام ابو حنیفہ اور حضرت امام شافعی رحمھم اللہ کا اختلاف ہے ۔۔۔۔حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سترھویں پارے کے آخری رکوع والی آیت سجدہ کی تلاوت یا سماعت پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے ۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سترہویں پارہ کے آخری رکوع میں جو آیت سجدہ ہے اس کی تلاوت یا سماعت پر سجدہ تلاوت کرنا چاہۓ ۔۔۔اور 23 ویں پارے میں سورہ ص کے دوسرے رکوع میں جو آیت سجدہ شمار کیا جاتا ہے حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس، اس آیت کی تلاوت یا سماعت پر سجدہ لازم ہے۔۔۔۔اور حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس سورہ ص کے دوسرے رکوع والی آیت سجدہ کی تلاوت یا سماعت پر سجدہ کرنا ضروری نہیں ہے ۔۔۔۔مگر یہ تو طے ہو گیا کہ سب کےپاس پوری قران مجید میں 14 آیتیں ایسی ہیں جن کی تلاوت کرنے یا سننے پر سجدہ کرنا چاہیے۔۔۔
چونکہ سجدے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اس لیے حضرات فقہاء کرام نے ان سجدوں کی کئی شکلوں کو بیان فرمایا ہے
★کسی ایک جگہ بیٹھ کر یا کھڑے ہو کرکوئی شخص ایک ہی آیت سجدہ کی تلاوت کئی مرتبہ کرتا ہے یا سنتا ہے بغیر واسطے کے تو ایک ہی سجدہ لازم ہے اس لیے کہ مجلس متحد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے کوئی قران مجید کو یاد کر رہا ہے یاد کرتے وقت میں ایک ہی آیت کا کئی مرتبہ ورد کرنا پڑتا ہے ہر مرتبہ اگر آیت سجدہ کی تلاوت پر سجدہ کو لازم کیا جاتا تو یقینا اس پر حرج ہوتا اوراسلام کا ضابطہ ہے کہ اسلام کو اللہ تعالی نے اسان فرمایا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "الدین یسر دین اسان ہے ” اسلام میں حرج اور تنگی نہیں رکھی گئی ۔۔
★کوئی شخص کئی آیات سجدہ کو ایک مجلس یا الگ الگ مجلس میں پڑھے یا سنےجتنی آیتوں کی تلاوت کیا ہے ان ساری آیتوں کے الگ الگ سجدے اس پر واجب ہونگے۔۔۔۔
★کسی شخص نے آیت سجدہ کی تلاوت کی نماز میں اور سجدہ ادا کر لیا اسی نماز کے دوران پھر اسی آیت سجدہ کو دوبارہ بھول سے پڑھ لیا یا جانتے بوجھتے پڑھ لیا تو دوبارہ سجدہ کرنے کی ضرورت نہیں اس لیے کہ مجلس ایک ہی ہے، پوری نماز ایک مجلس کے حکم میں ہے ۔۔۔۔۔
★ اسی طرح کسی شخص نے یو نہی بیٹھ کر آیت سجدہ کی تلاوت کی اور اس کی طرف سے سجدہ ادا کر لیا پھر اسی جگہ بیٹھ کر اسی آیت سجدہ کو دوبارہ پڑھا تو دوبارہ سجدہ لازم نہیں اس لیے کہ مجلس ایک ہی ہے ۔۔۔۔
★ کسی شخص نے دوران نماز چاہے وہ فرض ہو یا سنت ہو آیت سجدہ کی تلاوت کی اور پھر سجدہ کر لیا پھر سجدے سے اٹھنے کے بعد غلطی سے سورۀ فاتحہ پڑھ لیا تو سجدۀ سہو لازم نہیں ہوگا ۔۔۔۔
★جو سجدہ نماز میں لازم ہوا وہ نماز کے باہر ادا نہیں کیا جا سکتا.۔۔
اس سلسلے میں حضرات فقہاء کرام نے کئی شکلیں بیان کی ہیں جیسے
نماز میں آیت سجدہ پڑھنے کے بعد سجدہ نہیں کیا اور بعد میں یاد آیا تواگر آیتِ سجدہ کی تلاوت کے بعد تین آیات سے پہلے پہلے یاد آجائے تو سجدہ کرلے ادا ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر آیتِ سجدہ کی تلاوت کے بعد تین آیات پڑھ کر یا اس سے پہلے رکوع کرلیا (اور رکوع میں بھی سجدہ تلاوت کی ادائیگی کی نیت نہیں کی) تو اس رکعت کے سجدہ صلاتیہ (نماز کے سجدے) میں ہی سجدہ تلاوت ادا ہوجائے گا، خواہ نیت نہ بھی کی ہو، اس لیے بعد میں قضا کی ضرورت نہیں۔
★اور اگر آیت سجدہ کی تلاوت کے بعد تین آیات سے زیادہ تلاوت کرلی تو جب تک نماز جاری ہے اس دوران یاد آتے ہی سجدۀ تلاوت کرنا ضروری ہے،اور اخیر میں سجدۂ سہو کرنا بھی لازم ہوگا۔ یہاں تک کہ اگر سلام بھی پھیر لیا ہو، لیکن منافئ نماز افعال میں سے کوئی عمل نہ کیا ہو تو یاد آتے ہی سجدہ کرلینا چاہیے، البتہ اگر نماز ختم ہونے کے بعد نماز کے منافی کوئی عمل کرلیا (مثلاً بات چیت کرلی، یا قبلہ سے سینہ پھیرلیا وغیرہ) تو اب اس کی قضا نہیں ہے ، کیوں کہ نماز میں واجب ہونے والے سجدہ کی قضاء اسی نماز میں کی جاسکتی ہے، نماز مکمل ہونےکے بعد قضاکا وقت باقی نہیں رہتا البتہ نماز میں ادا نہ ہونے کی وجہ سے اس کی تلافی صرف توبہ واستغفار ہے۔۔★اسی طرح کوئی شخص مسجد کو پہنچا اور وہ ابھی نماز میں شامل نہیں ہوا امام صاحب کے ساتھ یا تو اس کو وضو کرنے کی ضرورت ہے یا وہ سنت ادا کر رہا ہے اور اس نے امام صاحب کی آیت سجدہ کی تلاوت کو سن لیا ایسے شخص پر سجدہ تلاوت واجب نہیں اس لیے کہ وہ شخص مکلف نہیں ۔البتہ آیت سجدہ پر سجدہ کرنے کا مطلب ہے اللہ تعالی کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے ہمیشہ تیار ہوں اس لیے بعد میں سجدۀ تلاوت کی قضا کر لے تو مستحب ہے ۔۔۔۔
★ نابالغ پرآیتِ سجدہ تلاوت کرنے یا سننے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوگا،البتہ اسے عادت ڈالنے کے لئے سجدۀ تلاوت کرنے کا پابند بنانا چاہیے ۔۔۔۔★قرآن کریم کے اساتذۀ کرام سے متعلق آیات سجدہ کی سماعت یا تلاوت کا حکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
★ اس مسئلہ کی تین صورتیں ہیں:
1۔ایک آیت سجدہ ایک مجلس میں مختلف لڑکوں/ لڑکیوں سے سنے،تو اس کا حکم یہ ہے کہ ایک سجدہ واجب ہوگا۔
2۔کئی آیات سجدہ ایک مجلس میں مختلف لڑکوں/لڑکیوں سے سنے،تو اس کا حکم یہ ہے کہ ہر آیت پر الگ سجدہ واجب ہوگا۔
3۔کئی آیات سجدہ یا ایک آیت سجدہ مختلف مجالس میں مختلف لڑکوں/لڑکیوں سے سنے،تو اس کا حکم یہ ہے کہ ہر آیت پر الگ سجدہ واجب ہوگا،جتنی آیتیں سنے گا ان کے مطابق سجدے واجب ہوں گے۔ ۔۔۔۔۔۔
★ مجلس کی وضاحت : مجلس چھوٹی ہو یا بڑی، پوری کی پوری ایک ہی مجلس شمار ہوگی اور اسی طرح چھوٹا کمرہ،چھوٹا گھر اور قاری صاحب کاحلقۂ درس یہ سب ایک مجلس کے حکم میں ہیں
★ ریکارڈ شدہ شخص کی تلاوت میں آیت سجدہ کی سماعت پر سجدہ کرنا ضروری نہیں چاہے وہ سی ڈی کے ذریعے سنے یا ٹیپ ریکارڈ کے ذریعے سنے یا لیاپ ٹاپ یا کسی ایسی چیز کے ذریعے سنے جو ڈائریکٹ پڑھنے والے کی تلاوت نہ ہو بلکہ ریکارڈ شدہ ہو ،کے ذریعے سنیں سب کا حکم برابر ہے ۔۔۔اس سلسلے میں آلات جدیدہ کے شرعی احکام کے تحت مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں
"ریکارڈ شدہ آیتِ سجدہ سننے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سجدۂ تلاوت کے وجوب کےلیے تلاوتِ صحیحہ کا ہونا ضروری ہےاور تلاوت کے صحیح ہونے کے لیے تلاوت کرنے والے کا باشعور اور متمیز(سمجھ دار) ہونا ضروری ہے،کیوں کہ صبئ غیر متمیز(ناسمجھ بچہ) اور مجنون سے آیت سجدہ سننے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا، چوں کہ ریکارڈ شدہ تلاوت جس آلے سے سنی جائے گی وہ ایک لاشعور اور بےجان چیز ہے، اس وجہ سےاس پر آنے والی تلاوت، تلاوت صحیحہ نہیں کہلائے گی ، اور جب تلاوت صحیحہ نہیں تو اس کے سننے سے سجدۂ تلاوت بھی واجب نہیں”۔۔۔
★ عورت ایام حیض ،اور نفاس میں قران مجید نہیں پڑھ سکتی البتہ سن سکتی ہے ۔۔اور عورت ناپاکی کےایام میں آیت سجدہ کسی شخص سے چاہے وہ مرد سے سنے یا عورت سے سنے اس پر سجدۀ تلاوت واجب نہیں ہوگا ۔۔۔
★ شریعت نے عورت کو ناپاکی کے ایام میں قرآن مجید پڑھنے سے منع فرمایا ہے اس کے باوجود کوئی عورت آیت سجدہ کی تلاوت کرتی ہے (نا پاکی کے ایام میں قرآن مجید کی آیت کو پڑھنے پر گنہگار ہوگی ) اور کوئی مرد خواہ اس کا باپ، اس کا بھائی، اس کا شوہر، اس کا بیٹا یا اور کوئی آیت سجدہ اس عورت کی تلاوت سے سنتے ہیں جو ناپاکی کے ایام میں ہے تو عورت پر سجدۀ تلاوت واجب نہیں ہوگا مگر سننے والے مردوں پر سجدۀ تلاوت واجب ہوگا ۔۔۔۔۔
★ آیت سجدہ کی تلاوت کے بعد اصل حکم یہ ہے کہ اگر مکروہ وقت نہ ہو تو سجدہ تلاوت فورا کر لینا چاہیے بشرطیکہ وہ شخص باوضو ہو ۔۔۔۔سننے والا یا زبانی طور پر پڑھنے والا اگر باوضو نہیں ہے تو جب بھی وضو کریں یاد سے سجدۀ تلاوت کر لینا چاہیے ۔۔۔اسی طرح سے کوئی شخص مکروہ وقت میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہا تھا دوران تلاوت آیت سجدہ کی تلاوت کی تو مکروہ وقت میں سجدہ کرنے کے بجائے مکروہ وقت ختم ہونے تک انتظار کرے اور جب مکروہ وقت ختم ہو جائے تو فی الفور سجدۀ تلاوت کر لینا چاہیے۔۔۔۔
★ آیت سجدہ کی تلاوت کے بعد سجدہ کرنے کے لیے رکعت باندھنا یا قیام کی حالت میں جاکر پھر سجدہ کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ بیٹھے بیٹھے بھی اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں جا کر تین مرتبہ سبحان ربی الاعلی کہنے سے سجدۀ تلاوت ادا ہو جائے گا ۔۔
★ایک ساتھ دو چار آیات سجدہ کی تلاوت کی ہو اور ان تلاوت شدہ آیتوں کی طرف سے سجدے کرنے ہوں تو ہر سجدے کے لیے کھڑے ہونا یعنی قیام کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ ایک سجدے سے اچھی طرح اٹھ کر بیٹھ جائے اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں چلا جائے پھر تین مرتبہ سبحان ربی الاعلی تسبیح پڑھ کر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے سے اٹھ جائے تو دونوں الگ الگ سجدے الگ الگ آیتوں کی طرف سے شمار کیے جائیں گے،اور سجدہ کے بعد سلام پھیرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ سلام پھیرنا اس نماز میں ہوتا ہے جس نماز میں رکعت باندھنے کی ضرورت ہوتی،اور سجدۀ تلاوت میں صرف اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں جا رہے ہیں اس میں رکعت باندھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔۔۔۔
★بالغ ہونے سے پہلے آیات سجدہ تلاوت کیے ہوں یا آیات سجدہ سماعت کیے ہوئے ہوں اور اس شخص کو یاد نہیں ہیں کہ وہ چھوٹے ہوئے سجدے کتنے ہیں۔۔۔ بلوغ سے پہلے شریعت نے انسان کو مکلف نہیں مانا اس لیے ان سجدوں کی قضا واجب نہیں ہے البتہ بلوغ کے بعد جتنے مرتبہ آیات سجدہ تلاوت کیے ہیں یا سنے ہیں سارے سجدوں کی قضا واجب اور ضروری ہے ۔۔۔
★ بلوغ کے بعد سے زندگی کے کسی بھی حصے میں آ یت سجدہ کی تلاوت کیے ہوں یا سنے ہوں ان کی قضا کا طریقہ یہ ہے” نیت اس میں یہ کی جائے کہ زندگی میں جتنے سجدے مجھ پر واجب ہیں ان میں سے پہلا سجدہ” ہر مرتبہ یہی نیت کرے ۔۔۔۔
★حضرات علماء کرام نے اپنے تجربات کی روشنی میں تحریر فرمایا ہے کہ آیات سجدہ کی تلاوت کے بعد دعائیں مقبول ہوتی ہیں اس سلسلے میں عرض ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی کام کو اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنے کے لیے اور اپنی دعاؤں کو اللہ کی بارگاہ میں مقبول کروانے کے لیے آیات سجدہ کی تلاوت کر کے دعا کرتا ہے تو امید ہے اس کی دعائیں مقبول ہوں گی (مگر اس عمل کو ضروری اور لازم سمجھنا مناسب نہیں ہے )۔۔۔۔
★آیات سجدہ کی تلاوت کے بعد سجدے کی کیا ترتیب ہونا چاہیے ۔۔۔۔
اس سلسلے میں عرض ہے کہ پہلے ایک ساتھ آیات سجدہ پڑھے پھر سجدے کرے یا ایک ایک سجدے کی آیت کی تلاوت کرتا جائے اور سجدے کرتا جائے یہاں تک کہ 14 سجدے کی آیتیں ہوئیں اور 14 سجدے بھی ادا ہو گئے اور اس کے بعد دعا میں مصروف ہو جائے ★جیسے نمازوں کے لیے پاکی ضروری ہے ایسے ہی سجدے کی آیت کی تلاوت کے بعد سجدہ کرنے کے لیے بھی پاکی ضروری ہے ۔۔۔۔اور جیسے کوئی معذور ہے تو معذور شخص کے لیے تیمم کی اجازت ہے ایسے ہی سجدہ کرنے کے لیے معذور شخص کو تیمم کر کے سجدہ کرنے کی اجازت ہے
★جو شخص رکوع یا سجدے پر قدرت نہیں رکھتا وہ اشارے سے سجدہ ادا کر لے تو سجدہ ادا ہو جائے گا۔۔۔۔
★رمضان المبارک کی تراویح میں عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ امام صاحب تراویح پڑھاتے وقت میں تلاوت کر رہے ہوتے ہیں اور بہت سارے لوگ پیچھے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں امام صاحب کے رکوع میں جانے کے جیسے ہی امام صاحب رکوع میں جاتے ہیں لوگ آ کر ان کی اقتداء کر لیتے ہیں اگرچہ یہ طریقہ بہتر اور مناسب نہیں ہے مگر اس طرح کرنے سے نماز درست ہو جاتی ہے ۔۔اس طرح کرنے سے تراویح کی رکعت تو مل گئی مگر قرآن مجید کو تراویح میں سننے کا جو غیر معمولی ثواب ہے اس سے محروم رہیں گے۔۔۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ امام صاحب سجدے کی آیت کی تلاوت کر کے تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں جاتے ہیں تو کچھ لوگ سجدے کی ادائیگی کی غرض سے نماز میں شامل ہوتے ہیں اور امام صاحب کے سجدے سے فارغ ہونے کے بعد امام صاحب تو کھڑے ہو جاتے ہیں باقی نماز کو پوری کرنے کے لیے اور کچھ لوگ نماز سے اپنے آپ کو علیحدہ یعنی نماز کو توڑ کر پھر انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں امام صاحب کے رکوع کرنے کے لیے اس طرح کرنے سے سجدہ ادا نہیں ہوگا ۔۔۔۔اور پھر سجدے سے اٹھنے کے بعد رکعت توڑ دینے کا گناہ الگ ہوگا، اور ان دو رکعتوں کی قضا بھی اس پر واجب ہوگی ۔۔۔۔۔
★ قرآن مجید کی تلاوت کے دوران بعض مرتبہ لوگ ایسا کرتے ہیں کہ کاہلی سستی اور غفلت کی وجہ سے سجدہ کرنے سے بچنے کی غرض سے آیت سجدہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور باقی آیات پڑھ لیتے ہیں اس طرح کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔۔۔۔★ کوئی شخص مسجد میں یا کسی ایسی جگہ قرآن مجید پڑھ رہا ہو جہاں کچھ لوگ دیگر کاموں میں مشغول اور مصروف ہوں ۔۔۔قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے کے لیے بہتر یہ ہے کہ آیت سجدہ کی تلاوت آہستہ آواز میں کرے تاکہ جو لوگ قرآن مجید کی سماعت کے لیے نہیں بلکہ کسی اور مقصد سے بیٹھ کر باتیں کر رہے ہیں ان کو سجدے کی آیت کی تلاوت سنائی نہ دے اس کی دو شکلیں ہو سکتی ہیں
(پہلی شکل )جو کچھ قرآن مجید پڑھ رہا ہے وہ ہلکی آواز میں تلاوت کریں
(دوسری شکل )قرآن مجید کی آیات کی تلاوت جتنی آواز میں کر رہا ہے اس سے ہلکی آواز میں آیت سجدہ کی تلاوت کرے تاکہ ان گفتگو کرنے والوں کے کان میں قرآن مجید کی آیت سجدہ کی تلاوت کی آواز نہ آئے ۔۔۔۔۔۔تاکہ ان گفتگو کرنے والوں پر سجدۀ تلاوت واجب نہ ہونے پائے ۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالی حکمت والے ہیں اور حکمت والے کا کوئی بھی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا عربی زبان میں یہ مثل بہت مشہور ہے” فعل الحکیم لا یخلوا عن الحکمہ” کے پیش نظر اسلامی تعلیمات میں سے ہر حکم پر اطاعت اور فرمانبرداری کا مزاج بنانا چاہیے ۔۔۔۔کوئی تو حکمت ہوگی کہ اللہ تعالی نے مخصوص آیتوں پر سجدے کا مطالبہ فرمایا ہے ۔اس لیے خوش دلی کے ساتھ آیات سجدہ کی تلاوت یا سماعت پر سجدہ کرنے کا معمول بنا لینا چاہیے ۔۔۔۔اللہ تعالی بندوں کو ایسے ہی کاموں کا حکم دیتے ہیں جو کام بندوں کے بس میں ہیں جو کام بندوں کے بس میں نہیں ہوتے اللہ تعالی ان کاموں کا حکم ہی نہیں دیتے اللہ تعالی کا اصولی ضابطہ ہے
لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا
انسان کو اللہ تعالی ان کاموں کا ہی مکلف بناتے ہیں جو انسان کے بس میں ہیں ۔۔۔شریعت کے ہر حکم کو ماننے میں فائدہ ہے اور ہر اس چیز سے بچنے میں فائدہ ہے جس سے بچنے کا رب ذوالجلال نے حکم دیا ہے ۔۔۔وہ شخص عقلمند ہے جو اللہ تعالی کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیتا ہے اور وہ شخص نادان اور بے وقوف ہے جو اپنی مرضی چلاتا ہے دینی کاموں میں، غفلت اور لا ابالی پن کی زندگی گزار رہا ہے آخرت کے معاملے میں ۔۔۔اطاعت اور فرمانبرداری کے ساتھ گزارے یا لا ابالی پن اور غفلت کی زندگی گزارے ایک دن یہ دنیا یقینا ختم ہونے والی ہے۔۔۔۔